Home / اسلام / حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس

“سنت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اس کا سبق”
ازقلم
“محمد حذیفہ معاویہ تونسوی”

عیدالاضحی کا دن مجھے ماضی میں ہزاروں سال پیچھے لے گیا ۔میری نگاہیں ایک منظر پر جا کر رک گئیں ۔ وہ منظر اس قدر عجیب تھا کہ جسے دیکھتے ہی مجھ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔ اس انوکھے منظر میں صرف میں ہی حیرت زدہ نہیں تھا بلکہ زمین و آسمان بھی سراپا حیرت تھے ۔۔۔۔۔۔۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے درخت وشجر حرکت کرنا بھول گئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ہوا ناپائد ہو چکی ہو۔۔۔۔۔۔۔ چرند پرند چہچہاناں بھول گئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ گویا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ساری کائنات کا نظام منجمد ہو کر ایک ہی منظر پر اپنی نگاہیں مرکوز کر چکا ہے ۔

وہ منظر ایک شفیق باپ اور معصوم بیٹے کا تھا ۔ بیٹے کی آنکھوں پر پٹی بندی ہوئی تھی اور وہ سینے کے بل لیٹا ہوا تھا۔ باپ کے ہاتھ میں چھری تھی اور وہ اسے اپنے لخت جگر کی گردن پر چلا رہا تھا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ باپ اور بیٹا دونوں مکمل طور پر مطمئن نظر آرہے تھے۔ بیٹاذبح ہونے کے لیے ، باپ ذبح کرنے کے لیے اس قدر تیزی دیکھا رہا تھا کہ جیسے انہیں لمحے بھر کی دیر میں دنیا اور آخرت کے لٹ جانے کا خدشہ ہو ۔

وہ عظیم الشان باپ اللہ تعالی کا پیغمبر خلیل اللہ ( حضرت ابراہیم علیہ السلام) اور وہ عظیم الشان بیٹا اللہ تعالی کا پیغمبر ذبیح اللہ(حضرت اسماعیل علیہ السلام )تھے ۔ اللہ تعالی نے اپنے خلیل کو اپنے بیٹے کی قربانی کرنے کا حکم دیا باپ اور بیٹا رضائے خداوندوی کے آگے اپنی تمام تر محبتوں کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالی کا حکم بجا لائے اور اس عظیم امتحان میں کامیاب ہوئے ۔

اللہ تعالی کو اپنے خلیل کی یہ قربانی اس قدر پسند آئی کہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہرصاحب استطاعت کے لیے سنت ابرہمیی کو واجب کردیا ۔ صرف واجب ہی نہیں بلکہ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے کہلوا دیا کہ جو شخص استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ شخص ہماری عید گاہ کے قریب ہی نہ آئے ۔ گویا جو شخص اللہ کے خلیل پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو محبوب نہیں رکھتا اللہ تعالی ایسے شخص کو اپنی بارگاہ مقدس میں دیکھنا ہی نہیں چاہتا ۔

یہ عظیم قربانی ہمیں اللہ تعالی نے عطاء کی ہے ۔اس قربانی کا مقصد صرف جانور قربان کرنا نہیں بلکہ اپنی ہر خواہش جذبے اور محبوب سے محبوب چیز حتی کہ ضروت پڑنے پراپنی جان اپنا خون اور اپنی اولاد کو وطن اور اسلام کی سر بلندی اور رضائے خداوندی و مرضی خداوندی کے لیے قربان کر دینے کا نام ہے ۔
حضرت مولانا”حکیم شاہ محمد اختر صاحب ” فرماتے ہیں:
“اگر مومن خواہش کرے کہ میں اس سنت ابراہیمی کو کیسے زندہ کروں ؟تو اس کی بھی ایک ترکیب ہے ۔ اپنی ہر بری خواہش کو چاہیے وہ خواہش دل کو کتنی محبوب کیوں نہ ہو لیکن اللہ کی رضا کے خلاف ہو ذبح کر دو ۔
بس جب گناہ کا تقاضا پیدا ہو ۔ دل تڑپ جائے کہ ہائے اس خواہش کو پورا کر لو اور خیال آئے کہ دنیا کی کوئی شئےمجھے اس خواہش سےزیادہ عزیز نہیں تو فورا اس کو پچھاڑ دو اور اس پر اللہ کی مرضی کی تلوار چلا دو ،یعنی اس تقاضے پر ہرگز عمل نہ کرو ۔ گویا تم نے اپنی اولاد کو اللہ کے راستے میں ذبح کر دیااور کیا عجب اس قربانی کی برکت سے اللہ تعالی اپنے خلیلوں میں حشر فرما دے “۔

یاد رکھو اللہ تعالی کو ہمارے خون اور گوشت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی تو بندے کےتقوے کو دیکھتے ہیں ۔لیکن اگر ہم اپنی خواہش کو اللہ کی مرضی کے تابع نہیں کر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان مال اور اولاد تک۔۔۔۔۔ لٹانے کا جذبہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ظلم و ستم میں پستے مظلوم مسلمانوں کا درد ۔۔۔۔۔۔۔سسکتی ماوءں کی آہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور معصوم بچوں۔۔۔۔۔۔ بہنوں۔۔۔۔۔۔ اور بزرگوں۔۔۔۔۔۔ کی چیخیں۔۔۔۔۔۔ سننے کے باوجود بھی اگر دل میں اسلام اور وطن کو اپنے لہو سے سیراب کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تو یہ ہماری قربانی سوائے جانور کا خون بہانےکے کسی کام کی نہیں ۔!!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے