Home / کالم / گھریلو ذمہ داریاں*

گھریلو ذمہ داریاں*

*معاشرے میں ہماری گھریلو ذمہ داریاں*
*ازقلم⁦🖋️⁩
حافظ بلال بشیر چکوال*

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں گھر یلو لڑائی جھگڑے، رشتے داروں کے ساتھ نا چاقی بہن بھائیوں کے ساتھ ناراضگی کئی گھروں میں معمول ہوتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا مذہب تو دین اسلام ہے لیکن ہم نے کبھی اس معاملے پر دین اسلام پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جی ہاں! اگر ہم احکام الہٰی کو مد نظر رکھیں تو ان معاملات سے نکل سکتے ہیں قرآن کریم میں ان احکامات کو اللّٰہ پاک نے پارہ نمبر 26 سورة الحجرات میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس سورت کے بنیادی موضوع ہی دو ہیں ۔ پہلا موضوع میں مسلمانوں کو اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعظیم کا کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کے لیے کن اصولوں پر عمل کرنا چاہیے اس سورة مبارکہ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں اختلاف پیدا ہو جائے تو دوسرے مسلمانوں پر صلح وغیرہ کے کیا فرائض عائد ہوتے ہیں اس سورة مبارکہ میں وہ اسباب بھی بیان فرمائے گئے ہیں جو عام طور پر معاشرے میں رہن سہن کے دوران آپس کے لڑائی جھگڑے کا سبب بنتے ہیں مثلاً ایک دوسرے کا مذاق اڑانا ، غیبت کرنا، دوسروں کے معاملات میں ناحق مداخلت کرنا، بد گمانی کرنا مزید پوری وضاحت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ خاندان، قبیلے، زبان اور قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی بڑائی جتانے کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں اگر کسی کو دوسرے پر فوقیت ہو سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اپنے کردار اور تقویٰ کی بنیادپر ہی ہو سکتی ہے یہ بھی حکم دیا گیا کہ کسی کی ٹوہ میں نہ لگو جستجو میں نہ لگو ۔ الزام تراشیوں سے باز رہو ، میانہ روی اختیار کرو ۔ یہ وہ خامیاں ہیں جن کی نشاندہی سورة الحجرات میں کی گئی ہے اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں ایک اور ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف اکثر خاندانوں میں توجہ نہیں دی جاتی وہ یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ طے کرتے وقت لکھا نہیں جاتا اور بعد میں یہ نہ لکھے ہوئے فیصلے لڑائی، جھگڑوں کا سبب بنتے ہیں حالانکہ یہ بھی فرمان الہٰی ہے کہ جب کوئی ادھار وغیرہ کا معاملہ طے ہو تو اس کو لکھ لیں اور گواہ بھی بنا لیں چنانچہ اللّٰہ پاک سورةالبقرہ فرماتے ہیں کہ
*”اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور تم میں سے جو شخص لکھنا جانتا ہو انصاف کے ساتھ تحریر لکھے ، اور جو شخص لکھنا جانتا ہو ، لکھنے سے انکار نہ کرے ۔ جب اللہ نے اسے یہ علم دیا ہے تو اسے لکھنا چاہیے ۔ اور تحریر وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق واجب ہورہا ہو ، اور اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس ( حق ) میں کوئی کمی نہ کرے ۔ ( ١٨٧ ) ہاں اگر وہ شخص جس کے ذمے حق واجب ہورہا ہے ناسمجھ یا کمزور ہو یا ( کسی اور وجہ سے ) تحریر نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا سرپرست انصاف کے ساتھ لکھوائے ۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو ، ہاں اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے ہوجائیں جنہیں تم پسند کرتے ہو ، تاکہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے ۔ اور جب گواہوں کو ( گواہی دینے کے لیے ) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ۔ اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو ، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اسے لکھنے سے اکتاؤ نہیں ۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے ، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آئندہ شک میں نہیں پڑو گے ۔ ہاں اگر تمہارے درمیان کوئی نقد لین دین کا سودا ہو تو اس کو نہ لکھنے میں تمہارے لیے کچھ حرج نہیں ہے ۔ اور جب خریدوفروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو ۔ اور نہ لکھنے والے کو کوئی تکلیف پہنچائی جائے ، نہ گواہ کو ۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے نافرمانی ہوگی ۔ اور اللہ کا خوف دل میں رکھو ۔ اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔”*
احکام الہٰی کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے نمونہ ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو زندگی میں بھی ہماری رہنمائی فرمائی ہے اسلامک رائیٹرز موومنٹ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ مشہور و معروف مصنف و کالم نگار استاد محترم مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب فرماتے ہیں کہ “میں نے اصولی طور پر یہ بات عرض کی ہے کہ گھر کے ماحول کے بارے میں جناب نبی کریمؐ نے دونوں باتوں کی طرف بیک وقت تلقین فرمائی ہے کہ سب کے حقوق بھی بوقت ضرورت ادا کرنے ضروری ہیں اور اللہ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا بھی لازمی ہے۔(یعنی حقوق اللّٰہ بھی اور حقوق العباد بھی) جناب نبی کریمؐ نے ان دونوں معاملات کے درمیان توازن قائم کر کے اپنی امت کے لیے ایک عملی نمونہ پیش کیا۔”
چنانچہ اللّٰہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
*’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے نہ اس کی تحقیر کرے (آپ ﷺ نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو۔‘‘*
اپنے ماں باپ، اولاد ازواج کے علاوہ گھریلو رشتوں کے علاوہ بہن بھائی، ساس بہو، بھاوج نند، دادا دادی، پوتے پوتیاں یہ وہ رشتے ہیں اور چند دیگر رشتے بھی موجود ہوتے ہیں جو ایک خاندان کی صورت میں کسی بھی گھر میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ سارے رشتے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے نبھائے جائیں تو گھر امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔ چھوٹے پر رحم اور بڑوں کی عزت کی جائے ۔ برابری کے رشتوں کو عزت و احترام دیا جائے تو گھریلو زندگی میں مسائل پیدا نہیں ہوتے ۔ گھر سے ہی خاندان پروان چڑھتا ہے اور خاندان معاشرے کو وجود بخشتا ہے ۔ ایک فرد کی سیرت و کردار کی تعمیر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کی جائے تو صالح خاندان اور پھر صالح معاشرہ جنم لیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے ۔ دورِ حاضر میں اس کی اشد ضرورت ہے ، اس لئے گھریلو زندگی کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے والدین، اساتذہ اور افراد معاشرہ کو اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے