Home / کالم / بت پرستی اور مثالی زندگی

بت پرستی اور مثالی زندگی

تحریر:
حافظ امیرحمزہ سانگلوی

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ظہور سر زمین بابل (موجودہ عراق) کے ایک شہر میں ہوا۔آپ علیہ السلام کی پروش ایک ایسے ماحول میں ہوئی کہ معاشرہ شرک، بت پرستی اور کواکب پرستی میں ڈوبا ہوا تھا۔ آپ کا باپ نہ صرف بت پرست بلکہ بت گر بھی تھا اور اسے پروہت کا مقام بھی حاصل تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بارگاہ الٰہی سے نبوت سے نوازا گیا اور حکم دیا گیا کہ اللہ کے بندوں تک اس کا پیغام حق پہنچائیں، تو انھوں نے سب سے پہلے اپنے باپ کو مخاطب کیا، اس کے سامنے اپنی دعوت پیش کی اور اپنی قوم سے بھی خطاب کیا اور شاہ وقت کے دربار تک بھی اللہ کا پیغام پہنچایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان پیغمبروں میں سے ہیں جن پر آسمانی کتاب نازل ہوئی۔ آپ کی تعلیمات اور آپ کی ملت کے عناصر کو جاننے کا سب سے مستند ذریعہ ہمارے پاس قر آن کر یم موجود ہے۔ قرآن مجید نے آپ کی زندگی اور تعلیمات کا مفصل تذکرہ کیا ہے اور صحف ابراہیم کے حوالے دیتے ہوئے ملت ابراہیمی کے ارکان و عناصر کی طرف اشارے کیے ہیں۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات پوری بنی نوع انسانیت کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دین اسلام دین ابراہیم کی ہی دوسری شکل و تشریح ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ کریم کے وہ بزرگ پیغمبر ہیں کہ جن کو ہر سال پوری دنیا میں رہنے والے مسلمان ذوالحجہ کے دنوں میں باقاعدگی سے یاد کرتے اور ان کے اسوۂ (ابراہیمی) پر عمل پیرا ہو کر قربانی کی سنت ادا کر تے ہیں۔ یوں زندگیوں میں اپنے پروردگار کی خاطر قربان ہو جانے اور کچھ کر جانے کا جذبہ پہلے سے شدت و تیزی سے پروان چڑھتا ہے اور وہ اپنے مولا کریم کو خوش کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہو جاتے ہیں اور ہمہ وقت دین اسلام اور حاملین اسلام کے لیے قربان ہو جانے کے جذبات لے کر ایک بار پھر کارگاہ حیات میں مصروف عمل ہو کر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا تے ہیں۔
قرآن کر یم میں ”ملت ابراہیم“ کا تذکرہ باربار ہوا ہے، یہود و نصاریٰ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ یوں تو اپنے جد امجد کا دم بھرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اُنہی کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے ملت ابراہیم علیہ السلام میں بہت زیادہ تحریفات کر دی ہیں اور اس میں بہت سی باتیں اپنی خواہش کے مطابق شامل کر لی ہیں۔ قرآن ایک طرف انھیں دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ طریقوں کو چھوڑ کر ملت ابراہیمی کو اختیار کریں تو دوسری طرف وہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی دین کی دعوت دے رہے ہیں، جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام لے کر آئے تھے۔
ملت ابراہیمی کا سب سے بنیادی عنصر توحید ہے، کفر و شرک اور بت پرستی میں ڈوبا ہوا صرف آپ کا معاشرہ ہی نہیں تھا بلکہ تقریباً پوری دنیا شرک کی لپیٹ میں تھی۔ بابل، شام اور مصر ہر جگہ اصنام پرستی زوروں پر تھی۔ خدا کو سینکڑوں، ہزاروں اصنام واوثان میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام جس خاندان میں پیدا ہوئے تھے وہ نہ صرف بت پرست تھا بلکہ اسے پروہت کا منصب بھی حاصل تھا۔ بت پرستی کے اس ماحول کے باوجود جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام گھرے ہوئے تھے، آپ نے بت پر ستی کا انکار کیا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کے سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ایک مثالی زندگی تھی۔ انھوں نے ماسوائے اللہ سے تعلق منقطع کر کے صرف اور صرف اللہ واحد سے اپنا رشتہ جوڑ لیا تھا وہ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک معاملے میں اللہ کی مرضی کی پابندی کرتے تھے اور اسی تعلق کو مضبوط کرنے کا اپنی قوم کو درس دیتے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات میں رسالت کا بہت واضح تصور موجودہے۔ وہ اپنے باپ اور قوم کو دعوت الی اللہ دیتے اور کہتے پیغمبر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اسے خصوصی علم سے نوازا جاتا ہے، جس سے دوسرے لوگ محروم ہوتے ہیں۔ اس لیے ہدایت سے فیض یاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو احکام نبی لے کر آئے، انھیں قبول کر کے ان پر عمل کیا جائے اور نبی کی پیروی کی جا ئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی راہِ حق کی دعوت دی اور بت پرستی کے نقائص و معایب واضح کیے، اللہ کی نعمتوں پر شکر کیا، اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کی تکمیل کے لیے صرف اسی کے سامنے دست دعا پھیلائے، اپنے باپ،بیوی بچوں اور ماتحتوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ ادب و احترام، دل سوزی محبت اور بردباری پر مبنی تھا۔ وہ اخلاق فاضلہ کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ اس لیے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کا دم بھرنے والے اور ان سے نسبت پرفخر کرنے والے ان کی دعوت، ان کے اخلاق و اوصاف کو نمونہ بنائیں اور انھیں اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے