Home / اسلام / خالِق کے تَخلیقی شاہ کار

خالِق کے تَخلیقی شاہ کار

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اَلاَنعام ، اٰیت 95 تا 99 )))) 🌹
خالِق کے تَخلیقی شاہ کار !! 🌹
ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ان اللہ
فٰلق الحب والنوٰی
یُخرج الحی من المیت و
یخرج المیت من الحی ذٰلکم
اللہ فانٰی تٶفکون 95 فالق الاصباح
وجعل الیل سکنا والشمس والقمر حسبانا
ذٰلک تقدیر العزیزالعلیم 96 وھوالذی جعل لکم
النجوم لتھتدوابھا فی ظلمٰت البر والبحر قد فصلنا
الاٰیٰت لقوم یعلمون 97 وھوالذی انشاکم من نفس واحدة
فمستقر ومستودع قد فصلناالاٰیٰت لقوم یفقھون 98 وھوالذی
انزل من السما ٕ ما ٕ فاخرجنا بہ نبات کل شٸ فاخرجنا منہ خضرا
نخرج منہ حبا متراکبا ومن النخل من طلعھا قنوان دانیة وجنٰت من اعناب
والزیتون والرمان متشابھا وغیر متشابہ انظروا الٰی ثمرہ اذااثمر و ینعہ ان فی ذٰلک
لاٰیٰت لقوم یٶمنون 99
ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ ہی بیج کے غلاف اور گُٹھلی کے شگاف سے وہ اَشجارِ گُل بار اور وہ شاخِ ثمردار نکالتا ھے جن کے پُھول تُمہاری آنکھوں کے لیۓ رَاحتِ کردِ گار اور جن کے پَھل تُمہارے دلوں کے لیۓ رَحمتِ پروردِ گار ھوتے ہیں اور وہ وہی اللہ ھے جو جان دار حیوانات کے وجُود سے بے جان بیضے اور بے جان بیضوں کے وجُود سے جان دار پیدا کر کے اُن کو زمین پر چلا دیتا یا فضا میں اُڑادیتا ھے اور وہ اپنی خلّاقی کے اِس عمل سے تُم سب کو یہ دکھا دیتا ھے کہ وہ کس کار گری کے ساتھ پہلے زندگی کے وجُود سے موت کو باہر لاتا ھے اور پھر موت کے وجُود سے زندگی کو باہر لے جاتا ھے لیکن حیرت ھے کہ یہ سب کُچھ دیکھ کر بھی تُم سب شرک کے اندھے راستے پر اَندھا دُھند چلتے ہی چلے جا رھے ھو ، وہ وہی اللہ ھے جو ہر ایک شَب کے اَندھیرے سے ہر ایک دِن کے لیۓ زندگی کے سویرے لے کر آتا ھے اور وہ شمس و قمر کو اپنے اپنے داٸرہِ کار میں رکھ کر اپنے اپنے داٸرہِ مَدار میں چلاتا ھے ، وہ وہی اللہ ھے جو تُم کو صحرا و سمندر کے اَندھیرے میں راستے دکھانے کے لیۓ آسمان و خلا کی وسعتوں میں تاروں اور ستاروں کے فانُوس جلاتا ھے تاکہ وہ تُمہاری بے علم قوم کو شرک کے اندھیرے سے نکال کر علم کی روشنی میں لے آۓ ، وہ وہی اللہ ھے جو تُم کو پیدا کر کے پہلے کُچھ مُدت تک صُلبِ پدر میں رکھتا ھے ، پھر کُچھ مُدت تک رحمِ مادر میں رکھتا ھے ، کُچھ مُدت تک زمین میں جگہ دیتا ھے اور پھر جب اُس کے مَن میں آتا ھے تو وہ تُم کو دُنیا کے خول سے نکال کر عُقبٰی کے ماحول میں لے جاتا ھے تاکہ تُم اُس کی ہستی اور اپنی پَستی کا فرق جان کر اُس کی توحید پر ایمان لے آٶ اور وہ وہی اللہ ھے جس نے فضا کی بلندی سے پانی برسایا ھے ، اِس پانی سے نبات کو اُگایا ھے ، اِن نباتات کی بالیدگی سے شاخوں کو سبز رَنگ بنایا ھے ، پھر اِن سبز رَنگ شاخوں میں خوشے اور خانے بناۓ ہیں اور اِن خوشوں اور خانوں میں تہہ دَر تہہ دانے بناۓ ہیں ، اِن میں کھجُور کے وہ تازہ بہ تازہ خوشے بھی ھوتے ہیں جو تُمہاری طبعیتوں کو لُبھاتے ہیں اور شاخوں کے ساتھ لَٹکے ھوۓ وہ گُچھے بھی ھوتے ہیں جو تُمہاری خوراک کے لیۓ تیار ھو کر تُمہارے ہاتھوں کی طرف جُھک جاتے ہیں اور تُمہارے ہاتھ اُن کو پکڑنے کے لیۓ لَپکنے کے لیۓ بیتاب ھو جاتے ہیں ، تُمہارے اِن پسندیدہ پَھلوں میں اَنگُور کے لہلہاتے باغ بھی ھوتے ہیں اور زیتون و انار کے ایک دُوسرے سے ملتے جُلتے اور ایک دُوسرے سے اَلگ اَلگ رنگوں ، شاخوں اور پتوں والے اَشجار بھی ھوتے ہیں ، تُم اِن سب کو دیکھتے ھو کہ جب وہ پَکتے ہیں تو تُمہارے مَن میں اپنی طلب پیدا کرتے ہیں اور تُمہارے مَن میں اُن کی طلب پیدا ھوجاتی ھے مگر ھمارے یہ دلاٸل تو صرف اُن اہلِ ایمان کے دل کو بَھاتے ہیں جو اللہ پر کامل یقین رکھتے ہیں ، رھے مُنکر تو اُن کے لیۓ نصیحت و فضیحت ایک برابر ھے !
🌹 مطالبِ اٰیات اور مقاصدِ اٰیات ! 🌹
قُرآنی اٰیات پر عزمِ عمل کے بجاۓ حصولِ برکت کے لیۓ نظر ڈالنے اور قُرآن کے حرُوف کو سمجھنے کے بجاۓ حصولِ ثواب کی غرض سے اُن پر اُنگلی پھرنے والے اَفراد کے لیۓ قُرآن کی اِن اٰیات میں بیان کی ھوٸ یہ سب باتیں وہی عام سی باتیں ہیں جو پہلے ہی سے اُن کے ذاتی تجربے ، بَصری مُشاھدے اور مَکتبی علم میں موجُود ہیں لیکن جو لوگ قُرآنی اٰیات کو پڑھنے کی طرح پڑھتے ہیں ، اِس کے حروف کو دیکھنے کی طرح دیکھتے ہیں اور اِس کے معانی و مفاہیم پر غور کرنے کی طرح غور کرتے ہیں تو اُن کے لیۓ اِن اٰیات میں اللہ کی بیان کی ھوٸ ایک ایک بات علم کا ایک ایسا سمندر ھے جس سمندر سے اگر ہر ایک انسان عُمر بَھر بھی علم کے جواہرات لیتا رھے گا تو ہر ایک انسان کا فکری خزانہ اِس کے علمی جواہرات سے بَھر جاۓ گا لیکن علم کے اِس سمندر میں رَتی برا بر بھی کوٸ فرق نہیں آۓ گا ، اِن اٰیات کا بیانیہ بھی انسانی فطرت کا وہی پہلُو ھے کہ انسان جس مُلک کے جس شہر اور جس شہر کے جس ماحول میں رہتا ھے وہ اُس مُلک کے اُس شہر اور اُس شہر کے اُس ماحول میں رہتے ھوۓ بھی کسی دُوسرے مُلک کے دُوسرے شہر اور دُوسرے شہر کے دُوسرے ماحول میں جانا اور رہنا چاہتا ھے اور جب وہ کسی حُسنِ اِتفاق کے تحت اُس مُلک کے اُس ماحول میں پُہنچ جاتا ھے تو پھر وہ اپنے پہلے مُلک اور پہلے ماحول میں پُہنچنے کے لیۓ بیقرار ھو جاتا ھے ، اللہ نے انسان کی اسی بیقراری کو قرار دینے کے لیۓ دُنیا کے مقابلے میں عُقبٰی کی اور عُقبٰی کے مقابلے میں دُنیا کی حیات رکھی ھے ، انسان کے اِس فطری اضطراب کا سبب یہ ھے کہ قُدرت نے اِس کی فطرت کی بُنیاد ” یافت “ اور ” دَریافت “ کے اصول پر اُستوار کی ھے ، یافت سے ہر وہ چیز مراد ھوتی ھے جو انسان کے قبضہِ قُدرت میں آجاتی ھے اور دریافت سے وہ چیز مُراد ھوتی ھے جس کو انسان پانا چاہتا ھے اور پانے کے لیۓ اُس کو جاننا چاہتا ھے اور جاننے کے بعد اُس کو اپنی گرفت میں لانا چاہتا ھے اور یہ واقعہ انسان کے ساتھ اِس لیۓ پیش آتا ھے کہ انسان جب تک زندہ رہتا ھے اِس کے لَمحہ حال کے سامنے اِس کا وہ لَمحہِ استقبال موجُود ھوتا ھے جو ہر لَمحہ و ہر آن اِس سے کُچھ نہ کُچھ مانگتا رہتا ھے اور انسان اپنے ہر لِمحہِ حال میں اپنے حریص لَمحہِ استقبال کے لیۓ کُچھ نہ کُچھ کمانے اور کُچھ نہ کُچھ بچانے میں مصروف رہتا ھے ، اگر انسان کی فطرت میں یہ مُسلسل تجسس نہ ھوتا ، اِس کی فطرت میں ایک مُسلسل تشنگی اور طلب نہ ھوتی اور اِس کی فطرت میں ایک مُسلسل یافت اور دریافت کی علمی و عملی شدت نہ ھوتی تو ایک انسان اور ایک بے جان پَتھر میں کوٸ فرق نہ ھوتا ، انسانی فطرت کا یہی وہ اضطرابی پہلُو ھے جو اِس کو ہر نۓ دِن کے ساتھ ایک نیا حوصلہ دیتا ھے ، ہر نیۓ حوصلے کے ساتھ اِس کو اِرتقاۓ حیات کی ایک نٸ منزل دکھاتا ھے اور ہر نٸ منزل اِس کو ایک نٸ رَاہِ منزل پر چلاتی ھے ، اگر انسانی فطرت میں اِرتقاۓ حیات کی یہ گوناں گونی اور بُو قلمونی نہ ھوتی جو اِس کے ایام و سحر کو ماضی سے اُٹھا کر حال میں لاٸ ھے اور حال سے بڑھا کر مُستقبل میں لے جا رہی ھے تو انسان کے پاس آج کے بعد کل کا اور دُنیا کے بعد عُقبٰی کا اور عُقبٰی کے بعد کسی جزا و سزا کا تصور ہی موجود نہ ھوتا اور چونکہ انسان کی فطرت میں یہ سب کُچھ موجُود ھے اِس لیۓ اِن اٰیات میں انسان کو پہلی بات یہ بتاٸ گٸ ھے کہ اللہ تعالٰی کی مدد اور مَنشا کے بغیر کسی بھی انسان کے لیۓ ارتقاۓ حیات کا یہ سفر مُمکن نہیں ھے ، اِن اٰیات میں انسان کو دُوسری بات یہ بتاٸ گٸ ھے کہ اللہ واحد و لا شریک ھے اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور دیوی دیوتا ، کسی اور پیر پروہت یا کسی اور امام و محدث کی غلامی کریں گے تو وہ اِرتقاۓ حیات کے درمیان میں آنے والی جہنم کی بُھول بہلیوں میں بَھٹک کر رہ جاٸیں گے اور تیسری بات اِن اٰیات میں یہ بتاٸ گٸ ھے کہ انسان کا ہر آنے والا دن اور ہر آنے والا زمانہ پہلے دِن اور پہلے زمانے سے بہتر ھوتا ھے اور اِسی لیۓ گزشتہ اٰیت میں ماضی کی ایک مَحشر کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالٰی دُنیا سے عُقبٰی میں جانے والے انسانوں کو سب سے پہلے اِس اَمر سے آگاہ کرتا ھے کہ تُمہارا سارا سرمایِہ حیات پُرانی دُنیا میں رہ گیا ھے اور انسان کو یہ اطلاع دینے کے معاََ بعد اِن اٰیات میں یہ بتایا جارہا ھے کہ دُوسری دُنیا کی دُوسری جنت میں بھی صبح و شام اسی طرح آتے ہیں جس طرح اِس پہلی دُنیا میں آتے ہیں ، دُوسری دُنیا میں بھی بہاروں کا وہی دور دورہ ھوتا ھے جو پہلی دُنیا میں ھوتا ھے ، دُوسری دُنیا میں بھی پُھول ایسے ہی کِھلتے ہیں اور کلیاں اسی طرح جس طرح پہلی دُنیا میں پُھول کھلتے ہیں اور کلیاں چٹکتی ہیں ، اُس دُوسری دُنیا میں پَھل بھی اسی طرح پیدا ھوتے ہیں جس طرح اِس پہلی دُنیا میں پیدا ھوتے ہیں لیکن اِس پہلی دُنیا سے اُس دُوسری دُنیا میں جانے کے بعد وہی لوگ اللہ کی اُن نعمتوں کے مُستحق ھوں تے ہیں جن کا دامن شرک سے آلُودہ نہیں ھوتا اور جن کے پاس مخلُوقِ خُدا کے ساتھ اعمال خیر کرنے کا ایک عملی تجربہ بھی ھوتا ھے ، جو لوگ اِن اعمالِ خیر کے ساتھ اِس دُنیا سے اُس دُنیا میں جاتے ہیں وہ اُن تمام باغوں اور بہاروں اور اُن تمام گُل کدوں اور گُلزاروں کے مالک بن جاتے ہیں جن کا اٰیاتِ بالا میں بیان ھوا ھے اور جو لوگ اِن اعمالِ خیر اور اَحوالِ خیر سے محروم ھوتے ہیں وہ اِن تمام نعمتوں کو حسرت بَھری نگاہوں سے دیکھتے اور دیکھ دیکھ کر ترستے ہیں لیکن وہ اِن نعمتوں کو حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ اُس دُنیا میں اِس دُنیا سے جو چیز انسان کے ساتھ جاتی ھے اُس دُنیا میں وہی چیز انسان کو مُیسر آتی ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے