Home / اسلام / انسان اور بُتانِ وہم و گُمان

انسان اور بُتانِ وہم و گُمان

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 100 تا 10 4 ))) 🌹
انسان اور بُتانِ وہم و گُمان !! 🌹
ازقلم 🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیات !🌹
🌹 وجعلوا للہ
شرکا ٕ الجن وخلقھم وخرقوالہ
بنین وبنٰت بغیر علم سبحٰنہ وتعٰلٰی عما یصفون 100
بدیع السمٰوٰت والارض انٰی یکون لہ ولد ولم تکن لہ صاحبة وخلق کل شٸ
فاعبدوہ وھو علٰی کل شٸ وکیل 101 لاتدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو الطیف
الخبیر 103 قد جا ٕ کم بصاٸر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ ومن عمی فعلیھا وما انا علیکم بحفیظ 104
اِک ذرا دیکھو اور سوچو تو سہی کہ انسان کی اِس سے زیادہ جسارت اور کیا ھو سکتی ھے کہ جس اللہ نے مُتذکرہ بالا جمادات و نباتات ، حشرات و حیوانات اور اَشجار و اَثمار سے بَھری پُری یہ کاٸنات بناٸ ھے اِس انسان نے اُسی اللہ کے اقتدار و اختیار کو چیلنج کرتے ھوۓ اپنے ہاتھوں سے بناۓ اور اپنے خیالوں میں چُھپاۓ ھوۓ دیدہ و نادیدہ بُتوں کو اُس کا شریکِ اقتدار و اختیار بنا لیا ھے اور پھر اپنے اِسی اَحمقانہ خیال کے تحت اِس نے اپنے اِنہی بتانِ وہم و گمان میں سے بعض کو اللہ کے بیٹے اور بعض کو اللہ کی بیٹیاں خیال کر لیا ھے ، حالاں کہ اِس بات کا تو انسان کو اپنی عقلِ عام ہی سے اِدراک ھو جانا چاہیۓ تھا کہ اللہ کی ذات تو اِس کے اِن خیالات سے ایسی بلند تَر ذات ھے کہ جس نے ہر موجُود کو پہلی بار ایجاد کیا ھے اور اُس مُوجد کی اِس ایجاد میں اُس کا کسی کے ساتھ والد و وَلد کا کوٸ رشتہ نہیں ھے اور اُس کی کوٸ بیوی بھی نہیں ھے اور اُس مُوجد کی اِس ایجاد میں کوٸ ایک بھی ایسا وجُود موجُود نہیں ھے جس کی نگاہ اُس مُوجد کے وجُود کا اِحاطہ کر سکے اور کوٸ ایسا وجُود بھی موجُود نہیں ھے جس کے وجُود کا اُس مُوجد کی نگاہ احاطہ نہ کر سکے اور اَب جب تُمہارے پاس اُس کی ذات کو جاننے کا وہ معیارِ حق آچکا ھے جس کے ذریعے تُم اُس کی ذات کو جان سکتے ھو تو اَب تُم میں سے جو چاھے اُس کو اپنی پُوری بصیرت و بصارت کے ساتھ دیکھ لے اور جو چاھے وہ پہلے کی طرح اَندھے کا اَندھا بنا ر ھے ، میں تُم پر ایسا خُداٸ نگران نہیں ھوں جو اپنی مرضی سے تُم میں سے کسی کی نگاہ کو اُس پر جَمادوں اور کسی کی نگاہ کو اُس سے ہٹا دوں !
🌹 انسان کا نَقص بصیرت و بصارت ! 🌹
عالَمِ کاٸنات انسان کے احساس و حواس کے داٸرے میں آنے والا سب سے بڑا وجُود ھے اور اِس سب سے بڑے وجُود کے وجُود میں نظر آنے والے دُوسرے بہت سے جو چھوٹے بڑے وجُود ہیں اُن میں سے بعض کو انسان اپنی بصارت سے دیکھتا ھے اور بعض کو صرف اپنی بصیرت سے دیکھ سکتا ھے ، اِن دِکھنے اور نہ دِکھنے والے اَجسام میں سے انسان جن اَجسام کو اپنی بصارت سے دیکھتا ھے اُن کے بارے میں انسان کی راۓ اَلگ ھوتی ھے اور جن اَجسام کو وہ اپنی بصیرت سے دیکھتا ھے اُن اَجسام کے بارے میں اِس کی راۓ جُدا ھوتی ھے ، انسان جن دِکھنے والے اَجسام کو دیکھ کر اور جن دِکھنے والے اَجسام کے بارے میں دُوسرے انسانوں سے سُن سُنا کر اُن کو جو تعظیم اور تکریم دیتا ھے وہ تعظیم و تکریم اُس تعظیم و تکریم سے کم ھوتی ھے جو تعظیم و تکریم اُس کے دِل میں اُن اَن دیکھے اَجسام کے لیۓ موجُود ھوتی ھے جن کو وہ اپنے خوابوں میں سجاتا ھے اور خیالوں میں پُوجتا ھے ، اِس لیۓ پہلے پہل انسان جب اپنی رُوح و دِل میں چُھپے ھوۓ فطری تجسس کے تحت اپنے خالق کی تلاش میں نکلا تو اِس کی جہالت کے باعث اِس کے ساتھ سب سے پہلے یہ اَلمیہ رُونما ھوا کہ اِس کو اِس بڑے عالَمِ وجُود میں جو چھوٹے بڑے وجُود نظر آۓ اُن کو تو اِس نے اپنے نقصِ بصارت کی بنا پر اپنے چھوٹے اِلٰہ بنا لیا اور جو چھوٹے یا بڑے اَن دیکھے وجود اِس کے تصور و خیال میں آۓ تو اُن کو اِس نے اپنے بڑے اِلٰہ کے طور پر اپنے فکر و خیال میں بٹھا لیا اور چونکہ انسان اپنے فکر و خیال کے حوالے سے ایک تخیل پرست ہستی ھے اِس لیۓ یہ اِن دِکھنے والے اَجسام کے بارے میں اپنی ناقص بصارت سے جو دیکھتا رہا ، اپنے ناقص خیال سے جو سوچتا رہا اور اپنے جیسے دُوسرے ناقص خیال لوگوں سے جو دُوسرے ناقص خیال سُنتا رہا ، اُن ناقص خیالات سے اِس کے اِس ناقص علم میں وقت کے ہر لَمحے میں ایک ناقص سے ناقص تَر اضافہ ہی ھوتا چلا گیا !
🌹 انسان کی روایت پرستی اور بُت پرستی ! 🌹
اور پھر اِس کے فکر و خیال میں اُن سُنے سناۓ خیالی افسانوں نے اُس مَنحوس روایت کے طور پر جگہ بنالی جو مَنحوس روایت ہر زمانے میں ہر اِنسان کے لیۓ تسکینِ طبع و تسکینِ گوش و ھوش کا سامان رہی ھے اور آج بھی ھے لیکن اِس کا نتیجہ کَل بھی فکر و خیال کی موت تھا اور آج بھی فکر و خیال کی موت ہی ھے ، پھر جب انسانی نفس کے اِن شیطانی جَذبوں نے زمین اور اہلِ زمین پر اتنا غلبہ حاصل کرلیا کہ انسان کی انسانیت موت کی دہلیز پر جا پُہنچی تو اللہ تعالٰی نے انسان کو وہم و گمان کے اِن بتوں سے نجات دلانے کے لیۓ زمین پر اپنے اَنبیا ٕ ورُسل مبعوث فرماۓ لیکن اُس وقت کا مُشرک انسان اپنے مَن کی اِس دیدہ و نادیدہ خُدا سازی میں اتنا خود کفیل ھو چکا تھا کہ اُس کو اِس بات سے کوٸ غرض ہی نہیں رہی تھی کہ اللہ وہ واحد و لاشریک ھے جو ہر روز اُس کے سر پر سُورج طلُوع کر کے اُس کو بیدار کرتا ھے اور اُس کو حرکت وعمل کے لیۓ تیار کرتا ھے ، اُس کو شاید اِس بات کا بھی کوٸ احساس نہیں رہا تھا کہ اللہ واحد و لا شریک ہر دن کے بعد اُس پر شَب کی ایک چادر ڈال کر اُس کے آرام و سکون کا اہتمام کرتا ھے ، اُس کو اِس بات کی بھی کوٸ پروا نہیں تھی کہ اللہ واحد و لا شریک ہی اِس کے پاٶں میں بِچھی ھوٸ بَنجر زمین پر موقع بہ موقع ضرورت کے مطابق بارشیں برساتا ھے اور پھر اِس زمین سے اُس کے لیۓ سبزہ و پَھل اُگا کر روز کے روز اِس کی روزی روٹی کا سامان بھی پیدا کرتا ھے ، وہ مُشرک انسان صرف اِس خیال میں مَست تھا کہ وہ کسی بُت یا کسی دیوی دیوتا کی پُوجا کر کے اپنے خُدا کو اپنی اِس رشوت سے راضی کر رہا ھے اور وہ اِس کا وہ رشوت پسند و رشوت طلب خُدا بھی اُس سے راضی و خوش ھو رہا ھے ، اسی طرح وہ اپنے اِس عمل سے بھی بہت مُطمٸن تھا کہ وہ سال بہ سال اپنے بتوں کے آستانوں اور اپنے پیروں فقیروں کے جہالت خانوں پر خون کا نذرانہ بھی پیش کرتا رہتا ھے اور وہ اِس خیال سے بھی خوش تھا کہ اُس کے ہاتھوں سے بناۓ ھوۓ اُس کے خاکی اِلٰہوں کی مُورتیں اور اُس کے خیالوں میں سماۓ ھوۓ اُس کے خیالی اِلٰہوں کی صورتیں بھی اُس کے سامنے رہتی ہیں ، لہٰذا اہلِ چمن بھی اُس سے خوش ہیں اور صیاد بھی اُس سے راضی ہیں ، بُت گری اور بُت پرستی اُن کے اِن مشرکانہ اَعمال کی وہ جاہلانہ روایت تھی جو انسانوں کے ایک جاہلانہ روایتی جذبے سے قاٸم ھوٸ تھی اور ایک جاہلانہ جذبے کے تحت جاری و ساری تھی ، یہ زبانوں سے زبانوں میں اور زمانوں سے زمانوں میں چلتی پھرتی وہ قدیم جاہلانہ روایت ھے جس نے ہر زمانے کی ہر زمین کے انسان کی جسم و جان کی حرارت ختم کی ھے اور یہی وہ ایمان سوز روایت ھے جو ہر زمان و مکان کے ہر انسان کے دین و ایمان کو جَلا جَلا کھاتی اور کھا کھا کر جلاتی رہی ھے !
🌹 قُرآن کا مقصدِ نزول اور قُرآن کی دعوت ! 🌹
قُرآن دُنیا میں جہالت اور شرک و شر کی اسی جاہلانہ روایت کو ختم کرنے کے لیۓ آیا ھے اور اٰیاتِ بالا میں قُرآن نے یہی بتایا ھے کہ جن لوگوں نے زمین پر اپنے خالق کے نام پر خاک کے بُت اور خیال کے بُت خانے بناۓ تھے اور بناۓ ہیں ، جن لوگوں نے اپنی حاجت رواٸ اور مُشکل کشاٸ کے لیۓ عالَمِ غیب کے خُدا کے نام پر عالَمِ شھود میں اُس کے غیبی بیٹے اور اُس کی غیبی بیٹیوں کے خاکے قاٸم کیۓ ھوۓ تھے اور قاٸم کیۓ ھوۓ ہیں ، جن لوگوں نے اپنے سیاسی رہنماٶں ، اپنے مَذہبی پیشواٶں ، اپنے سیاہ اعمال پیروں فقیروں اور گدی نشینوں کو اپنا کار ساز بنایا ھوا تھا اور بنایا ھوا ھے وہ ماضی میں بھی خُدا کے اور خدا کے سارے رسولوں کے کُھلے یا چُھپے ھوۓ دُشمن تھے ، حال میں بھی خُدا کے اور اُس کے سارے رسولوں کے کُھلے یا چُھپے ھوۓ دُشمن ہیں اور مُستقبل میں بھی وہ خُدا کے اور اُس کے رسولوں کے کُھلے یا چُھپے ھوۓ دُشمن بن کر ہی زندہ رہیں گے ، اِس لیۓ اٰیاتِ بالا میں اللہ نے قُرآن کے اِن کُھلے اور چُھپے ھوۓ دُشمنوں کو کُھلے اَلفاظ میں بتا دیا ھے کہ حق وہ نہیں ھے جو اِن کی جُھوٹی کتابوں میں درج ھے اور جس نام نہاد امامی حق پر یہ لوگ عمل پیرا ہیں بلکہ حق صرف اور صرف وہ ھے جو قُرآن میں درج ھے ، جس کو دُنیا کی زندگی میں قُرآ کا یہ حق نظر آۓ گا اور وہ اِس حق کو حق جان کر قُرآن دُشمن کتابوں سے اپنی جان و رُوح کو چُھڑاۓ گا وہی حیاتِ عُقبٰی میں نجات پاۓ گا اور جو انسان اِس کتابِ حق کو چھوڑ کر دُنیا میں مارا مارا پھرتا ر ھے گا تو اُس کو اہلِ دُنیا نظر میں اُس کتے کی طرح ھو جاۓ گا جو اپنا پیٹ بَھرنے کے لیۓ اپنے مالک کی دہلیز چھوڑ کر اُن غلاظت بَھری گلیوں میں پھر تا رہتا ھے جہاں ہر راہ گیر اُس کو پَتھر مار رہا ھوتا ھے ، انسان کو شرک و شر کے ذلیل و خوار کرنے والے یہی وہ دیدہ و نادیدہ نقشے ہیں جن کے نَقشِ باطل کو مٹانے کے لیۓ قُرآن نازل ھوا ھے ، قُرآن کے اِس نوشتہِ تحریر کو جو انسان جتنی جلدی پڑھ سکتا ھے وہ پڑھ لے کیونکہ جب تک زمین پر قُرآن کے مُنکر ، اَحکامِ قُرآن کے مُنکر ، نام کے مومن اور کام کے کافر موجُود رہیں گے تَب تک اِن کی مُشرکانہ بَد نصیبی کی وجہ سے زمین اور اہلِ زمین کو اَمن و سکون نصیب نہیں ھو گا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے