Home / کالم / جنسی بیمار معاشرہ

جنسی بیمار معاشرہ

از قلم
سعدیہ ہما شیخ

کالج میں تھے ایک انگلش مضمون میں پڑھا تھا امریکن آتھر مارک ٹون نے 1897 میں کہا کہ انسان ایک کمتر جانور ہے تب اس آتھر سے شدید اختلاف ہوا کہ اشرف المخلوقات کی اس نے تذلیل کی ہے انسان کمتر نہیں یو سکتا مگر جب یہ خبر پڑھی پندرہ سال کے بچے کی تو اس رائٹر کے جملے ذہن میں گردش کرنے لگے کہ انسان کم تر جانور ہے مگر آج میں مارک سے اس وقت شدید اختلاف کے باوجود یہ کہوں گی جانور انسان سے بہتر ہیں انسان نے تو جانوروں کو بھی مات دے دی ہمارا معاشرہ جنسی بیمار ہے اور یہ بیماری بڑھتی جا رہی ہے
ننھی زینب سے لے کر تین سال کی بچی جو صیح سے بول بھی نہیں سکتی اور بچیاں تو کیا معصوم بچے واقعہ قصور کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا سو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ویڈیوز بنانے والا کہاں ہے اس ملک میں ہئجڑوں کے ساتھ جنسی فعل اور حد تو یہ ہے یہاں مر کر بھی سکون نہیں جبکہ وزیر اعظم نے کہا سکون تو صرف قبر میں ہے مگر یہاں تو قبر میں بھی عورت محفوظ نہیں لاشوں کے ساتھ جنسی زیادتی ابھی حال ہی میں دو لڑکے پکڑے گئے
تو اس سب کے بعد یہ کہنا بجا ہے کہ جانور ہم سے بہتر ہیں وہ ایک دوسرے کو نہیں کاٹ رہے زناء زناء با الجبر قوم لوط کا فعل مردوں سے جنسی فعل بچوں اور بچیاں سے زیادتی اور جانوروں سے بدفعلی بکری گاے بھئنس گھوڑے اور گدھے اور اب بلی توبہ استغفار اس بگاڑ کی وجہ کیا ہے ہم اس قدر پستی میں کیوں اتر گئے ہماری نسلیں ئوں بری طرح تباہ کیوں ہو رہی ہیں جن گناہوں پر دوسری اقوام تباہ ہو گیں اللہ نے قوم لوط کو اس شرمناک فعل پر نیست و نابود کر دیا وہ فعل آج امت محمدی میں عام ہے حد تو یہ ہے کہ ہمارے دینی مدرسوں میں بھی بچوں کے ساتھ یہ فعل بد کیا جا رہا ہے
اس سب کی بہت بڑی وجہ دینی اقدار سے دوری اسلام کو اس کی روح کے ساتھ نہ سمجھنا اگر عورت شہوت دلاتی ہے تو تین سال کی بچی اور قبر کا مردہ کون سی رغبت دلاتا یے ساارا کام سوچ سے ہوتا ہے ان بیمار ذہنوں کی گندی سوچ نہ بچہ دیکھتی ہے نہ مردہ اور نہ جانور جبس ملک میں گیارہ سے بارہ سال کے بچے جوان ہو رہے ہیں وہاں تئس تئس سال تک کنواری زندگی یہی گل کھلاے گی سٹئٹس دیکھتے دیکھتے ایمان کو گنوا دینا اور اولاد جا اس فعل قبیح کا شکار ہو جانا جس کی سزا عبرت ہے اور جو لوگ کم عمری کی شادی کوظلم سمجھتے ہیں وہ مجھے بتایں چودہ برس کی بچی کنواری ماں بن سکتی ہے پندرہ سال کا بچہ ہر طرح کی جنسی درندگی کر سکتا ہے تو شادی کیوں نہیں
ہمارا سارا دئن صرف پردے اور داڑھی پر رک جاتا ہے مدرسے میں داڑھی والے قوم لوط بجا فعل کر رہے ہیں مسجدوں میں قران پڑھنے والے بچے جنسی درندگی کا شکار یو رہے ہیں ہم ملزموں کو سزا نہیں دے رہے بلکہ درندوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ کرتے جا رہے ہیں جن بچوں کے ساتھ زیادتی ہو چکی وہ کبھی نارمل لائف نہیں گزار سکتے وہ بہت سے نفسیاتی عورض کا شکار یو گے اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں نفسیاتی مسائل کو قابل علاج سمحھا ہی نہیں جاتا
دوسری وجہ ایک ٹچ پر سب مہیا ہونا
والدین کی غفلت
اولاد کا پردہ کرنا
ان کے برے کاموں کو چھپانا
حرام اور حلال میں فرق نہ کرنا
مادر پدر آزادی
سزاوں کا نہ ہونا
خدارا!اپنی نسلوں کو تباہی سے بچا لیں
اولاد کی دینی خطوط پر تربیت کریں
ان کی غلطیاں چھپایں نہیں انہیں پیار کریں مگر سرزنش بھی کریں ان بچوں کے گناہوں کی باز رس آپ سے ہو گی کیونکہ یہ آپ کی رعیت ہیں انہیں انسانیت کا درس دے کر انسان بنایں پیسے کی ہوس میں حیوانیت کی حد سے نہ گزرنے دیں اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو پھر بچے جننے بند کر دیں تربیت نہیں کر سکتے تو حئوانوں کو جنم نہ دیں

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے