Home / کالم / تفہیم مغرب فورم*

تفہیم مغرب فورم*

📖 *جدید ریاست کو سمجھے بغیر جمہوریت پر تنقید بے معانی ہے: ایک عالم دین کے سوال کا جواب*
✒️ *سید خالد جامعی مدظلہ*
ـــــــــ ــــــــــ ــــــــــ
*عالم دین* ــــ *خلافت عثمانیہ کے علماء نے جمہوریت کو کیوں کفر قرار دیا تھا اس کی دلیل کیا تھی؟*
*جامعی صاحب* ــــ اس کی دلیل کیا تھی؟ اس کےلئے مصادر سے رجوع کیجئے! علامہ زاہد کوثری رحمہ اللہ اور شیخ مصطفی صبری رحمہ اللہ کی تحریریں دیکھئے! فتاوی انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اس موضوع سے ملحق کتابوں میں بہت سے حوالے موجود ہیں، دینی مدارس کے دار الافتاؤں سے رجوع کیجئے! *لیکن اصل مسئلہ جمہوریت نہیں جدید ریاست ہے اسے سمجھے بغیر جمہوریت اور صرف جمہوریت نہیں جدید معیشت، سرمایہ، مارکیٹ اور جدید تعلیم کو بھی سمجھنا مشکل ہے* جدید ریاست جمہوری، فاشسٹ اور سوشلسٹ بھی ہوسکتی ہے *خلافت عثمانیہ نے جب جمہوریت کو کفر قرار دیا تو اس وقت خلافت موجود تھی اور خلافت کا ادارہ اسلامی تاریخ میں یونان کی City Stutes، روم کی جمہوریت یا مغرب میں فیڈرلسٹ پیپرز Fedralist Papers کی جمہوریت کے ذریعے قائم نہیں ہوا تھا، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دار الندوہ کو ختم کر دیا، مشاورت مدینہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہوئی تھی، مکہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قومی مشاورت ممکن نہ تھی، مشاورت میں علماء اور صلحاء ہوتے تھے عوام نہیں ہوتے تھے، یہ اسلامی تاریخ ہے، اسلامی تاریخ کے کسی دور میں جمہوریت اور پارلیمان سرے سے موجود نہ تھی لہٰذا عثمانی سلطنت و امارت موجود تھی اس نے اپنے تحفظ کےلئے جمیوریت کو کفر قرار دیا یعنی فتوی کا تناظر بالکل مختلف تھا لیکن اس وقت فتوی کا تناظر بالکل مختلف ہے* آپ دوسرے سوال کا جواب دے ریے ہیں پہلے سوال کا جواب ہی نہیں دے رہے گفتگو پہلے جمہوریت پر نہیں ہوگی کسی اور موضوع پر ہوگی وہ موضوع زیر بحث نہیں ہے، شاخ پر نہیں جڑ پر گفتگو ہو، یہی علمائے کرام کی سب سے بڑی کمزوری ہے، *اس وقت تو دنیا میں کوئی اسلامی امارت، خلافت اور سلطنت موجود ہی نہیں ہے، اب تو صرف مسلم قومی ریاستیں ہیں جو یو این او کے تابع ہیں اور کسی مسلم قومی ریاست میں پبلک لاء مذہبی نہیں ہو سکتا*
◼️ *یہ یو این او کا فیصلہ ہے*
◼️ *یہ انسانی حقوق کے منشور کا مذہب کا فیصلہ ہے*
◼️ *یہ امریکہ کی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے*
◼️ *یہ فیصلہ یورپین کورٹ اف ہیومن رائٹس کا ہے*
◼️ *یہ فیصلہ عالمی عدالت ہیگ کا ہے*
◼️ *یہ فیصلہ اوباما نے اپنی تقریر میں بھی سنایا تھا جو یو این او میں توہین رسالت کے خلاف کی گئی تھی*
لہذا اس پر تو دنیا کا اجماع ہے کہ *قومی ریاست میں پبلک لاء مذہبی نہیں ہوسکتا لہذا دنیا کی کسی جمہوری، قومی ریاست میں خدا کی حاکمیت کو حاکمیت اعلی تسلیم کرنے کے باوجود کسی شعبے اور ادارے میں فقہاء اور علماء کو کسی عدالتی، معاشی، سیاسی ادارے اور عمل میں کوئی جگہ نہیں دی گئی، ان کو ریاست، سیاست، عدالت، معاشیات سے کاٹ کر، نکال کر باہر کرکے صرف مدارس، مساجد اور خانقاہ تک محدود کر دیا گیا وہ اپنے نجی دائرے میں بیٹھ کر جو فتوی دینا چاہے دے دیں ان کا فتوی کسی ریاست کا قانون نہیں بن سکتا وہ آزادی اظہار رائے کے مغربی اصول کے تحت جلوس، جلسے، احتجاج، ریلیاں، مظاہرے، دھرنے اور تقریریں پر امن طریقے سے کر کے اسلامی نظام کے مطالبات کی کوشش کرتے رہیں اس کی اجازت ہے علماء اس پر قانع ہوگئے اور ان اعمال کے بعد پوری دنیا سے بے پرواہ ہوگئے* تفصیلات کےلئے UCHR کا فیصلہ Arbakan Rafah VS Turkey یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کی ویب سائٹ پر پڑھ لیجئے! اس کے علاوہ UCHR کے سو سے زیادہ فیصلے ہیں جن میں واضح طور پر یہی لکھا ہوا ہے، جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ *خلافت عثمانیہ کے زمانے میں علماء نے جمہوریت کے کفر ہونے کے خلاف جو فتوی دیا تھا وہ آج قابل عمل ہے یا نہیں؟ اس کےلئے ہمیں ریاست کی حقیقت، ماہیت، حیثیت اور اصلیت جاننا ہوگی اس کا وقت ہمارے مفکرین کے پاس نہیں ہے، ہر شخص اپنی دنیا میں خوش ہے، کوئی مباحثے، تبادلہ خیالات، ملاقات، بحث و مطالعے کےلئے تیار ہی نہیں، سب اپنے مطالعے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور جو کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس وقت نہیں یا وسائل نہیں، علمائے کرام ان موضوعات پر کچھ نہیں پڑھنا چاہتے تو ہم جمہوریت کے بارے میں کیا عرض کریں* جمہوریت میں ریاست کا کیا کردار ہے؟ یہاں جمہوریت تو ایک پروسس ہے وہ تو جدید قومی ریاست کے قیام کے بعد اس کے استحکام اس کو موثر و مضبوط کرنے کا طریقہ کار ہے *اصل چیز تو جدید ریاست ہے، بہت سی جدید ریاستیں جمہوری نہیں غیر جمہوری ہیں مثلا چین، کیوبا، روس اور جنوبی کوریا لیکن یہ سب جدید ریاستیں ہیں، ہر جدید ریاست میں جمہوریت نہیں ہے اس کے باوجود یہ جدید ریاستیں ہیں* ہندوستان میں جمہوریت سب سے آخر میں آئی ہے، انگریزوں نے پہلے مغل خلافت و سلطنت کا خاتمہ کیا کیونکہ وہ اسے stateless علاقہ سمجھتے تھے پھر یہاں برطانیہ نے جدید ریاست state قائم کی *معاہدہ ویسٹ فالیا کے بعد یورپی اقوام اپنے علاقے کو اپنے ملکوں کو state سمجھتے تھے اس کے سوا باہر کی پوری دنیا stateless دنیا تھی جہاں یورپی اقوام کو قبضے کی اجازت تھی لہذا برطانیہ، فرانس، نیدر لینڈ اور اسپین نے جہاں موقع ملا قبضہ کر لیا* ۱۹۱۸ میں میثاق مجلس اقوام Colon کے تحت mandate system کے ذریعے پوری دنیا کو یورپی طاقتوں میں ذمہ داری mandate کے طور پر تقسیم کر دیا گیا تاکہ وہ ان علاقوں کے لوگوں کی تربیت کرکے ان کو حکومت چلانے کا اہل بنائیں جب وہ اہل ہو جائیں گے تو یورپی طاقتیں قبضہ ختم کر دیں گے *برطانیہ نے ہند پر پہلے ہی قبضہ کر لیا تھا امارت کے خاتمے کے بعد اس نے جدید ریاست قائم کی Development کے نام پر ہندوستانی آثار، علوم و فنون میں Development نہیں کی بلکہ ان کا خاتمہ کیا کیونکہ Development کا اصل مطلب ہوتا ہے Replacement پھر تمام اسلامی اداروں، رویتی طریقوں، تعلیمی نظام، وقف، مدارس، قاضی، عدالت، قدیم طبی نظام سب کا خاتمہ کیا بتایا کہ تم جاہل، وحشی، غیر مہذب، غیر تعلیم یافتہ، غریب تھے* حالانکہ ہندوستان دنیا کے تین امیر ملکوں میں سے ایک ملک تھا ششی تھرو کی کتاب *An Era of darkness* پڑھ لیجئے! *پھر برطانیہ نے اپنا متبادل نظام مسلط کیا اس کے بعد قومی ریاست قائم کی پھر قومیت کا تصور دیا پھر جمہوریت کو متعارف کرایا قوم پرستانہ اور جمہوری عمل کے ذریعے ہندوستان و پاکستان کو ہندی قومی اور مسلم قومی ریاست میں تقسیم کیا اس کے بعد فسادات و تنازعات کے ایسے بیج بو دئے کہ آج تک ہندوستان، پاکستان، برما، سری لنکا علاقائی، نسلی، لسانی، مقامی، قوم پرستانہ تحریکوں سے جنگوں میں مصروف ہیں، بنگلہ دیش میں چکمہ قبیلہ دو لاکھ بہاری برما سے آنے والے برمی محاذ آراء ہیں، چھے نسلی، مذہبی، علاقائی قومیتوں کی ریاست برما میں جنگ، ہندوستان میں منی پور، ناگا لینڈ، آسام، کیمونسٹ، سکھ اور نہ جانے کون کون سی مقامی، لسانی، مذہبی، علاقائی تحریکیں چل رہی ہیں، یہی حال پاکستانی ریاست کا ہے ایک حصہ کٹ گیا اب سندھی، بلوچی، مہاجر، پشتوں، سرائکی قوم پرستی کی تحریکیں چل رہی ہیں دنیا میں جہاں بھی قومی ریاستیں قائم ہوئیں وہاں قتل عام ہوا، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ قومی ریاست ایک مصنوعی ریاست ہوتی ہے وہ تشدد، قتل و غارت گری کے بغیر نہیں رہ سکتی جب تک سول سوسائٹی قائم نہ ہوجائے یعنی تمام لوگ صرف مذہب سرمایہ داری کو اپنا مذہب مان کر ہر عقیدے، ایمان، دین اور اخلاق سے ما وراء نہ ہو جائیں، صرف پیسے کےلئے جئیں اور مریں تب سرمایہ دارانہ عدل و امن قائم ہوگا* منشور حقوق انسانی اور جمہوریت اور آزادی کے تحت مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب پر عمل کی مکمل آزادی بلکہ *مذہب کے صرف اس حصے پر عمل کی آزادی جو منشور حقوق انسانی جمہوریت جدید ریاست اور آزادی کے عقیدوں سے نہ ٹکرائے ورنہ مذہب کے ایسے حصے پر عمل کی آزادی نہیں ہوگی* مسلمانوں کے دور میں خلافت عثمانیہ میں عیسائیوں، یہودیوں، پارسیوں کو اپنے مذہب کے اکثر حصے پر بھی عمل کی آزادی تھی لیکن ازادی صرف غیر مسلموں کے علاقوں کے اندر محدود تھی وہاں ان کی اپنی عدالتیں، اپنا تعلیمی نظام، اپنی تہذیب، معاشرت، اقدار پر عمل کی مکمل ازادی تھی، *معاشرتی اور اجتماعی امور میں غیر مسلم ذمی، معاہد اسلامی شریعت کے پابند تھے التزموا احکامنا فیما یرجع الی المعاملات مثلا اہل ذمہ کو سودی لین دین کی اجازت نہیں تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران والوں کے معاہدے میں تصریح کی تھی کہ اگر وہ سود کھائیں گے تو معاہدہ ختم ہوجائے گا اس لئے اسلامی امارت کے علاقے میں غیر مسلم اپنے علاقے میں سودی معاملات نہیں کرسکتے امام سرخسی رحمہ اللہ کا قول ہے الربا مستثنی من کل عهد سود ہر معاہدے سے مستثنی ہے اور عمران خان کی فلاحی ریاست مدینہ میں عمران نے اقتدار سنھبالنے سے پہلے ہی اسد عمر کے ذریعے سودی قرض لینے کا اعلان کر دیا، مغرب، یو این او، امریکہ، منشور حقوق انسانی نے انسانی حقوق کے نام پر تمام مذاہب عالم اور اسلام پر عمل کی آزادی چھین لی ہے اس کے باوجود ہم جمہوریت آزادی کے عقیدوں کے قصیدے پڑھ رہے ہیں کیونکہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہم جاہل ہی رہنا چاہتے ہیں اور مغرب کی تقلید بھی کرنا چاہتے ہیں*
ـــــــــ
*

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے