Home / کالم / کلیات اکبر الہ آبادی

کلیات اکبر الہ آبادی

📖 *کلیات اکبر الہ آبادی (پیر مشرق اکبر الہ آبادی مرحوم کا کلام جدیدیت کو سمجھنے میں ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے)*
✒️ *سید خالد جامعی مدظلہ*
ـــــــــ ــــــــ ـــــــــ

*اکبر الہ آبادی مرحوم* ہمارے عظیم ترین شاعروں میں ایک ہیں، تہذیبوں کے تصادم کے ابتدائی مراحل دیکھنے ہوں تو اکبر مرحوم کی شاعری پڑھنا نا گزیر ہے، اکبر کی عظمت یہ ہے کہ اقبال مرحوم تک ان کے زیر اثر رہے ہیں *اکبر کی تخلیقی سطح اقبال کے ہم پلہ ہے، فرق یہ ہے کہ اکبر نے جو بات طنز و مزاح کے پیرائے میں کی ہے اقبال اسے ایک بڑے فکری کینوس میں اعلی ترین سنجیدہ سطح* پر بیان کرتے ہیں *کلیات اکبر الہ آبادی* کے مطالعے کی تجویز ممکن ہے بعض طبائع پر گراں گزرے لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ *اکبر نے طنزیہ شاعری کے ذریعے تہذیب و فلسفہ مغرب کے خلاف بند باندھنے کی کتنی زبردست کوشش کی* ان کے اس کام کی اہمیت شاعر مشرق پر خوب روشن تھی اسی لئے علامہ اقبال مرحوم اپنے خطوط میں حضرت اکبر کو اپنا پیر قرار دیتے، ان کا شرف نیاز حاصل کرنا چاہتے اور اپنا دل حضرت اکبر کے سامنے چیر کر رکھنا چاہتے تھے، اقبال خود کو لاہور میں تنہاء سمجھتے اور حضرت اکبر کو وہ فرد واحد جانتے جس سے دل کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جا سکے وہ اکبر سے طویل خط لکھنے کی استدعا کرتے اور اس خواہش کو روحانی خود غرضی قرار دیتے وہ حضرت اکبر کو *پیر مشرق* قرار دیتے تھے حضرت اکبر کے بارے میں اقبال نے یہاں تک لکھا کہ *اگر کوئی شخص میری مذمت کرے جس کا مقصد آپ کی مدح سرائی ہو تو مجھے اس کا قطعاً رنج نہیں بلکہ خوشی ہے* خط و کتابت سے پہلے مجھے آپ سے جو ارادت و عقیدت تھی ویسی اب بھی ہے اور ان شاء اللہ جب تک زندہ ہوں ایسی ہی رہے گی، اقبال نے چند اشعار حضرت اکبر کے رنگ میں بھی لکھے مگر عوام کی بد مذاقی نے اس کا مفہوم کچھ سے کچھ سمجھ لیا، اقبال کے خیال میں حضرت اکبر نے ہیگل کے سمندر کو ایک قطرہ (شعر) میں بند کر دیا تھا واضح رہے کہ اقبال ہیگل کو بہ اعتبار تخیل افلاطون سے بڑا فلسفی تصور کرتے تھے، حضرت اکبر کے خطوط سے اقبال پر غور و فکر کی راہیں کھلتی، اس لئے اکبر کے خطوط وہ محفوظ رکھتے، حضرت اکبر کے اشعار پڑھ کر اقبال کو شیکسپیئر اور مولانا روم یاد آ جاتے تھے، اقبال شکوہ اور جواب شکوہ پر دس پندرہ سطور کا دیباچہ ناشر کے مطالبے پر حضرت اکبر سے لکھوانے کے خواہش مند تھے (اقبال نامہ ص ۳۷۲. ۳۷۴. ۳۷۶. ۳۷۷. ۳۹۳. ۳۹۷. یک جلدی تصحیح و ترمیم شدہ، اقبال اکادمی پاکستان ۲۰۰۵) علامہ اقبال کے افکار سے *کلیات اکبر الہ آبادی* کی اہمیت بخوبی واضح ہو جاتی ہے ــ
ـــــــــــــــــــــــــــ
*تفہیم مغرب فورم* سے مستفید ہونے کےلئے درج لنکس میں ایک پر کلک کیجئے!
(۱)
https://chat.whatsapp.com/BZnOZTOC8rGFtcPitq7d67
(۲)
https://chat.whatsapp.com/4hNMVvoqkFb2DZStQXigB7
(۳)
https://chat.whatsapp.com/GugoESJCylX1ZnsprNnKlU
(۴)
https://chat.whatsapp.com/Dxr4XY4Cco5AxVULPVYr0T
(۵)
https://chat.whatsapp.com/K9K0fNFHevH64vKbmNdK0p

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے