Home / کالم / قربانی:تاریخ فوائداورمقاصد

قربانی:تاریخ فوائداورمقاصد

تحریر:
محمدعثمان شجاع آبادی
📕📕📕📕📕📕📕
قربانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود بنی آدم کی۔جیسا کہ دنیا کی پہلی قربانی کا ذکراللہ نے سورۃ المائدہ کی آیت نمبر27 میں فرمایاہے ”آپ ذرا ان کوآدم کے بیٹوں کاقصہ کھراکھرا سنادیں،ان دونوں نے قربانی کی اور ایک کی قربانی قبول کی گئی“۔اگرہم مذاہبِ عالم کی تاریخ پرنظر دوڑائیں تویہ معلوم ہوتاہے کہ قربانی کاتعلق ہمیشہ مذہبی روایات سے رہاہے۔تمام منزل من اللہ مذاہب میں قربانی کاتصور موجود ہے،اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک مذبح بنایاہواتھا،حضرت ابراھیم علیہ السلام قربانی کیاکرتے تھے،تورات میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی قربان گاہ کاذکرملتاہے اور شریعت موسویہ میں تو قربانی کاشمار افضل عبادتوں میں ہوتاتھا۔اس کے علاوہ اگرہم دنیاکے دوسرے قدیم وجدیدمذاہب کی تعلیمات کو پڑھیں توان میں بھی قربانی کاتصور موجود ہے،چنانچہ آشوری (جن کی تاریخ 2500 قبل مسیح ہے)یہ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر چھڑکاؤ کرتے تھے،ہندو(جن کی تاریخ 1500 سے 2000 قبل مسیح ہے)یہ بھی تطہیروپاکی کے لیے یہی کام کرتے تھے،موجودہ زمانے میں بھی ان میں قربانی کاتصور مختلف صورتوں میں موجود ہے(جسے عرف عام میں بَلی کہاجاتاہے)۔عرب سامی (جن کی تاریخ 3000 قبل مسیح ہے) یہ اپنی قربانیوں کاخون قبروں پرچھڑکاکرتے تھے۔دومۃ الجندل کے لوگ ہرسال ایک خاص شخص کاانتخاب کرکے اسے اپنے دیوتاؤں کے حضورقربان کرتے تھے۔قدیم مصری روایات کے مطابق دریائے نیل کی روانی کوبرقرار رکھنے کے لیے مصری ہرسال خوبصورت دوشیزہ کو زیورات سے سجاکرقربانی کے لیے پیش کرتے تھے،اسی طرح افریقا،جنوبی امریکہ(ماہرین کے مطابق پندرہ ہزارسال پہلے براعظم امریکہ میں لوگ پہنچ چکے تھے)انڈونیشیا،جرمنی اورسکینڈے نیویا کے بعض قبائل اپنے خداؤں کی خوشنودی کے لیے،نئی عمارت بناتے وقت،بادشاہ کی موت پریاناگہانی آفت سے بچنے کے لیے انسانوں کی قربانی کیاکرتے تھے۔
اسلام میں قربانی کاتصور
اسلام میں قربانی کاتصور انتہائی اعلی، پاکیزہ اور تمام مذاہب سے جداگانہ حیثیت رکھتاہے۔اسلام میں قربانی کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کاواقعہ ہے کہ جس میں امرِالہی کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کوقربان کرنے کے لیے تیار ہوگیے اللہ تعالی اس عمل سے بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مینڈھے کی قربانی پیش کرکے دنیامیں انسانوں کی قربانی کی ظالمانہ روایات کوختم فرمایا،اور یہ تعلیم دی کہ قربانی کامقصد اپنے آپ کو امرِالہی کے تابع کردیناہے۔تاجدارِکائنات خاتم النبیین ﷺ نے قربانی کوسنت ابراہیمی قرار دے کراخلاص وتقوی پرزور دیاہے،قربانی اور تقوی کاچولی دامن کاساتھ ہے، خلوص اور پاکیزہ نیت سے اللہ کی راہ میں دی گئی قربانی انسان کے دل میں غمگساری، ہمدردی، مخلوق پروری اور دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
قربانی کے فضائل
اللہ تعالی نے قرآن پاک قربانی کوشعائراللہ قراردیاہے،چنانچہ سور الحج میں ارشاد باری تعالی ہے۔۔۔
”اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادتِ اِلٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاؤ اور فقیر کو بھی کھلاو?، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھرتا ہو، جس طرح ہم نے اِن جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اِسی طرح اُن کو تمہارا تابع دار بنایا؛ تاکہ تم شکر بجالاؤ“۔
قربانی کے فضائل کے متعلق کثرت سے احادیث منقول ہیں،یہاں چند کے ذکرپراکتفا کیاجاتاہے
1۔حضرت زیدبن ارقمؓ سے روایت ہے صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے قربانی کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایایہ تمہارے والدابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے،صحابہ نے فرمایااس میں ہمارے لیے کیا(اجر)ہے؟آپ ﷺ نے اشاد فرمایاجانور کے ہربال کے بدلے میں نیکی ہے،صحابہؓ نے عرض کیااگردنبہ ذبح کریں تو(اون) میں کیااجرہے؟آپ ﷺ نے فرمایااون کے ہربال میں نیکی ہے۔
2۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کو عید الاضحی کے دن قربانی سے بڑھ کر کوئی بھی عمل زیادہ محبوب نہیں ہوتا ہے بے شک روزِ قیامت قربانی کے جانور کا ثواب، سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت ملے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہو جاتی ہے لہٰذا بخوشی قربانی کیا کرو۔“ (سنن ترمذی)
3۔:۔”حضرت ابو سعید رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیٹی حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس رہو (یعنی اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت قریب موجود رہو) کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے کے ساتھ ہی تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، حضرت فاطمہ رَضی اللہ عنہا نے عرض کیا! اللہ کے رسول! یہ فضیلت ہم اہل بیت کے ساتھ مخصوص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہمارے لیے بھی ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی“۔ (الترغیب والترہیب)
قربانی کے فوائدومقاصد
1۔اللہ تعالی نے قربانی کے مقاصد کی خود ہی تعیین فرمادی ہے،سورۃ الحج میں ارشاد ہے۔” اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا؛ بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے اِس طرح مسخر کردِیا ہے؛ تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی“۔
اس آیت میں بتایاگیاکہ تقویٰ تو ہر عبادت میں مقصود ہے لیکن قربانی میں بطور خاص اس کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خود کو اللہ تعالیٰ کے ہرحکم کے اس طرح تابع کردیناکہ زندگی کا ہر لمحہ اس کی فرمانبرداری میں گزرے اور اس میں نفسانی خواہشات،اولاد، برادری یا معاشرتی رسم و رواج حائل نہ ہوں۔
2۔ قربانی کے ذریعے انسانیت کو رحمدلی اور غمگساری کادرس دیاگیاہے کیوں کہ اخلاصِ نیت اوررضائے الہی کی خاطرکی گئی قربانی انسان کے دل میں غمگساری، ہمدردی، مخلوق پروری اور دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
3۔اگرقربانی کے معاشی فوائدکودیکھاجائے تومعاشرے میں پھیلائے گئے اس سوال خودبخودمل جاتاہے کہ جناب اتنے زیادہ پیسوں سے قربانی کا جانور خریدنے کی کیاضرورت ہے؟ یہ پیسے کسی غریب کودے دیے جائیں،کسی فلاحی کام میں لگادیے جائیں،اس طرح ایک دن میں لاکھوں جانوروں کا خون بہیں بہے گا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ قربانی کوئی نئی چیز نہیں یہ تو روزاول سے آرہی ہے۔اسلام نے توانسانوں کوذبح ہونے سے بچایاہے۔دوسری بات یہ ہے کہ قربانی کے ذریعہ ہی فلاحی کام ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں کارزق ہی قربانی کے جانوروں سے متعلق ہوتاہے۔وہ لوگ جوقربانی کے جانورپالتے ہیں اس لیے ان کوسال کے بعد بیچیں گے۔تو ان کارزق یہ جانور ہیں۔ان جانوروں چارہ ڈالا جاتاہے تو شہروں میں چارہ بیچاجاتاہیتواس میں دوکاندار اور کسان کارزق ہے۔ان کوایک شہرسے دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا استعمال ہوتاہے۔قربانی کے دنوں قصابوں کوروزگار ملتاہے۔غرض پوراسال لاکھوں لوگوں کے روزگار کاذریعہ یہ قربانی کے جانورہوتے ہیں۔
4۔قربانی سے حاصل ہونے والے گوشت کے ہم حدیث مبارکہ کے مطابق تین حصے کریں اور ایک حصہ غریبوں میں بانٹیں تو بہت سے وہ لوگ بھی گوشت کھائیں گے جن کوپوراسال گوشت میسر نہیں ہوتا۔اسی طرح ہم یہ گوشت بیواؤں،یتیموں اور ان اداروں کو بھی دے سکتے ہیں جو ان لوگوں کی کفالت کرتے ہیں۔یہ سب رفاہی کام نہیں تواور کیاہیں؟
5۔ چرمہائے قربانی کے ذریعے ہم ضرورت مندوں بالخصوص دینی مدارس اور سماجی ورفاہی اداروں کی مددکرسکتے ہیں۔
6۔چمڑے سے اشیاء بنانے والی فیکٹریوں کو عیدالاضحی کے دنوں میں بہت سا چمڑامیسر ہوجاتاہے جس سے یہ کاروبار بہت ترقی کرتاہے۔پاکستان کاشمار دنیاکے ان چند ممالک میں ہوتاہے جو چمڑے سے اشیاء بناتے ہیں۔
ان تمام باتوں کومدنظررکھیں تو قربانی میں پیسے کاضیاع نہیں بلکہ ہماری معیشت کی ترقی کارازچھپا ہواہے۔۔
قربانی ایک دینی فریضہ ہے اس کواداکرنے میں اخروی فوائد کے ساتھ ساتھ دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ اس فریضہ کواداکرنے کی توفیق عطافرمائے۔امین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے