Home / اسلام / قُرآن کا شَجرِ توحید اور شَجرہِ اہلِ توحید !

قُرآن کا شَجرِ توحید اور شَجرہِ اہلِ توحید !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 83 تا 90 🌹
قُرآن کا شَجرِ توحید اور شَجرہِ اہلِ توحید !! 🌹 ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وتلک
حجتنا اٰتینٰہا
ابرٰھیم علٰی قومہ
نرفع درجات من نشا ٕ
ان ربک حکیم علیم 83
ووھبنالہ اسحٰق ویعقوب کلا
ھدینا و نوحا ھدینا من قبل ومن
ذریتہ داٶد وسلیمٰن وایوب ویوسف
وموسٰی و ھٰرون وکذٰلک نجزالمحسنین 84
وزکریا ویحیٰی وعیسٰی والیاس کل من الصٰلحین 85
واسمٰعیل والیسع ویونس و لوطا وکل فضلنا علی العٰلمین 86
ومن اٰبٰٸھم وذریٰتھم واخوانھم واجتبینٰھم وھدینٰھم الٰی صراط مستقیم 87
ذٰلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشا ٕ من عبادہ ولو اشرکوا لحبط عنھم ماکانوا یعملون 88
اولٸک الذین اٰتینٰھم الکتٰب والحکم والنبوة فان یکفربھا ھٰٶلا ٕ فقد وکلنابھا قوما لیسوابھا بکٰفرین 89
اولٸک الذین ھدی اللہ فبھدٰھم اقتدہ قل لا اسٸلکم علیہ اجرا ان ھو الا ذکریٰ للعٰلمین 90
یہ تھی ھماری وہ دلیل جو ھم نے ابراھیم کو ابراھیم کی قوم کے مقابلے میں دی تھی اور مقابلے کے لیۓ دی تھی ، جو لوگ اِس دلیل کے ساتھ کارِ توحید میں آگے بڑھنا چاہیں گے تو ھم اُن کو اپنے علم و حکمت کے مطابق آگے سے آگے بڑھاتے چلے جاٸیں گے ، ھم نے ابراھیم کو جانشین کے طور پر اپنی اسی توحید کی تعلیم کے لیۓ اسحاق اور یعقوب کو بھی یہی راہِ ھدایت عطا کی تھی ، اِس سے پہلے نُوح اور نَسلِ نُوح کو بھی اسی شجرِ توحید کی آب یاری پر مامُور کیا تھا ، اِس کے بعد داٶد و سلیمان ، ایُوب و یُوسف اور مُوسٰی و ھارُون سے بھی ھم نے شَجرِ توحید کی آب یاری کا یہی کام لیا تھا کیونکہ ھم بَھلاٸ کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح بَھلاٸ کیا کرتے ہیں اور تعلیم توحید کے اسی قافلے میں اپنے اپنے زمانے میں ھمارے بندے زکریا و یَحیٰی اور عیسٰی والیاس کے علاوہ اسماعیل و یسع اور یُونس و لُوط بھی شامل ر ھے ہیں ، ھم نے اپنے ان صلاحیت کار بندوں کے والدین اور اَولاد میں سے بھی بہت سے اَفراد کو اپنی ھدایت کے ذریعے توحید کی اسی تعلیم کے لیۓ نام زَد کیا تھا ، اگر یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تو ھم اِن لوگوں کو اِن کی حرکت و عمل میں ناکام بنا دیتے لیکن یہ سارے لوگ تو ھمارے وہ مُنتخب بندے تھے جن کو ھم نے کار نبوت کے لیۓ کتابِ نبوت دی تھی اور کتابِ نبوت کے لیۓ حکمتِ کتاب بھی عطا کی تھی ، ھم نے اِن کی قُوتِ کار کو ثمر بار بنانے کے لیۓ اِن کی تعلیم سے اعراض کرنے والوں کے مقابلے میں اِن کی تعلیم کا اعتراف کرنے والے لوگ بھی کھڑے کر دیۓ تھے تاکہ اِن کا کام بار آور ھوتا ر ھے ، اے محمد ! آپ بھی اِن ہی اہلِ ھدایت کی اسی راہِ ھدایت پر چلتے رہیں اور اپنے خطاب کے ہر مُخاطب کو یہ بات یاد کرادیں کہ توحید کی یہ تعلیم سب کو دی جاۓ گی اور کسی مالی منفعت کے بغیر دی جاۓ گی کیونکہ توحید کی یہ تعلیم ہر جہان کے ہر زمان و مکان کے لیۓ ھے اور ہر ایک انسان کے لیۓ ھے !
🌹 کلامِ نبوت اور رَبطِ کلامِ نبوت ! 🌹
اِس سے قبل سُورةُالاَنعام کی اٰیت 74 سے لے کر سُورة الاَنعام کی اٰیت 82 تک کی 8 اٰیات میں جو ایک مضمونِ کلام آیا تھا اُس مضمونِ کلام کی پہلی اٰیت کے پہلے مضمونِ کلام میں ابراھیم علیہ السلام نے سب سے پہلے اٰزر کے دل میں توحید کا بیج بونے کی کوشش کی تھی اور جب اٰزر کے دل کو ابراھیم علیہ السلام نے توحید کے اِس پیغام کے لیۓ بند پایا تھا تو آپ نے مایوس ھونے کے بجاۓ ایک قدم اور آگے بڑھایا تھا اور توحید کا یہی پیغامِ حق اپنی ساری قوم کو سُنایا تھا ، اِس سلسلہِ کلام کی سب سے زیادہ قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ ابراھیم علیہ السلام نے ارض و سما کی جن چند روشن نشانیوں کے جَلنے بُجھنے کی بے ثبات کیفیتوں سے خالقِ کاٸنات کے داٸمی ثبات اور داٸمی اِثبات پر جو عقلی و مَنطقی استدلال فرمایا تھا اُس عقلی و منطقی استدلال کو اللہ تعالٰی نے موجُودہ 8 اٰیات کے مضمونِ کلام کی سب سے پہلی اٰیت کے دُوسرے جُملے ” حجتنا “ میں اپنا استدلال قرار دیا ھے جو اِس بات کی دلیل ھے کہ اللہ کا جو بھی نبی جب بھی کوٸ بات کہتا ھے اور جو بھی بات کہتا ھے وہ اپنی زبان سے اللہ کی کہی ھوٸ بات ہی کہتا ھے ، اپنی طرف سے کوٸ بات بھی نہیں کہتا ، یہی وجہ ھے کہ سیدنا ابراھیم علیہ السلام نے جب اللہ کی وہی کہی ھوٸ بات کہی تھی جو اللہ نے اُن سے کہی تھی تو ابراھیم علیہ السلام کی ساری مُشرک قوم اگرچہ مرنے مارنے پر تُل گٸ تھی لیکن ابراھیم علیہ السلام تَنِ تَنہا اِس یقین کے ساتھ پُوری قوم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ھو گۓ تھے کہ اللہ کی ساری مخلوق مل کر بھی اللہ کی کسی بات کی تردید نہیں کر سکتی !
🌹 اللہ کی پہلی دلیل پر دُوسری دلیل ! 🌹
موجُودہ 8 اٰیات میں اللہ تعالٰی نے ابراھیم علیہ السلام کی زبان سی دی ھوٸ اپنی اِس حُجت و دلیل پر دلیلِ مزید کے طور پر یہ دُوسری دلیل دی ھے کہ ابراھیم نے اپنی قوم کو توحید کی جو دعوت دی تھی وہی دعوت اِس سے پہلے بھی اللہ کے سارے انبیاۓ کرام دیتے ر ھے تھے ، قُرآن کی تاریخِ تنزیل اور کتابی ترتیب میں زمان و مکان کے اعتبار سے اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے سُورہِ اٰلِ عمران کی اٰیت 33 میں انبیاۓ کریم کے اُس پہلے مُقدس قافلہِ نبوت کا ذکر کیا ھے جس کے پہلے سرخیل آدم و نُوح اور عمران و اٰلِ عمران تھے اور غالبا اُس پہلے انسانی قافلے کے زیادہ تر نفوس کا طوفانِ نُوح پر ہی خاتمہ ھو گیا تھا اور اِس انسانی قافلے کے بَچے کُچے اَفراد سے انسانوں کی وہ نَسل چلی تھی جس کے 18 اَنبیاۓ کرام کا اٰیت ھٰذا میں اَحوال بیان کیا گیا ھے اور اِس اَحوال میں سب سے پہلے انبیاۓ کرام کے اُس مُعتبر و مُستند قافلے کا حوالہ دیا گیا ھے جس کی سربراہی پہلے ابراھیم علیہ السلام کو دی گٸ اور ابراھیم علیہ السلام کے بعد یہی سر براہی اُن کے جانشین اسحاق و یعقوب کو تفویض کر دی گٸ ، پھر اِن کے کارِ نبوت پر نُوح علیہ السلام کے کارِ نبوت کا حوالہ دے کر اِس اَمر کی وضاحت بھی کر دی گٸ ھے کہ نَسلِ ابراھیم میں آنے والے انبیاۓ کرام کے اِس دُوسرے قافلے نے بھی اسی طرح یہ فریضہ اَنجام دیا ھے جس طرح اِس سے بہت پہلے نُوح علیہ السلام اور اِس سے کُچھ عرصہ پہلے خود ابراھیم علیہ السلام نے یہ فریضہ اَنجام دیا تھا ، انبیا ٕ کے اِن دو دینی و رُوحانی قافلوں کے بعد اسی اٰیت میں داٶد و سلیمان کے اُس تیسرے قافلہِ نبوت کا ذکر بھی کیا ھے جن کے سر پر تاجِ نبوت کے علاوہ تاجِ حُکمرانی بھی سجایا گیا تھا ، پھر اسی اٰیت کے اسی سلسلہِ کلام میں ایوب و یوسف ، مُوسٰی و ھارُون ، زکریا و یحیٰی ، عیسٰی و الیاس کے علاوہ اسماعیل و یسع اور یونس و لوط کا تذکرہ بھی کیا گیا ھے اور نبوت کے اِن 8 زمانی و مکانی قافلوں کے آخر میں اللہ تعالٰی نے اپنے آخری نبی کو بتایا ھے کہ اِن تمام انبیاۓ کرام کا شجرِ توحید بھی ایک رہا ھے اور شجرہِ نبوت و رسالت بھی ایک ہی رہا ھے ، اِس لیۓ لازم ھے کہ جس طرح یہ تمام انبیاۓ کرام اپنے اپنے زمان و مکان میں شجرِ توحید کی آبیاری کرتے ر ھے ہیں اِسی طرح آپ بھی شجرِ توحید کی آب یاری کا عمل کریں تاکہ آپ کے بعد آپ کی اُمت کے مُختلف زمان و مکان میں جو مختلف قافلے اور قبیلے زمین پر آٸیں وہ بھی ہمیشہ نبوت کے اسی شجرِ نبوت کے ساۓ میں آٸیں اور نبوت کے اسی شجرِ نبوت کے ساۓ میں رہیں !
🌹 زمین کی عُمر اور اَنبیاۓ زمین کی تعداد ! 🌹
قُرآنِ کریم کا یہ پہلا اور آخری مقام ھے جہاں ایک ہی جگہ پر یَک جا طور پر قُرآن کے 18 اَنبیا و رُسل کا ذکر آیا ھے اِس لیۓ مناسب ھوگا کہ زمین کی اُس 6000 ہزار سالہ عمر اور انبیاۓ کرام کی اُس 124000 کی تعداد کا بھی ایک سرسری سا جاٸزہ لے لیا جاۓ ، کاٸنات کتنی وسیع و عریض ھے ? علماۓ ساٸنس نے اِس بارے میں اَب تک جتنے بھی اندازے لگاۓ ہیں وہ تاحال مَحض اندازے ہی اَندازے ہیں لیکن اگر کاٸنات سے مُراد صرف ھماری زمین سمجھی جاۓ تو علماۓ ساٸنس نے سُورج کے مدار میں آنے کے بعد زمین کی جو عُمر فرض کی ھے وہ 4.6 بلین برس ھے ، باٸبل نے زمین کی عمر 6000 سال بیان کی ھے اور علماۓ عجم نے بھی باٸبل کی بیان کی ھوٸ اسی عمر کو اپنا علمی و تاریخی حوالہ بنایا ھے اور اسی باٸبلی حوالے سے انبیاۓ کرام کی تعداد بھی 124000 بیان کی ھے جو ہر حوالے اور ہر پہلُو سے غلط ھے ، جن اَنبیا و رُسل کا قُرآن نے ذکر کیا ھے اُن کے انبیا و رُسل ھونے پر ایمان لانا ہر مُسلمان پر لازم ھے اور قُرآنِ کریم نے چونکہ خود ہی ” ولکل قوم ھاد “ بھی کہا ھے اِس لیۓ اِس اَمر بھی ایمان لازم ھے کہ اللہ نے اہلِ زمین کے لیۓ جتنے بھی انبیا و رُسل مبعوث فرماۓ ہیں وہ سب کے سب سَچے اور سب کے سب بر حق ہیں لیکن اُن کی حقیقی تعداد کتنی ھے ? یہ بات صرف اللہ ہی جانتا ھے اِس لیۓ اُس تعداد پر ایمان لانا اہلِ ایمان کے لیۓ لازم نہیں ھے ، چاھے اُن کی تعداد ایک لاکھ سے کم ھو یا ایک لاکھ سے زیادہ ھو ، جہاں تک باٸبل کے نفسِ بیان کا تعلق ھے تو باٸبل ایک طرف جہاں دُنیا کی کُل عُمر 6000 ہزار سال بیان کرتی ھے تو دُوسری طرف یہی باٸبل یہ بھی بیان کرتی ھے کہ آدم کی عُمر 130 سال ، آدم کے تیسرے بیٹے شیث کی عمر 912 سال ، شیث کے بیٹے انوش کی عُمر 905 سال ، انوش کے بیٹے قینان کی عُمر 910 سال ، قینان کے بیٹے محلل ایل کی عُمر 895 سال ، محلل ایل کے بیٹے یارد کی عُمر 962 سال ، یارد کے بیٹے حنوک ، یعنی ادریس کی عمر 365 سال ، ادریس کے بیٹے متو لح کی عُمر 969 سال ، متولح کے بیٹے لمک کی عمر 777 سال ، لمک کے بیٹے نُوح کی عُمر 950 سال { قُرآن کی تصدیق شُدہ عُمر } ھود نبی کی عُمر 464 سال ، ھود کے بیٹے فلج کی عمر 339 سال ، فلج کے بیٹے رَعو کی عُمر 239 سال ، رعُو کے بیٹے سروج کی عمر 230 سال ، سروج کے بیٹے نحور کی عمر 148 سال ، ابراھیم نبی کی عمر 175 سال تھی ، اَب باٸبل کی بیان کی ھوٸ اِن چند انبیاۓ کرام کی مجموعی عُمروں کے سارے برسوں کو جمع کر لیجیۓ اور اِس کے ساتھ ہی باٸبل کے بیان کیۓ ھوۓ آدم کے زمانے کو 3761 قبل مسیح کا زمانہ بھی مان لیجیۓ ، پھر عیسوی تاریخ کے 200 20 برس بھی اِس میں شامل کر لیجیۓ تو دُنیا کی عُمر اور انبیاۓ کرام کی تعداد کی تعداد کے بارے میں باٸبل کے بیانات کی پُوری حقیقت سامنے آجاۓ گی !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے