Home / اسلام / قُرآن کا آفتابِ جہاں تاب

قُرآن کا آفتابِ جہاں تاب

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اَلاَنعام ، اٰیت 91 تا 93 )))) 🌹
قُرآن کا آفتابِ جہاں تاب !! 🌹
ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وما قدراللہ
حق قدرہ اذقالوا ماانزل
اللہ علٰی بشر من شٸ قل من انزل
الکتٰب الذی جا ٕ بہ موسٰی نورا وھدی للناس
تجعلونہ قراطیس تبدونھا وتخفون کثیرا وعلمتم مالم
تعلموا انتم ولا اٰباٶکم قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون 92
وھٰذا کتٰب انزلنٰہ مبارک مصدق الذی بین یدیہ ولتنذر ام القرٰی ومن حولھا
والذین یٶمنون بالاٰخرة یٶمنون بہ وھم علٰی صلاتھم یحافظون 92 ومن اظلم ممن
افترٰی علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شٸ ومن قال سانزل مثل ماانزل اللہ
ولو ترٰی اذالظٰلمون فی غمرٰت والملٰٸکة باسطواایدیھم اخرجواانفسکم الیوم تجزون عذاب الھون
بما کنتم تقولون علی اللہ غیرالحق وکنتم عن اٰیٰتہ تستکبرون 93
اے مُحمد ! جب جب بھی جن جن لوگوں نے یہ کہا ھے کہ اللہ کسی فردِ بشر پر اپنے کلام میں سے کوٸ کلام نازل نہیں کرتا ھے تو اُن لوگوں نے یقینا اللہ کی قُوتوں اور قُدرتوں کا بہت غلط اَندازہ لگایا ھے ، آپ اپنے دور کے اِن مُنکرینِ تنزیل سے یہ پُوچھیں کہ اگر کسی انسان پر اللہ کا کلامِ وحی نازل ہی نہیں ھوتا تو پھر تُم مُوسٰی پر نازل ھونے والی اُس کتاب کے بارے میں کیا کہتے ھو جس کے اَوراق تُم نے اور تُمہارے بڑوں نے کتاب سے اَلگ کر کے اِس طرح اَلگ اَلگ کر رکھے ہیں کہ تُم اُس کتاب کے اُن اَلگ اَلگ اَوراق میں سے اپنی ضرورت کے مطابق جو کُچھ لوگوں کے سامنے لانا چاہتے ھو وہ لوگوں کے سامنے لاتے ھو اور اپنی مصلحت کے مطابق جو کُچھ چُھپانا چاہتے ھو وہ لوگوں کی نگاہوں سے پُوری طرح سے چُھپالیتے ھو اور اَب جو کتاب تُمہارے سامنے نازل ھوٸ ھے یہ کتاب بھی مُوسٰی پر نازل ھونے والی اُسی روشن و رَخشاں کتاب کی طرح انسانوں کو برکت و روشنی دینے والی ایک کتاب ھے جو پہلی تمام کتابوں کے نزول کی تصدیق کرتی ھے اور اِس کتاب کے ذریعے شہرِ مکہ اور اَحوالِ مکہ کے لوگوں کو یومِ مَحشر کی جواب دہی سے ڈرایا جاتا ھے اور پھر جو لوگ اِس کتاب کی تصدیق کرتے ہیں وہ جواب دَہی کے اُس دِن کے بارے میں یقین کر کے اِس کتاب کے اَحکامِ اَمر و نہی پر عمل کرنے میں لَگ جاتے ہیں ، اَب تُم خود ہی سوچو کہ بَھلا اِس شخص سے زیادہ ظالم اور کون ھوگا جو اللہ کے بارے میں یہ جُھوٹ بولے گا کہ وہ اِس پر اپنا کلامِ وحی یا وحی کی طرح کا کوٸ کلام نازل کرتا ھے اور جس کے بارے میں وہ کہتا ھے کہ یہ وہی کلامِ وحی ھے جس کو میں اپنے وجدان سے نکال کر اپنی زبان پر لاتا ھوں حالاں کہ اُس پر کبھی بھی اللہ کا کوٸ کلامِ وحی یا کوٸ کلامِ مثلِ وحی نازل نہیں ھوتا اور اے ھمارے رسول ! اگر آپ دیکھ سکتے تو خود دیکھتے کہ جب اِن ظالم لوگوں پر جاں کنی کا وقت آتا ھے اور موت کا ہرکارہ اِن کی جان لینے کے لیۓ ہاتھ بڑھاتا ھے تو اُن کے جسموں اور جانوں پر اسی وقت اِن کے اِس جُھوٹ کی سزا نافذ ھو جاتی ھے اور اِن سے کہا جاتا ھے کہ اَب تُم اپنے اُس جُرمِ تکبر کی سزا بُھگتو جس کے گمھنڈ میں تُم اللہ کی قُوتوں اور قُدرتوں کا انکار کیا کرتے تھے !
🌹 اٰیات اور موضوعِ اٰیات ! 🌹
مُحولہ بالا تینوں اٰیت کا موضوعِ سُخن وحی ، اِقرارِ وحی اور اِنکارِ وحی ھے ، اِس موضوعِ سُخن کے حوالے سے اِن اٰیات میں یہ بتایا گیا ھے کہ دُنیا میں وحی کے بارے میں ہمیشہ سے تین طرح کے لوگ موجُود ر ھے ہیں اور اِن تین طرح کے لوگوں میں کُچھ کُچھ لوگ تو وہ ھوتے تھے جو جلد یا بدیر اپنے وقت کے نبی پر ایمان لے آتے تھے اور کُچھ لوگ وہ ھوتے تھے جو نبی کو اپنی جُھوٹی حیثیت کے مقابلے میں کَم حیثیت کا مالک سمجھ کر اُس کو جُھٹلا دیتے تھے اور اپنے اسی شخصی تکبر کے حوالے سے وہ وقت کے اُس نبی پر نازل ھونے والی وحی کو بھی جُھٹلاتے تھے لیکن اِن جُھٹلانے اور ایمان لانے والے لوگوں کے دَرمیان مُلحدینِ جہان کی وہ تیسری جماعت بھی موجود ھوتی تھی جو اہلِ کتاب کے ساتھ بَحث و تمحیص میں شامل رہنے کے لیۓ خُدا کا تو ڈَھکے چُھپے لَفظوں میں اِنکار کرتی تھی لیکن نبوت و حی کا کُھلم کُھلا انکار کرتی تھی اور مُلحدینِ جہان کی یہ جماعت اہلِ جہان کے لیۓ کسی نبی کی کسی نبوت اور کسی وحی کے کسی قانون کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی تھی ، یہُود جو اہلِ کتاب تھے اور اپنے علمِ کتاب کی وجہ سے اپنی جن عام علمی و غیر علمی مَجلسوں میں شرکت کرتے تھے غالبا اُن مجلسوں میں شریکِ ھونے کی وجہ سے کبھی کبھی اور کہیں کہیں پر وہ بھی مُلحدین کے اِس قول کو نقل کی حَد تک نقل کرتے رہتے تھے اور یہی بات وہ وقتا فوقتا اپنے مُشرک کارو باری دوستوں کے ساتھ بھی کرتے رہتے تھے ،اِس لیۓ عھدِ نبوی میں اللہ کے آخری نبی کو ایک طرف جہاں پر مُشرکینِ عرب کی طرف سے اِنکارِ توحید کا اور اہلِ کتاب کی طرف سے اِنکارِ رسالت کا سامنا کرنا پڑا تو دُوسری وہیں پر مُلحدین کی اُس جماعت کا بھی سامنا پڑا جو وحی و نبوت کے حوالے سے کوٸ بات سُننے ہی کی روا دار نہیں تھی اور چونکہ اُس خاص وقت میں دین ، تصورِ دین اور تعلیمِ دین کے مکمل اِنکار کے مَجلسی و عَملی ترجان مُلحدین کے بجاۓ عُلماۓ یہُود ھوا کرتے تھے اِس لیۓ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ مُلحدین کے اِن کتابی ترجمانوں سے یہ سوال کریں کہ تُم ھماری جس نبوت و وحی اور جس کتابِ وحی کا ھمارے سامنے اِنکار کرتے ھو ، تُمہاری تو اپنی دینی تاریخ اور اپنے تاریخی مُعتقدات اُسی وحی و نبوت کے اِقرار پر کھڑے ہیں اور تُم اُسی وحی و نبوت کی دعوت بھی دیتے ھو تو پھر کیا وجہ ھے کہ تُم قُرآن دُشمنی کی اُس اِنتہا پر پُہنچ گۓ ھو کہ تُم نے قُرآن دُشمنی میں اَندھے ھو کر صرف قُرآن اور صاحبِ قُرآن ہی کا انکار نہیں کیا ھے بلکہ اپنے اِس اَندھے پَن میں اپنے نبی کا ، اپنے نبی کی وحی کا اور اپنے ہی نبی پر نازل ھونے والی کتاب کا بھی اِنکار کر دیاھے !
🌹 قُرآن کی آفاقی تعلیم اور مُلحدین کی جاہلانہ تفہیم ! 🌹
لیکن جب رُبع صدی سے بھی کَم عرصے میں اہلِ کتاب و مُشرکین جہان کے مُسلسل اِنکار اور مجوسی مُلحدین کی ہر جاہلانہ یَلغار کے باوجُود بھی قُرآن کا ذھنی و فکری ، قَلبی و رُوحانی اور معاشی و معاشرتی انقلاب زمین کے بڑے حصے میں بر پا ھو گیا تو اہلِ کتاب و مُشرکین جہان کی قُرآن دُشمنی کا جذبہِ جہالت تو زندہ رہنے کے باوجُود بھی اُن کا ظاہری غیض و غضب اُن کے باطن میں چُھپ گیا لیکن مجوسی مُلحدوں کے دِل میں یہ خواہش شاید اُسی زمانے میں پیدا ھو گٸ تھی کہ قُرآن کے انقلابی تصور کو روایات کے ذریعے موت گھاٹ اُتاردیا جاۓ اور اپنے اِس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے کے لیۓ اِن ہی عجمی روایات کے زور سے مُسلمانوں کو یہ بھی باور کرا دیا جاۓ کہ قُرآن کا جو پیغام وہ سارے اہلِ جہان کو دینے میں لگے ھوۓ ہیں ، دَرحقیت قُرآن کے اُس پیغام کا داٸرہ عمل صرف شہرِ مکہ اور نواحِ مکہ ھے اور سُوۓ اتفاق سے مُنکرینِ قُرآن کا یہ قدیم قُرآن دُشمن تصور جدید زمانے تک بھی پُہنچ گیا ھے اور دُنیا بھر کے مُلحدین اِس سُورت کی اِس اٰیت سے یہ نکتہ آفرینی کرنے لگے ہیں کہ قُرآن کا مقصدِ نزول شہر مکہ اور نواحِ مکہ کی اصلاح تھا ، رہی باقی دُنیا تو وہ اُن کے اُن مُلحدانہ خیالات کی آجگاہ ھونی چاہیۓ جن مُلحدانہ خیالات کا وہ اور اُن کے دُوسرے مُلحد بھاٸ بند وقتا فوقتا اور موقع بہ موقع اِظہار کرتے رہتے ہیں اور اہلِ اِلحاد کا یہی وہ بُنیادی تصور ھے جو دُنیا کی باطنی تحریکوں کا ایک پسندیدہ تصور ھے اور دُنیا کی تمام باطنی تحریکیں اِس قُرآن دُشمن تصور کا فرد کی شخصی آزادی کے نام پر دُنیا بھر میں اظہار کرتی رہتی ہیں !
🌹 اٰیات اور پیغام اٰیات ! 🌹
جہاں تک اِن اٰیات اور اِن اٰیات میں وارد ھونے والے لفظِ ” اُم القرٰی “ کا تعلق ھے تو اِس کا مقصد قُرآن کے پیغام کو مَحدُود کرنا نہیں ھے بلکہ اُس کے لامحدُود پیغام کا ایک مرکزی مقام مُقرر کرنا ھے اور پھر اُس مُقررہ مرکزی مقام سے اُس پیغام کا آغاز کرنا ھے ، جس کا قُرآن داعی و مَنّاد ھے ، عربی زبان و لُغت کی رُو سے اُم کا معنٰی ماں ھے اور ماں تَخلیق انسانی اور تربیتِ انسانی کا ایک لا محدود مرکز ھے ، اُم کی جمع اُمّات اور اُمھات ھے ، اہلِ زبان کے نزدیک ” اُمّات “ سے حیوانِ ناقص کا مرکزِ تخلیق و تشکیل اور ” اُمھات “ سے حیوانِ ناطق کا مر کزِ تخلیق و تربیت مُراد ھوتا ھے ، اہلِ عرب اسی حوالے سے شہر کی مرکزی شاہ راہ یا شارع عام کو اُم الطریق ، ستاروں کے مرکزی جُھرمٹ کو اُم النجوم اور کسی مملکت کے مرکزی شہر کو اُم القرٰی کہتے ہیں اور چونکہ عھدِ نزولِ قُرآن میں مکہ بہت بڑا شہر نہ ھونے کے باوجُود بھی عربوں میں عربوں کا مرکزی شہر سمجھا جاتا تھا اِس لیۓ قُرآن نے عربوں کے محاوراتی فہم کے مطابق شہرِ مکہ کو اُم القرُی کہا ھے اور عربی لُغت کے اِس استعمال کے اعتبار سے ہر مُلک کا ہر مرکزی شہر اُم القرٰی ھوتا ھے اور ہر اُم القرٰی شہر مشرق و مغرب اور جنوب و شمال کی طرح زمین کے ہر حصے اور ہر خطے میں موجُود ھوتا ھے اور اپنی سمت کا مرکزی نشان ھوتا ھے ، تاریخ و لُغت کے اِس پس منظر میں قُرآن کی اِس اٰیت کا مقصد یہ ھے کہ زمین پر جہاں پر کوٸ انسان رہتا ھے وہ اپنے شہر و اَحوالِ شہر اور اپنی بستی و اَحوالِ بستی سے قُرآن کی تعلیم اور تفہیم کا کام شروع کرے تو قُرآنی تعلیم کا یہ کام اسی طرح پھیلتے ھوۓ علم کا ایک بَحرِ بیکراں بَن جاۓ گا جس طرح زمین کی رگوں میں چلنے والا پانی کا ایک ایک قطرہ پہلے نالے سے نَدی بنتا ھے ، پھر چھوٹی سی ایک نَدی سے بڑا دریا بنتا ھے اور پھر بڑے دریا سے ایک ایسا سمندر بن جاتا ھے جو سارے جہان کی تشنگی کے خاتمے اور سارے اہلِ جہان کی تسلّی کا ذریعہ ھوتا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے