Home / کالم / جھوٹ کا چلتا ہوا سکہ*

جھوٹ کا چلتا ہوا سکہ*

*
ازقلم
پیا سحر
گجرات
📕📕📕
کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔مگر پھر بھی آج کے ہمارے معاشرے میں جھوٹ کے سوا کچھ نہیں چلتا۔لین دین،کاروبارکے علاوہ عام زندگی میں جیسے کے محبت میں،دوستی میں پیار سے مذاق سے، ہر طرح سے جھوٹ کا سکہ خوب چلایا جاتا ہے۔ گھریلو زندگی میں بھی جھوٹ آج اپنی حکومت کے عروج پر ہے۔
اب تو جھوٹ کو پاؤں کے ساتھ ساتھ پر بھی عنایت کر دئے گئے ہیں۔اسی لئے تو حضور والا “جھوٹ صاحب” سوشل میڈیا کے آسمانِ ننگ و عار پر کسی تیز مانجے کی ڈور والی پتنگ کی مانند آزادی سے اڑتے پھرتے ہیں۔کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔سنا کرتے تھے “جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا”اور اب یہ مثال بدل کر کچھ یوں ہو جانی چاہیے “جتنا جھوٹ بولو گے اتنا اوپر جاؤ گے”۔
ایک دن میری آفس کی کولیگ ایک دن بہت پریشان تھیں پوچھنے پر کہنے لگیں۔
“یار شادی پہ جانا ہے چھٹی نہیں مل کے دے رہی،افسران بالا کان ہی نہیں دھرتے میری بات پر”۔
مابدولت نے ان کو ایک سنہرا مشورہ دیا۔(جو اب تک ان کے کام آ رہا ہے)اس مشورے کے نتیجے میں ان کو نا صرف آسانی سے چھٹی ملی بلکہ وہ افسران بالا سمیت پورے آفس کے ملازمین کی ہمدردیوں کی بھی مستحق ٹھہری تھیں۔مشورہ کچھ یوں تھا۔اپنی مری ہوئی دادی کو پھر سے ایک بار مار کر پورے تین دن کی چھٹی کر لیں۔بعد میں اس چھٹی والے مشورے پر عمل کر کے نا صرف چھٹیاں کرتی رہیں بلکہ آسانی سے ان کی پرموشن بھی ہو گئی۔

قانون کے ہاتھ تو کیا لمبے ہوتے تھے،جو اب کےجھوٹ کے پاؤں لمبے ہو چکے ہیں۔
ایک بندر جس کا نام جھوٹ بندر تھا۔لومڑی چاپلوس کی باتوں میں آ کر ایک دن شیر کی کھال پہن کر جنگل کا راجہ بننے کے لئے جنگل میں نکلا معا سامنے سے جنگل کا اصلی راجہ “سچ شیر” آ گیا دونوں میں ٹھن گئی۔وہ ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے۔یوں تو “جھوٹ بندر” میں اتنی طاقت اور جان نہیں تھی کہ سچ شیر کا مقابلہ کر سکے لیکن “لومڑی چاپلوس” کی چاپلوسی والی ہلا شیری دلاتی باتوں نے جہاں جھوٹ بندر کی ہمت بندھائی وہیں سچ شیر کے حوصلے پست کر دیئے جھوٹ بندر کے حملوں اور لومڑی چاپلوس کی چالوں سے سچ بندر جلدی ہار مان گیا اور جنگل کا راج پاٹ ،جھوٹ بندر… جو کے شیر کی کھال پہنے ہوئے تھا کے حوالے کر کے خود عدم آباد سدھار گیا۔یوں تو جھوٹ بندر کو سچ شیر کی طرح فیصلے کرنا اور حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالنا نہیں آتا تھا مگر چاپلوسوں نے وہ ہمت بندھائی کہ جھوٹ بندر اپنے آپ میں سچ شیر بن گیا اور جنگل پر راج کرنے لگا۔
جھوٹ کے اخلاقی نقصانات کے ساتھ ساتھ جھوٹا انسان دنیا اور آخرت میں اللہ‎ تعالیٰ کی لعنت کا مستقل حق دار ٹھہرتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے !

“ان اللہ لا یھدی من ھو کاذب کفار”
(ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں کرتا جو جھوٹا نا شکر گزار ہو.)

سورہ زمر: آیت ٣
اللہ‎ رب العزت تمام انسانوں کو نفس اور شیطان کی چال بازیوں کو سمجھ کر اسلام کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے خصوصا جھوٹ جیسے موذی کا سر کچلنے کی توفیق دے آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے