Home / کالم / بسلسلہ تفہیم مغرب

بسلسلہ تفہیم مغرب

*دین اور مذہب*

*جناب عبد الکریم صاحب*
===========

(پچھلے ھفتے ایک دوست نے گروپ میں سوال کیا تھا کہ دین اور مذھب میں کیا فرق ھے. کچھ مصروفیات کی وجہ سے جواب لکھنے میں تاخیر ھوئی. جس پر معذرت خواہ ہوں. اس وقت اسی حوالے سے کچھ گزارشات قلمبند کر رھا ھوں. اللہ تعالی حق سچ لکھنے کی توفیق دے. آمین)

دین اور مذھب! یہ دو انتہائی معروف و مشہور اصطلاحات ھیں. عوامی اور غیر علمی حلقوں میں یہ دونوں اصطلاحات ھم معنی سمجھے جاتے ہیں. اسی طرح سیکولر نظریات کے حاملین نے بھی ان دونوں اصطلاحات کو خلط ملط کیا ھے. یہ طبقات اسلام کو مذھب بھی کہتے ھیں اور دین بھی مگر دین کے مقابلے میں لفظ مذھب کی زیادہ پرچار کرتے ھیں.
البتہ جب ھم اسلامی علمیت میں ان اصطلاحات کو دیکھتے ھیں تو معاملہ بالکل برعکس نظر آتا ھے. یہاں اسلام کو صرف دین کہا گیا ھے. اسلام کے بنیادی مصادر میں مذھب کا لفظ اسلام کیلئے کہیں استعمال نہیں ھوا ھے.
یہ دونوں الفاظ عربی زبان کے ھیں. اگر اسلام مذھب ھوتا تو قرآن و سنت اس لفظ سے خالی کیوں ھے?
………………………………………………………………
دین کا لفظ قرآن میں متعدد معنوں میں استعمال ھوا ھے. چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں

“مالک یوم الدین” سورہ الفاتحہ
بدلے کے دن یا جزا و سزا کے دن کا مالک

“ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک” سورہ یوسف
بادشاہ کے قانون میں وہ (یوسف) اپنے بھائی کو پکڑ نہیں سکتا تھا

“وما امروا الا لیعبداللہ مخلصین لہ الدین” سورہ بینہ
اور نہیں حکم دیا گیا انکو مگر عبادت کریں اللہ کی, دین (عبادت) کو اسی کیلئے خالص کرکے

“لکم دینکم ولی دین” سورہ الکافرون
تمھارے لئے تمہارا دین (عبادت کا طریقہ) ھمارے لئے ھمارا دین (عبادت کا طریقہ)

“ان الدین عنداللہ الاسلام” سورہ ال عمران
بے شک اللہ کے ھاں دین (طرز زندگی) تو صرف اسلام ھے.

“و قاتلواھم حتی لا تکون فتنہ و یکون الدین کلہ للہ” سورہ الانفال
اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ ختم ھو جائے اور دین (نظام زندگی) پورے کا پورا اسلام کا ھو جائے

“الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم السلام دینا” سورہ المائدہ
آج میں نے تمھارے لئے تمھارا دین (مکمل نظام حیات) مکمل کر دیا ھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کی ھے اور پسند کر لیا ھے تمھارے لئے اسلام کو بطور دین (complete code of life)

مذکورہ آیات سے دین کے مندرجہ ذیل معانی سامنے آتے ھیں
بدلہ, جزا و سزا, قانون, عبادت, طرز زندگی, نظام اور مکمل نظام حیات
ان تمام میں سب سے آخری معنی ھی سب سے جامع ھے اور گذشتہ سارے معانی کے مفاھیم اس آخری معنی میں شامل ھیں. سو دین کا جامع معنی مکمل نظام حیات (complete code of life) ھے.

مذھب عربی صیغہ ذھب یذھب سے اسم ظرف ھے. یعنی چلنے کا رستہ یا گزرگاہ. آئمہ اسلام نے خیرالقرون میں اس لفظ کو فقہی آرا کیلئے استعمال کیا ھے. بعد میں فقہی مکاتب فکر کیلئے بھی اس لفظ کا استعمال ھونے لگا. مثلا مذھب شافعی, مذھب حنبلی وغیرہ
مطلب یہ کہ اسلام کے کچھ خاص اجزاء اور گوشوں کو تو مذھب کہا جا سکتا ھے. مگر پورے اسلام کو ھی مذھب کہا جائے. خیرالقرون میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا. اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کو مذھب کہنا دیانت کے سراسر خلاف ھے.

ایک بہت اھم نکتہ سمجھئے کہ یہودیت اور عیسائیت بطور دین منسوخ ھو چکے ھیں. اب یہ صرف اور صرف مذھب religion ھیں اور ایک طویل عرصے سے انکا یہی سٹیٹس ھے. ان کو اسلام بطور دین بہت کھٹکتا ھے. سیکولرازم یہود کی اختراع ھے جسے اس نے غیر یہود کو تباہ کرنے کیلئے ایجاد کیا ھے. اسکا اصل مگر جھوٹا وظیفہ اور عقیدہ آزادی ھے اور مزے کی بات ھے کہ سیکولرازم مذھب کو بھی آزاد کرتا ھے. یہی اسکا اصل فریب ھے. اب اسلام مذھب بنے گا تو آزاد بھی ھو جائے گا. جبکہ دین ایسے خبیث فلسفوں کو جوتے کی نوک پہ رکھتا ھے. یہ انکی آزادی کو انہی کے منہ پہ مارتا ھے. بھلا مالک ارض و سما کا دین ان غلیظ و خبیث شیاطین سے آزادی کی بھیک مانگے گا. کبھی بھی نہیں بلکہ دین تو ازروئے قرآن ان خبثا کا بھیجا نکالتا ھے. (فیدغمہ)
اسی لئے بڑے شدمد سے اسلام پر مذھب کا لیبل لگانے کا کام انتہائی ھمہ گیر اور ھمہ جہتی انداز میں شروع ھو گیا. بدا السلام غریبا سیعود کما بدءا غریبا کے مصداق اسلام اھل اسلام کے اندر ھی اجنبی ھو گیا. یہاں تک کہ اصل شناخت اور حیثیت تک گم کر دیا. پھر کیا تھا ھر خاص و عام آدمی کے زبان پر مذھب اسلام , مذھبی فکر, مذھبی جماعتیں, مذھبی کتابیں, مذھبی درسگاھیں, مذھبی طبقہ, مذھبی لوگ آنا شروع ھو گیا. یہاں تک کہ کلمہ بھی مذھبی ھو گیا, قرآن بھی مذھبی اور رسول بھی مذھبی……. پھر آخر میں ریاست بھی……. مذھبی.
العیاذ باللہ

ریاستی دساتیر نے بھی مذھبی کلمہ پڑھ لیا. ریاست کا مذھب بھی اسلام ھو گیا. شناختی کارڈ, ویزا, پاسپورٹ, لائیسنس ھر جگہ مذھب ھی کا اندراج ھوتا ھے. بیچارہ دین کا کہیں ذکر تک نہیں ھوتا.

سمجھ آ گیا کچھ …………
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے اھل اسلام………….

مذھب نظام جدید سیکولرازم کا ایک بہت کارگر آلہ ھے. اب مذھب اسلام, مذھب یہود, مذھب عیسائیت سب سیکولر منہج میں اپنے آپ کو پیش کرتے ھیں اور یکساں حقوق رکھتے ھیں یعنی آزاد ھیں (خواجہ آصف کا بیان ذھن میں اگر آپ کے ھوں تو نتائج اخذ کرنا کوئی مشکل نہیں ھے). کسی مذھب کو کسی مذھب پر کوئی فوقیت نہیں, دراصل اسی فکر کا کرشمہ ھے.
…………………………………………………………………
حیات انسانی کے چھ شعبے ھیں. ھر انسان اپنی زندگی انہی چھ دائروں میں گزارتا ھے.
1 عقائد
2 عبادات
3 رسومات
4 معاشرت
5 معیشت
6 سیاست

پہلے تین شعبے انفرادی زندگی سے وابسطہ ھیں اور آخری تین اجتماعی زندگی سے وابسطہ ھیں.
سیکولرازم دراصل انفرادی زندگی میں آزادی کو بطور عقیدہ پیش کرتا ھے. اس کے مطابق ھر فرد آزاد ھے. عقیدہ, عبادات اور رسومات میں اس کو پوری آزادی ھے. ان تین چیزوں میں کسی قسم کی پابندی یا سختی سیکولر عقیدے کے خلاف ھے. “اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا چھیڑو نہیں” والا زبان زد عام نعرہ اسی نقطہء نظر کا ھی اظہار ھے.
انفرادی زندگی کے ان تینوں شعبوں کے مجموعے کو جدید معاشروں میں مذھب یا religion کہا جاتا ھے. اب اگر اسلام مذھب ھے تو اس کا دائرہ کار بس یہی ھے اور اس دائرے کی حد تک سیکولرازم بھی اسلام کا یہ سٹیٹس قبول کرتا ھے. لہذا یہاں تمام مذاھب بشمول مذھب اسلام اور سیکولرازم ایک دوسرے کیلئے compatible ھو جاتا ھے. یوں یہ مذاھب اب سیکولر نظام تلے خوش و خرم رھیں گے اور خدمت گذار بھی رھیں گے.

آخری تین شعبے جو اجتماعی زندگی سے وابسطہ ھیں یعنی معاشرت, معیشت اور سیاست……. یہ مذھب کے دائرے سے باھر ھیں. اب ان شعبوں میں انسان مذھب سے بالاتر ھو کر اپنی خواہش اور عقل کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا مجاز ھے. لیکن یہاں فیصلے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ھوں گے. افراد ان اجتماعی فیصلوں کے پابند اور مقید ھوں گے. یہاں آزادی فرد کو نہیں بلکہ اجتماعیت کو ھے. اگر ایسے فیصلوں کیلئے کوئی اجتماعی اسمبلی بن جائے تو یہ اسمبلی اپنے فیصلوں میں آزاد ھوگی اور فیصلوں کا انحصار اکثریت پہ ھو گا. کوئی بالاتر اصول, ضابطہ اور ھدایت کا یہاں کوئی تصور نہیں.
اب اس بحث کے بعد موجودہ زمانے میں ان چھ شعبوں کے ساتھ کیا کھلواڑ ھو گیا ھے ملاحظہ فرمائیں

سب سے پہلے اجتماعی زندگی دیکھیں. یاد رکھیں سیکولرازم میں متفقہ اور آفاقی عقیدہ آزادی اور ترقی ھے. ان دونوں کا ظہور ھر جگہ مختلف انداز میں ھوگا.
معاشرت میں حیا اور حفظ مراتب آزادی میں رکاوٹ ھے. ان دو چیزوں کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاھئے. لہذا معاشرے سے حیا, خاندان, قبائل اور روایات کا خاتمہ لازمی ھو گیا. اب اجتماعی فیصلے اور اصول ایسے ھونے چاہیئں جن کے ذریعے یہ اھداف حاصل ھو سکیں. اب ذرا اپنے معاشروں پر نگاہ دوڑائیے اور اپنے معاشرتی سفر کی سمت کا جائزہ لیجئے. اور دیکھئے اجتماعی قوتیں کس طرح ان مقاصد کیلئے حالات سازگار بنا رھے ھیں.

اسی طرح معیشت میں حلال و حرام اور قناعت کے تصورات کا آزادی کے ساتھ تصادم ھے. جب اصل مطلوب شے آزادی ھے تو ترجیح کیا ھو? یہی نا کہ حلال و حرام کے تصورات کو رخصت کر دیا جائے اور آزادی کو یقینی بنایا جائے.
آزادی کا عملی اظہار سرمایے کے ذریعے ھوتا ھے. لہذا سرمائے کی بڑھوتری لازم ھو گئی. اب زندگی کا مقصد سرمایے کی بڑھوتری قرار پائی. جس کے پاس سرمایہ ھے وہ کامیاب اور جس کے پاس سرمایہ نہیں ھے وہ ناکام.
اب آئیے دوبارہ موجودہ حالات کو دیکھئے اور اجتماعی فیصلوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کیجئے. تعلیم سے لیکر مذھب تک سب سرمایہ اکٹھا کرنے کے فنون بن چکے ھیں.

آخر میں ایک نظر ذرا سیاست پر ڈالتے ھیں جو بلاشبہ ان تمام شعبوں کی سرپرستی کرتی ھے. سیاست کا کام ھے کہ حصول آزادی اور ترقی کیلئے معاشرتی اور معاشی صف بندیوں کو مربوط کرے. رکاوٹوں کو ھٹائے. سیکولرازم کا سب طاقتور نظم اجتماعی قومی ریاست کو سیکولر اھداف سے ھٹنے نہ دے.

اجتماعی زندگی کے ان تینوں شعبوں کی صورت گری اس منہج پر ھو جانے کے بعد انفرادی زندگی اور اس میں موجود مذھبی آزادی کی حیثیت کیا رہ جاتی ھے? اب یہ بیچارہ اور بے ثمر مذھب کتنی دیر اپنا وجود برقرار رکھے گا ذرا اپنے محلے کی مسجد میں کسی نماز کے وقت چلے جائیے بات اچھی طرح واضح ھو جائے گی.
یاد رکھئے اجتماعی زندگی کے بغیر انفرادی زندگی دھوکے کے سوا کچھ نہیں. اسلام کو ایسی انفرادیت کی قطعا حاجت نہیں. ذرا اس پوری تفصیل کو اسلام کے پیراڈائم میں دیکھنے کی کوشش کیجئے اور ان نقصانات کا اندازا لگائیے جو اسلام کو دین سے مذھب بنانے سے ھوا ھے.
اسلام کو مذھب کہنا ایسا ھی ھے جیسے ایک پی ایچ ڈی سکالرز کو میٹرک پاس کہا جائے. اسلام کی اس سے بڑی توھین کیا ھو سکتی ھے.

یاد رکھئے اسلام صرف اور صرف دین ھے.
اوپر مذکور تمام چھ شعبہ جات میں اسلام کامل اور مکمل خدائی اور رحمانی نظام حیات ھے. اسلام حیات انسانی کو صرف دنیوی زندگی تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کو نہ ختم ھونے والی اخروی زندگی میں کامیاب کرنا مقصد اصلی قرار دیتا ھے. اسی بنیاد پر معاشرت, معیشت اور سیاست کے اصول و ضابطے فراھم کرتا ھے. جنکا اصل مصدر انسانی خواہش و عقل نہیں بلکہ اللہ خالق ارض و سما کا فراھم کردہ شریعت مطہرہ ھے.
یہاں ضرورت ھے
عقیدہ ٹھیٹ توحید والا
عبادت اخلاص اور سنت والی
رسومات بدعتوں سے گریز والے
معاشرت حیا اور ادب والی
معیشت حلال اور قناعت والی
سیاست اللہ کی حاکمیت والی
………………………………………………………………
یاد رکھئے اسلام دین ھے مکمل نظام حیات ھے. اس کا مقابلہ کسی مذھب سے نہ کبھی تھا نہ اب ھے. اس کا مقابلہ غالب نظام سے ھے.
پس آج اسلام کا مقابلہ عیسائیت, ھندومت وغیرہ سے نہیں بلکہ اسکا مقابلہ صرف اور صرف آج کے غالب نظام سیکولرازم سے ھے جو کہ آج کا دین باطلہ ھے.
فرمان باری تعالی ھے
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (الصف)
اللہ نے اپنے رسول کو ھدایت اور دین حق دے کر بھیجا ھے تاکہ وہ اس دین کو تمام (باطل) ادیان پر غالب کر دے بھلے مشرکوں کو یہ کتنا ھی ناگوار کیوں نہ ھو.

و ما علینا الا البلاغ المبین۔

+

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے