Home / پاکستان / ماہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھائیں

ماہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھائیں

تحریر:
حافظ امیرحمزہ سانگلوی

اسلامی سال کے مہینوں میں اللہ رب العزت نے چار مہینے حرمت والے بنائے ہیں، جن میں بالخصوص لڑائی جھگڑا کرنا، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا یا کسی کو بلاوجہ تنگ کرنا وغیرہ سب ممنوع قرار دیا ہے۔ ان حرمت والے مہینوں کا احترام کرتے ہوئے دور جاہلیت میں عرب والے جنگ کرنے سے بھی باز رہتے ، اپنی تلواروں کو نیام میں ڈال لیتے، لوٹ مار سے رُک جاتے ، دشمنوں کے خوف سے آزاد ہو جاتے
اور اپنے گھروں میں آرام کی نیند سوتے۔
وہ حرمت والے مہینے یہ ہیں رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام۔ ماہ ذوالحجہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے اور یہ اسلامی سال کاآخری مہینہ ہے۔ ذوالحجہ کامعنی ہے حج والا مہینہ،اس مہینے میں حاجی لوگ دنیا بھر سے رخت سفر باندھ کرخانہ کعبہ سعودی عرب کا رُخ کرتے ہیں اور اس مہینے کی 8 ذوالحجہ سے 13ذوالحجہ تک حاجی لوگ حج کے ارکان ومناسک ادا کرتے ہیں، اسی لیے اسے ذوالحجہ کہا جاتا ہے۔
ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی قرآن اور احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے اس کا اندازہ رب العزت کے پاک کلام قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی راتوں کی قسم سورہ الفجر میں اٹھائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے ’’قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔‘‘ مفسرین نے اس سے ذوالحجہ کی دس راتوں کو مراد لیا ہے ۔ سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جتنا کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں (ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں) میں پسند ہے، اتنا کسی اور دن میں پسند نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے جواب دیا:’’ہاں ،جہاد فی سبیل اللہ سے بھی نہیں،مگر جو کوئی شخص اللہ کی راہ میں اس طرح نکلا کہ اپنے جان ومال کے ساتھ شہید ہی ہوجائے ۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی عمل اتنا عظمت اور محبوب نہیں،جتنا ان دس دنوں میں کوئی نیک عمل کیا جائے۔ لہذا ان ایام میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کرنی چاہیے۔
مگر افسوس! کہ عوام الناس ان فضیلت والے دن اور برکتوں والی راتوں سے بے خبر اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بسر کر رہے ہیں۔ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدرسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ان ایام کو بڑا ہی غنیمت جانتے ،عبادات اور تکبیرات کا خصوصی طور پر اہتمام کرتے ۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل تھا کہ وہ ان دس ایام میں بازاروں کی طرف چلے جاتے اور بلند آواز سے تکبیر ات پڑھتے اور انھیں تکبیرات پڑھتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی تکبیرات پڑھنا شروع کر دیتے ۔ صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کے اس عمل سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں تکبیرات کی بہت اہمیت ہے۔ ہمیں بھی اس ماہ جہاں نیکی کے دوسرے اعمال زیادہ ذوق و شوق اور زیادہ اہتمام سے کرنے چاہیے وہاں تکبیرات کا بھی خوب اہتمام کرنا چاہیے۔
اس مہینے کی 9 ذوالحجہ کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔ اس دن حاجی لوگ میدان عرفات میں وقوف کرتے ہیں،یعنی صبح سے لے کر سورج غروب ہونے تک وہاں ٹھہرے رہتے ہیں اور اپنے خالق حقیقی اللہ تعالیٰ سے خوب گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں۔ یہ دن اور لمحات ایسے روح پرور ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میدان عرفات میں موجود حاجیوں کو دیکھ کر فرشتوں کو مخاطب کر کے ان کے سامنے فخر کرتے ہیں ۔ اسی بنا پر اس دن اللہ تعالیٰ جتنے زیادہ لوگوں کو معاف کر کے جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں اتنا کسی اور دن نہیں معاف کرتے ۔ اسی طرح اس مہینے کی 10تاریخ کومسلمانوں کا عظیم تہوار اورجدّالانبیاسیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرتے ہوئے عید الاضحٰی ہوتی ہے ،جو کہ مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ۔ اس دن دنیا بھر کے مسلمان کھلے میدانوں میں مل جل کر باجماعت نماز عید الاضحٰی ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی خاطر اور تقوٰی کے حصول کے لیے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔
یاد رہے ماہ ذوالحجہ جو کہ رواں دواں ہے ان بابرکت دنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے نیک اعمال صدقہ و خیرات، ذکر و اذکار، روزوں اور تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اگر کوئی صاحب استطاعت ہو تو وہ بیت اللہ شریف کا حج کرے۔ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ سے 13ذوالحجہ کی شام تک تکبیرات کا اہتمام کرنا۔ یوم عرفہ ،یعنی 9 ذوالحجہ کا نفلی روزہ رکھنا۔ 10 ذوالحجہ کو عیدالاضحٰی کی نماز باہر کھلے میدان میں ادا کرنا اور پھر قربانی کرنا۔ عید کے دن غسل کر کے نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہننا اور خوشبو استعمال کرنا،نماز عید کے لیے گھر سے کچھ کھائے پیئے بغیر تکبیرات پڑھتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جانااور عورتوں کو بھی عیدگاہ میں لے کر جانا، نماز عیدالاضحی طلوع شمس کے بعد جلدی ادا کرنا، عیدگاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا وغیرہ یہ سب اعمال بجا لانا اہل ایمان کے لیے ضروری ہے اور یہی ایک حقیقی مسلمان کا شیوہ ہونا چاہیے کہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے سے آگے بڑھیں ۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے