Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 8 } 🌹

قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 8 } 🌹

🌹العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیات 76 تا 79 🌹
قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 8 } 🌹
ازقلم 🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کےساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 فلما جن علیہ
الیل راٰکوکبا قال ھٰذاربی
فلما افل قال لا احب الاٰفلین 76
فلما راٰالقمر بازغا قال ھٰذاربی فلما افل
قاللٸن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضالین 77
فلماراٰالشمس بازغة قال ھٰذاربی ھٰذااکبر فلما افلت قال یٰقوم
انی برٸ مما تشرکون 78 انی وجھت وجھی للذی فطرالسمٰوٰت والارض
حنیفا وما انا من المشرکین 79
اٰزر کےشعُور میں توحید کے نُور نے راہ نہ پاٸ تو آنے والی شَب میں جب ابراھیم نے ایک تارے ، ایک چاند اور ایک سُورج کو چڑھتے ڈھلتے دیکھا تو پہلے اُن کے روشن ھونے پر اُس کو اُن کے پروردِگار ھونے کا گُمان ھوا اور پھر اُن کے تاریک ھو جانے پر اُن کے لاچار ھونے کا یقین ھو گیا جس کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ فطرت کے اِن اشاروں کے بعد میں اپنے کامل شعُور کی کامل آمادگی کے ساتھ اپنے آپ کو اُس فاطرِ ارض و سما کی تحویل میں دیتا ھوں جس نے کاٸنات اور اُس کے ہر ایک وجُودِ ذات کو پیدا کیا ھے کیونکہ میں اہلِ شرک میں سے ہرگز نہیں ھوں !
🌹 مجُوسی اماموں کے مجُوسی مقاصد ! 🌹
گزشتہ سطُور میں ھم نے امام بخاری کی کتابِ بخاری کے حوالوں سے امام بخاری کی جس بُہتان بازی کا ذکر کیا ھے اُن کی یہ بُہتان بازی اُس قوم کے نَسب نامے پر ھے جس کا مَرجعِ اَوّل سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی ہستی اور مَرجعِ آخر سیدنا مُحمد علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ھے ، اِس قوم میں انسانوں کےعلاوہ قباٸل کے گھوڑوں اور اونٹوں کے نَسب نامے بھی رکھنے کا اہتمام کیا جاتا تھا اور اُن کے اسی نَسب نامے کا ثمر ھے کہ اَولادِ ابراھیم کی اسراٸیلی اور اسماعیلی شاخ آج تک اپنی جُداگانہ نَسلی و نَسبی پہچان قاٸم رکھے ھوۓ ھے ، بنی اسراٸیل کی ابتداٸ شناخت اُن کا دین تھا لیکن اَب نَسلی تعصب اور نَسبی گھمنڈ ہی اُن کا آٸین ھے ، جہاں تک بنی اسماعیل کا تعلق ھے تو اُن کا دین شرک سے مُعرٰی اور نَسب شراکت سے مُبرٰی رہا ھے ، اِن کے لیٸے آج بھی سب سے بڑا طعنہ اُن کے کسی فرد کا بے نَسب ھونا اور سب سے بڑا قومی اعزاز صاحبِ نام و نَسب ھونا ھے اور اِن کے اِس نسبی افتخار کا امام بخاری کے بزرگ بھی اعتراف کرتے رھے ہیں ، اِس کی ایک بڑی مثال تاریخ کا یہ ناقابلِ فراموش واقعہ ھے کہ مُغیرہ بن شعبہ جب مسلمانوں کے سفارت کار بن کر ایرانی دربار میں پُہنچے اور اہلِ دربار اُن کے لباس کی خستگی پر طعنہ زنی کرنے لگے تو ایران کے سپہ سالارِاعظم رستم نے اہلِ دربار کی سرزنش کرتے ھوۓ کہا کہ عربوں کی پہچان اُن کا اُجلا لباس نہیں ھوتا بلکہ اُن کا اَعلٰی نام و نسب ھوتا ھے ، ابراھیم و اَولادِ ابراھیم سے مجوس کی نفرت و عداوت کی تاریخ قدیم ھے ، اِس تاریخ کے مطابق ابراھیم کی پہلی دُشمن صابی قوم تھی جو شمس و قمر ، مریخ و مُشتری ، زُہرہ و زُحل اور عطارد نام کے سات اِلٰہوں کی عبادت گزار اور حُوت و حمل ، جُوزا و جَدی ، عقرب و ثور ، سرطان و سُنبلہ ، میزان و قوس اور اسد و دَلو نام کے بارہ اماموں کی تابع دار تھی ، مُفسر ابنِ کثیر نے تفسیر ابنِ کثیر اور عالم و مٶرخ سید سلیمان ندوی نے تاریخ ارض القرآن میں صابی مذہب کے ضمن میں ابوالزناد کے حوالے سے اِس اَمر کی تصریح کی ھے کہ صابی ہر روز پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے اور ہرسال تیس دن کے روزے رکھتے تھے ، عبد الرحمان بن زید کا کہنا ھے کہ صابی ” لا اِلٰہ الا اللہ “ پڑھتے تھے اور مُشرکینِ مکہ نبی اکرم کو اَصحابِ نبیِ اکرم کو ” لا اِلٰہ الا اللہ خ پڑھتے اور پڑھاتے دیکھ کر ہی صابی کہنے لگے تھے ، قرطبی کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یہ لوگ موحد تھے لیکن تاروں کی تاثیر کے قاٸل اور نجوم کے معتقد تھے اور ایک قول یہ ھے کہ صابی مذہب یہودی اور مجوسی عقاٸد کا مُرکب تھا ، حقیقت یہ ھے کہ ابراھیم علیہ السلام کو جلانے کے لیۓ بھڑکاٸ گٸ آتشِ نمرُود سے لے کر دینِ ابراھیم و مُحمد علیہ السلام کو مٹانے کے لیۓ بناٸ گٸ حدیثَ جنُود تک ، تاریخ کے ہر موڑ پر دَستِ مجُوس ہی فتنہ و شر اُٹھاتا نظر آتا ھے ، کبھی دَستِ نمرُود کی صورت میں ، کبھی یہُود کی صورت میں ، جنگِ صلیب کی صورت میں اور کہیں تَفنگ و تخریب کی صورت میں :-
یہ طُور وہی یہ نیل وہی تاریخ کی ھے تَمثیل وہی
تَمہید وہی تَکمیل وہی کردار وہی ہیں ، نام جُدا
🌹 مَجُوس کے کرتب و کار نامے ! 🌹
مجُوس کی ابتداٸ شکل صابی مذہب اور آخری صورت مجُوسی دَھرم ھے ، تاریخ کے مختلف اَدوار میں یہ دونوں مذاہب گاھے ایک دُوسرے میں جذب اور گاھے جُدا ھوتے رھے ہیں ، عھدِ نمرُود میں صابٸیت اہلِ بابل کا سرکاری اور مجُوسیت اُن کا درباری مذہب تھا ، صابٸیت اپنے نُقطہِ عروج پر پُہنچ کر سباٸیت میں بَدلی اور اِن دونوں کے جذب و اتحاد سے مجوسیت نے جنم لیا ، مجوس ابراھیم سے لے کر عیسٰی مسیح تک ، یَحیٰ بن زکریا کے سوا ہر ایک نبی کو کذاب اور مُفتری سمجھتے تھے اور اسی بنا پر وہ ابراھیم کے مقابلے میں نمرُود اور مُوسٰی کے مقابلے میں فرعون کے طرف دار تھے ، مجاھد کہتے ہیں کہ ایک بار جب میں نے عبد اللہ بن عامر کے سامنے آیت ” حرقوہ وانصروا اٰلھتکم “ تو اُنہوں نے پُوچھا تُم جانتے ھو کہ ابراھیم کو آگ میں ڈالنے کا مشورہ کس نے دیا تھا ? میں نے کہا نہیں ! میں نہیں جانتا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایران کا ایک آتش پرست دیہاتی تھا ، میں نے پُوچھا کہ ایران میں دیہاتی ھوتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! کُرد ایران کےدیہاتی ہیں ، اُس زمانے کے ایرانی مجوسیت میں صابٸین سے نسبتا زیادہ پُختہ تَر تھے اِس لیۓ نمرُود کے ایرانی نماٸندے نے ابراھیم کو یقینا اِس لیۓ آگ میں ڈالنے کا مشورہ دیا تھا کہ ایرانی آتش پرست تھے اور ابراھیم کو آگ میں ڈالنا اُن کے نزدیک ابراھیم کو اپنے خُداۓ یزداں کے سپرد کرنا تھا ، ابرھیم علیہ السلام چونکہ اِس کے سات دَست ساختہ اِلٰہوں اور بارہ اماموں کو سر بریدہ کر چکے تھے اور آتشِ نمرُود سے بھی بَچ نکلے تھے اِس لیۓ مجوسیوں نے اُن کی نَسل سے ، نَسل بہ نَسل انتقام لینے کے لیۓ بنی اسراٸیل میں داخل ھو کر اُس کی ملّتِ واحدہ کو بنی روبین ، بنی شمعون ، بنی جاد ، بنی یہود ، بنی یسار ، بنی زَبلون ، بنی یُوسف ، بنی مَنسے ، بنی بنیامین ، بنی دان ، بنی آشیر اور بنی نَفتالی نام کے بارہ قبیلوں میں تقسیم کردیا ، پھر مزید ایک قدم آگے بڑھایا تو دینِ بنی اسراٸیل کو بنی یہود کے نام سے اتنی شُہرت دی کہ بنی اسراٸیل کا دین یہودیت کے نام پر ایک نیا مذہب بن گیا اور بنی اسراٸیل کا اصل دین نسیا منسیا ھو کر رہ گیا ، اِس کے بعد صابٸیت ، سباٸیت اور مجوسیت کا یہ اتحادِ ثلاثہ دینِ مسیح میں آیا اور دینِ مسیح میں اندرابلیس ، ابنِ یَلما ، رَبدا ، طوماس ، فرطوس ، فیلبس ، قتابیا ، لیودس ، مَنتا ، نداوسیس ، یعقوب بن حلقایا اور یعقوبس کے بارہ امام کھڑے کردیۓ یونان کے بادشاہ اسطفین کے ذریعے دینِ مسیح میں تحریف کراٸ اور عراق کے بادشاہ داٶد کے ذریعے مسیح علیہ السلام کی جان لینے کی سازش کی اور بزعمِ خود عیسٰی مسیح کو مار کر ہی دَم لیا ، دینِ اسلام کا غلغلہ بلند ھو تو یہ سارے گُھس بیٹھیۓ غول دَر غول ھو کر اسلام میں آۓ اور مسلمانوں کے شہروں اور قصبوں میں امام سراۓ بناۓ اور اُن میں جَم کر بیٹھ گۓ ، اِن اماموں نے مسلمانوں میں نۓ نۓ فرقے بناۓ اور ہر فرقے کے بانی مبانی نے اپنے مُتبعین کو اپنی تقلید کا پابند بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے قُرآنی دین کے مقابلے میں فرقوں اور فرقہ پرستوں کا ایک ایسا شیطانی قاٸم ھو گیا جس میں ہر امام کو قُرآن کے خلاف ایک کُھلا میدان مل گیا اور ہر امام نے حسبِ توفیق ایک اَوہام کے بعد دُوسرے اَوہام کی بُنیاد رکھی ، یہاں تک کہ دینِ اسلام کے مقابلے میں ایک دینِ اَوہام قاٸم کر دیا گیا ، امام بخاری نے اسی دینِ اَوہام کے ارتقاٸ عھد میں نبی اکرم کی ذاتِ گرامی سے منسوب کر کے ابراھیم و سارہ کی ہجرت ،سارہ کی شاہی دربار میں رَساٸ ، اسیری کے بعد ایک بچی کے ہَمراہ رہاٸ اور پھر نبی اکرم کی اہلیہ عاٸشہ صدیقہ کی ذاتِ عالیہ سے منسوب کر کے نَسلِ اسماعیل کے 75 فیصد بچوں کے بے حسب و نسب ھونے کی جو امام گھڑت کہانیاں سناٸ ہیں وہ اسی مجوسی تحریک کا حصہ ہیں ، { یاد رھے کہ واقعاتِ بالا کا اصل حوالہ ھماری کتاب ”حدیثِ عجم “ ھے } !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے