Home / کالم / چودھویں صدی کی اولاد؟

چودھویں صدی کی اولاد؟

از قلم
سعدئہ ہما شئخ
🌺🌺🌺🌺🌺
بڑے آرام سے کہ دیا جاتا ہے چودھوی صدی کی اولاد اگر اولاد ہے تو والدین بھی تو چودھویں صدی کے ہیں سارا دن ایک خبر گردش کرتی رہی بیٹے نے بیوی کے بہکاوے میں آ کر ماں کو مارا ماں پر تشدد کیا اور نیچے فیس بکی دانشوروں کے لمبے لمبے کمنٹ کوی استغفار کر رہا کسی کے آنسو نہیں تھم رہے کسی کی سانس رک گی کسی کا دل پھٹنے والا کوی کہ رہا بیوی کے کہنے پر جہنم خرید لی کسی نے اسے جنت حرام ہونے کا سرٹیفکٹ دے دیا مختصر یہ کہ حقیقت جانے بنا ہر بندے نے لعنت ڈالنی اپنا فرض سمجھا
وہی ازلی ساس بہو کی لڑای جس میں ہمیشہ چولہا بہو کا پھٹتا اور وہی مرتی ہے کبھی کسی چولہے سے ساس اور نند نہیں مریں بیٹا ماں کے بہکاوے میں آ کر بیوی کو پیٹے تو کوی کچھ نہیں کہتا اسے فرمانبرداری کا سرٹیفکٹ دیں اور جو بیوی کی سنے وہ رن مرید اگر مرد ماں کے کہنے پر بیوی کو زود کوب کر سکتا وہ کسی وقت بیوی کے بہکاوے میں ماں پر بھی چلا سکتا ہے کیونکہ اس کی اپنی عقل تو ہے نہیں وہ تو دو عورتوں کے بیچ پنڈولم بنا ہوا ہے کبھی پلڑا ایک طرف تو کبھی پلڑا دوسری طرف مگر کلیجے اسی وقت پھٹے ہیں جب نشانہ ماں ہو کیونکہ اس کے پاوں کے نیچے جنت ہے مگر یہ کوی نہیں بتاتا کہ تمہارے بچوں کی جنت تمہاری بیوی کے پاوں تلے ہے ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اچھے بیٹے بنانے پر تو زور دیا جاتا ہے مگر اچھا شوہر کیسا ہوتا ہے یہ کوی نہیں بتاتا ہمیں اچھے بیٹوں کے ساتھ اچھے شوہروں کی بھی ضرورت ہے
غلطی صرف بیوی سے نہیں ماں سے بھی ہو سکتی ہے فر،شتہ کوی بھی نہیں بیوی بری ہو تو مارو اگر ماں بری ہو تو اس سے پہلو تہی کر لو بیٹا با پ کی گالی تو سن لیتا ہے مگر ماں کی نہیں ایسی ماوں کو بھی سزا ملنی چاہیے جو معصوم بچوں کو دنیا کی بھیڑ میں چھوڑ کر آشنا کے ساتھ چلی جاتی ہیں جو اپنے مفاد کے لیے طلاق لے لیتی ہیں اور اولاد کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں کیا ایسی عورتوں کے پاوں تلے جنت ہے ؟
بیٹے سے یہ کیسی محبت یے جو اس کی بیوی کو برداشت نہیں کرتی گھر جنگ کا میدان بن جاتا بیوہ مائیں خاص کر بیٹوں کو اپنی جاگیر سمجھتی ہیں اور یہی وجہ فساد ہے
اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے آج ضرورت اس امر کی ہے مائیں اچھے بیٹے بنانے کے ساتھ اچھے شوہر بھی بنائیں انہیں بیوی کے حقوق بھی بتایں بیوی کے حقوق پورے نہ کرنے والے کے لیے بھی سخت سزا ہے ایسے شخص کا آدھا دھڑ قیامت کے دن لٹکا ہو گا
میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے اسے دوسروں کے بہکاوے میں تار تار نہ کریں ہر رشتے کو مرے نبی کے حکم کے مطابق گزاریں تو زندگی پرسکون ہو حاے اور کوی ماں خوار نہ ہو اور نہ کوی بیوی ذلیل ہو

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے