Home / کالم / اصلاح کے مراحل”

اصلاح کے مراحل”

سلسلے کی ساتویں قسط

⁦✍️⁩از قلم
نعیم اختر ربانی

فرمانِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے کہ “ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں (الحدیث) اگر آپ غور کریں تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ذوات میں بگاڑ کا زریعہ اور سبب ذکر کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حقیقتاً انسانی قالب ، روح اور ذات کو اپنے دینِ حنیف کے مطابق ڈھالا اور بنایا ہے۔ اس کے اندر ضمیر نام کا ایک رہبر اور متنبہ بٹھا دیا ہے جو گاہے بگاہے اسے درست راہ پر لانے کے لیے احکامات جاری کرتا رہتا ہے۔ اس کی دلیل “عہدِ الست” ہے۔ دنیا کے وجود سے پہلے خدا تعالیٰ نے تمام انسانی ارواح کو جمع کر کے ایک سوال کیا تھا کہ “کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے بیک زبان ہو کر کہا تھا کیوں نہیں ( یقیناً آپ ہی ہمارے پروردگار ہیں)
اس کے بعد جب دنیا کے منہج پر انسانوں نے آنکھیں کھولیں تو اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہونا شروع ہو گئے۔ یہ تاثراتی عمل فطرتی ہے۔ ہر انسان اس مرحلے سے گزرتا ہے تاکہ امتحان کا مزا دوبالا ہو جائے۔ اپنے اردگرد رہنے والے والدین ، بھائی بہن ، عزیز و اقارب اور دوست احباب سے تہذیبی ، اعتقادی ، اخلاقی ، اوصافی اور فکری اثرات لینا شروع کر دیتا ہے۔ جس رنگ ، ماحول اور معاشرے میں پروان چڑھ رہا ہے اسی معاشرے کے تمام اوصافِ حمیدہ اور قبیحہ اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
لیکن یہ اختتامی مرحلہ نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہر فرد کو شعور اور حق شناسی کا مادہ بھی ودیعت کیا ہے۔ جب انسان جوانی اور بلوغت کے میدان میں چمکتا ہوا تارا بن کر طلوع ہوتا ہے تو اس وقت اس کی ذمہ داری ہے کہ بچپن میں حاصل کیے جانے والے اوصاف ، افکار اور اعتقادات کے مجموعے کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اس کے اعمال جن عقائد کی بنا پر سرزد ہو رہے ہیں وہ درست ہیں کہ نہیں؟
بالفاظِ دیگر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ “تفکر” کرے۔ غور و خوض کی عظیم ذمہ داری کو خوب نبھائے لیکن یہاں پیدا ہونے والے ایک اشکال کو دور کرتا چلوں کہ ہر انسان قرآن و سنت کی تعلیم نہیں حاصل کر سکتا خصوصاً وہ غیر مسلم افراد جو ایسے علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں اسلامی پرچم پہنچا نہیں یا اسلامی تعلیمات نہ ہونے کے برابر ہیں تو پھر ان کے کندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے ہزاروں ، لاکھوں رنگ ہمہ وقت ہمیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ قدرت کی عظیم نشانیاں اس قدر وافر ہیں کہ جو انسان بھی تدبر کی سواری پر غیر متعصب طریقے سے بیٹھے گا وہ یقیناً ذاتِ باری تعالیٰ کو پا لے گا۔ اسی کے متعلق امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ” اگر اللّٰہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو اپنی وحدانیت کا پیغام دے کر نہ بھیجتے تب بھی ہمارے ذمے فرض تھا کہ خدا کی وحدانیت کا اقرار کریں۔ اس کی قدرت کے عجائبات ، نوادرات اور آیات اس قدر زیادہ ہیں کہ منکرِ خدا کا جواب دہ ہونا بھی عقل کے عین مطابق تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ نے پیامبر اس لیے بھیجے تاکہ حجت تام ہو جائے۔ لہٰذا آیاتِ قدرت اس اشکال کو ختم کر دیتی ہیں کہ انسان فکر و تدبر کی ذمہ داری سے یکسر مبرا ہے اور جس شخص کو دعوتِ اسلامی پہنچی فقط اسی پر اتباع لازم ہے۔
یہ فکری عمل کئی انواع پر محیط ہے۔ ان تمام انواع کی خدا تعالیٰ اور رسول صلعم نے جابجا تاکید فرمائی۔ مختلف پیرائے سے انسانوں کو سمجھانے کی کوشش کی تاکہ کسی نا کسی طریقے سے انسان راہِ راست پر آ جائے اور اپنی ابدی زندگی کو قابلِ تفخر بنا سکے۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جس معاشرے سے دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا وہ سیاہ پہاڑوں کے درمیان گھری ہوئی وادی مکہ تھی۔ جہاں تعلیم و تعلم اور آفاقی کتاب و پیامبر کا وجود عرصہ دراز سے نہ تھا۔ جو آفاقی کتب کے وجود کا تصور ان کے اذہان میں تھا وہ یہود و نصاری کی قربت کی بدولت تھا۔ جب سرکار ہر دوجہاں صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیامِ حق سنایا تو وہ تعجب کرنے لگے اور اسے ایک انجانی شئی تصور کرنے لگے۔ اسی بنا پر انہوں نے انکار شروع کر دیا تو پھر رب العالمین نے انہیں “عبراتی تفکر” کی دعوت دی۔ دینِ حنیف کو سمجھنے کے لیے منکرین کے انجام سے عبرت پکڑنے کا عندیہ دیا اور فرمایا کہ تم شام و عراق کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کرتے ہو تو راستے میں کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں اب بھی عذابِ خداوندی کے آثار موجود ہیں۔ وہ لوگ انتہائی طاقت و وجاہت ، مال و زر ، جاہ و حشمت اور عالی نسب و مرتبت والے تھے مگر جب خداء بزرگ و برتر کے احکامات سے منہ موڑا تو انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ تم جب بھی ان مقامات سے گزرو تو میری نافرمانی کے انجام کا بغور مشاہدہ کر لیا کرو شاید تمہیں سمجھ آ جائے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشعراء میں قومِ عاد ، ھود ،لوط اور شعیب کو دی جانے والی دعوتِ حق کا ذکر کیا بعد ازاں ان کی نافرمانیوں کا اجمالاً تذکرہ کیا اور بالآخر انجامِ بد کو بیان کرنے کے بعد فرمایا “بے شک اس میں عبرت ہے (الشعراء)۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں پہلی قوموں کا ذکر ہوا تو وہیں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو اور اپنے پیش کردہ اعمال سے متعلق غور و خوض کرو۔ یعنی ہمیں بھی یہ درس دیا جا رہا ہے کہ قرآن مجید میں ذکر کیے جانے والے نافرمان قوموں کے واقعات ، مجرموں کو دی جانے والی سزا ، بدی کی دلدل میں پڑنے والوں کا حال اور گناہوں کے برے اثرات سے برباد ہونے والوں کے احوال پر نظر دوڑاو تاکہ تم بھی ان بد اعمالیوں سے کسی حد تک دور رہ سکو۔ (جاری)

بقیہ اقساط کے لنکس

1: علم برائے عمل ہی راہِ نجات ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1381023862081245&id=100005209336550

2: خوفِ الٰہی نیکیوں کی جڑ اور برائیوں میں روکاوٹ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1391982434318721&id=100005209336550

3: موت کی یاد نیکیوں کی راغب اور گناہوں میں مانع
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1403120236538274&id=100005209336550

4: گناہ شناسی کا مزاج
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1413514472165517&id=100005209336550

5:گناہوں کی ایک بڑی وجہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1436177999899164&id=100005209336550

محاسبہ نفس۔۔۔کیوں اور کیسے؟

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1441929269324037&id=100005209336550

فیس بک آئی ڈی کا لنک
https://www.facebook.com/profile.php?id=100005209336550

فیس بُک پیج کا لنک
https://www.facebook.com/Naeem-Akhter-Rabbani-599738687099876/
#نعیم_اختر_ربانی
#naeemakhterrabbani

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے