Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل 🌹 { 7 } 🌹

قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل 🌹 { 7 } 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، 76 تا 79 🌹
قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل 🌹 { 7 } 🌹
ازقلم🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 فلما جن علیہ
الیل راٰکوکبا قال ھٰذاربی
فلما افل قال لا احب الاٰفلین 76
فلما راٰالقمر بازغا قالا ھٰذا ربی فلما افل
قال لٸن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضالین 77
فلما راٰالشمس بازغة قال ھٰذاربی ھٰذااکبر فلما افلت قال یٰقوم
انی برٸ مما تشرکون 78 انی وجھت وھی للذی فطرالسمٰوٰت والارض
حنیفا وما ان من المشرکین 79
اٰزر کے شعُور میں توحید کے نُور نے جگہ نہ پاٸ تو آنے والی شَب میں جب ابراھیم نے ایک تارے ،ایک چاند اور ایک سُورج کو چڑھتے ڈھلتے دیکھا تو پہلے اُن کے روشن ھونے پر اُس کو اُن کے پروردِگار ھونے کا گُمان ھوا اور پھر اُن کے تاریک ھونے پر اُن کے لاچار ھونے کا یقین ھو گیا جس کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ فطرت کے اِن اشاروں کے بعد میں اپنے کامل شعُور کی کامل آمادگی کے ساتھ اپنے آپ کو اُس فاطرِ ارض و سما کی تحویل میں دیتا ھوں جس نے کاٸنات اور اُس کے ہر ایک وجُودِ ذات کو پیدا کیا ھے کیونکہ میں اہلِ شرک میں سے ہرگز نہیں ھوں !
🌹 نَسبِ اسماعیل پر شرمناک حملے ! 🌹
امام بخاری نے اِن دُوسری دو احادیث میں بی بی سارہ کو جابر آجر سے اَجر میں ملنے والی جس فرضی ھاجرة کو ” اخدم ھاجرة “ کے اَلفاظ میں مُتعارف کرایا ھے اُس ھاجرة کو پہلی دو اَحادیث میں ” اخدم ولیدة “ کے طور پر مُتعارف کرایا ھے ، یعنی پہلی دو احادیث میں بیان کی گٸ کہانی کے مطابق بی بی سارہ شاہی دربار سے ایک کمسن بچی لے کر شوہر کے پاس واپس آٸ تھیں اور دُوسری دو احادیث میں وہ بچی عورت بن چکی ھے اور یہی عورت اسما عیل علیہ السلام کی ماں بنی ھے اور اسی عورت کے حوالے سے سیدنا محمد علیہ السلام کے صحابی ابوہریرة کی زبانی اُوپر سے آۓ ھوۓ پانی کی اَولاد کہلوایاگیا ھے ، جہاں تک پہلی دو احادیث میں بیان کی گٸ ” اخدم ولیدة “ کا تعلق ھے تو وہ اِس بیان کو نتیجہ خیز بنانےکے لیۓ بخاری کی کتاب النکاح میں سیدة عاٸشہ صدیقہ کی زبانی درجِ ذیل حدیث لاۓ ہیں تاکہ ابراھیم کے سارہ کے ساتھ سفر کرنے اور سارہ کو بادشاہ ابی ملک کے پاس بھیجنے اور اسماعیل و اَولاد اسماعیل کے بے نَسب ھونے کے بارے میں بھی کسی کے دل میں کوٸ شک و شُبہ نہ رہ جاۓ :- عن ابن شھاب قال : اخبرنی عروة بن الزبیر أن عاٸشة زوج النبی اخبرتہ أن النکاح فی الجاھلیة علٰی اربعة أنحا ٕ : فنکاح منھا نکاح الناس الیوم ، یخطب الرجل الی الرجل ولیتہ أو ابنتہ فیصدقھا ثم ینکحھا ونکاح الاٰخر : کان الرجل یقول لامرتہ اذا طھرت من طمثھا : ارسلی الی فلاں فاستبضعی منہ و یعتزلھا زوجھا ولا یمسھا ابدا حتٰی یتبین حملھا من ذٰلک الرجل الذی تستبضع منہ فاذا تبین حملھا أصابھا زوجھا اذا أحب وانما یفعل ذٰلک رغبة فی نجابة الولد فکان ھٰذا النکاح الاستبضاع ، ونکاح آخر : یجتمع الرھط ما دون العشرة فیدخلون علی المرأة کلھم یصیبھا فاذاحملت ووضعت و مر علیھا لیال بعد ان تضع حملھا أرسلت الیھم فلم یستطیع رجل منھم أن یمتنع حتٰی یجتمعوا عندھا تقول لھم : قد عرفتم الذی کان من أمر کم وقد ولدت فھو ابنک یا فلان تسمی من أحبت باسمہ فیلحق بہ ولدھا لا یستطیع أن یمتنع بہ الرجل ، ونکاح الرابع : یجتمع الناس الکثیر فیدخلون علی المرأة لا تمنع من جا ٕ ھا وھن البغایا کن ینصبن علی أبوابھن رایات تکون علما لمن ارادھن دخل علیھن ، فاذا حملت احداھن ووضعت حملھا جمعوا لھا ودعوالھم القافة ثم ألحقوا ولدھا بالذی یرون فالتاطتہ بہ ودعی ابنہ ، لا یمتنع من ذالک ، فلما بعث محمد بالحق ھدم نکاح الجاھلیة کلہ الا نکاح الناس ، یعنی ابن شھاب نے کہا ھے کہ اُن کو عروہ بن زبیر نے یہ خبر دی ھے کہ عاٸشہ نے بیان کیا ھے کہ عھدِ جاہلیت کے عرب میں نکاح کے چار طریقے راٸج تھے ، ان میں سے ایک تو یہی راٸج الوقت طریقہ ھے کہ ایک مرددُوسرے مرد کو نکاح دیتا ھے اور وہ اپنی بہن یا بیٹی کا مہر مقرر کر کے اِس کا نکاح کر دیتا ھے ، دُوسرا طریقہ یہ تھا کہ شوہر بیوی ایامِ ماہواری سے فارغ ھونے پر کہتا تھا جا اور فلاں آدمی سے لپٹ جا ! عورت جب ایسا کر لیتی تو شوہر اِس کا حمل ظاہر ھونے تک اِس سے دُور رہتا تھا اور وضع حمل ھونے کے بعد اِس کی قربت حاصل کرتا تھا ، خاوند یہ کام اِس لیۓ کرتا تھا تاکہ بچہ شریف اور عُمدہ ھو ، اِس نکاح کو ” استبضاع “ کہا جاتا تھا ، تیسرا نکاح یہ تھا کہ دس سے کم اَفراد مل کر ایک عورت سے صحبت کرتے تھے اور بچہ جننے کے کٸ دن بعد کسی شب کو وہ عورت اِن سارے مردوں کو بلاتی تھی اور اس کے بلاوے پر وہ تمام مرد آتے تھے اور اس روز وہ بتاتی تھی کہ یہ کس مرد کا بچہ ھے اور اس موقعے پر عورت جس مرد کا نام لیتی تھی بچہ اسی مرد کا ھو جاتا تھا ، اِس بات سے قطع نظر کہ وہ درحقیقت اُس کا ھوتا تھا یا نہیں ھوتا تھا ، چوتھا نکاح یہ تھا کہ ایک عورت کے پاس بہت سے مرد آتے جاتے رہتے تھے اور وہ ہر ایک کے ساتھ صحبت کرتی تھی ، کسی کو رد نہ کرتی تھی ، اس کے دروازے پر ایک علامتی جھنڈا لگا دیا جاتا تھا ، اگر وہ حاملہ ھو جاتی تھی تو اس کے پاس آنے والے مرد اس کے پاس قیافہ شناس بھیجتے تھے وہ قیافہ شناس جس بچے کو جس مرد کا بچہ بتاتا تھا وہ اسی مرد کا قرار پاتا اور وہی اس کا باپ کہلاتا ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالٰی نے محمد علیہ السلام کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا تو آپ نے نکاح کا یہی ایک طریقہ برقرار رکھا جو آج راٸج ھے ، یعنی درحقیقت نکاح کا یہ طریقہ بھی کوٸ اسلامی طریقہ نہیں ھے بلکہ دورِ جاہلیت ہی کا ایک جاہلی طریقہ ھے ، { بخاری ، کتاب النکاح ، حدیث 5127 }
🌹 نکاحِ جاہلیت کے چار طریقے ! 🌹
امام بخاری نے اِس مجہُول حدیث میں سفرِ ابراھیم و سارہ کے واقعے کو ، پھر اسماعیل و اَولادِ اسماعیل کو اور پھر تمام اہل عرب کے مجہُول النسب ثابت کرنے کے لیۓ نکاح کے نام پر عربوں میں مرد و زَن کے جنسی تعلق کے جو چار راٸج الوقت طریقے بیان کیۓ ہیں وہ تمام کے تمام زنا کے طریقے ہیں جن کو نکاح کا نام دیا گیا ھے ، نکاح کے اِن طریقوں میں سے دُوسرے طریقے کے مطابق عربوں کے پچیس فیصد بچے وہ ھوتے تھے جن کی تخلیق کے لیۓ عورتیں شوہر کے حُکم پر کسی غیر مرد سے نُطفہِ تولید حاصل کرتی تھیں ، جس سے ان کا مقصد ایک شریف اور عُمدہ بچے کا حصول ھوتا تھا ، دُوسرے طریقے کے مطابق عربوں کے پچیس فیصد بچے ایک عورت کے ساتھ نو اَفراد کے اجتماعی جنسی عمل سے پیدا ھوتے تھے جن کی ماٸیں اُن کو اِن نو اَفراد میں سے کسی ایک کا بچہ قرار دیتی تھیں اِس سے قطع نظر وہ بچہ اُس کا ھوتا تھا یا نہیں ھوتا تھا ، تیسرے طریقے کے مطابق عربوں کے پچیس فیصد بچے ایک عورت کے ساتھ دس سے زاٸد اَفراد کے اجتماعی جنسی عمل سے پیدا ھوتے تھے جن کو کوٸ قیافہ شناس اِن کی شکل صورت کے مطابق کسی مرد سے منسوب کر دیتا تھا ، اِس بات سے قطع نظر کا وہ بچہ اِس مرد کا ھوتا تھا یا کسی اور مرد کا ھوتا تھا ، اِس حدیث کے آغاز میں نکاح کا چوتھا طریقہ یہ بیان کیا گیا ھے کہ ایک مرد ، دُوسرے مرد کو نکاح کا پیغام دیتا تھا اور وہ اپنی بہن یا بیٹی کا مہر مقرر کر کے اِس کے ساتھ اُس کا نکاح کر دیتا تھا اور اِس حدیث کے آخر میں نتیجہِ کلام کے طور پر جو بات بیان کی گٸ ھے وہ یہ ھے کہ جب اللہ تعالٰی نے نبی اکرم کو مبعوث فرمایا تو نبی اکرم نے دورِ جاہلیت کے اِن چار طریقوں میں سے یہی ایک طریقہِ نکاح برقرار رکھا جو اِس وقت جاری ھے اور اِس ایک جاہلی طریقے کے سوا دورِ جاہلیت کے دیگر تین طریقے ختم کر دیۓ !
🌹 معاشرتِ نبوی پر اِمامی تبری ! 🌹
امام بخاری کے اِس ” جنسی سروے “ کے مطابق عھدِ ابراھیم 2160 قبل مسیح سے بعثتِ نبوی 610 عیسوی تک دوہزار سات سو ستر برس کے طویل زمانے تک عربوں کے جو 75 فیصد ” بَدنسیب “ بچے پیدا ھوتے تھے سَو ھوتے تھے لیکن امام بخاری کے نزدیک دورِ جاہلیت کے بعد اسلامی دور میں بھی ” نکاح بالمہر “ کرنے والے خاندانوں میں پیدا ھونے والے بچوں کا نَسب بھی کُچھ ایسا مثالی نہیں تھا کہ اِس پر کوٸ فخر کیا جاسکے ، اِس لیۓ امام بخاری اپنے اِس خیالِ بے مثال کو تقویت دینے کے لیۓ عربوں کے دورِ اسلام کے متعلق بھی یہ حدیث شریف لاۓ ہیں : حدثنا محمد بن مقاتل : اخبرنا عبد اللہ : اخبرنا عاصم بن سلیمان عن الشعبی : انہ سمع جابر بن عبداللہ یقول: قال رسول اللہ اذا أطال احدکم الغیبة فلا یطرق أھلہ لیلا ، یعنی ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ھے کہ ہم کو عاصم بن سلیمان نے بتایا ھے کہ اُنہوں نے شعبی سے سُنا ھے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ : نبی اکرم نے فرمایا ھے کہ جب تُم میں سے کوٸ شخص بہت دنوں تک گھر سے غاٸب رہنے کے بعد واپس آۓ تو رات گۓ اچانک آکر گھر کا دروازہ نہ دَھڑ دَھڑاۓ { بخاری ، کتاب النکاح ، حدیث 5244 } اِس حدیث میں مسافر کو دن کی روشنی میں گھر آنے کی اَہمیت اور رات گۓ گھر واپس آکر اہلِ خانہ کو جگانے کی عدمِ افادیت سے آگاہ کیا گیا ھے جو ایک مناسب اور معقول بات ھے ، اگر یہ بات نبی اکرم کی طرف منسوب نہ بھی ھوتی تو ایک معقول بات کے طور پر قابلِ التفات ھوتی لیکن امام بخاری نے یہ بات نبی اکرم کی طرف منسوب کر کے اِس بات کی آڑ میں جو کھلواڑ کیا ھے وہ امام بخاری کی اِس حدیث پر لگاٸ گٸ یہ سُرخی ھے جس میں اُنہوں نے نبی اکرم کے معاشرے اور معاشرت پر تبریٰ کیا ھے { لایطرق أھلہ لیلا اذا أطال الغیبة أن یخوفنھم أو یلتمس عثراتھم } یعنی جب کوٸ شخص دیر تک گھر سے دُور رہنے کے بعد واپس گھر آۓ تو رات کے وقت گھر نہ جاۓ ، مُبادا کہ اُس کے گھر دَر کے ساتھ کوٸ خیانت کار خیانت میں لگا ھوا ھو یا اُس کی پَردہ پَروروں کے ساتھ کوٸ لپٹا ھوا ھو ، امام بخاری نے اِس سُرخیِ حدیث سے یہ ثابت کیا ھے کہ عرب قوم جنسی بے راہ روی کی اتنی دلدادہ تھی کہ اِس کے خانوادے نکاح بالمہر کا تکلف کر کے جو پچیس فیصد جاٸز بچے پیدا کرتے تھے اُن کی نَسل نُماٸ بھی کسی خُفیہ شَب آشناٸ سے خالی نہیں ھوتی تھی ، یہاں تک کہ اسلام کا دور آنے کے بعد بھی نبی اکرم اپنے رفقاۓ دین کو یہ ھدایت دینے پر مجبور ھوۓ کہ دُور کے سفر سے آخرِ شَب واپس آٶ تو گھر سے باہر ہی رُک جاٶ تاکہ شَب کے مُسافر کو شَب کی سیاہی میں دہلیز سے نکلنے کا موقع مل سکے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے