Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل 🌹 { 6 } 🌹

قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل 🌹 { 6 } 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، 76 تا 79 🌹
قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل 🌹 { 6 } 🌹 ازقلم 🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 فلماجن علیہ
الیل راٰکوکبا قال ھٰذاربی
فلما افل قال لا احبالاٰفلین 76
فلما راٰالقمر بازغا قال ھٰذاربی فلماافل
قال لٸن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضالین 77
فلما راٰالشمس بازغة قال ھٰذاربی ھٰذااکبر فلما افلت قال یٰقوم
انی برٸ مما تشرکون 78 انی وجھت وجھی للذی فطرالسمٰوٰت والارض
حنیفا وما انا من المشرکین 79
اٰزر کے شعُور میں توحید کے نُور نے رَاہ نہ پاٸ تو آنے والی شَب میں جب ابراھیم نے ایک تارے ، ایک چاند اور ایک سُورج کو چڑھتے ڈَھلتے دیکھا تو پہلے اُن کے روشن ھونے پر اُس کو اُن کے پروردِگار ھونے کا گُمان ھوا اور پھر اُن کے تاریک ھو جانے پر اُن کے لاچار ھونے کا یقین ھو گیا جس کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ فطرت کے اِن اشاروں کے بعد میں اپنے کامل شعُور کی کامل آمادگی کے ساتھ اپنے آپ کو اُس فاطرِ ارض و سما کی تحویل میں دیتا ھوں جس نے کاٸنات اور اُس کے ہر ایک وجودِ ذات کو پیدا کیا ھے کیونکہ میں اہلِ شرک میں سے ہرگز نہیں ھوں !
🌹 باٸبل و بخاری اور نَسبِ اٰلِ ابراھیم ! 🌹
امام بخاری نے ابراھیم و سارہ کی ہجرت کی جو کہانی بخاری کی کتاب البیوع میں سُناٸ ھے وہی کہانی کتاب اَحادیث الاَنبیا ٕ میں بھی دُہراٸ ھے ، فرق یہ ھے کہ پہلے پہلی حدیث میں ابراھیم علیہ السلام پر ایک جُھوٹ بولنے کا ایک بُہتان باندھا گیا تھا اور اَب دُوسری حدیث میں مزید دو جُھوٹ بولنے کا بُہتان باندھا گیا ھے ، پہلی حدیث میں وہ ھاجر و اٰجر اور کافر کے تین قافیۓ لاۓ تھے ، دُوسری حدیث میں فاجر کا ایک اضافی قافیہ بھی لاۓ ہیں ، پہلی حدیث میں سارہ کو شیطان کا جو لَقب دیا گیا تھا ، دُوسری حدیث میں بھی اُن کا یہ لَقب برقرار رکھا گیا ھے ، عُلماۓ یہُود نے اسحاق بن ابراھیم کو آزاد ماں کا آزاد فرزند اور اسماعیل بن ابراھیم کو غلام ماں کا غلام بیٹا ثابت کرنے کے لیۓ توراتِ مُوسٰی میں تحریف کر کے ابی ملک بادشاہ کی بخشی ھوٸ ایک لونڈی ھاجرہ کو ابراھیم کی بیوی اور اسماعیل کی والدہ کے طور پر مُتعارف کرایا ھے ، امام بخاری نے باٸبل کی اِس روایتی ھاجرہ کو روایتِ حدیث کے ذریعے سارہ کی کنیز بنا کر ابراھیم علیہ السلام کے گھر تک پُہنچایا ھے ، پھر اِس روایت میں بننے والی دُوسری روایات نے ھاجرہ کو کَمسن اسماعیل کے ہَمراہ مکے میں پُہنچایا ھے ، صفا و مروہ کے درمیان پانی کی تلاش میں بھاگتے ھوۓ دکھایا ھے ، اِن کی اِس بھاگ دوڑ کو حج کا رکن بنایا ھے اور ھاجرہ کی اِس سُنت کو قاٸم رکھنے کے لیۓ اہلِ حج و اہلِ عمرہ کو صفا و مروہ کے درمیان بھاگنے دوڑنے میں لگایا ھے !
🌹 ابراھیم علیہ السلام کی ایک بیوی ! 🌹
لیکن قُرآنِ کریم بخاری کی اِس روایت اور اِس روایت کی مُتابعت میں آنے والی جُملہ روایات کی تردید کرتے ھوۓ کہتا ھے کہ ابراھیم کی ایک ہی بیوی تھی چناچہ ایک روز جب اللہ کے فرشتے انسانی صورت میں ابراھیم علیہ السلام کے گھر آکر اُن کو بڑھاپے میں ملنے والی اَولاد کی خوشخبری سُنا ر ھے تھے تو ” امراة قاٸمة فضحکت “ وہی بیوی جو پاس کھڑی اُن کی باتیں سُن رہی تھی وہ اُن کی باتیں سُن کر ہنس پڑی اور حیرت سے بولی :- یٰویلتٰی أالد وانا عجوز وھٰذا بعلی شیخا ان ھٰذا لشٸ عجیب ، ہاۓ ہاۓ ! میں کَم بختی ماری تو بوڑھی ھو چکی اور میرا شوہر بھی عمر رسیدہ ھے ، تُم تو یہ بڑی عجیب بات کہہ رھے ھو ، اِس حیرت کا سبب یہ تھا کہ اِس وقت ابراھیم علیہ السلام کی روایتی عمر سو برس اور اُن کی اہلیہ کی عمر نوے برس تھی اور اِس سے کم و بیش تیرہ یا چودہ برس پہلے اسماعیل بھی اِن کے بڑھاپے ہی کی عمر میں پیدا ھوۓ تھے اور اَب جب اِس مزید بَڑھاپے میں اُنہوں نے یہ بات سُنی تو اُن کی حیرت دہ چند ھوگٸ اور فرشتوں نے اُن کی حیرت دُور کرنے اور تسلی دینے کے لیۓ کہا :- اتعجبین من امر اللہ رحمة اللہ وبرکاتہ اہل البیت ، یعنی اللہ کی طرف سے آنے والی اِس خوشخبری پر تُمہاری حیرت بجا ھے لیکن تُم کو یقین ھوجانا چاہیۓ کہ تُمہارے گھر اور گھرانے پر اللہ کی رحمت و مہربانی آچکی ھے ، قُرآن کا یہ بیان اِس اَمر کا ثبوت ھے کہ ابراھیم علیہ السلام کی ایک ہی بیوی تھی جس کا نام تاریخی نام سارہ تھا اور ابراھیم کے فرزندِ جلیل اسماعیل بھی اسی کی کوکھ سے پیدا ھوۓ تھے جس پر ابراھیم علیہ السلام نے سپاس گزاری کے طور پر کہا تھا :- الحمد للہ الذی وھب علی الکبر اسمٰعیل و اسحٰق ان ربی لسمیع الدعا ، یعنی اللہ کا شکر ھے کہ اُس نے میری دُعا سنی اور مُجھے کبرسنی میں دو بیٹے اسماعیل واسحاق عطا فرماۓ !
🌹 اُوپر سے آۓ ھوۓ پانی کی اَولاد ! 🌹
لیکن عجم کےروایت گستر اماموں اور اُن کے روایت گرفتہ مقتدیوں کا یہ خانوادہ قُرآن کے اِس فرمان اور ابراھیم علیہ السلام پر نگاہ ہی نہیں ڈالتا ، اِس کا سرمایہِ ھدایت روایت ہی روایت ھے اور امام بخاری نے قُرآن کے جُملہ بیانات کے علی الرغم صدقِ ابراھیم پر جُھوٹ کی گرد اُڑانے ، سفرِ ہجرت کے دوران سارہ کو کافر بادشاہ کی دَسترس میں دکھانے ، عطیہِ شاہی کے طور پر ھاجرہ کو ساتھ لانے اور سارہ کی باندی کو ابراھیم کی بیوی اور اسماعیل کی ماں بنانے کے لیۓ جو روایات جمع کی ہیں اُن میں سے چوتھی روایت یہ ھے ” عن ابی ہریرة لم یکذب ابراھیم الا ثلاث کذبات بینما ابراھیم مر بجبار و مع سارہ فذکرالحدیث فاعطاھاھاجرة قالت : کف اللہ یدالکافر واخدمنی آجر “ یعی ابو ہریرة نے سے مروی ھے کہ نبی اکرم نے اُن کو بتایا کہ ابراھیم نے صرف تین جھوٹ بولے ہیں ، ایک تو اُس وقت جب وہ اپنی بیوی سارہ کے ہَمراہ ایک جابر بادشاہ کے مُلک میں گۓ ، پھر آپ نے وہ پُورا واقعہ بیان کیا کہ بادشاہ نے سارہ کو ” ھاجرہ “ عطا کی ، سارہ نے واپس آکر ابراھیم کو بتایا کہ اللہ نے اُس کافر کو مُجھ پر دست درازی سے روک لیا اور اُس نے مجھے خدمت کا بدلہ دیا ، کیا اِس حدیث کو امام بخاری کا بخاری کی کتاب النکاح میں لانا امام بخاری کی طرف سے دیا گیا یہ شرمناک اشارہ نہیں ھے کہ ابراھیم نے اپنی مرضی سے اپنی بیوی ظالم بادشاہ کے نکاح میں دی تھی { نعوذ باللہ من ذٰلک } بہر کیف ابراھیم علیہ السلام کی ذات سے منسُوب کیۓ گۓ تین جُھوٹ کی اِن چار جھوٹی کہانیوں کا مرکزی موضوع اللہ کے نبی پر جھوٹ بولنے کا بُہتان لگانا اور اِس بُہتان کو سَچ کے طور پر پھیلانا ھے ، اِس موضوع کے ضمنی موضوعات میں ابراھیم کی ہجرت ، سارہ کی اسیری اور رہاٸ کے ساتھ ہدیہِ شاہی کے طور پر آنے والی خاتون ھاجرہ ایک فرضی ھاجرہ ھے ، مقامِ حیرت ھے کہ امام بخاری نے ابراھیم علیہ السلام سے منسوب کیۓ گۓ جُھوٹ کا بارہ بار ، ظالم بادشاہ کا چار بار اور بی بی سارہ کی بھی چار بار ذکر کیا ھے لیکن ھاجرہ کا نام جابر ، کافر ، آجر اور فاجر کے قافیۓ میں چُھپا کر ” ہاۓ ھوز “ کے بغیر ” ھاجر “ لاۓ ہیں تاکہ جابر ، آجر اور فاجر وغیرہ کا مفہوم تقیۓ کی چادر میں چُھپ جاۓ ، اگر امام بخاری فاعطاھا ھاجر فاخدمھا ھاجر واخدمنی ھاجرة وغیرہ کے اَلفاظ لاتے تو ” آجر “ کا اجر اور تبریٰ کا تبر ظاہر ھوجاتا ، تاھم امام بخاری بی بی سارہ پر براہِ راست جو تبریٰ کرنا چاہتے تھے اور خود میں اِس کی ہمت نہیں پاتے تھے تو اُنہوں نے بخاری کی کتاب احادیث الاَنبیا ٕ کی حدیث 3358 اور کتاب النکاح کی حدیث 50 58 کے آخر میں وہی تبریٰ ابو ہریرہ کی زبان سے اِن اَلفاظ میں کرایا ھے : – قال ابوہریرة : فتلک اُمکم یٰبنی ما ٕ السما ٕ یعنی ابوہریرة نے کہا ھے کہ یہ ھے تُمہاری ماں ? اے اُوپر سے آۓ ھوۓ پانی کی اَولاد !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے