Home / بین الاقوامی / کرونا ،

کرونا ،

⁦✍️⁩از قلم
نعیم اختر ربانی

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا یہ وبائی مرض دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ ہر ذی شعور انسان اس سے خوف زدہ دکھائی دیا۔ اعصاب سے لے کر دماغی صلاحیتوں تک سب پر سوار ہو گیا۔ ہر وقت بازار کی چہل پہل سے لطف اندوز ہونے والے باذوق افراد کو بھی گھر کی دہلیز تک محدود کر دیا۔ کاروباری افراد کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ غرض ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے معمولات ، نظامِ اوقات کار اور مشمولات سب پر اثر انداز ہوا۔ لوگ موت سے ڈر کر گھروں میں بیٹھ گئے۔ پوری دنیا کا نظامِ حیات انجماد کا شکار ہو گیا۔ اس کی علامات میں نزلہ ، کھانسی ، کثرتِ چھینک ، گلے کا خشک ہو جانا ، تیز بخار اور سانس کی بندش شامل ہے۔ ابتداءً جب کرونا چین کی حدود تک محدود تھا تو ماہرینِ صحت کا یہ کہنا تھا کہ چونکہ اہلِ چین حرام کھانوں سے اپنے شکم کو سیر کرتے ہیں اور حرام کردہ اشیاء میں ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جو کہ اس کا سبب بن رہے ہیں لہٰذا پاکستان میں اس کے عمل دخل کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔

مگر ماہرینِ صحت کا یہ فلسفہ ریت کے ٹیلے پر قائم تھا جو کرونا کی آندھی سے نیست و نابود ہو گیا۔ پاکستان میں کرونا نے داخلی راستہ تافتان اختیار کیا اور زائرین کے زریعے اہلِ پاکستان کو ڈرانے دھمکانے اور آخری آرام گاہ تک پہنچانے کے لیے آن پہنچا۔ جس وقت کرونا چین کی حدود سے تجاوز کرتا ہوا دیگر مغربی ممالک سمیت ہمارے ہمسائے ممالک میں تباہی مچانے لگا تو اس وقت حکومتِ پاکستان کو پیشگی اقدامات کرنے چاہیے تھے اور ایسے انتظامات بروئے کار لانے چاہیے تھے جو اس وبائی مرض سے نجات کا سبب بنتے مگر ہم اپنی پرانی روش کے تحت خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہمارے وزرائے اعلیٰ سمیت وزیراعظم صاحب یہی درس ارشاد فرماتے رہے کہ یہ عام بخار کی طرح ہے۔ اس قدر خوف زدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ مگر جب اس وائرس نے پورے پاکستان میں تہلکہ مچایا تو حکومتی کارندوں کو ہوش آیا۔ ملک بھر میں ہسپتالوں سمیت دیگر اہم اور وسیع جگہوں کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کیا۔ ٹیسٹ کے لیے مختلف شہروں میں لیبارٹریز قائم کیں تاکہ عوام الناس کی جیب سے بہتر طریقے سے روپیہ وصول کر سکیں۔ جو ٹیسٹ حکومتی اداروں میں دس ہزار کی رسید پر ہوتا رہا وہ ہی ٹیسٹ الخدمت فاؤنڈیشن کے اداروں میں دو ہزار سے تین ہزار کی معمولی پرچی پر دستیاب تھا۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے مخصوص اداروں (جیسے تعلیمی ادارے وغیرہ) کو کلی طور پر بند کیا گیا جبکہ دیگر ایسی جگہیں جہاں اختلاط انتہائی زیادہ تھا کو مکمل طور پر کھلا رکھا گیا اور پھر سمارٹ لاک ڈاؤن کی مبہم اور نئی قسم متعارف کروائی گئی۔ اس کے متعلق ایسا کوئی حکومتی اعلان نہیں ہوا کہ جس میں اس کے موجد یا تجویز کنندہ کا نام بتایا گیا ہو۔ خیر حکومت نے اپنی طرف سے لاک ڈاؤن کی صورت میں سختی روا رکھی

مگر عوام نے اسے کسی خاطر میں نہ لیا۔ کبھی تو ڈرامہ کے لقب سے نوازا تو کبھی یہ راگ الاپتے رہے کہ ڈالروں کی لالچ نے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگایا ہے۔ عالمی سازش کے تحت پاکستان بھی جس قدر مریضوں کی تعداد فراہم کرے گا اسی مقدار میں ڈالر ان کی گود میں گریں گے۔ خدا جانے اس بیانیے میں کتنی صداقت ہے؟ بازاروں ، گلیوں ، چوک و چوراہوں اور منڈیوں میں لوگوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کتنی احتیاط برتی جا رہی ہے؟ پھر یومِ علی رضی اللّٰہ عنہ اور ایامِ عید پر جو جوش و خروش دکھایا گیا اور بازاروں کی رونقیں بحال کی گئیں بیان سے باہر۔ عوامی بے احتیاطی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان اس کسمپرسی کا شکار ہے۔
#نعیم اختر ربانی
#naeemakhterrabbani

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے