Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 5 }

قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 5 }

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 76 تا 79 🌹
قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 5 } 🌹 ازقلم 📕📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 فلما جن علیہ
الیل راٰکوکبا قال ھٰذا ربی
فلما افل قال لا احب الاٰفلین 76
فلما راٰالقمر بازغا قال ھٰذا ربی فلما افل
قال لٸن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضالین 77
فلما راٰالشمس بازغة قال ھٰذا ربی ھٰذااکبر فلماافلت قال یٰقوم
انی برٸ مما تشرکون 78 انی وجھت وجھی للذی فطرالسمٰوٰت والارض
حنیفا وما انا من المشرکین 79
اٰزر کے شعور میں توحید کے نُور نے رَاہ نہ پاٸ تو آنے والی شَب میں جب ابراھیم نے ایک تارے ،ایک چاند اور ایک سُورج کو چڑھتے ڈھلتے دیکھا تو پہلے اُن کے روشن ھونے پر اُس کو اُن کے پروردگار ھونے کا گمان ھوا اور پھر اُن کے تاریک ھو جانے پر اُن کے لاچار ھونے کا یقین ھو گیا جس کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ فطرت کے اِن اشاروں کے بعد میں اپنے کامل شعُور کی کامل آمادگی کے ساتھ اپنے آپ کو اُس فاطرِ ارض و سما کی تحویل میں دیتا ھوں جس نے کاٸنات اور اِس کے ہر ایک وجودِ ذات کو پیدا کیا ھے !
🌹 جُھوٹ پر جُھوٹ ! 🌹
امام بخاری ” لم یکذب ابراھیم الّا ثلاث کذبات “ والی یہی حدیث بخاری کی ” کتاب البیوع “ کے بعد بخاری کی ” حدیث الاَنبیا ٕ “ میں بھی لاۓ ہیں ، حدیث الانبیا کا معنٰی ، انبیا ٕکی باتیں ھے اور اِس عُنوان کے تحت آنے والی کسی بات کے بارے میں کوٸ انسان جُھوٹ کا تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن امام بخاری نے جُھوٹ پر جُھوٹ اور ایک جُھوٹ کے بعد دُوسرا جُھوٹ بولتے ھوۓ اسی مُقدس عُنوان کے تحت ابراھیم علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کے ساتھ مزید دو جُھوٹ بھی منسوب کردیۓ ہیں اور پھر وہ اپنے اِس بُہتانِ عظیم کے حق میں نظیر کے طور پر قُرآنِ کریم کی دو اٰیات بھی لاۓ ہیں اور اِس دعوے کے ساتھ لاۓ ہیں کہ ابراھیم علیہ السلام نے یہ دونوں جُھوٹ اللہ کے بارے میں بولے ہیں اور اِس پر اُنہوں نے ” ثنتین منھن فی ذات اللہ عزّ و جل “ کی شرمناک سُرخی جما کر اُمتوں اور ملّتوں کو یہ پیغام دیا ھے کہ اللہ کے نبی عام طور پر عام سے جُھوٹ تو بولتے ہی بولتے ہیں لیکن اِس عام جُھوٹ کے علاوہ ، وہ اللہ تعالٰی کے بارے میں خاص طور پر کُچھ خاص جُھوٹ بھی بولتے ہیں اِس لیۓ کسی نبی کا نبوت کا دعوٰی اِس کے سَچے ھونے کی دلیل نہیں اور یا پھر اہلِ دین کا یہ اعتقاد و دعوٰی درست نہیں ھے کہ نبی جُھوٹ نہیں بولتے ، امام بخاری نے اپنی اِس بات کو ثابت کرنے کے لیۓ اِس سے پہلے سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے پہلے جُھوٹ کے طور جو پہلی جُھوٹی کہانی بناٸ اور سُناٸ ھے وہ اُن کی پہلی حدیث کے طور پر ھم نقل کر چکے ہیں اور اِس کے بعد وہ ابراھیم علیہ السلام کے دُوسرے جُھوٹ کے طور پر ابراھیم علیہ السلام کا قول ” انی سقیم “ لاۓ ہیں اور اِس قول کی بنا پر مُنکرینِ قُرآن کے اِس بڑے امام نے ابراھیم علیہ السلام پر لگاۓ ھوۓ اپنے اِس بُہتان کو سَچا ثابت کر نے کے لیۓ پہلے تو ” سقیم “ کا معنٰی بیماری متعین کیا ھے اور پھر اِس بیمار دِل نے اِس کی یہ بیمار تفسیر کی ھے کہ ابراھیم علیہ السلام کی قوم نے اُن کو اپنا قومی تہوار منانے کے لیۓ اپنے ساتھ شہر سے باہر جانے کی دعوت دی تھی مگر اُنہوں نے اپنی جُھوٹ مُوٹ کی بیماری کا جُھوٹ بول کر اُن کے قومی تہوار میں جانے سے جان بچالی تھی !
🌹 مریض اور سقیم میں فرق ! 🌹
حقیقت یہ ھے کہ قُرآنِ کریم بیماری کو مرض اور بیمار کو مریض کہتا ھے جہاں تک لَفظِ ” سقیم “ کا تعلق ھے تو یہ لَفظ ایک بار قصہِ یُونس میں آیا ھے جہاں پر قُرآن نے لَفظِ سقیم کا مَحلِ استعمال اور معنٰی مُتعین کیا ھے اور یہ موقع یُونس نبی کا مَچھلی کے پیٹ سے باہر آنے اور نڈھال ھو کر ایک چٹیل میدان میں گر جانے کا موقع ھے جس کے بارے میں قُرآنِ کریم نے کہا ھے کہ ” فنبذنٰہ بالعرا ٕ وھو سقیم “ یعنی پھر ھم نے اُس کو ایک چٹیل میدان میں ڈال دیا ، اِس حال میں کہ وہ بہت ناتواں اور بہت ہی نڈھال ھو چکا تھا ، قُرآنِ کریم میں دُوسری بار سقیم کا لَفظ ذکرِ ابراھیم میں آیا ھے جہاں پر قُرآن نے ابراھیم علیہ السلام کو اِس لفظ کا اِس طرح سے بَر محل استعمال کرتے ھوۓ دکھایا ھے کہ ” فنظر نظرة بالنجوم فقال انی سقیم “ یعنی ابراھیم نے تاروں پر ایک طویل توجہ ڈالنے کے بعد کہا کہ اَب تو میں تَھک کر نڈھال ھو چکا ھوں ، قُرآنِ کریم نے اِس مقام پر ابراھیم علیہ السلام کی جس ستارہ بینی کا ذکر کیا ھے اُس کا تاریخی پس منظر یہ ھے کہ آپ جس قوم میں مبعوث ھوۓ تھے وہ قوم شمس و قمر ، مریخ و مُشتری ، زُہرہ و زُحل اور عطارد وغیرہ کی پرستش کرتی تھی اور ابراھیم علیہ السلام اپنی قوم کے اِن قومی اعمال اور اِن کے اِن معبُود سیاروں کی چال کا مُشاھدہ کرتے رہتے تھے تا کہ وہ تاروں کی چال اور اپنی قوم کی چال ڈھال کو سمجھ سکیں اور سمجھنے کے بعد اِن تاروں کے چڑھنے ڈھلنے کی کیفیتوں کو دلیل بنا کر اِپنی قوم کو اپنی قوم کی اُسی معیاری زبان میں سمجھا سکیں جس کی وہ عادی ھے ، قُرآنِ کریم بتاتا ھے کہ آپ ایک مُدت تک اِس کام میں لگے رھے اور ایک زمانے کے بعد ایک روز اُنہوں نے خود کلامی کرتے ھوۓ کہا کہ اَب تو میں اِس کام سے تَھک کر نڈھال ھو گیا ھوں ، یہی وہ زمانہ تھا جب ابراھیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے ساتھ یا اپنی قوم کے سامنے وہ مَنطقی اظہارِ خیال اور طرزِ استدلال کیا تھا جس کا قُرآنِ کریم نے اٰیاتِ بالا میں ذکر کیا ھے اور قُرآن نے اٰیاتِ بالا میں ابراھیم علیہ السلام کے جس طرزِ استدلال کا حوالہ دیا ھے اُس کا امام بخاری اور اُن کے عجمی مفسرین کے اُس مزعومہ قومی میلے سے کوٸ تعلق نہیں ھے جس میلے کے ساتھ اُنہوں نے ابراھیم علیہ السلام کے قولِ سقیم کو ملایا ھے ، اگر ابراھیم علیہ السلام کے اَدا کیۓ ھوۓ اِس جُملے سقیم کو محدثینِ عجم اور مُفسرینِ عجم کے اِس معروف اور مَجہول مفروضے کے مطابق اُن کی قوم کے قومی میلے سے متعلق بھی سمجھ لیا جاۓ تو تَب بھی یہ اُن کی قوم کو اُن کی طرف سے دیۓ گۓ سوال کا وہ الزامی جواب ھو گا جس کا جُھوٹ سے کوٸ تعلق نہیں ھے ، الزامی جواب اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی صاحبِ تکلّم انسان کا وہ طاقت ور اَندازِ کلام ھوتا ھے جو اُس کے خطاب کے مُخاطب کو سر تا پا لَرزا کر رَکھ دیتا ھے کیونکہ یہ مَنطقی اِستدلال کرنے والا انسان اپنے اِس استدلال کو جس طرح خود سمجھتا ھے اُس کے سُننے والے بھی اُس کو اسی طرح سمجھتے ہیں اور سمجھنے کے بعد گُنگ ھو جاتے ہیں ، یہی وجہ ھے کہ عھدِ ابراھیم کے کسی بڑے سے بڑے کافر نے بھی ابراھیم علیہ السلام کے اِس الزامی جواب کی تکذیب نہیں کی ، تکذیب کی ھے تو عھدِ ابراہیمی کے دو ہزار نو سو اکتیس برس بعد امام بخاری نے کی ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے