Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 4 } 🌹

قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 4 } 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 76 تا 79 🌹
قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 4 } 🌹
ازقلم
🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 فلما جن علیہ
الیل راٰکوکبا قال ھٰذا ربی
فلما افل قال لا احب الاٰفلین 76
فلما راٰالقمر بازغا قالا ھٰذا ربی فلما افل
قال لٸن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضالین 77
فلما راٰالشمس بازغة قال ھٰذا ربی ھٰذااکبر فلما افلت قال یٰقوم
انی برٸ مما تشرکون 78 انی وجھت وجھی للذی فطرالسمٰوٰت والارض
حنیفا وما انا من المشرکین 79
آزر کے شعُور میں توحید کے نُور نے راہ نہ پاٸ تو آنے والی شَب میں جب ابراھیم نے ایک تارے ، ایک چاند اور ایک سُورج کو چڑھتے ڈھلتے دیکھا تو پہلے اُن کے روشن ھونے پر اُس کو اُن کے پروردِگار ھونے کا گُمان ھوا اور پھر اُن کے تاریک ھو جانے پر اُن کے لاچار ھونے کا یقین ھو گیا جس کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ فطرت کے اِن اشاروں کے بعد میں اپنے کامل شعُور کی کامل آمادگی کے ساتھ اپنے آپ کو اُس فاطرِ ارض و سما کی تحویل میں دیتا ھوں جس نے کاٸنات اور اِس کے ہر ایک وجودِ ذات کو پیدا کیا ھے !
🌹 حکایتِ باٸبل اور روایتِ بخاری !🌹
گزشتہ سطُور میں باٸبل کی جس کہانی کا ھم نے حوالہ دیاتھا اور یہ حوالہ دینے کے بعد بخاری شریف کی جو روایت شریف درج کی تھی اور پھر اُن دونوں روایات و حکایات کا ایک تقابلی جاٸزہ لیا تھا اُس تقابلی جاٸزے کے بعد احساس ھوا ھے کہ جس طرح اِس مضمون میں بخاری کی کتاب البیوع کی پُوری روایت درج کی گٸ ھے اسی طرح باٸبل کی کتابِ ” تکوین “ کے باب بارہ کی پُوری کہانی بھی درج کردی جاۓ اور وہ کہانی درجِ ذیل ھے : ابراہیم وہاں سے نَجبہ کی سرزمین کی طرف چلا گیا – اور قادیش اور شور کے درمیان ٹھیرا – اور جرار میں ڈیراکیا ، اور ابراہیم نے اپنی بیوی سارہ کی بابت کہا کہ وہ میری بہن ھے – اور جرار کے بادشاہ ابی ملک نے سارہ کو منگوالیا ، اور خُدا ابی ملک کے پاس رات کو خواب میں آیا – اور اُسے کہا کہ دیکھ ، تُو اِس عورت کے سبب جسے تُونے لیا ھے مرے گا کیونکہ وہ شوہر والی ھے لیکن ابی ملک نے اُسے نہیں چُھوا تھا ، تو اُس نے کہا اے خدا وند کیا تُو ایک بے خبر اور صادق قوم کو بھی مارے گا ? کیا اُس نے مُجھے نہیں کہا کہ وہ میری بہن ھے ? اور وہ آپ بھی بولی کہ وہ میرا بھاٸ ھے ، میں نے تو اپنے دِل کی راستی اور ہاتھوں کی پاکیزگی سے یہ کیا ھے ، اور خُدا نے خواب میں اُسے کہا میں جانتا ھوں کہ تُونے اپنے دِل کی راستی سے یہ کیا ھے اور اسی لیۓ میں نے تُجھے روکا کہ تُو میرا گناہ نہ کرے ، اور میں نے تُجھے اُس کو چُھونے نہ دیا ، اَب تُو اُس مرد کو اُس کی بیوی واپس دے کیونکہ وہ نبی ھے ، اور وہ تیرے لیۓ دُعا مانگے گا ، اور تُو جیتا ر ھے گا ، پَر اگر تُو اُسے واپس نہ دے گا تو یہ جان رَکھ کہ تُو اور سب جو تیرے ہیں ضرور مرجاٸیں گے ، اور ابی ملک نے صُبح سویرے اُٹھ کر اپنے سب نوکروں کا بُلایا ، اور اُن کو یہ سب باتیں سُناٸیں ، اور وہ سب بہت ڈر گۓ ، پھر ابی ملک نے ابراہیم کو بھی بُلایا ، اور اُسے کہا کہ تُونے ھم سے کیا کیا ? میں نے تیرا کیا قصور کیا ? کہ تُو مُجھ پر اور میری بادشاہت پر ایک عظیم گناہ لایا ، تُو نے ھم سے وہ کام کیا ، جو کرنا مناسب نہ تھا ، اور پھر اُس نے اُس سے کہا ، ایسا کرنے سے تیرا کیا مقصد تھا ، اور ابراہیم بولا میں نےدِل میں سوچا کہ خدا کا خوف اِس جگہ میں نہیں ھے ، تو وہ میری بیوی کے واسطے مُجھے مار ڈالیں گے ، اور دَرحقیقت وہ میری بہن ھے ، میرے باپ کی بیٹی ، پَر میری ماں کی بیٹی نہیں ، سو میں نے اُسے بیوی بنایا ، اور جب خُدا میرے باپ کے گھر سے باہر نکال لایا تو میں نے اُس سے کہا کہ مُجھ پر یہ تیری مہربانی ھوگی کہ جس جگہ پر جاٸیں ، میرے حق میں اتنا کہنا یہ میرا بھاٸ ھے ، اور ابی ملک نے بھیڑ بکری اور گاۓ بیل اور غلاموں اور لونڈیوں کو لے کر ابراہیم کو دیا اور اُس کی بیوی سارہ بھی اُس کو واپس دی { عھدِ عتیق و جدید ، سوساٸٹی آف سینٹ پال ، روما 1958 ٕ } باٸبل کا یہ بیان کتابِ تکوین کے باب 20 اور باب 21 پر مُحیط ھے لیکن باٸبل کے اِس بیان کا دِل چسپ پہلُو یہ ھے کہ باٸبل کے باب 20 میں یہ ساری کہانی مُکمل ھو چکی ھے اور اِس ساری کہانی میں ہاجرہ نام کی اُس لونڈی کا ذکر موجود نہیں ھے جو امام بخاری نے اِس کہانی میں شامل کی ھے تاہَم باٸبل کے باب 21 کی اٰیت 9 میں اسماعیل کے والدہ کے طور پر ہاجرہ نام کی ایک مصری لونڈی کا ذکر موجود ھے لیکن اِس کا بظاہر ابی ملک کی دی ھوٸ لونڈیوں سے کوٸ تعلق نہیں ھے !
🌹 امام بُخاری کا سَجعِ مُتوازن ! 🌹
لیکن ھمارے نزدیک ھاجرہ کا ھونا نہ ھونا زیادہ اَھم نہیں ھے بلکہ امام بخاری کا وہ مقصد زیادہ اَھم ھے جس مقصد کے تحت وہ اپنی بخاری شریف میں یہ حدیث شریف لاۓ ہیں جس میں ھاجرہ کا نام شامل ھے اور اِس سے اُن کا مقصد یہ ثابت کرنا ھے کہ سارہ کا شاہی محل میں جانا اور ایک کنیز لے کر واپس آنا کوٸ اتفاقی حادثہ نہ تھا بلکہ یہ ایک طے شُدہ کار و باری لین دین کا ایک طے شُدہ معاشرتی معاملہ تھا جو باٸع اور مُشتری کی باہمی رضامندی سے اَنجام پایا تھا لیکن سیدھے سبھاٶ یہ بات کہی جاتی تو بیچ مَنجدھار ہی اُن کی امامت کی نیّا ڈُوب جاتی ، اِس لیۓ امام بخاری نے اپنی کھال بچانے کے لیۓ ” سَجعِ مُتوازن “ کو اپنی ڈھال بنایا ھے اور اِس سَجعِ متوازن کے تحت وہ متنِ حدیث کی دُوسری سطر کا آخری لَفظ ” ھاجر “ چوبیسویں سطر کا پہلا لَفظ ” آجر “ اور پچیسویں سطر کا آخر سے پہلا لَفظ ” کافر “ لاۓ ہیں ،اِن اَلفاظ میں ھاجر سے مُراد ابراہیم علیہ السلام خود ہیں جنہوں نے ہجرت کی ھے ، آجر سے مُراد وہ ظالم بادشاہ ھے جس کی صفت کے طور پر یہاں پر لَفظِ آجر لایا گیا ھے کیونکہ آجر اُس شخص کو کہتے ہیں جو اُجرت کے بَدلے میں کام لیتا ھے اور کام کے بَدلے میں کام کرنے والے کو اُجرت دیتا ھے ، امام بُخاری اسی حدیث کے اسی مضمون کو بخاری کی کتاب الہبہ کی حدیث 2635 میں بھی لاۓ ہیں اور اُس کا متن یہ ھے ” عن ابی ہریرہ ان رسول اللہ قال : ھاجر ابرٰھیم بسارة فاعطوھا آجر فرجعت فقالت : اشعرت ان اللہ کبت الکافر واخدم ولیدہ “ یعنی ابوہریرہ سے مروی ھے کہ نبی اکرم نے فرمایا کہ سارہ نے ابراھیم کے ہَمراہ ہجرت کی جس کی اُن کو اُجرت ملی اور اُنہوں نے واپس آکر سے ابراھیم سے کہا سَمجھ لے کہ اللہ نے کافر کو مُنہہ کے بل گرادیا ھے اور ہمیں خدمت کے لیۓ یہ بچی دے دی ھے ، اِس حدیث کے بارے میں ھم نے تین باتیں کہنی ہیں ، پہلی بات اِس اَمر کی یاد دھانی کرانا ھے کہ امام بخاری پہلی حدیث میں سَجعِ متوازن کے طور پر ھاجر ، آجر اور کافر کے جو اَلفاظ دُور دُور رَکھ کر لاۓ تھے اِس حدیث میں وہی اَلفاظ قریب تَر اور یَکجا کر کے لاۓ ہیں ، جیسے جیسے دُوسرے مقامات پر درج کی گٸ دُوسری احادیث سامنے آٸیں گی ویسے ہی ویسے اِن اَلفاظ کا مُعمہ بھی حل ھوتا چلا جاۓ گا ، اِس ضمن میں ہمیں دُوسری بات یہ کہنی ھے کہ امام بخاری نے اپنی پہلی جس حدیث مُفصل طور پر پیش کیا تھا اِس مقام اُنہوں نے اِس حدیث کو مُجمل بناکر پیش کیا ھے اور پھر اِس مقام پر اُنہوں نے اِس مُجمل حدیث کو ایک نیا معنی و مفہوم دے کر ایک نیۓ اُفق کا حامل بنادیا ھے ، ھاجر واحد مُذکر غاٸب کا صیغہ ھے جو مصدر ” ھجر “ سے صادر ھوا ھے اور اِس کا معنٰی جُدا ھونا ھے ، ہجرت کرنے والے کو بھی اسی معنوی مناسبت سے مُھاجر کہا جاتا ھے ، اِس حدیث میں دُوسرا حرف ، حرفِ ” ب “ ھے جو ” مع “ کا معنٰی حاصل کرنے کے لیۓ اسمِ سارہ کے ساتھ جوڑ کر ” ھاجر ابرٰھیم مع سارة “ کے بجاۓ ” ھاجر ابرٰھیم بسارة “ بنایا گیا ھے جو غیر فصیح ھے ، مع کو اِس لیۓ ترک کیا گیا ھے کہ مع میں معیت کا معنٰی متعین ھے اور ” ب“ کو اِس لیۓ ” مع “ کی جگہ پر لایا گیا ھے کہ ” ب “ حروفِ عن ، من اور اِلٰی کی جگہ بھی لیتا ھے اور اِن کی جگہ لے کر ”ساتھ “ کے بجاۓ ” سے “ کا معنٰی دیتا ھے ، امام بخاری کے اِس سجعِ متوازن میں جو ا لَفظ ” آجر “ ھے اِس کی جمع ” اُجور “ ھے جس کو قُرآنِ کریم نے طلاقہ یافتہ عورت کے حق مہر کے لیۓ استعمال کیا ھے اور اِس استعمال کے مطابق اِس حدیث کے اَلفاظ اور اَلفاظ کا مفہوم درجِ ذیل ھے : ھاجر ابراھیم بسارة فاعطوھا اٰجر فرجعت ، فقالت : اشعرت ان للہ کبت الکافر واخدمہ ولیدہ “ یعنی ابراہیم سارہ سے الگ ھو گیا یا اُس نے سارہ کو خود سے الگ کردیا اور اُس کا حق مہر بھی اُس کو دے دیا ، پھر جب وہ لوٹ کر ابراہیم کے پاس آٸ تو اُس نے کہا آپ یہ سمجھیں کہ اللہ نے کافر کو مُنہہ کے بَل گرادیا ھے اور ہمیں خدمت کے لیۓ یہ بچی مل گٸ ھے ، اِس موقعے پر ہم نے تیسری بات یہ کہنی ھے کہ امام بخاری نے اِس حدیث کو ارادتاََ اِس مفہوم و معنی کا حامل بنایا ھے اور اِس مقام پر اِس مفہوم سےابتداٸ طور وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے وہ مقصد بھی حاصل کرچکے ہیں ، تاہم یہ بات اتنی سادہ نہیں ھے اِس لیۓ آنے والی سطُور میں بخاری کی دُوسری اَحادیث کے حوالے اِس کا وہ پس منظر بھی سامنے لاٸیں گے جو تاحال عام نگاہ سے اَوجھل ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے