Home / اسلام / حَق کی سَچی اور سُچی رَاہ !!

حَق کی سَچی اور سُچی رَاہ !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اَلاَنعام ، اٰیت 71 تا 73 )))) 🌹
حَق کی سَچی اور سُچی رَاہ !! 🌹
ازقلم 🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 قل
اندعوا من دون
اللہ مالا ینفعنا ولا یضرنا
ونرد علٰی اعقابنا بعد اذ ھدٰنا اللہ
کالذی استھوتہ الشیٰطین فی الارض حیران
لہ اصحٰب یدعونہ الی الھدٰی اٸتنا قل ان اللہ ھوالھدٰی
وامرنا لنسلم لرب العٰلمین 71 وان اقیمواالصلٰوة واتقوہ وھوالذی
الیہ تحشرون 72 وھوالذی خلق السمٰوٰت والارض بالحق و یوم یقول کن
فیکون قولہ الحق ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور عٰلم الغیب وھوالحکیم الخبیر 73
اے مُحمد ! آپ اِن سے کہیں کہ تُم نے یہ گمان بھی کس طرح کر لیا ھے کہ ھم تُمہارے کہنے پر حق کا سَچا اور سُچا راستہ چھوڑ کر اَچانک ہی اپنے اُلٹے پاٶں پر پَلٹ جاٸیں گے اور اپنی حاجات کے لیۓ اپنے حقیقی خُدا کو چھوڑ کر تُمہارے اُن خیالی خُداٶں کو پُکارنے لگیں گے جو ہمیں کوٸ نفع بھی نہیں دے سکتے اور نُقصان بھی نہیں پُہنچا سکتے ، ھم اِس طرح کریں گے تو پھر ھم بھی اُس حیران و سرگردان شخص کی طرح ھو جاٸیں گے جس کو شیطانوں کے دکھاۓ ھوۓ سراب نے صحرا میں بَہٹکا دیا ھے اور اُس کے جو ساتھی اُس کو سیدھی راہ دکھانے اور سٕدھی راہ پر لانے کے لیۓ آواز پر آواز لگا رھے تھے لیکن وہ اُن کی ایک بھی نہیں سُنتا تھا ، اِس تَمثیل سے آپ اِن بہکے اور بَہٹکے ھوۓ انسانوں کو یہ بات بتاٸیں اور سمجھاٸیں کہ اللہ کی رَاہ ہی وہ سیدھی ، سَچی ، سُچی ، بے بَل اور بے بَدل راہ ھے جس پر اُس نے ہمیں چلنے کا حُکم دیا ھے اور اِس حُکم کے علاوہ اُس نے ہمیں یہ حُکم بھی دیا ھے کہ ھم اُس کو سارے جہانوں کا پالَنہار تسلیم کریں اور اُس کی اِس ساری دُنیا میں اُس کے اِس آفاقی نظام کو قاٸم کریں اور اِس نظام کے مطابق اُس کے اَحکام کے سامنے سرِ تسلیم خَم کریں کیونکہ ھم اُسی کے حُکم سے داٸرہِ اَموات سے گزر کر داٸرہِ حیات میں آۓ ہیں اور اُسی کے حُکم سے حلقہِ حیات سے نکل کر حلقہِ اَموات میں جاٸیں گے ، پھر اُسی کے حُکم پر پَنجہِ اَموات سے نکل کر دَستِ حیات میں جاٸیں گے اور پھر ایک روز اُس کے حضور میں حاضر ھو جاٸیں گے ، یہ زمینِ گُل فشاں اُسی کی ھے اور یہ آسمانِ بیکراں بھی اُسی کا ھے ، وہ وہی اللہ ھے جس کا ہر قول ، قولِ حق ھے ، وہ وہی اللہ ھے جس نے پہلی بار ہمیں اپنے ایک حُکمِ کُن سے پیدا کیا تھا اور وہ وہی اللہ ھے جو اِس کے بعد بھی ہمیں اپنے ایک ہی حُکمِ کُن سے پیدا کر دے گا ، ھماری اِس تجدیدِ حیات کی عملی شکل یہ ھو گی کہ جس روز اُس عالَمِ غیب و عالَمِ شہادہ کے عالِم کی مشیت ھوگی اُس روز اُس کی مشیت کے مطابق پہلے ہر ذی حیات کو حیات کے کُنڈل سے نکال کر اَموات کے مَنڈل میں لے جانے کے لیۓ زمین و آسمان کو لَرزا دینے والی ایک جان طلب صدا بلند کی جاۓ گی جس کی ہیبت سے ہر جان دار مر جاۓ گا اور پھر ہر مُردہ جان کو آوردہ جان بنانے کے لیۓ زمین و آسمان کو ہلا دینے والی ایک جاں بخش صوت سُناٸ جاۓ گی جس سے ہر مُردہ جسم زندہ ھوجاۓ گا ، یہ سب کب ھوگا اِس کو اُس صاحبِ علیم و خبیر کے سوا کوٸ نہیں جانتا !
🌹 ساعتِ موت اور قیامتِ حیات ! 🌹
انسان کے ذاتی تجربے اور ذاتی مُشاھدے کے مُطابق دُنیا میں سب سے زیادہ یقینی چیز انسان کی وہ موت اور سب سے زیادہ غیر یقینی چیز انسان کی وہ زندگی ھے جس کا ہزاروں سال سے ہر روز ہر ایک انسان بچشمِ خود مُشاھدہ کرتا رہا ھے اور کر بھی رہا ھے لیکن انسانی زندگی اور انسانی موت کا یہ انسانی تجربہ و مُشاھدہ وہ محدُود تجربہ و مُشاھدہ ھے جس میں ایک انسان ایک وقت میں ایک دو انسانوں کو ہی پیدا ھوتے دیکھتا ھے اور چند سو انسانوں کو ہی جھگڑوں اور جنگوں میں مرتے ھوۓ دیکھتا ھے لیکن قُرآن نے اپنے اَحکامِ اَمر اور اپنے اَحکام نہی کے بیچوں بیچ جابجا انسان کی اُس اجتماعی موت کا ذکر بھی کیا ھے جو دُنیا پر ایک دِن ایک ” زلزلة الساعة “ کی صورت میں آنی ھے اور قُرآن نے جگہ جگہ پر انسان کی اُس اجتماعی حیات کا ذکر بھی کیا ھے جو دُنیا پر ایک دِن ایک ” یوم القیامة “ کی صورت میں برپا ھونی ھے اور پھر اِس اجتماعی موت و حیات کے بعد قُرآن نے جگہ جگہ پر اُس یومِ مَحشر کے برپا ھونے کا تذکرہ بھی کیا ھے جس میں ہر انسان نے زندہ ھونا ھے اور زندہ ھونے کے بعد اللہ کے سامنے اپنے توشہِ خیر و شر کے ساتھ پیش ھونا ھے اور ہر انسان نے اپنی ہر سانس کی آمد و شُد کا پُورا پُورا حساب دینا ھے ، قُرآن انسان کو اپنے اِن اَحکامِ اَمر و نہی کے درمیان اُس کی یہ اجتماعی موت و حیات اِس لیۓ بار بار یاد دلاتا ھے تاکہ انسان زندگی میں جو عمل کرے وہ موت و حیات اور جزا و سزا کے اُس یقینی دِن کو سامنے رَکھ کر کرے اور اِس یقین کے ساتھ کرے کہ اُس نے اپنے ہر اَچھے یا بُرے عمل کا حساب بھی دینا ھے اور اَچھے یا بُرے عمل کی جزا و سزا کو بھی بُھگتنا ھے ، قُرآن نے اٰیاتِ بالا میں اسی لیۓ جہاں پر اپنے اَحکامِ اَمر و نہی کا ذکر کیا ھے وہاں پر اِن اَحکام کے ساتھ اور اِن اَحکام کے پہلُو بہ پہلُو اُس یومِ مَحشر کا ذکر بھی کیا ھے جس کا آنا قطعی و یقینی ھے لیکن اٰیاتِ بالا کے سلسلہِ کلام میں سب سے اھم بات یہ ھے کہ اِس سلسلہِ کلام میں قُرآن نے سیدنا محمد علیہ السلام کا کُفار کے ساتھ ھونے والا جو مَنطقی مکالمہ نقل کیا ھے اُس مکالمے کا مرکزی مضمون بھی انسان کا وہ عملِ خیر و شَر ھے جس میں ہر ایک اُمت کے ساتھ اُس کے ہر ایک نبی اور ہر ایک رسول نے بھی پیش ھونا ھے اور اللہ تعالٰی نے اِس مکالمے میں اپنے نبی کے زبان سے اُس حقیقی الساعة اور اُس حقیقی القیامة کا ھمارے خیال کے مُطابق جو ایک خیالی منظر پیش کیا ھے وہ ہر انسان کے اپنے اعمال اور اُس دِن کے ہولناک اَحوال کے ساتھ موازنے کے لیۓ بہت کافی ھے اور اِس موازنے کا مقصد انسان کو خوابِ غفلت سے جگانا اور جگاۓ رَکھنا ھے تاکہ جب جب جس جس انسان کی اِس دُنیا میں بند ھونے والی آنکھ اُس دُنیا میں پُہنچ کر کُھلے تو اُس کے سامنے وہی منظر و نظارا موجود ھو جو اُس کو پسند ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے