Home / کالم / سراب خواہشات

سراب خواہشات

ازقلم
پیا سحر گجرات
انسان ہر وقت حالت جنگ میں ہے اور یقینی شکست کا سامنا کر رہا ہے۔شیطان ہاتھ دھو کر انسان کے پیچھے پڑا ہے جو کے انسان کا ازلی دشمن ہے۔اس نے ہمارے نفس کو اس قدر شتربے مہار بنا دیا ہے کہ اب ہم لاکھ کوششوں کے باوجود بھی خواہشات کی منہ زوری پر بند باندھنے سے قاصر ہیں۔بے بس ہیں۔
وہ پرانے لوگ تھے،ایمان والے لوگ جو نفسانی خواہشات پر قابو پا کر شیطان کو شکست سے دوچار کر دیا کرتے تھے۔
وہ مرد مجاھد تھے ایمان والے تھے،اللہ‎ والے تھےاور ہم صرف نفس والے ہیں، خواہشات کے غلام،ہوس پرست اور حریص لوگ،ہمارے بس میں اگر کچھ ہے تو صرف یہ کہ ہم مادی خواہشات پوری کرنے کے لئے شیطان کے دکھائے راستے پر چلتے اور کھلم کھلا اس کی پیروی کرتے ہوئے مادی و دنیاوی ضروریات پوری کرنے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔
زن زر اور زمین کے علاوہ ہم کو جاہ و حشم کی بھی حرص ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور یہ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ (سورۃ محمد (ﷺ)، آیت ۱۶)

کبھی صحرا میں تگ و دو کرتے ہوئے بے بس وجود کو دیکھیں۔جو سراب کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور تھک ہار کر جان،جان آفریں کے حوالے کر دیتا ہے۔
دنیا کی مثال اس کائنات میں ایسی ہے جیسے صحرا میں سراب،جو بندے کو بھگا بھگا کر نڈھال کر کے چھوڑ دیتا ہے پھر گدھ اس کی جان کنی کا تماشا دیکھتے ہیں، جب یہ تماشا ختم ہوتا ہے تو خوب دعوت اڑا کر اڑ جاتے ہیں ۔
بالکل اسی طرح جب انسان مادی دنیا کے پیچھے بھاگ بھاگ کر تھک چکتا ہے تب اس کو احساس ہوتا ہے کہ اب اس میں مزید بھاگنے تو کیا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کی بھی طاقت نہیں رہی۔ایسے میں ریا کار اور مطلب پرست لوگوں کا وہ مجمع (ٹولہ) جو انسان نے عزیزوں کے طور پر اپنے ارد گرد جمع کر رکھا ہوتا ہے۔انسان کی بےبسی کا تماشا دیکھتے ہوئے دل میں سوچ رہا ہوتا ہے “آج مرے تو کل دوسرا دن ہو”
اور سب قل ھو اللہ‎ پڑھ کر اگلی منزل کی طرف روانہ ھو جاتے ہیں۔
خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے انسان کب قبر میں جا سوتا ہے اس کو اندازہ بھی نہیں ہوتا اس نے تو سوچ رکھا تھا ایک وقت آئے گا جب وہ توبہ کر لے گا۔مگر افسوس موت ان کو مہلت ہی نہیں دیتی کہ اس وقت توبہ کر لیں جب وو گناہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔اور ایسے ہی لوگ اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے ارشاد ربانی ہے۔

“مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں ۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ۔ ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہو سکتا”۔
قرآن ، سورت الروم ، آیت نمبر 29​
اللہ‎ پاک تمام انسانوں کو شیطان کی چالوں کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی ترکیب کرنے کی توفیق عطا فرمائےآمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے