Home / کالم / تلاش حقیقت

تلاش حقیقت

ترتیب ؤ انتخاب
بابرالیاس
📕📕📕📕📕
اٹھارہویں صدی تک تمام بڑے فلاسفہ کا خیال یہی تھا کہ *سائنسی تجربات مشاہدات علم کے ذریعے تلاش حقیقت Discovery of Truth ممکن ہے، سائنٹفک میتھڈ کے باطن میں مستور Positivism کو آفاقی، غیر اقداری اور مؤثر تسلیم کر لیا گیا، Positivistic اور Naturalistic فکر کے زیر اثر سائنسی علم کی آفاقیت اور اہمیت علمی حلقوں میں ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قبول کر لی گئی* ڈیکارٹ، اسپنوزا، لایبنز، کانٹ، ہیگل، فنحٹے اور مارکس تک سائنسی طریقۂ کار کو نہایت اہمیت دیتے تھے، لیکن انیسویں صدی کے آتے آتے *سائنس کا یہ گردو غبار باقی نہ رہا ہزرل نے اس گرد و غبار کو صاف کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا، اس نے سائنسی طریقۂ کار (سائنٹفک میتھڈ) کی عالم گیریت کے غیر علمی اور غیر عقلی دعوؤں کو یورپین سائنس کے ایک عظیم بحران کے طور پر دیکھا* اپنے فلسفہ مظہریات Phenomnology کے ذریعے اس نے *سائنسی طلسم میں مضمر خطرات کی علمی نشان دہی اپنی کتاب The Crises of European Sciences میں کی* ہزرل کے اس تاریخی جملے کی گونج آج بھی علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے جو اس نے آج سے ایک صدی پہلے کہا تھا *نیچرل ازم اور پازیٹو ازم (یعنی سائنس، سائنسی علم، سائنٹفک میتھڈ کی عالمگیریت کے دعوے) نے صرف فلسفے کی گردن نہیں کاٹی بلکہ سائنس کی گردن بھی کاٹ دی* ہزرل کی کتاب نے *مغربی، یورپی سائنسی علم کی آفاقیت معروضیت اور مرعوبیت کو سوالیہ نشان بنا دیا اور اسے آفاقی علم کے بجائے ایک خاص تاریخ، تمدن، تہذیب، ثقافت، خاص زماں و مکاں سے ابھر نے والے علم کے طور پر دیکھا* اس کے شاگرد ہائی ڈیگر نے ١٩٢٦ء میں *The Question Concerning Technology*
لکھ کر سائنس کے بارے میں بہت سے نئے سوالات پیدا کر دیے اور ان خطرات کی نشان دہی کر دی جو اگلے پچاس برسوں میں ایک حقیقت بن کر سامنے آئے، ہزرل اور ہائی ڈیگر کے ان مطالعات کے باعث *سائنسی علم کی عظمت اور وقعت شدید طور پر متاثر ہوئی* انیسویں صدی سے لے کر آج تک مغرب کے کسی بڑے فلسفی نے سائنس کے ذریعے تلاش حقیقت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ مختصر لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ *انیسویں صدی کے بعد مغرب کے تمام فلسفی سائنس کے ذریعے تلاش حقیقت کے دعوے سے دستبردار ہوگئے* بیسویں صدی کے تمام فلاسفہ scienticization کے زبردست مخالف ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ آزادی freedom کا خاتمہ کر دیتا ہے       

 

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے