Home / کالم / ٹائیگر فورس کہیں نظر آئی۔۔؟؟

ٹائیگر فورس کہیں نظر آئی۔۔؟؟

ازقلم⁦🖋️
⁩ حافظ بلال بشیر چکوال

کیا آپ کو بھی ٹائیگر فورس کہیں نظر آئی۔۔۔؟

عید الفطر سے چند دن پہلے میں بھون(چکوال) کے مسلم کمرشل بینک کے قریب کسی کام سے گیا تو وہاں خواتین و حضرات کی لمبی قطاریں تھیں تین نوجوان اس مجمعے کو کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے عوام کو پیار محبت سے سمجھا رہے تھے میرے ساتھ میرے دوست اور کزن ملک ندیم اختر بھی تھے۔ ہم بھی ان کے قریب جا کر رکے، تو ہمیں بھی انہوں نے محبت سے سمجھایا کہ جناب مہربانی فرما کر سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھیں وغیرہ وغیرہ۔ مجھے تعجب ہوا کہ یہ کون ہیں میں نے ان سے سوال کیا، کہ کیا آپ ٹائیگر فورس کے رضاکاروں میں سے ہیں؟
انہوں نے مسکرا کر جواب دیا جی ہاں!
تو میرا اگلا سوال یہ تھا کہ کیا ٹائیگر فورس میں صرف پاکستان تحریک انصاف کے لوگ ہیں یا ہر جماعت سےلوگ اس میں شامل کیے گیے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا کہ نہیں!  ٹائیگر فورس میں ہر سیاسی و مذہبی پارٹی سے لوگ موجود ہیں اچانک دوسرے رضا کار نے مسکرا کر سوال کیا کہ آپ کا تعلق کون سی سیاسی پارٹی سے ہے؟
اس کا جواب میرے دوست ملک ندیم اختر نے دیا انہوں نے کہا: میرا تعلق پاکستان آرمی سے ہے اور پاکستان آرمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے 10 اپریل تک موصول ہونے والی درخواستوں میں سے سکروٹنی کے بعد ٹائیگر فورس تشکیل دی۔ حکومت پاکستان نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ بغیر کسی معاوضے یا اخراجات کے ٹائیگر فورس بنائی گی ہے جو بالکل غیر سیاسی ہے۔ اس میں کسی بھی جماعت سے تعلق رکھنے والے نوجوان حصہ لے سکتے ہیں اور اس کا مقصد حکومت کی جانب سے دیا گیا راشن مستحقین تک پہنچانا ہے جن کی فہرستیں ضلعی انتظامیہ نے بنائی ہیں۔
میں کراچی سے چکوال گیا تھا۔ مجھے کراچی میں تو ابھی تین سے چار ماہ گزرنے کے باوجود بھی ٹائیگر فورس نظر نہیں آئی لیکن پنجاب میں صورتحال مختلف ہے۔
پنجاب میں رضا کار فورس یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح تک قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر اتھارٹیز کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں شامل رہی۔
یہ رضا کار مستحق افراد کی نشاندہی کرتے رہے اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے بارے میں بھی انتظامیہ کو آگاہ کیا جس پر پولیس اور مختلف اداروں نے کارروائی بھی کی ۔
کچھ دن پہلے چکوال کے ایک دوست عرفان علی سید صاحب سے بات ہوئی جو کہ ضلع چکوال میں ٹائیگر فورس میں سینئر ممبر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع چکوال میں ان سب ذمہ داریوں کے علاوہ بھی ٹائیگر فورس ہمہ وقت شہریوں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ جن دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی کمی تھی اور پٹرولیم اسٹیشنز پر عوام کا ہجوم تھا ان دنوں میں ضلع چکوال میں ٹائیگر فورس کے رضاکاروں نے ان اہم مقامات پر بھی لوگوں کو پیار محبت سے حکومتی پالیسی پر عملدرآمد کروایا۔ اس کے علاوہ چکوال کے غربی قبرستان میں مقامی کمیٹی کے ساتھ مل کر قبرستان کے ملحقہ علاقے میں شجر کاری مہم میں بھی حصہ لے رہی ہے اور ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ہم ان پودوں کی دیکھ بھال کی بھی ذمہ داری بھی لیں گے
عرفان علی سید کا یہ بھی کہنا تھا کہ رضا کاروں کو لیڈ کرنے والی شخصیات بھی پوری دلچسپی اور لگن کے ساتھ پوری ٹیم کو پروفیشنل طریقے سے لے کر آگے چل رہے ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد، انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں جن میں خصوصاً ٹائیگر فورس انسپکٹر ضلع چکوال معین جان اور اے سی چکوال مظفر مختار قابل ذکر ہیں
یقیناً اللّٰہ پاک کی رضا کے لیے اتنی محنت کے ساتھ انسانیت کی خدمت، فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
اگر باقی شہروں میں بھی ضلع چکوال کی طرح خلوص کے ساتھ اپنے معاشرے میں ہم سب ایک مضبوط پلیٹ فارم سے اپنے ملک پاکستان کی خدمت کرنے کا ارادہ کر لیں تو وہ دن زیادہ دور نہیں کہ ہم دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے