Home / کالم / اللّٰہ کے گھر کی جگہ بت خانے کی تعمیر*

اللّٰہ کے گھر کی جگہ بت خانے کی تعمیر*

*از قلم⁦🖋️⁩
حافظ بلال بشیر*

بھارت ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر بی جے پی کے ایجنڈے کا اہم حصہ تھا بابری مسجد مسلمہ امہ کی سجدہ گاہ تھی بابری مسجد میں ایک اللّٰہ کے سامنے رکوع وسجود ہوتے تھے لیکن یہ تحریر کرتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ اللّٰہ کے گھر کی اس زمین پر اب شرک ہو گا فرمان الہٰی کے مطابق” شرک سب سے بڑا ظلم ہے” بابری مسجد کے پس منظر کو اگر ہم دیکھیں تو تاریخ کے اوراق میں واضح نظر آتا ہے کہ تین گنبدوں والی یہ قدیم مسجد شہنشاہ ”بابر“ کے دور میں اودھ کے حاکم ”میرباقی اصفہانی“ نے935ھ /1528ءمیں تعمیر کرائی تھی بابری مسجد کے مصارف کے واسطے عہد مغلیہ میں مبلغ ساٹھ روپے سالانہ شاہی خزانے سے ملتے تھے، نوابان اودھ کے دور میں یہ رقم بڑھا کر تین سو دو روپے تین آنہ چھ پائی کردی گئی تھی، برطانوی اقتدار میں بھی یہ رقم بحال رہی، پھر بندوبست اول کے وقت نقد کی بجائے دو گاؤں بھورن پور اور شولاپور متصل اجودھیا اس کے مصارف کے لئے دئیے گئے بنیادی تعمیر سے لے کر انگریزوں کے دور تک اس مسجد کی زمین کا کوئی اختلاف تاریخ میں نہیں ملتا ہر دور میں اجودھیا کے ہندو بھی اس مقدس مقام کا احترام کرتے تھے لیکن جب اس ملک پر انگریزوں کا منحوس سایہ پڑا اور ان کا یہاں عمل دخل شروع ہوا تو انھوں نے اپنی بدنام زمانہ پالیسی ”لڑاؤ اورحکومت کرو“ کے تحت یہاں کے لوگوں میں باہمی منافرت اور تصادم پیدا کرنے کی غرض سے مسجد، مندر، جنم استھان وغیرہ کا خود ساختہ قضیہ چھیڑ دیا جس کے نتیجہ میں اجودھیا کے اندر زبردست خونریزی ہوئی یہ ابتدا تھی پھر کئی دفعہ اللّٰہ کے اس گھر کی ناموس کے لیے مسلمانوں نے جان کی بازی لگائی اور سینکڑوں مسلمان مختلف ادوار میں شہید ہوئے
6دسمبر 1992 کو ہزاروں ہندوؤں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی قیادت میں اللّٰہ کے اس گھر کو شہید کر دیا اس معاملے پر کئی ایکشن کمیٹاں تشکیل دی گئی مختلف کمیشن رپورٹس اور عدالتی کارروائی سے ہوتا ہوا یہ معاملہ بھارت کی سپریم کورٹ میں پہنچ گیا پھر 9 نومبر 2019 کو بی جے پی کی مرکزی حکومت کی قیادت میں بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس فیصلے کے مطابق 5 اگست 2020 کو بھارت کی موجودہ حکومت عمل در آمد کرنے جا رہی ہے بھارت کے اس شرمناک فیصلے پر پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ نے مذمت کی لیکن بھارت کو صرف مذمت سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں سمجھتا ہوں کہ امت مسلمہ(تمام اسلامی ممالک) کو بھارت کے اس فیصلے کے خلاف بھر پور ایکشن لیتے ہوئے بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے چاہیے اور ہر فورم پر بھارت کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے کیوں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے