Home / بین الاقوامی / تفہیم مغرب فورم*

تفہیم مغرب فورم*

📖 *پلاسٹک کی تباہ کاریاں*
✒️ *محترم نیاز سواتی*
ـــــــــــــــــــــــ

ٹوتھ برش سے شاپنگ بیگ، بال پین سے بریف کیس اور گاڑی کے اسٹیرنگ سے پائیدان تک تمام چیزیں ہم پلاسٹک سے بنی ہوئی ہیں استعمال کر رہے ہیں، دوکانوں پر رنگا رنگ اور شفاف ہر طرح کے شاپنگ بیگ کی بہار ہے، پلاسٹک کی اشیاء کے بغیر جدید زندگی کا تصور محال ہے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو پلاسٹک کی اشیاء کی اہمیت تقریباً بجلی کے برابر ہو چکی ہے، ٹھنڈے مشروبات، دوائیوں، منرل واٹرکی بوتلوں اور بچوں کے فیڈر تک کونسی چیز ہے جو پلاسٹک کی محتا ج نہیں؟ *مگر پلاسٹک کی اس رنگا رنگ اور پُر بہار دنیا کی پشت پر اس کا وہ تاریک چہرہ ہے جس کی نشان دہی سائنس دان برس ہا برس سے کر رہے تھے* مگر حالیہ دنوں میں عالمی خبررساں ایجنسیوں رائٹر اور سی این این نے اس موضوع پر جو خبریں اور تفصیلات جاری کی ہیں انہوں نے مشرق و مغرب میں کہرام مچا دیا ہے، امریکہ اور یورپ میں پلاسٹک کے زہریلے اثرات کے بارے تحقیقاتی رپورٹوں کا انبار جمع ہو چکا ہے، صرف امریکہ میں ہونے والی ۲۰۰ سے زائد تحقیقات نے پلاسٹک کے لازمی جزو یعنی اسفینول اے (BPA) کے انسانی جسم پر تباہ کن اثرات کی واضح نشان دہی کی ہے، رائٹر نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں کئے جانے والے پیشاب کے ۹۳ فی صد تجزیوں میں اس نقصان رساں کیمیکل کی موجودگی ثابت ہوگئی ہے ۲۰۹۷ء میں ۳۸ ماہرین کی زیر نگرانی ہونے والی ایک تحقیق کے دوران عام حالات میں استعمال کی جانے والی پلاسٹک سے بھی کم مقدار استعمال کرانے پر تجربہ گاہوں میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ پلاسٹک کا یہ منحوس جزو کینسر، دماغی امراض، تھائی رائڈ اور دیگر غدودوں کے عدم توازن اور جنسی بیماریوں کا براہ راست سبب ہے، جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی پی ا ے نامی یہ کیمیکل مستقل بنیادوں پر ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے، ۲۰۰۷ء میں امریکی سائنس دانوں نے اس کیمیکل کا زیادہ وسعت سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، اس مرتبہ ۱۵۰۰ امریکیوں پر پلاسٹک کے استعمال کا جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ بی پی اے کا تعلق دل کے امراض سے بھی ہے، اسی گروپ نے ۲۰۰۸ء میں دوبارہ انہی تحقیقات کو دہرایا کی جن کے نتائج نے گذشتہ تحقیقات کی تصدیق کر دی، بی پی اے سے ہمارے تعلق کی سب سے خطرناک نوعیت ڈبوں میں بند غذا، مشروبات اور دودھ کا استعمال ہے، کینیڈا میں ٹھنڈے مشروبات میں بی پی اے کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، حالانکہ کینیڈا اپنے سخت ماحولیاتی قوانین اور آلودگی کی کم ترین سطح کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے اگر وہاں مشروبات میں پلاسٹک شامل ہو سکتا ہے تو پاکستان میں میں تیار ہونے والے مشروبات کا حال بتانے کی ضرورت نہیں، در اصل مشروبات کے دھاتی ڈبوں میں پلاسٹک کی ایک تہہ اندر کی طرف لگائی جاتی ہے تاکہ مشروب اور دھات میں فاصلہ رہے، پلاسٹک کی دیہی تہہ آہستہ آہستہ بی پی اے کی خاص مقدار مشروب میں شامل کرتی رہتی ہے، اس معاملے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ شیر خوار بچوں کے تمام فیڈر پلاسٹک کے بنے ہوتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ بیماریوں کے خلاف مدافعت کی قوت بچوں اور وہ بھی شیر خوار بچوں میں کم ہوتی ہے مگر شروع دن سے ہی ان شیر خوار بچوں کو اس نقصان دہ کیمیکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پلاسٹک کا استعمال کرنے کے ماحولیاتی اثرات بھی تباہ کن ہیں، ہمارے ہاں ہر قسم کا کچرا بالاخر دریاﺅں اور سمندروں کی نذر کیا جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک آبی جانوروں اور مچھلیوں کےلئے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے، مچھلیوں کی موجودہ نسل کو نقصان پہنچانے کے علاوہ یہ کیمیکل ان کی آئندہ نسل کا خاتمہ بھی کر سکتا ہے، *اگر ایک مرتبہ پلاسٹک بن جائے تو اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت ممکن نہیں، پلاسٹک اگر استعمال میں لایا جائے تو نقصان، اگر کچرے میں پھینکا جائے تو زمینی آلودگی کا بڑا سبب، جلایا جائے تو فضائی آلودگی کا باعث اور اگر سمندر میں پھینکا جائے تو سمندری حیات کےلئے زہر بن جاتا ہے* پلاسٹک سے ہمارے تعلق کا جائزہ لیا جائے تو *صبح سویرے اس کا استعمال ٹوتھ پیسٹ کی صورت میں ہوتا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں کم از کم پچاس کروڑ افراد باقاعدگی سے ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں* یہاں یہ بات بھی قابل غو رہے کہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کی سب سے زیادہ شرح امریکہ میں ہے جہاں صرف ۱۰ فی صد پلاسٹک دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے، اس ری سائیکلنگ کے دوران بھی حرارت اور گاڑھے دھوئیں کا برابر اخراج ہوتا رہتا ہے، باقی ۹۰ فی صد پلاسٹک بالآخر کچرے ہی کے ڈھیر میں ہی پہنچتا ہے یہ تو صرف اس ایک چیز کا جائزہ ہے جو شاید گھریلو استعمال کی چیزوں میں سب سے چھوٹی ہے، پلاسٹک کی تھیلوں، برتنوں اور پیکنگ کے ڈبوں اور پلاسٹک سے بنے ہوئے برقی آلات کا استعمال الگ ہے، ہمارے ہاں استعمال کے بعد یہ پلاسٹک سیوریج لائنوں کی بندش کا سب سے بڑا سبب بھی ہے، آخری بات یہ ہے کہ *مغرب جس طرز زندگی کا عادی ہے اس میں ڈبوں میں بند خوراک ضروری ہے کیونکہ وہاں بڑی بڑی سپر مارکیٹوں نے سبزی اور گوشت وغیرہ کی محلہ کی سطح پر دوکانوں کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے اس لئے وہاں روزانہ تازہ سبزی، گوشت اور پھل نہیں لائے جا سکتے، اس کے علاوہ وہاں میاں بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہونے کے سبب اتنا وقت نہیں نکال پاتے کہ روزانہ سپر مارکیٹوں کا چکر لگا سکیں اس لئے وہاں ڈبوں میں بند غذا کو فریج میں ذخیرہ کر لیا جاتا ہے* سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہی صورت حال ہے؟ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں بھی خواتین کی بڑی تعداد خاتونِ خانہ ہی کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اس طرح ہمارے ہاں روزانہ بازار سے تازہ دودھ، سبزی، گوشت اور پھلوں کی خریداری ممکن ہے، لہذا ڈبوں میں بند غذا قطعاً ہماری ضرورت نہیں لہذا ایسی غذاﺅں سے مکمل پرہیز ہی بہتر ہوگا، بچوں کے فیڈر کےلئے کانچ کے فیڈر استعمال کئے جائیں تو کم نقصان ہوگا، اس سلسلے میں دیگر متبادلات بھی ممکن ہیں، ویسے بھی ماں کا اپنا دودھ بچے کےلئے بہترین غذا ہے، ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ *کیا ہمارے ہاں کی ہر روایتی چیز اور طریقہ بے کار اور فرسودہ ہے؟ آخر کیوں ہم نے جراثیم کا از خود خاتمہ کرنے والے مٹی کے برتنوں کا استعمال ترک کر دیا ہے؟ جبکہ وہ بی پی اے جیسے زہریلے اثرات سے بھی سو فی صد پاک تھے؟* آج پانی کے تمام کولر آخر اسی پلاسٹک سے بنے ہیں جن کے زہریلے اثرات نے مغرب و مشرق کو مضطرب کر رکھا ہے، فریج کے ٹھنڈے پانی کے انسانی معدے اور گلے پر مضر اثرات کے بارے میں ماہرین متفق ہیں *مگر کیا ہم مغرب سے آنے والے ہر چیز پر آمنا و صدقنا کہنے اور اپنے فطری طریقوں سے نفرت کرنے کی روش پر نظر ثانی کےلئے تیا ر ہیں؟* اس کے ضمن میں یہ بات بہت اہم ہے کہ *گلوبل ولیج اور انفارمیشن ایج کا انسان جدید طرز زندگی کی ان نقصان دہ اشیاء کے مضمرات کا جائزہ لینے سے معذور ہے اور اگر اس طرز زندگی کے نقصانات روز روشن کی طرح عیاں بھی کر دئیے جائیں تب بھی اس دور کا انسان ان طور طریقوں کو ترک کرنے پر تیار نہیں کیونکہ مغرب کی اندھی تقلید نے تجزیہ اور فکر کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیا ہے، نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب جبکہ مغرب خود ان اطوار اور عادات کا جائزہ لے رہا ہے جو مغربی تہذیب کو اندھے کنویں کی طرف دھکیل رہی ہے مگر ہماری ہاں ہنوز دلی دور است کی کیفیت طاری ہے، مغرب کی نئے سرے سے تفہیم پر ہی ہمارے حال و مستقبل کے کئی چیلنجز کا دار و مدار ہے*
ـــــــــــــــــــــــ
*

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے