Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 2 } 🌹

قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 2 } 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 76 تا 79 🌹
قُرآن اور ذکرِ ابراھیم خلیل !! 🌹 { 2 } 🌹 ازقلم 📙📙اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات !🌹
🌹 فلما جن علیہ
الیل راٰ کوکبا قال ھٰذا ربی
فلما قال لا احب الاٰفلین 76 فلما راٰ
القمر بازغا قال ربی فلما افل قال لٸن لم یھدنی
ربی لاکونن من القوم الضالین 77 فلماراُالشمس بازغة قال
ھٰذاربی ھٰذااکبر فلماافلت قال یٰقوم انی برٸ مما تشرکون 78 انی
وجھت وجھی للذی فطرالسمٰوٰت والارض حنیفا وما انا من المشرکین 79
آزر کے شعُور میں توحید کے نُور نے رَاہ نہ پاٸ تو آنے والی شَب میں جب ابراھیم نے ایک تارے ،ایک چاند اور ایک سُورج کو چڑھتے ڈَھلتے دیکھا تو پہلے اُن کے روشن ھونے پر اُس کو اُن کے پروردِگار ھونے کا گُمان اور پھر اُن کے تاریک ھو جانے پر اُن کے لاچار ھو نے کا یقین ھو گیا جس کے بعد اُس نے اعلان کیا کہ فطرت کے اِن اشاروں کے بعد میں اپنے کامل شعُور کی کامل آمادگی کے ساتھ اپنے آپ کو اُس فاطرِ اَرض و سما کی تحویل میں دیتا ھوں جس نے کاٸنات اور اِس کے ہر ایک وجودِ ذات کو پیدا کیا ھے !
🌹 امامِ ملّت کا پہلا تعارف ! 🌹
قُرآنِ کریم کی کتابی ترتیب میں پہلا مقام سُورةُالبقرة کی اٰیت 124 ھے ، جس میں اللہ تعالٰی نے ابراھیم علیہ السلام کا پہلا تعارف کراتے ھوۓ کہا ھے کہ یہ ایک یادگار زمانے کی یادگار بات ھے کہ جب ابراھیم کو اُس کے پالَنہار نے قبل اَز وقت کہی ھوٸ اپنی چند باتوں میں آزمایا تو اُس کو اُن ساری باتوں میں ترازُو کے تول کی طرح پُورا پُورا پایا اور پھر اُس سے راضی ھو کر اُس کو بتایا کہ میں تُجھے اپنے سارے علمی و رُوحانی جہانوں کا امام بنانے والا ھوں ، ابراھیم نے خُدا کا یہ اعلان سُن کر پُوچھا کہ میرے بعد میری نِسل میں ” امامت “ کے اِس مَنصب کا تاج کس کے سر پر رکھا جاۓ گا ? جس پر اللہ نے اُن کو بتایا کہ اِس مَنصب کے حق دار صرف میرے مُنصف بندے ھوں گے ، ر ھے ظالم لوگ تو اُن کو میں اِس مَنصب سے دُور کر دوں گا ، امتحان کا نتیجہ مُثبت ھو یا مَنفی ، اُس کا ایک مرجَع اگرچہ مُمتحَن ہی ھوتا ھے لیکن دُوسرا مرجَع اُس کا وہ میدانِ عمل ھوتا ھے جس میں امتحان سے گزرنے والے نے اپنی عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیۓ جانا ھوتا ھے اور ابراھیم علیہ السلام کی جن عملی صلاحیتوں کی آزماٸش کی گٸ تھی اُن کے نتاٸج جاننے کی اللہ کو تو ہر گز ضرورت نہیں تھی لیکن اُن انسانوں کو آپ کی اہلیت جاننے کی بہرحال ضرورت تھی جن کے درمیان آپ نے کارِ نبوت اَنجام دینا تھا ، اسی لیۓ ابراھیم علیہ السلام کو جن آزماٸشوں سے گزارا گیا وہ زمانے کے لوگوں کے درمیان رَکھ کر ہی گزارا گیا اور آپ جن آزماٸشوں سے کامیابی کے ساتھ گزرے وہ اُن لوگوں کے سامنے ہی گزرے اور اسی سے اُن پر آپ کی شخصیت کا نقش اُجاگر ھوا لیکن اُس زمانے کے بعد والے لوگوں کو چونکہ اُن سارے حالات و واقعات کا کوٸ ذاتی مُشاھدہ نہیں تھا اِس لیۓ اللہ نے قُرآنِ کریم کے ذریعے ہمیں یہ بتایا ھے کہ ابراھیم جس طرح پہلے لوگوں کے رہنما بناۓ گۓ تھے اسی طرح بعد کے لوگوں کے بھی رہنما بناۓ گۓ ہیں اور یہی وجہ ھے کہ آج بھی زمین پر آسمانی دین کے جتنے بھی ماننے والے موجُود ہیں وہ سب کے سب ملّتِ ابراہیمی ہی کے نام لیوا ہیں !
🌹 امامِ ملّت کی پہلی دعوتِ حق ! 🌹
قُرآنِ کریم کی کتابی ترتیب میں دُوسرا مقام سُورةالاَنعام کی اٰیت 74 اور 75 ہیں ، اِن دو اٰیات میں سے پہلی اٰیت میں اللہ تعالٰی نے ابراھیم علیہ السلام کی دعوتِ توحید تذکرہ و تعارف کراتے ھوۓ بتایا ھے کہ تاریخَ عالَم کے یادگار واقعات میں سے وہ واقعہ بھی ایک اَھم یادگار ھے ، جب ابراھیم نے اپنے باپ اٰزر کو توحید کی دعوت دیتے ھوۓ کہا تھا کہ اگر آپ بھی اپنی قوم کی طرح اپنے دَست ساختہ بتوں کو اپنا اِلٰہ مانتے ہیں تو میں واضح طور پر آپ کو اور آپ کی قوم کو ایک واضح گُم راہی میں مُبتلا دیکھتا ھوں ، ابراھیم علیہ السلام کے اِس واضح سوال اور واضح جواب کا سبب یہ تھا کہ آپ اُس وقت اُس مَنصبِ نبوت پر فاٸز ھو چکے تھے جس کا سورةُالبقرة کی 124 میں آپ سے وعدہ کیا گیا تھا کیونکہ اِس پہلی اٰیت کے بعد دُوسری اٰیت میں اللہ تعالٰی نے مزید بتایا ھے کہ ابراھیم خلیل رسمی طور پر نبوت کے اِس مَنصب پر فاٸز نہیں ھوۓ تھے بلکہ اللہ تعالٰی نے عملی طور پر اُن کو اپنی کاٸنات اور موجُوداتِ کاٸنات کے کُچھ کرشمات دکھا کر کارِ نبوت کے لیۓ اتنا پُختہ کار بنا دیا تھا کہ اَب وہ اپنی ملّت کو خُدا کی توحید پُختہ تَر دلاٸل و براھین کے سمجھا سکتے تھے اور اٰیاتِ بالا جو قُرآنِ کریم کی کتابی ترتیب میں اُن دعوتی اٰیات کے بعد لاٸ گٸ ہیں اُن اٰیات میں آپ نے دعوتی اِستدلال کا وہی طریقہ اختیار کیا ھے جو مُنکر پر انکار کا ہر دَروازہ بند کردیتا ھے !
🌹 مِلّت کے امام پر شرک کا اِلزام ! 🌹
ھم ہرگز یہ نہیں جانتے کہ اٰیات بالا میں ابراھیم علیہ السلام کے ابراھیم علیہ السلام سے کٸے گۓ سوالات اور ابراھیم علیہ السلام کے ابراھیم علیہ السلام کو دیۓ گۓ جوابات کا یہ سلسلہِ کلام اُن کے خواب میں آنے والا ایک خیال ھے یا اُن کے خیال میں آنے والا ایک خواب ھے لیکن یہ بات ھم پُورے ایمان و یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ اِس سلسلہِ کلام میں شرک کا ایک شَمہ یا ایک شاٸبہ بھی موجود نہیں ھے لیکن علماۓ عجم کے سارے حدیث سوار مُحدث و مُفسیر اپنی روایات حدیث و تفسیر میں صدیوں سے اِس بات پر اصرار کرتے چلے آ رھے ہیں کہ ابراھیم علیہ السلام نے چاہتے یا نہ چاہتے ھوۓ بھی ایک تارے ، ایک چاند اور ایک سُورج کو اپنے سوال میں اپنے پروردِگار کی ذات کے ساتھ شریکِ ذات بنایا ھے ، چونکہ محدثین و مُفسرین کی اِس لنکا کے ہر باون گزے نے اپنی باون باون گز کی زبانوں سے اپنی کتابوں میں اتنے گز جمع کیۓ ھوۓ ہیں کہ کسی مُختصر بیانیۓ میں اُن سب کا قَلمی احاطہ مُمکن نہیں ھے اور جن لوگوں نے اِن مَذہبی الزام نویسوں کے الزام کی کوٸ تردید کی ھے تو وہ تردید بھی ایک تاٸید نظر آتی ھے ، چناچہ عھدِ قریب کے ایک عالم و مُحقق سید ابو الاعلٰی مودودی اپنی تفہیم کی جلد اَوّل کے صفحہ 558 پر لکھتے ہیں کہ ” اِس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ھوتا ھے ، وہ یہ کہ جب حضرت ابراھیم نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ھے ، اور جب چاند اور سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا ، تو کیا اُس وقت عارضی طور پر ہی سہی ، وہ شرک میں مُبتلا نہ ھو گۓ تھے ? اِس کا جواب یہ ھے کہ ایک طالبِ حق اپنی جُستجو کی راہ میں سفر کرتے ھوۓ بیچ کی جن منزلوں پر غور و فکر کے لیۓ ٹھیرتا ھے ، اصل اعتبار اُن منزلوں کا نہیں ھوتا بلکہ اصل اعتبار اُس سمت کا ھوتا ھے جس پر وہ پیش قدمی کر رہا ھے اور اُس آخری مقام کا ھوتا ھے جہاں پُہنچ کر وہ قیام کرتا ھے ، بیچ کی منزلیں ہر جویاۓ حق کے لیۓ ناگزیر ہیں ، اِن پر ٹھیرنا بسلسلہِ طلب و جستجو ھوتا ھے نہ کہ بصورتِ فیصلہ ، اَصلاََ یہ ٹھیراٶ سوالی و استفہامی ھوا کرتا ھے نہ کہ حُکمی “ اگر سید صاحب کے اِس فلسفے پر ایمان لے آٸیں تو پھر اِس اَمر پر ایمان نہ لانے کی بھی کوٸ وجہ نہیں ھے کہ نبوت کوٸ محفوظ وہبی حقیقت نہیں ھے بلکہ ایک کسبی عمل ھے جس میں توحید کے ہر مُسافر کے لیۓ توحید کی حتمی منزل تک پُہنچنے سے پہلے درمیان میں شرک اور شک کی منزلوں پر قیام کرنا ایک ناگزیر اَمر ھے لیکن مُشکل یہ ھے اگر ھم اَنبیا کی زندگیوں میں بیچ کی منزلوں پر اِس ناگزیر قیام کی کوٸ مثال تلاش کرنا چاہیں تو ھم ہرگز وہ مثال تلاش نہیں کرسکیں گے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے