Home / پاکستان / غربت ایک مستقل مسئلہ”

غربت ایک مستقل مسئلہ”

تحریر: *
حافظ عمیرحنفی*

انسانی زندگی کی بقا معاش کے ساتھ ہی ممکن ہے معاش ہی نسلوں کی روانی کا ذریعہ ہے جبکہ معاش کے بغیر انسان ناکارہ ہے اسی معاش کے حصول کے لیے کسی نا کسی طور اپنی شعوری کاوشیں کرنا ہوتی ہیں ہر والد و شوہر اپنی اولاد کے معاش کی فکر میں دھکے کھاتا دکھائی دیتا ہے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک خاص طبقہ جس کو ہم “امیر ،صاحب ِ منصب یا صاحب استطاعت” کہتے ہیں اس کے سوا سب کی زندگی دشواری مراحل سے گزرتی ہے ہمارا امیر طبقہ کلی طور پر برا نہیں جبکہ بعض اشخاص انسانیت کی قدروں سے بھی نا واقف ہوتے ہیں غریب و امیر دو لفظ معاشرے میں عموماً سننے کو ملتے ہیں یہ فقط دو لفظ نہیں دو طبقات کا نام ہے جن میں ایک خوشحالی کی زندگی بسر کررہا ہوتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ تنگدستی و کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے غربت کسی اعزاز کا نام نہیں ہے جو ہر بندہ خوشی سے قبول کرتا ہے بدقسمتی سے ہم نے ان دو طبقات میں وہ تفریق ڈال دی ہے کہ ایک صاحب ِ فہم و سلیم العقل شخص تصور نہیں کرسکتا اس کی وجہ ہمارے احساس کا ختم یا ضمیر کا مردہ ہوجانا ہوسکتا ہے

ملک پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ غربت ہی ہے جس کی بنیادی وجہ ہماری معیشت کا ناکام ہونا ہے جیسے دن بدن مہنگائی بڑھتی ہے دولت کا غیر مساوی طور پر استعمال ہوتا ہے مستحقین تک مقررہ رقم اور مختص فنڈ نہیں پہنچ پاتے وسائل میں کمی آجاتی ہے عوامی نمائندے کرپشن شروع کردیتے ہیں تب ایک غریب کا جینا محال ہوجاتا ہے 2015 میں عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں غریب افراد کی تعداد تین ارب سے تجاوز کرچکی تھی! اب نجانے اس عالمی غربت کے پیمانے کہاں پہنچے ہونگے! اسی سال پاکستان میں غربت کی شرح 30 فیصد تھی! رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا سب سے غریب صوبہ بلوچستان ہے جس میں غربت کی شرح فیصد 42.2 فیصد تھی اور سندھ میں 33.2 فیصد جبکہ خیبر پختونخواہ 27 فیصد ہے دوسری طرف پنجاب میں 25 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں غربت کی شرح 18 فیصد جبکہ دیہات میں 36 فیصد ہے بلوچستان میں 53 فیصد بچے خیبر پختونخواہ میں 49 سندھ میں 47 جبکہ پنجاب میں 38 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں

حالیہ وبا سے قبل تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور اب پلاننگ کمیشن کے سروے کے مطابق تقریباً 7 کروڑ 77 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں اور شرح نمو کم ہونے کی وجہ سے غربت کی شرح فیصد 30 فیصد 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے یعنی فی الوقت آدھا پاکستان غربت کی زندگی گزار رہا ہے اور حالت یہ ہے کہ پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد سندھ میں 43 فیصد خیبر پختونخواہ میں 49 فیصد اور بلوچستان میں غربت کی شرح 71 فیصد ہوچکی ہے
اس بڑھتی معاشی بدحالی کا ذمہ دار کون ہے اس سے قبل ان اعدادوشمار کو ایک مرتبہ پھر پڑھنا ہوگا اور ایک لمحہ کےلیے سوچنا ہوگا کہ ہمارا آدھا پاکستان غریت کی چکی میں پس رہا ہے!

غربت کی مرکزی وجوہات کیا ہیں؟ اور غربت کیا ہر دور میں تھی؟ کیا جن کے نظام ِ خلافت مضبوط تھی تب بھی تھی..؟ اس پر ایک تفصیلی کالم درکار ہے مختصر یہ کہ ہم اس کا سد باب کیسے کرسکتے ہیں! یا چند خاص اسباب میں سے یہ ہے کہ “ہمارے ہاں تعلیم کا خاص فقدان ہے جس معاشرے میں تعلیم عام ہوتی ہے وہاں کے لوگ خوشحال ہوتے ہیں ان کے ہاں روزگار کے مواقع ہوتے ہیں اگر آج کوئی غریب کا بچہ پڑھتا ہے اور اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جاتا جو ہمارے معاشرے میں عموماً چل رہا ہے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے ہوتے سفارشات اور رشوتوں کا سہارا لینے والوں کی بجائے محنت کرنے والے اس غریب کے بچے پر توجہ دی جاتی ہے تو وہی بچہ کل کو ایک تو اپنے پورے خاندان کی کفالت کریگا دوسرا اللہ تعالیٰ اس کا دل سیدھا رکھے وہ جس محکمہ میں بھی جائے گا اس کی درستگی کا ذریعہ بنے گا کرپشن کا خاتمہ کرے گا غریبوں کے حقوق کی فراہمی کےلیے سرتوڑ کوششیں کرے گا برعکس اس کے کہ جو بچہ تعلیم سے محروم ہوجاتا ہے اس کی اگلی ایک دو نسلیں تعلیم سے بیزار ہوچکی ہوتی ہیں تو بنیادی جو جزو لازم ہے وہ تعلیم کی فراہمی جبکہ اکثر ایسا ہوتا ہےکہ “غریب کا بچہ کہہ کر توجہ نہیں دی جاتی اپنے بچوں یا اپنے متعلقین کی اولادوں یا جہاں سے کچھ خاص عنایت ہورہی ہو ادھر ساری توجہ مرکوز رہتی ہے

جاگیرداری اور اجارہ داری ہے جس کیوجہ غریب کو کافی مشکلات کا سامنا ہے غریب کہیں کھڑے ہوکر حق نہیں بول سکتا اور اپنا حق مانگ نہیں سکتا جس کیوجہ سے وہ مسلسل خاموش ہوجاتا ہے بولنے پر جان کو خطرہ ہوتا ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ اس املاک و اشیاء پر صاحب اقتدار و صاحب منصب قبضہ کررہے ہوتے ہیں وہ بولتا ہے تو جان سے مارنے کی دھمکی دی جاتی ہے اپنا مدعا علاقہ کے زمیندار اور پنچایتی کے پاس لیکر جائے یا ایم این اے ایم پی اے کے پاس وہ سب تعلق کیوجہ سے اس حریف و قابض کے ساتھ ہوتے ہیں ٹال مٹول میں یا اپنی مجبوری ظاہر کرکے خاموش رہنے کا کہہ دیتے ہیں تو اس نظام کا خاتمہ بھی ضروری ہے تیسرا یہ کہ ہمارے وہ ملکی قوانین جو پاکستان بننے سے قبل کے ہیں وہ آج بھی لاگو ہیں از حد ضرورت ہے کہ ان قوانین میں ترمیم کی جائے ان میں وہ جاگیردارانہ نظام کا جاتمہ اور مزدور و مجبور اور بےبس و کس کو اس کے حقوق کی فراہمی کے متعلق قانون سازی کی جائے

اور بات جو حکومت کے متعلق ہے کہ اس غریب مزدور جس کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے اور سات کروڑ کے لگ بھگ عوام بھوکی مررہی ہے اس کا کوئی حل نکالا جائے اپنے وہ وعدے جو اقتدار میں آنے سے قبل کیے تھے ان کو وفا کیا جائے! مزدوروں کو کوئی خاص ریلیف دیا جائے کہ کم از کم ان کے گھر کا چولہا تو ٹھنڈا نہ ہو آخری بات جس کا تعلق ہم عوام کے ساتھ ہے وہ یہ کہ ہم مجموعی طور پر احساس سے نا آشنا ہیں ہمارے دل کے وہ اندر وہ رحم اور درد نہیں کہ ہم کسی غریب کے گھر کو بحال کرنے کا زریعہ بن سکیں! ہم اپنی خوشحال عارضی زندگی میں اتنے مگن ہیں کہ غریب کو دیکھ کر ماتھے پر بل آجاتے ہیں آج ہم اپنے سے شروع کرتے ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ ہم اپنی جمع پونجی اور اپنے ہی خرچ سے کئی ایسی بچیاں ہیں جن کے جہیز کیوجہ سے رشتے نہیں ہوئے کئی ایسے بچے جو بلا کے ذہن ہیں بس پیسے نہ ہونے کیوجہ سے سکول نہیں جا رہے ہم ان کے کفیل ہوجائیں اپنے اندر وہ احساس پیدا کرلیں کہ ہمیں ایک دم کےلیے یوں لگے جیسے اس کی جگہ میں خود ہوں جب یہ احساس پیدا ہوگا تو “غربت ایک مستقل مسئلہ” نہیں رہے گا انشاءاللہ

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے