Home / کالم / اصلاحات کی ضرورت

اصلاحات کی ضرورت

تحریر:
عبدالفتاح
اصلاحات کی ضرورت مگر کس کو؟؟؟

یہ تصویر عام تصوير نہیں یہ تصوير بہت سے لبرلز کے محلات کو خاکستر کرنے والی تصویر ہے، یہ تصویر ان لوگوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جو آئے دن دین اسلام اور پیروکاران اسلام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرتے رہتے ہیں کبھی اسلام اور اہل اسلام کو امن کے لئے خطرہ قرار دیا جاتا ہے کبھی اسلامی تعلیمات کو انتہا پسندانہ سوچ کی عکاس تعلیم گردانا جاتا ہے، کبھی اہل اسلام کو فرقہ وارانہ فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی انہیں مٹھی بھر طبقہ قرار دے کر ان کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے.
لیکن تمام مکتب فکر کے علماء کرام نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی تمام باتوں کو غلط ثابت کیا ہے:ملعونہ آسیہ مسیح کی منصوبہ بندی کے تحت بریت سے لیکر خفیہ طریقے سے اس کے بیرون ملک فرار تک علماء کرام اکٹھے نظر آئے، ختم نبوت ﷺ کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو یا قادیانیوں کے لئے آئین میں ترمیم کا مسئلہ ہو تمام علماء کرام ایک صفحے پر موجود نظر آئے، کرونا کی وبا کی وجہ سے جہاں سعودی حکومت کی طرف سے مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ سمیت تمام مساجد کو عام عوام کے لئے بند کردیا گیا وہاں ملک پاکستان کے اندر علماء کرام نے صدر مملکت کے ساتھ مذاکرات کر کے احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کو بند نہیں ہونے دیا.
اس پر ایک لبرل لیڈر نے ببھتی کستے ہوئے اپنے اندر کی بھڑاس ان الفاظ میں نکالی کہ اگر لوگ کرونا کی وجہ سے فوت ہوں تو ان مولویوں پر مقدمہ درج کیا جائے، بہرحال ان کی یہ آرزو ہی رہے گی ان شاء الله!!!
اسی طرح اقلیتوں کے حقوق کا نام لیکر موجودہ حکومت اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہے؛ لیکن علماء کرام اور غیور مسلمانانِ پاکستان ان کے ناپاک عزائم کے سامنے سد سکندری بن کر ڈٹے ہوئے ہیں.
ہر دور حکومت میں حکمرانوں کے اولین ایجنڈے میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ مدارس کو قومی دھارے میں لایا جائے،مدارس کے نظام تعلیم میں اصلاحات کی جائیں؛ لیکن ہر حکومت اس ایجنڈے کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی.
حکومت کے تحت چلنے والے تعلیمی نظام کی خوبی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانچ مہینے سے تعلیمی ادارے بند ہیں حکومتی وزراء کی میٹنگز ہوتی ہیں لیکن کوئی فائدہ مند لائحہ عمل طے کیے بغیر ختم ہو جاتی ہیں، جبکہ حال یہ ہے کہ یہی وزراء اور نمائندگان اہل مدارس کو مفت کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں.
اس نظام تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوجاتا ہے کہ اس میں طلباء کو بغیر امتحان کے اگلے درجے میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ قربان جائیے ان وارثین انبیاء علیہم السلام پر کہ جنہوں نے اس عمل کو امانت میں خیانت کے مترادف سمجھ کر مسترد کردیا کہ ہر درجے کی ایک سند ہوتی ہے جس کو “شہادۃ” کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اگر بغیر امتحان کے اگلے درجے میں ترقی دے دی جائے تو یہ جھوٹی گواہی ہوگی جو کہ دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اس لیے امتحان کو ناگزیر قرار دے کر اس کے انعقاد کو ممکن بنایا گیا اور جو sop’s حکومت سے طے ہوئی تھی ان پر عمل درآمد کر کے نہ صرف پاکستان کے اندر مدارس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو جواب مفحم دیا گیا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا گیا کہ جن لوگوں کو تم دقیانوسی سوچ کے حامل بتاتے ہو جن لوگوں کو تم انتہا پسند کہتے ہو ان کو دیکھو کہ ان کے پاس کیسا نظام تعلیم ہے؟؟ کیسا نظم و ضبط ہے؟ کیا ایسے نظام کو اصلاحات کی ضرورت ہے؟؟؟

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے