Home / اسلام / قُرآنی اٰیات اور شیطانی مُزخرفات !!

قُرآنی اٰیات اور شیطانی مُزخرفات !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 68 تا 70 ))) 🌹
قُرآنی اٰیات اور شیطانی مُزخرفات !! 🌹
ازقلم 🌷
خترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 واذا رایت
الذین یخوضون فی
اٰیٰتنا فاعرض عنھم حتٰی
یخوضوا فی حدیث غیرہ واما
ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰیہ
مع القوم الظٰلمین 68 وما علی الذین یتقون
من حسابھم من شٸ ولٰکن ذکرٰی لعلھم یتقون 69
وذرالذین اتخذوا دینھم لعبا و لھوا وغرتھم الحیٰوة الدنیا
وذکربہ ان تبسل نفس بماکسبت لیس لھا من دون اللہ ولی ولا شفیع
وان تعدل کل عدل لا یٶخذ منھا اولٰٸک الذین ابلسوا بما کسبوا لھم شراب
من حمیم وعذاب الیم بماکانوایکفرون 70
اے ھمارے رسُول ! جب کبھی بھی آپ مُنکرینِ قُرآن کو ھماری اٰیات میں مُزخرفات تلاش و جُستجُو میں مُنہمک پاٸیں تو آپ خود کو اُس وقت تک قُرآن کے اُن دُشمنوں سے دُور رَہنے کا عادی بناٸٸیں جب تک کہ قُرآن کے یہ دُشمن قُرآن دُشمنی کا یہ کام چھوڑ کر کسی اور کام میں مشغول نہ ھو جاٸیں ، اگر اِس دوران کوٸ انسان نُما شیطان آکر آپ کو اپنی باتوں میں اُلجھاۓ اور آپ کو وقتی طور پر آپ کے دِل سے ھمارا یہ فرمان فراموش ھو جاۓ تو پھر جس لَمحے بھی آپ کو ھمارا یہ فرمان یاد آۓ اُسی لَمحے آپ مُنکرینِ قُرآن کے اِس قُرآن دُشمن جَم گھٹے سے دُور چلے جاٸیں کیونکہ آپ کے بعد آپ کے جن اَصحاب اور اَحباب نے اِس قُرآنی ریاست کو چلانا ھے ، اَب یہ اُن کی ذمہ داری ھے کہ قُرآن کے جو دُشمن اپنی حیاتِ اَلست میں مَست ھو کر قُرآنِ کے قانونِ نازلہ کو اپنے تمسخر و تلعب کا نشانہ بنانے کے لیۓ قُرآن کی اٰیات میں مُزخرفات تلاش کررھے ہیں وہ اُن کے ساتھ اُن کی ایک ایک بات اور ایک ایک واردات کا حساب برابر کریں لیکن آپ کے یہ اَصحاب اور اَحباب بھی قُرآن کے اُن دُشمنوں کے ساتھ کسی زبانی بحث میں اُلجھے بغیر ہی اُن کو قُرآنی اَحکام سُناٸیں اور صرف قُرآنی اَحکام کے ذریعے ہی اُن کو اپنی بات سمجھاٸیں تاکہ اللہ کی وحی کا کوٸ پیروکار اپنی بے خبری و بے خیالی کے باعث اُن لوگوں کے درمیان اِس طرح سے نہ پَھنس جاۓ کہ اُس کو قُرآن کے ماننے والوں کی کوٸ مدد ہی میسر نہ آۓ اور وہ اپنی متاعِ جان کے ساتھ اپنی متاعِ ایمان سے بھی محروم ھو جاۓ ، جہاں تک اِس فتنٕے کے بانی مبانی اَفراد کا تعلق ھے تو اُن پر ھماری نافذ ھونے والی سزا نافذ ھوکر رھے گی اور ھمارے وہ سزا یافتہ لوگ اِس سزا سے گزرتے ھوۓ پانی کا جو ایک گھونٹ بھی پٸیں گے تو وہ ایک گُھونٹ بھی اُن کے حلق میں پُہنچ کر کھولتا اور کھولاتا ھوا ایک ایسا آتشیں لاوا بن جاۓ گا جو اُن کے جسموں اور اُن کی جانوں کو اِس طرح جلاۓ گا کہ اُن کو کسی پَل اور کسی پہلُو پر بھی چین و آرام نہیں آۓ گا !
🌹 قُرآن کا لَفظ خوض اور اُس کا معنٰی !
اٰیاتِ بالا کے سلسلہِ کلام کی پہلی اٰیت کے پہلے لَفظ سے آخری اٰیت کے آخری لَفظ تک ایک ہی مربوط سلسلہِ کلام ھے جس کے اَوّل سے آخر تک لَفظِ ” خوض “ ہی ایک ایسا وضاحت طلب لَفظ آیا ھے مگر اِس لَفظ کی وضاحت کرتے ھوۓ مُفسرینِ عجم نے بھی انگریزی کے اُس جاہل طالبِ علم کی طرح وہی جاہلانہ کارنامہ اَنجام دیا ھے جس طالبِ علم کو اُستاذ نے انگریزی میں ” عورت نیچے کھڑی ھے “ لکھنے کو کہا تھا اور اُس نے بِلا تکلف ہی ” Mis un der stan ding” لکھ کر دے دیا تھا ، مُفسرینِ عجم نے اِس اٰیت میں آنے والے لَفظِ ” خوض “ کے ساتھ بھی کُچھ ایسا ہی سلوک کیا ھے اور اپنی نَفسی و رُوحی عجمیت کی بنا پر اِس لَفظ کے لُغوی مفہوم اور معنوی اُسلُوبِ کو نظر اَنداز کر کے اِس سے اپنا جو مَذمُوم مفہوم کشید کیا ھے وہ اُن کے تراجم و تفاسیر میں دیکھا جا سکتا ھے اور اُس پر ہمیں مزید کوٸ تبصرہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ھے لیکن جہاں تک لَفظِ خوض کی لفظی و معنوی تحقیق کا تعلق ھے تو قُرآنِ کریم میں آنے والا یہ لَفظِ قُرآن کریم کی اِس سُورت کی اِس اٰیت اور اِسی سُورت کی اٰیت 91 کے علاوہ سُورة النسا ٕ کی اٰیت 140 ، سُورةُ التوبة کی اٰیت 65 ، و 69 ، سُورةُالزخرف کی آیت 83 ، سُورةُالطُور کی اٰیت 12 ، سُورةُالمعارج کی اٰیت 42 اور سُورةُالمدثر کی اٰیت 45 میں بھی آیا ھے ، اُردو زبان میں لَفظِ خوض لَفظِ غور کے تابعِ مُستعمل کے طور پر آتا ھے اور اُردو زبان میں اِس تابع و متبوع مُرکب کا معنٰی غور و خوض کرنا یا سوچ بچار کرنا ہی ھوتا ھے ، اگر اِس لَفظ کے مُجرد عربی مفہوم کے حوالے سے بات کی جاۓ تو اِس کا معنٰی عربی زبان میں بھی گہرا غور و فکر کرنا یا گہری سوچ بچار کرنا ہی ھے ، عربوں نے اِس لَفظ میں اِس گہراٸ اور اِس گیراٸ کا یہ مفہوم اِس کی اِس حقیقت سے برآمد کیا ھے کہ لَفظِ خوض کی اصل ” خوض الما ٕ “ ھے جس کا معنٰی پانی میں غیر ارادی طور پر کسی کا گرنا ھوتا ھے لیکن عُلماۓ عجم اِس کا معنٰی پانی میں گرنا نہیں کرتے بلکہ پانی میں اَندھا دُھند گُھسنا کرتے ہیں ، فرق ظاہر ھے کہ انسان جب پانی میں نیت اور ارداے کے ساتھ داخل ھوتا ھے تو اُس کو اپنی سانسوں پر اِس طرح سے قابُو حاصل ھوتا ھے اور اِس طرح حاصل ھوتا کہ اگر اُس وقت اُس سے کوٸ بات کی جاۓ تو وہ اُس بات کو پُوری طرح سُن ھی سکتا ھے اور سمجھ بھی سکتا ھے ، بخلاف اِس کے کہ جب انسان غیر ارادی طور پر پانی میں گرتا یا گِھرتا ھے تو اُس کو اپنی سانسوں پر قابو حاصل نہیں ھوتا اور اُس لَمحے اُس سے جو بات کی جاتی ھے وہ مُشکل ہی سے اُس کی سمجھ میں آتی ھے ، زبان و بیان کی یہ باریک بات چونکہ علماۓ عجم کے تاریک ذھن میں نہیں آٸ یا اُنہوں نے لانی ہی نہیں چاہی ، اِس لیۓ انہوں نے قُرآن میں آنے والی اِس لَفظ کی حامل ہر اٰیت کے ہر مقام پر لَفظِ خوض کا معنٰی عیب جوٸ اور بَد خوٸ وغیرہ کیا ھے جبکہ اِس اٰیت کے اِن واضح اَلفاظ ” الذین یخوضون فی اُیٰتنا “ کا واضح مفہوم یہ ھے کہ جو لوگ ھماری اٰیات میں غور و فکرتے ہیں اور ظاہر ھے کہ اللہ تعالٰی اپنی اٰیات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ھے ، غور و فکر منع نہیں کرتا لیکن اِس بات کو جو انسان سمجھنا چاھے تو اِس میں سمجھنے یا سمجھانے کی بات صرف یہ ھے کہ غور و فکر ہمیشہ مُثبت نہیں ھوتا اور ہمیشہ مَنفی بھی نہیں ھوتا ، بلکہ گاھے گاھے جو غور و فکر مُبثت ھوتا ھے ، گاھے بگاھے وہی غور و فکر مَنفی بھی ھوتا ھے ، ایک ڈاکٹر کسی انسان کی جان بچانے کے لیۓ جو غور و فکر کرتا ھے تو ایک اُجرتی قاتل بھی کسی انسان کی جان لینے کے لیۓ وہی غور و فکرتا ھے ، فرق یہ ھے کہ جان بچانے والے ڈاکٹر کا غور و فکر مُثبت ھوتا ھے اور جان لینے والے اُجرتی قاتل کا غور و فکر مَنفی ھوتا ھے ، سیدنا محمد علیہ السلام کے زمانے میں قُرآن کے مومن قُرآن کو سمجھنے کے لیۓ قُرآن میں جو مُثبت غور و فکر کیا کرتے تھے اُن کا وہ مُثبت غور و فکر انسانی ذھنوں کو جِلا دیتا تھا اور مُنکرین قُرآن جو قُرآن میں کوٸ مین میخ نکالنے کے لیۓ مَنفی غور و فکر کیا کرتے تھے وہ مَنفی غور و فکر انسانی ذھنوں کو جَلادیتا تھا اور جس وقت مُنکرین قُرآن ، قُرآن میں کوٸ مین میخ نکالنے کے لیۓ مصروف ھوتے تھے تو ظاہر ھے کہ اُس وقت وہ اچانک ہی پانی میں ڈُوب جانے والے اُس شَخص کی طرح ھوتے تھے جو اپنی پُھولی ھوٸ سانسوں اور چُندھاٸ ھوٸ آنکھوں کے ساتھ کُچھ دیکھنے ، سُننے اور سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں ھوتے تھے اور چونکہ سیدنا محمد علیہ السلام مدینے کی اسلامی ریاست کے سربراہِ ریاست تھے اِس لیۓ اللہ تعالٰی نے آپ کے لیۓ اپنا یہ فرمان جاری کیا کہ اگر آپ کا کہیں پر کُچھ جانے پہچانے لوگوں کے قریب سے گزرنا ھو اور آپ کو اُس وقت اِس بات اِحساس بھی ھو جاۓ کہ اِس جگہ پر موجود لوگوں میں قُرآن کی اٰیات میں مین میخ نکالنے والے لوگ بھی موجود ہیں تو آپ کو اُس جگہ پر رُکنے کی کوٸ ضرورت نہیں ھے ، اگر اِس وقت آپ کو کوٸ انسان اپنی باتوں میں لگا کر فرمان فراموش بھی بنادے تو جس لَمحے آپ کو یہ فرمان یاد آۓ اُسی لَمحے آپ وہاں سے گزر جاٸیں ، کیونکہ آپ اسلامی ریاست کے حاکمِ اعلٰی ہیں اور اسلامی ریاست کے سربراہِ اعلٰی کے طور پر آپ کے اِس طرح سرے راہے رُکنے اور رُک کر اُن لوگوں کے مُنہہ لگنے یا اُن کو مُنہہ لگانے میں یہ خطرہ موجود ھے کہ مُنکرینِ قُرآن کی اُس مَنڈلی میں کوٸ موجود شخص آپ کی موجود گی میں ہی قُرآن کے بارے میں کوٸ مَنفی بات نہ کر دے ، اِس لیۓ مصلحت و احتیاط کا تقاضا یہی ھے کہ آپ اِن لوگوں کے پاس رُکنے کے بجاۓ گزر جایا کریں اور اِن کے اِس قسم کے سوال و جواب کو اپنے اُن اصحابِ بصیرت کی بصیرت پر چھوڑ دیا کریں جن کو آپ اپنی عدم موجودگی میں اِس کام کے لیۓ بہتر سمجھتے ہیں !
🌹 قُرآن پر مُنکرینِ قُرآن کا پہلا مُنظم حملہ ! 🌹
ھم اپنی کتاب ” حدیثِ عجم “ میں یہ بات بڑی شرح و بَسط کے ساتھ تحریر کر چکے ہیں کہ قُرآن کے خلاف مُنکرینِ عجم کی سازِشِ عجم کا آغاز سُورہِ رُوم کا زمانہِ نزول 615 عیسوی ھے جو سیدنا محمد علیہ السلام کی بعثت کا پانچواں اور ایران کے ساتھ رُوم کی جنگ کا بارھواں سال تھا ، ایران و رُوم کے مابین یہ جنگ بعثتِ نبوی سے سات سال پہلے اُس وقت شروع ھوٸ تھی جب کوفہ و یمن اور عمان و بحرین پر ایران قابض تھا اور عرب کے دُوسرے علاقوں پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا ، 614 عیسوی میں جب ایران نے بیت المقدس فتح کرکے رُوم پر فتح حاصل کر لی تو کسرٰی نے قیصر کو جو خط تحریر کیا تھا اُس میں کسرٰی نے اپنی خُداٸ کا اور ساری رُوۓ زمین کے مالک ھونے کا جو دعوٰی کیا تھا اُس کے بین السطُور میں عربوں کے لیۓ بھی یہ پیغام تھا کہ فتحِ رُوم کے بعد اُن کی باری ھے لیکن قُدرت کے اچانک اور خلاف توقع ظاہر ھونے والے اِس تقدیری فیصلے کو دیکھیں کہ ایران کے کسرٰی کے اِس کسراٸ پیغام کی روشناٸ بھی ابھی خُشک نہیں ھو پاٸ تھی کہ 615 عیسوی میں سُورہِ رُوم نازل ھوٸ اور اِس پیش گوٸ کے ساتھ نازل ھوٸ کہ رُوم پر ایران کا غلبہ عارضی ھے ُ کُچھ برس بعد ہی رُوم ایران پر غالب آجاۓ گا اور ایران رُوم سے مغلوب ھو جاۓ گا ، بالآخر قُرآن کی اِس پیش گوٸ کے نو برس بعد 623 عیسوی میں رُوم ایران پر غالب آگیا اور ایران رُوم سے مغلوب ھو گیا ، ڈاکٹر حمیداللہ متوفٰی 2002 عیسوی نے اپنی کتاب ” رسولِ اکرم کی سیاسی زندگی “ میں بعض تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ھے کہ رسولِ اکرم جس روز حدیبیہ کے مقام پر مُشرکینِ مکہ کے ساتھ اپنے سیاسی معاھدے کے ذریعے اپنی فتحِ مبین کا ایک نیا باب رَقم فرما ر ھے تھے اُسی روز اُسی مقام پر آپ کو رُوم کی فتح اور ایران کی شکست کی خبر ملی تھی اور صلحِ حدیبیہ کے معا بعد سُورہِ رُوم نازل ھوٸ تھی ، یہی دُکھ ، یہی درد ، یہی رَنج اور یہی روگ تھا کہ ایران کے آتش پرستوں نے حدیث و فقہ کے نام پر دینِ قُرآن کے مقابلے میں دینِ ایران کی بُنیاد رکھی اور اِس دین کے زرتشتی اماموں ، پارسی فقیہوں اور مجوسی صوفیوں نے بصرہ و بغداد ، کُوفہ و غزہ ، سمرقند و بخارا اور ترمذ و تبریز اور سجستان جیسے شہروں میں مجوسی سرماۓ سے حدیث سازی کے کارخانے بناۓ اور اِن کارخانوں میں بننے والے فقہ و حدیث کے مُہلک ہتھیاروں سے لیس ھو کر قُرآن کے خلاف ہَلّہ بول دیا ، قُرآن کے الہامی کلام کے خلاف کُچھ کرنا تو اُن کے بَس میں نہ تھا لیکن قُرآن کے مفہوم و معنی کے خلاف اِن کے دَامِ فقہ و حدیث نے پُورے عالَم اسلام کو جکڑ لیا اور آج پُوری دُنیا میں قُرآن کے دین کے بجاۓ ایران کا دین راٸج ھے ، اپنا ہی ایک شعر یاد آیا ھے اور شاید بروقت ہی یاد آیا ھے کہ :-
عَجمی تَصورات کو سینے سے دُور رَکھ
اِن کافروں کو دِل کے مدینے سے دُور رَکھ

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے