Home / کالم / آخر کیا ہے یہ محبت؟

آخر کیا ہے یہ محبت؟

محبت…….محبت…..محبت…..
انتخاب ؤ تحریر
فضالہ وصیف
📕📕📕📕📕
آخر کیا ہے یہ محبت؟

خوامخواہ ایک دوسرے پہ جان دینے کی باتیں بناتے ہیں لوگ. محبتوں کے نام پہ زمانوں تک اپنا آپ گھلائے رکھتے ہیں لوگ. مجھے محبت وحبت پہ کوئی یقین نہیں.

ارے…ارے… کیا ہوا صاحبزادے! اتنا چیخ کیوں رہے ہو؟؟؟ آؤ میں سمجھاتا ہوں تمھیں کہ محبت کسے کہتے ہیں.
………………………………………….
ادھر آؤ!!!

دوزانو ہوکر بیٹھو…
اور میں ان کے سامنے مؤدب ہوکر بیٹھ گیا.

مختصرا گفتگو کرتا ہوں. حاضر دماغی سے سنو گے تو فوری سمجھ آئے گی.
دیکھو! عشق دراصل محبت کا ہی ایک تدریجی مقام ہے. اور عشق مجازی بھی ہوتا ہے حقیقی بھی…

عشقِ حقیقی کی بات کرتے ہیں. کیونکہ یہ عشق کا اعلی درجہ ہے. اور یہی مقصودِ حیات بھی ہے. رہا عشقِ مجازی تو وہ تم خود ہی سمجھ جاؤ گے.
………………………………………….
محبت دنیا کی سب سے بہترین لغت، عربی کا لفظ ہے.
محبت دل کی ایک کیفیت کا نام ہے. یہ لفظ قرآن مجید میں بھی مستعمل ہے اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم میں بھی مستعمل ہے.

محبت کا مادہ دو حروف سے مل کر بنا ہے. ” حا ” اور ” با”.
لفظِ ” حب ” عربی زبان میں کئی معانی کے لئے استعمال ہوا ہے. اور یہ عربی لغت کی خوبصورتی ہے کہ ایک لفظ کئی معانی کا احاطہ کرلیتا ہے.

لفظِ ” حب ” پانچ معانی میں مستعمل ہے.

1. صفائی اور سفیدی…..
2. بلندی… عربی زبان میں ایک لفظ ہے “حباب”. جس کا معنی ہے “بلبلہ”. اور تم جانتے ہی ہوگے کہ بلبلے کے اندر بلندی ہوتی ہے.
3. لزوم و ثبات…. یعنی مستقل مزاجی…. جب کوئی اونٹ ضد کر کے بیٹھ جائے اور اٹھانے پہ بھی نہ اٹھے تو عرب کہتے ہیں. حَبَّ الْبَعِیْرُ. یعنی اونٹ ضد کرکے بیٹھ گیا.
4. لب لباب یعنی خلاصہ.
5.حفظ اور امساک یعنی روک لینا. جب برتن میں پانی ڈالا جائے تو وہ پانی کو اپنے اندر روک لیتا ہے. اسے گرنے نہیں دیتا.

محبت میں اب پانچوں معانی کی آمیزش ہوتی ہے. محبت صفائی مانگتی ہے. غیر کی میل برداشت نہیں کرتی.ایک نقطہ کے برابر بھی غیر کی محبت محبوب کو گوارا نہیں. اسی لئے اللہ تعالی ہر گناہ معاف کردینگے لیکن شرک کی معافی نہیں. محبت بلند مزاج ہوتی ہے. محبت دل کا خلاصہ بھی ہے. اور محبت دل کے اندر ثبت ہوجاتی ہے. دل کو پُر کردیتی ہے. جس دل میں محبت آجائے پھر یہ اس دل پہ چھا جاتی ہے.

اب ایک اور نکتہ سمجھو!

قواعد کے مطابق حرفِ “حا ” کا مخرج الگ ہے اور ” با” کا الگ. یہ دونوں حروف ملتے ہیں تو لفظِ حب وجود پاتا ہے. محبت بھی دو انتہاؤں کو یکجا کردیتی ہے. دو دلوں کو ملا دیتی ہے. اگر حب کا لفظ بولا جائے تو دونوں ہونٹ بھی وارفتگی سے آپس میں مل جاتے ہیں.

اب دیکھو!
حرکات تین ہیں. زبر…..زیر…..پیش…..

بچہ جب بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے وہ الفاظ بولنا آسان ہوتے ہیں جن کے شروع میں زبر آتا ہے. جیسے……اللہ…اَبا…اماں کیونکہ زبر کا تکلم آسان ہے.
لیکن پیش کا تکلم سب سے مشکل ہے. اور لفظِ حب کی ابتدائی حرکت پیش ہے. حرکتِ شدیدہ ہے. معلوم ہوا کہ محبت کی کیفیت شدید ہوتی ہے.

محبت محبت تو کہتے ہیں لیکن
محبت نہیں جس میں شدت نہیں ہے
محبت کے انداز ہیں سب پرانے
خبردار ہو! اس میں جدت نہیں ہے

تھک گئے ہو صاحبزادے؟

ارے نہیں. اب تو بند گرہیں کھل رہی ہیں استادِ محترم!

اچھا……. تو پھر مزید سنو…..

محبت کے کچھ مراتب ہوتے ہیں.

1. محبت کی ابتدائی کیفیت کو “علاقہ” کہتے ہیں. یہ عربی زبان کا لفظ ہے. یعنی ابتداءً کسی سے تعلق محسوس ہوتا ہے.
2. پھر یہی کیفیت آگے بڑھتے ہوئے “ارادہ” کہلاتی ہے. انسان اپنے محبوب کی طرف ارادۃً متوجہ ہوتا ہے. جسے کہا جاتا ہے…..دل کا اپنے محبوب کی طرف مائل ہونا.

3. مزید بڑھتی ہوئی یہ کیفیت “اَلصَّبَابَۃ ” کہلاتی ہے. جس میں انسان اپنے محبوب کی جانب کھنچ پڑتا ہے. جیسے پانی گہرائی کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے. ایسے ہی بھر محفل میں دل ایک ہی کی جانب کھچا جارہا ہوتا ہے.

4. چوتھا درجہ ” اَلغَرَام” کہلاتا ہے. یعنی لازم ہوجانا. قرآنِ کریم میں اس کی تعبیر کی گئی ہے.
” ان عذابھا کان غراما…. (الفرقان:65)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اس کا عذاب وہ تباہی ہے جو چمٹ کر رہ جاتی ہے.

5. پھر جب اس محبت میں خلوص کا آمیزہ مل جاتا ہے تو اسے ” اَلوِدَاد” کہا جاتا ہے. اللہ تعالی کے اسمائے صفات میں ایک نام الودود بھی ہے.

6. پھر یہ محبت دل تک پہنچ جاتی ہے. اور بڑھ جاتی ہے تو اسے ” اَلشَّغَف” کہا جاتا ہے. شغف غلاف کو کہا جاتا ہے. دل کا غلاف محبت کے پانی سے بھیگ جاتا ہے.
قرآن حکیم میں اس کی تعبیر موجود ہے.
قد شغفھا حبا….(یوسف 30)
ترجمہ: اس نوجوان کی محبت نے اسے فریفتہ کردیا ہے.

7. محبت کا ساتواں درجہ “عشق” کہلاتا ہے. پیلے رنگ کی ایک بیل کو عشق کہا جاتا ہے جو کسی درخت پہ جب پھیل جاتی ہے تو اس درخت کو پوری طرح اپنے گرفت میں لے لیتی ہے. انسان بھی عشق کا شکار ہوکر اکثر اپنے آپ سے باہر ہوجاتا ہے. اسی لئے اس درجے کو قرآنِ کریم میں صارحت کے ساتھ عشق نہیں کہا گیا بلکہ فرمایا ہے کہ محبت کی شدت ہونی چاہئیے.
والذین آمنوا اشد حبا للہ….(البقرہ 165)
ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عشق کا مریض لایا گیا. وہ پتلا ہوکر تنکے کی طرح ہوچکا تھا. تب سے آپ مستقل دعا فرماتے تھے….. اے اللہ! میں عشق سے تیری پناہ مانگتا ہوں. (مدارج السالکین 3/29)
مخلوق کا عشق انسان کو نہ دین کا چھوڑتا ہے نہ دنیا کا.

8. اَلتَّیَمُّم…….. انسان اپنے محبوب کو آئیڈیل بنا کر اسے پوجتا ہے. مومن کا رب العزت کے سامنے سجدہ کرنا محبت کی اس کیفیت کی دلیل ہے.

9. محبت کا بہترین درجہ ” عبودیت ” ہے. اسی لئے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے بھی قرآن حمید میں لفظِ عبد استعمال ہوا ہے.
سبحن الذی اسری بعبدہ…(بنی اسرائیل 1)

10… محبت کا انتہائی درجہ ” اَلخُلَّۃ ” ہے. اللہ تعالی نے جد الانبیاء حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام اور امام الانبیاء و خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خلیل بنایا.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
اللہ تعالی نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے. جیسے حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ کے خلیل تھے.
بلکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام انبیاء کے صفات کے مظہرِ اتم ہیں. اگر تمام انبیاء کو ایک ایک صفت بھی عطا ہوا ہو تو حضور علیہ السلام اکیلے تنِ تنہاء کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صفات کے حامل ہیں.

آنچہ ہمہ خوباں تو تنہا داری……. صلی اللہ علیہ وسلم.

یہاں تک تفصیل بتا کر وہ سانس لینے کو رکے. پانی پیا. میں نے اس خوف سے کہ کہیں وہ مزید کسی اور وقت کے لئے مؤخر کردیں جلدی سے عرض کیا.
استادِ محترم! محبت کرنے والی کی نشانی کیا ہے.
وہ مسکرائے…
فرمایا قرآن پڑھا کرو…..
چار نشانیاں ہیں……

مومنین پہ نرم
کافروں کے لئے سخت
مجاھد
ملامت کرنے والے کے ملامت سے ڈرتے نہیں.

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہی مومن

میں سمجھ گیا کہ اب تھکاوٹ غالب ہے… تبھی دو مصرعوں میں بات ختم کردی. مگر یہ صحبت بھی تو کبھی کبھی میسر ہوتی ہے نا.

ایک اور سوال داغ دیا…

مگر استادِ محترم! عشقِ مجازی……..

عشقِ مجازی دراصل عشقِ حقیقی کی جانب چڑھتی سیڑھی ہے. شرط فطرتِ سلیمہ کا ہونا ہے.

میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کی. غور و فکر کی راہوں میں گامزن تخیل کو ایک نئی مہمیز مل چکی تھی.

ختم شد.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے