Home / اسلام / علمِ غیب عالَمِ غیب اور عالِمِ غیب

علمِ غیب عالَمِ غیب اور عالِمِ غیب

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 59 ))) 🌹
علمِ غیب عالَمِ غیب اور عالِمِ غیب !! 🌹
ازقلم🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردوزبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سےزیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 وعندہ
مفاتح الغیب
لا یعلمھا الا ھو
ویعلم ما فی البر والبحر
وما تسقط من ورقة الا یعلمھا
ولا حبة فی ظلمٰت الارض ولا رطب
ولا یابس الا فی کتابِ مبین 59
اے جِن و اِنس ! تُمہارے علم و عمل کا ایک نظری و بصری جہان جو تُمہارے سامنے موجود ھے ، اِس جہان کے پَسِ پردہ وہ غیر نظری و غیر بصری جہان بھی موجود ھے جس میں تُمہارے علم و علم کے نتاٸجِ جمع ھوتے ہیں ، اُس مُقفل جہان کے دروبام کو کھولنے والی کوٸ کلیدِ جہان اُس جہان گر کے سوا کسی اور کے پاس موجود نہیں ھے جس نے اِس جہان کو تُمہاری نگاہ کا مرکز بنایا ھے اور اُس جہان کو تُمہاری نگاہ سے چُھپایا ھے ، اُس جہان گر کے اِس دیدہ جہان میں جو اَعمالِ حیات ھوتے ہیں اُن اَعمالِ حیات کے کُچھ ثَمراتِ حیات ، اہلِ حیات کو اِسی دیدہ جہان میں مل جاتے ہیں اور کُچھ ثَمراتِ حیات اُس نادیدہ جہان میں جانے والے اہلِ حیات کے لیۓ جمع ھو جاتے ہیں ، حیات و اہلِ حیات کے اِن دونوں جہانوں میں اُسی دَاناۓ جہان کا قانونِ حیات کار فرما ھے ، جو ہر بحر کے ہر خُشک و تَر کو براہِ راست اِس طرح دیکھ رہا ھے کہ بیج سے شاخِ شجر ، شاخِ شجر سے بَرگِ شجر اور بَرگ شجر سے مرگِ شجر تَک کا ایک ایک لَمحہ ایک ایک لَحظہ اور ایک ایک عمل اُس کی نگاہ میں ھوتا ھے ، یہاں تک کہ زمین کے تاریکی میں دَبے ھوۓ بیج کا اَنکھوا نکال کر زمین سے باہر آنا اور شاخِ شجر سے بَرگِ شجر کا زمین پر گرکر زمین میں سماجانا بھی اُس کے علم میں ھوتا ھے اور عالَمِ دیدہ و عالَم پوشیدہ میں ھونے والا یہ مُسلسل عمل اُس کے دَفترِ عمل کی ایک روشن کتاب میں درج ھوجاتا ھے !
🌹 علم و عمل کے مُقفل خزانے ! 🌹
مَفتح کا معنٰی خزانہ ھے ، مِفتح کا معنٰی خزانے کی کلید ھے اور مَفاتح اُس مَفتح یا مِفتح کی جمع کثیرھے ، اگر اِس مفاتح کو مَفتح کی جمع کثرت مان لیا جاۓ تو اِس کا معنٰی یہ ھوگا کہ علم کا خزانہ صرف اللہ کے پاس ھے ، کسی اور کے پاس نہیں ھے اور اگر اِس مَفاتح کو مِفتح کی جمع کثرت جان لیا جاۓ تو اِس کا معنٰی یہ ھو گا کہ اللہ کے علم کے خزانے کی کلید صرف اللہ کے پاس ھے ، کسی اور کے پاس نہیں ھے اور قُرآن کا اَندازِ فصیح و بلیغ اِس ترجمے کا مُتقاضی ھے کہ علم کا خزانہ بھی صرف اللہ کے پاس ھے اور علم کے اِس خزانے کی کلید بھی صرف اللہ کے پاس ھے ، کسی اور کے پاس علم کا خزانہ بھی نہیں ھے اور کسی اور کے پاس اِس خزانے کی کلید بھی نہیں ھے ، اِس سُورت کی اِس اٰیت کا رَبط و تعلق اِس سُورت کی اُس اٰیت 50 کے ساتھ ھے جس میں اللہ نے اپنے نبی کو یہ کہنے کا حُکم دیا تھا کہ میں تُم کو اللہ کے خزانوں کا مالک بنانے کا دعوٰی نہیں کرتا ، میں تُم کو اُس کے اَن دیکھے جہان دکھانے کا دَعوٰی بھی نہیں کرتا اور میں تُمہارے سامنے اپنے فرشتہ ھونے کا دعوٰی بھی نہیں کرتا بلکہ اِن تمام دعوٶں کے بر عکس ، میرا صرف یہ ایک دعوٰی ھے کہ مُجھ پر اللہ کی تنزیل کے ذریعے اللہ کے جو اَحکام نازل ھوتے ہیں ، میں خود بھی اُن اَحکام پر عمل کرتا ھوں اور اللہ کے بندوں کو بھی اُن ہی اَحکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ھوں ، اللہ کے اُس حُکم اور اللہ کے رسول کے اُس اعلانِ حُکم کے بعد انسانی ذھن میں خود سے خود ہی یہ سوال پیدا ھو گیا تھا کہ اللہ کے وہ کون کون سے اَحکام ہیں جن پر عمل کرنے کے بعد اِس عالمِ شہادت میں رہنے والا انسان اُس عالَمِ غیب تک رساٸ حاصل کر سکتا ھے اور شجرِ حیات کا ثَمرِ حیات حاصل کر سکتا ھے ، موجودہ اٰیت میں انسان کے ذھن میں پیدا ھونے والے اُسی فطری سوال کا یہ فکری جواب دیا گیا ھے کہ انسان کا ظرفِ علم مَحدُود ھے اور اللہ کا بحرِ علم لا مَحدُود ھے ، اِس لیۓ انسان کو اللہ کی طرف سے اُس کے زمان و مکان کے رسول کے ذریعے اُس کے زمان و مکان کی لازمی ضروریات کے مطابق اِتنا ہی علمِ لازم دیا جاتا ھے جتنا اُس کے زمان و مکان کے فکری ارتقا کے حوالے سے اُس کے فکری ارتقا کے لیۓ لازم ھوتا ھے ، اِس اٰیت میں وارد ھونے والے کلام میں وارد ھونے والے کلام عندہ کی ضمیرِ اشارہ ” ہ “ کا مُشار الیہ اللہ کو سمجھا گیا ھے اور بظاہر بجا طور پر درست ہی سمجھا گیا ھے لیکن اللہ جو بذاتِ خود علم کا مالک ھے اُس کو اپنے اِس علم کے خزانے کے گُم یا چوری ھونے کا کوٸ خطرہ نہیں ھے اور اُس کو اپنے اِس علم کے خزانے کے لیۓ کسی کلید کی ضرورت بھی نہیں ھے تو پھر یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ اگر اُس کو اپنے علم کے گُم ھونے یا چوری ھو جانے کا کوٸ خطرہ نہیں ھے تو پھر اُس کو اپنے علم کے اِس خزانے کے لیۓ قُفل اور کلید کی کیا ضرورت ھے ? اٰیت ھٰذا میں اِس سوال کا یہ جواب دیا گیا ھے کہ یہ جہانِ نظر جو انسان کو نظر آ رہا ھے اور جس جہانِ نظر میں انسان اپنی عملی زندگی گزار رہا ھے ، یہ جہانِ نظر بذاتِ خود ہی انسان کے لیۓ ایک قُفل ھے جس کا مطلب یہ ھے کہ یہ قُفل اللہ کے علم کے لیۓ نہیں ھے بلکہ انسان کی حدُودِ علم کے لیۓ ھے اور اِس قُفل کی وہ کلید صرف اللہ کے پاس ھے ، وہ علم کے اِس خزانے سے جس کو جتنا دینا چاہتا ھے اُس کو اتنا علم دیتا ھے ، جب کوٸ انسان اِس عملی و نظری جہان سے اپنے نتاٸجِ عمل کے اُس جہان میں پُہنچتا ھے تو عالَمِ غیب کے اُس جہان کا وہ ایک ایک قُفل کھول دیا جاتا ھے جس قُفل کے پَس منظر میں چُھپے خزانے سے جس کو جتنا اَجرِ خیر دینا مطلُوب ھوتا ھے اور وہ دیگر قفل بند کے بند اور بے کلید کے بے کلید رہتے ہیں جن تک رساٸ کی انسان کو ضرورت نہیں ھوتی ھے اور چونکہ انسان کے زمانی و مکانی ارتقا کی کوٸ حد نہیں ھے اِس لیۓ عالَمِ غیب کے قُفل و کلید کی بھی کوٸ حد نہیں ھے ، اسی بیحد عالَم کا نام عالَمِ غیب ھے ، لُغت میں غیب کا پہلا اختیاری معنٰی شک ھے اِس لیۓ قُرآنِ کریم کی دُوسری سُورت کی دُوسری اٰیت میں سب سے پہلے کتابِ لاریب کا ذکر کیا گیا اور اِس کے بعد تیسری اٰیت میں نظریہِ ایمان کے معا بعد اِس اصطلاحِ ” غیب کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا کہ جو شخص بھی اِس کتابِ لاریب کو پڑھنے کی طرح پڑھے گا اور سمجھنے کی طرح سمجھے گا وہ شک کے جہان سے نکل کر یقین کے جہان میں داخل ھو جاۓ گا ، قُرآنِ کریم نے لَفظِ ” الغیب “ کو لَفظِ ” الشہادہ “ کے مقابلے میں استعمال کر کے اِس اَمر کی بھی نشان دَہی کردی ھے کہ عالَمِ حیات دو ہیں جن میں سے ایک عالَمِ شہادہ ھے جو عالِم یقین ھے اور دُوسرا عالَمِ غیب ھے جو عالَمِ شک ھے ، اِس عالَم شک میں ایمان و یقین کے ساتھ جانے اور یقینی طور پر جانے کے لیۓ اللہ نے قُرآن کو ویزہِ سفر بنایا ھے ، جولوگ اِس دُنیا سے اُس دُنیا میں قُرآن کا یہ ویزہ لے کر جاٸیں گے وہ یقینا ارتقاۓ جہان کے اُس نۓ جہان میں داخل ھو جاٸیں گے جس کو قُرآن جنت کہتا ھے اور جو لوگ قُرآن کے اِس سفری ویزے کے بغیر جاٸیں گے وہ اِس پیچیدہ راستے کی اُن بُھول بھلیوں میں گُم ھو جاٸیں گے جن کو قُرآن جہنم قرار دیتا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے