Home / اسلام / اللہ کا حُکم اور اللہ کی حاکمیت !!

اللہ کا حُکم اور اللہ کی حاکمیت !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 56 تا 58 ))) 🌹
اللہ کا حُکم اور اللہ کی حاکمیت !! 🌹
ازقلم 📕 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل
انی نھیت
ان اعبد الذین
تدعون من دون اللہ
قل لا اتبع اھواٸکم قد ضللت
اذا وما انا من المھتدین 56 قل انی
علٰی بینة من ربی وکذبتم بہ ماعندی
ما تستعجلون بہ ان الحکم الا للہ یقص الحق
وھو خیرالفٰصلین 57 قل لوان عندی ماتستعجلون
بہ لقضی الامر بینی و بینکم واللہ اعلم بالظٰلمین 58
اے ھمارے رسُولِ جہان ! اہلِ جہان کو بتادیں کہ اللہ کے حُکم اور اللہ کی حاکمیت سے اِنکار کر کے تُم لوگوں نے اپنے جن خیالی خُداٶں کے حُکم اور حاکمیت کو اِختیار کیا ھے ، اللہ نے مُجھے اُن کے حُکم اور اُن کی حاکمیت کو رَد کرنے کا حُکم دیا ھے ، اگر میں بھی تُمہاری طرح اُن کے حُکم اور حاکمیت کو تسلیم کر لوں گا تو میں بھی تُمہاری طرح حق کے اُس راستے سے بَھٹک جاٶں گا جس راستے پر اللہ نے مُجھے چَلنے اور چَلتے رہنے کا حُکم دیا ھے اور آپ اِن کو یہ بات بھی بتادیں کہ جس راستے پر میں چل رہا ھوں اُس راستے پر چلنے کے لیۓ میرے پاس تَنزیل کی وہ دلیل ھے جس کی تُم اپنے قول و عمل سے تَذلیل کرتے ھو اور جس خُداٸ آفت کے جلدی آنے کی تُم کو جلدی ھے اُس آفت کو لانا میرے اختیار میں نہیں ھے ، اگر تُمہارا یہ مطلوبہ عذاب لانا میرے اختیار میں ھوتا تو شاید میرے اور تُمہارے اِس اِختلاف کا فیصلہ بہت پہلے ھوچکا ھوتا لیکن عذاب لانا اور عذاب کو ہٹانا اللہ کے اختیار میں ھے اور اللہ کا اپنے اِس اختیار کو استعمال کرنے کا بھی ایک مقررہ طریقہ ھے اور اللہ نے اپنے طریقے کے مطابق جس طرح بہار و خزاں ، بیج و شجر اور گُل و ثمر کے درمیان قُدرت نے ایک قُدرتی وقفہ رکھا ھوا ھے اسی طرح اُمتوں پر اِتمام حُجت قاٸم کرنے اور اِن پر عذاب نازل کرنے کے درمیان بھی ایک ایسا قُدرتی وقفہ رکھا ھوا ھے جس وقفے کو پاٹنا انسان کے اختیار میں نہیں ھے !
🌹 اٰیات اور اصطلاحاتِ اٰیات ! 🌹
مُحولہ بالا اٰیات میں جو اصطلاحات وارد ھوٸ ہیں اُن میں پہلی اصطلاح ” عبد “ ھے اور عبد کا لُغوی معنٰی غلام ھے جو ایک کار گزار ھوتا ھے اور لُغت سے بھی قطع نظر ، سُورةُالبقرة کی اٰیت 168 میں خود قُرآن نے بھی اِس لَفظِ عبد کو لَفظِ حُر بمعنی آزاد کے مقابلے میں استعمال کر کے اِس کا قُرآنی معنٰی غلام مُتعین کر دیا ھے ، اِس لَفظِ عبدِ سے بننے والی ایک دُوسری اصطلاح ” عبدیت “ ھے جس سے مُراد وہ کارگزاری ھوتی ھے جس کو وہ کار گزار غلام اَنجام دیتا ھے ، اٰیاتِ بالا میں اسی اصطلاح سے بننے والا ایک اور قابلِ ذکر و قابلِ توضیح لَفظ ” تدعون “ ھے جو فعل ” دعا یدعوا “ سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ھے جس کی اصل ” دعا “ ھے ، جب یہ لفظ حرفِ دال کے زبر کے ساتھ آتا ھے تو اِس کا معنٰی مُطلقا کسی کو پُکارنا ھوتا ھے ، چاھے حاکم اپنے محکوم کو کوٸ حُکم دینے کے لیۓ پُکارے یا محکوم اپنے حاکم کو کوٸ حکم لینے کے لیۓ پُکارے ، اَلبتہ جب دعا کا یہ لفظ حرفِ دال کی پیش کے ساتھ آتا ھے تو اِس سے مُراد صرف وہ دُعا و استدعا ھوتی ھے جو اللہ سے کی جاتی ھے ، لیکن عُلماۓ مجوس کی مجوسی روایات کے مطابق چونکہ عبد کا معنٰی عبادت کار اور عبدیت کا معنٰی عبادت کاری ھے ، اِس لیۓ عُلماۓ مجوس نے اجتماعی طور پر اِس اٰیت میں وارد ھونے والے لَفظ ” تدعون “ کا ترجمہ ” تُم پُکارتے ھو “ کیا ھے جو عربی قواعد کے عین مطابق ھے لیکن جب اٰیت ھٰذا میں اسی فعل ” عبد یعبد “ سے رسول کے قول کے طور پر آنے والا واحد مُتکلّم فعل مضارع معروف کا جو صیغہ ” اَعبد “ آیا ھے اُس کا معنٰی عُلماۓ مجوس نے عبادت کیا ھے اور جو اِس طرح ھے کہ ” اے محمد ! اِن سے کہو کہ تُم لوگ اللہ کے سوا جن دُوسروں کو پُکارتے ھو اُن کی ” بندگی “ کرنے سے مُجھے منع کیا گیا ھے “ اور شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عرفِ عام کے مطابق منع اُس عمل سے کیا جاتا ھے جس پر عمل کی منع کرنے سے پہلے اجازت ھوتی ھے ، یعنی اگر عُلماۓ مجوس کے اِس مجوسی ترجمے کو درست تسلیم کر لیاۓ تو اللہ کے اِس قول کا مطلب یہ ھوگا کہ اِس سے پہلے میں غیراللہ کی جو بندگی کیا کرتا تھا اَب اللہ نے مُجھے اُس بندگی سے منع کر دیا ھے ، اِس لیۓ تُم خود ہی اپنی اپنی بندگی کر لیا کرو ، اِس کے لیۓ مُجھے آواز دینے کی ضرورت نہیں ھے ، ھم نے اپنے زمانے کے جن مُحترم مُفسر کا یہ ترجمہ نقل کیا ھے اُن کے اُس ترجمے میں زبان و بیان کی احتیاط کا عالَم یہ ھے کہ اُنہوں نے عملِ مُشرکین کے لیۓ تو ” تدعون “ کا ترجمہ ” تُم پُکارتے ھو “ کیا ھے جو عربی قواعد کے عین مطابق ایک عام پُکار کو ظاہر کرتا ھے لیکن جب اِسی مُحترم مُفسر نے اللہ کے رسول قولِ ” اَعبد “ کی ترجمانی فرماٸ ھے تو اِس کے لیۓ ” بندگی “ کا لفظ استعمال کیا ھے اور اِس ترجمے یا ترجمانی میں یہ فتُور اِس لیۓ پیدا ھوا ھے کہ اِن لوگوں نے ، عبد اور عبدیت کا مفہوم عربی لُغات اور قُرآنی اٰیات سے مُتعین نہیں کیا بلکہ مجوسی روایات سے مُتعین کیا ھے ، مُحولہ بالا اٰیات میں وارد ھونے والی ایک اور اصطلاح ” اَھوا “ ھے جس کا معنٰی راہِ حق سے ہٹنا ھوتا ھے ، چناچہ اہلِ عرب جب کسی شخص کو راہِ حق سے ہٹا ھوا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں ” ھو من اھل الھوا “ یعنی وہ شخص راہِ حق سے ہٹا ھوا ھے اور اٰیاتِ بالا میں اللہ نے اپنے رسول سے جو بات کہلواٸ ھے وہ یہ ھے کہ تُم لوگ اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کر ر ھے ھو جو ایک بے دلیل عمل ھے اِس لیۓ تُم راہِ حق سے ہٹے ھوۓ ھو اور میں تنزیل کی اتباع کرتا ھوں جو میرے پاس اللہ کی ایک دلیل ھے اور تنزیل کی یہ دلیل ہی راہِ حق ھے ، مطلب یہ ھے کہ ہر نظریے اور ہر دعوے کی ایک دلیل ھوتی ھے ، میں توحید کے جس نظریۓ کا داعی ھوں اُس کے لیۓ میرے پاس تنزیل کی دلیل ہر دلیل سے ایک قوی تَر دلیل ھے اور تُم شرک کے جس نظریۓ کا پرچار کر رھے ھو اُس کے لیۓ تُمہارے پاس تُمہاری خواہشِ نفس کے سوا کوٸ اور دلیل نہیں ھے اور خواہشِ نفس بَس ایک خواہش ھوتی ھے ، اِس سے زیادہ کُچھ نہیں ھوتی ، دُوسری بات جو اِن اٰیات میں بتاٸ گٸ ھے وہ یہ ھے کہ جس شخص کے پاس اپنی بات کے حق میں کوٸ معقول دلیل نہیں ھوتی اُس کی آخری دلیل یہ ھوتی ھے کہ ٹھیک ھے آپ نے جو کہدیا ھے وہ میں نے سُن لیا ھے اور میں نے جو سُن لیا ھے اُس کے ماننے سے انکار کردیا ھے ، تُمہارا خُدا میرے اِس انکار کی مُجھے جو سزا دینا چاہتا ھے وہ ابھی اور اسی وقت دے دے ، اِِس کو اور اِس جیسے سارے بے مغز لوگوں کو یہ جواب دیا گیا ھے کہ کوٸ سزا کسی مُجرم کی مرضی سے اور اُس کی پسند کے وقت پر نہیں دی جاتی ھے بلکہ جو طاقت ور ہستی یہ سزا مُتعین کرتی ھے وہی اپنی مرضی سے اِس سزا کا وقت مُتعین کرتی ھے اور اٰیات کے وسطِ کلام میں یہ اصول اور ضابطہ بھی بیان کر دیا گیا ھے کہ کاٸنات کا حاکم اللہ ھے اور کاٸنات پر اسی کی حاکمیت قاٸم ھے اور جس جگہ پر اِس حاکم کی حاکمیت قاٸم ھے اُس جگہ کی مخلوق کی جزا و سزا اور وقتِ جزا و سزا مقرر کرنا بھی اُس کی مرضی پر مُنحصر ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے