Home / اسلام / انعام ابراہیم ؑ*

انعام ابراہیم ؑ*

*درس قرآن نمبر95*

*مدرس:
محمد عثمان شجاع آبادی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہ بِکَلِمَاتٍ فَاَتَمَّہُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِیْنَ (124)
ترجمہ:
اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دیا، فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بنادوں گا، کہا اور میری اولاد میں سے بھی، فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا (البتہ میرا وعدہ ظالموں کے لیے نہیں ہوگا)۔
ربط:
بنی اسرائیل کے تذکرے کے بعد اب جد الانبیاء سیدنا ابراہیم ؑ کا تذکرہ شروع ہورہاہے۔
اس آیت مبارکہ میں جن امتحانات کو ”کلمات“ کہا گیا ہے ان میں سے دوسرا امتحان یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آگ سے حضرت ابراہیمؑ کی حفاظت فرمائی اور وہ زندہ سلامت آگ سے باہر آئے تو قوم دیکھ کر حیران رہ گئی،حق کو قبول کرنے کے بجائے مزید مخالفت کرنے لگی تو اللہ نے حضرت ابراہیم سے فرمایا کہ اب آپ شام کی طرف تشریف لے جائیں،آپ اپنی تبلیغ کا مرکز اب عراق کے بجائے شام کو بنائیں چناں چہ آپ حکم خداوندی کے تحت اپنی بیوی کے ساتھ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرکے شام تشریف لے گئے،جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے اولاد سے نوازا،اب ضعیف العمری کی اولاد سے پیار بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن اللہ نے یہاں بھی آپ کو آزمایا،آپ کا تیسرا امتحان یہ ہوا کہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی بیوی اور بچوں کولے کرایک سنسان و بیاباں علاقے میں چلے جائیں،امر الہی کے مطابق چل پڑے اور جب مکہ کا بیاباں علاقہ آیا تو آپ کو حکم ہوا یہاں اپنے بچوں کو ٹھہرایئے اورآپ دوبارہ شام چلے جائیں،آپ نے اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو اکیلا اللہ کے سپرد کرکے چل پڑے،آپ اپنے بچوں کی خبر گیری کے لئے تشریف لاتے تھے،جب آپ کے بیٹے حضرت اسماعیل جوان ہوئے تو اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید ازمائش آئی اور آپ کا چوتھا امتحان یہ لیا گیا کہ اور بذریعہ خواب یہ حکم ہوا کہ اپنے جواں سال بیٹے اسماعیل ہو اللہ کی راہ میں قربان کیجیے تو آپ نے بلا چوں چراں حکم کی تعمیل کے لئے بیٹے کو لٹا کر اس کی گردن پر چھری چلا دی۔یہ وہ چار عظیم امتحان تھے جن میں کامیابی کے بعد آپ کو انعام سے نوازا گیا جس کا ذکرآیت مبارکہ کے دوسرے حصے میں ہے۔
قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُک…… آیت مبارکہ کے اس حصے میں سیدنا ابراہیم ؑ کی امتحان میں کامیابی کے بعدانہیں دیے گئے انعام کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امتحان میں کامیابی کے بعد انعام کے طور پر انہیں تمام عالم انسانیت کا پیشوا بنا دیا،اس انعا م کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔
لَا یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِیْن……حضرت ابراہیم کو جب پیشوا بنایا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ کیا وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے تو اللہ نے فرمایا کہ یہ وعدہ ظالموں کے لئے نہیں ہے،اس سے صاف ظاہرم ہوتا ہے کہ گمراہ یہود و نصاری اور مشرک بنی اسماعیل اس وعدہ کا مصداق نہیں ہیں۔
اب ہم ملۃ ابراہیمی پرعمل پیرا ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ جذبہ ابراہیمی کے ساتھ اپنے اسلام کی خدمت کریں تو ہر ایسے فعل کو چھوڑ دیں جو اسلام کے خلاف ہے۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے