Home / پاکستان / نادر جاجوی۔۔فیصل آباد کی ادبی تاریخ کا معتبر ستارہ

نادر جاجوی۔۔فیصل آباد کی ادبی تاریخ کا معتبر ستارہ

*نادر جاجوی۔۔فیصل آباد کی ادبی تاریخ کا معتبر حوالہ/ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار*
نادر جاجوی ۔۔۔۔۔۔نادر الخیال، نادر الکلام شاعر
تحریر : اظہار احمد گلزار

فیصل آباد سے متعلق جدید اردو شاعری میں نادر جاجوی ایک مضبوط ، پختہ فکر اور جانی پہچانی آواز تھی ۔ان کے ہاں استادانہ شکوہ اور کلاسک کی سی رفعت خیال پائی جاتی تھی ۔بندش الفاظ و تراکیب کے ماہر مانے جاتے تھے۔ انھوں نے اپنی غزل کا خمیر میر درد ، میر تقی میر ،سودا، مصحفی ،داغ ،ذوق، اور مرزا غالب کی روایت سے اٹھایا ہے ۔جانشین مرزا ، داغ دہلوی اور علامہ نوح ناروی کے لائق ترین تلامذہ میں سے ہیں ۔ہر صنف سخن پر مہارت نامہ رکھتے تھے ۔ان کے ہاں مضامین آفرینی کے بہت نادر نمونے ملتے ہیں۔ دلکش اور دل موہ لینے والے انداز میں بلند پایہ مضامین بیان کرتے تھے ۔زبان کی نزاکتوں سے مکمل واقف و آشنا اور الفاظ کی نشست و برخاست سے مکمل آگاہ تھے ۔۔قدرت نے انھیں زبان کی مہارتوں کا خاص ملکہ عطا کیا ہوا تھا ۔۔
نادر جاجوی 6/ ستمبر 1934 پنجاب کے ایک قدیم ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ (پاکستان) میں چودھری غلام محمّد کے گھر پیدا ہوۓ ۔میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی اسکولآدھی وال ، جھنگ سے پاس کیا ، بعد ازاں 1963 کو لالہ موسیٰ سے او- ٹی کا کورس پاس کیا ۔۔اس کے بعد پنجابی فاضل کا امتحان لاہور بورڈ سے پاس کیا ۔بطور استاد اپنی سروس کا آغاز 1953 میں ریلوے ورک شاپ تعلیم بالغاں کے کیا۔ 1954 کو ایم سی ہائی اسکول تاندلیانوالا میں ٹراسنفر کروا لی۔1956 کو صابریہ سراجیہ ہائی اسکول جھنگ ،1958 کو فاروق ہائی اسکول لائل پور, 1970 کو اسلامیہ زمیندارا ہائی اسکول دسوھہ اور 1970 تا وقت ریٹائرڈ منٹ 7/ ستمبر 1994 تک پڑھاتے رہے ۔۔۔۔
انھوں نے فن کو اپنا خون جگر پلایا ہے ، اسی وجہ سے انھوں نے اردو اور پنجابی میں منفرد اور ممتاز مقام حاصل کیا ہے ۔۔انھوں نے اس وقت پنجابی لکھی جب سب لوگ اردو لکھ رہے تھے اور پنجابی لکھنے میں عار محسوس کرتے تھے ۔۔انھوں نے ریڈیو پاکستان لاہور اور پی ٹی وی لاہور کے لیے ڈرامے لکھے اور خود اپنی تخلیقات پیش کیں ہیں ۔۔
انھوں نے اپنے اظہار کے وسیلے سے وقت اور واردات قلبی میں ایک آہنگ کو دریافت کیا ہے جو اپنے کوائف میں ننگی آنکھ کا پہلا شعور ہے ۔۔نادر جاجوی کرب انگیز اور برہم آفرین واقعات کو دیکھتا ہے لیکن خود برہم نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔اور شدت احساسات کے باوجود متانت اظہار کا رویہ اختیار کرتا ہے ۔وہ جانتا ہے کہ برائی پہ نکتہ چینی کرنا کوئی متوازن اور نتیجہ خیز عمل نہیں بلکہ مناسب یہ ہے اس برائی کو احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثبت اور تعمیری رویے کے ساتھ نیکی کی مثال قائم کی جاۓ ۔۔یہ عمل گھپ اندھیروں میں ایک ننھا سا دیا جلانے کے مترادف ہے ۔۔کس طرح سورج کی پہلی نرم سی ،ہلکی سی کرن فاتح ظلمت شب بن جاتی ہے ، اسی طرح نیکی ۔۔۔۔۔۔۔۔خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔بدی کے پہاڑوں سے ٹکرانے اور انھیں ریزہ ریزہ کرنے کی استعداد رکھتی ہے
نادر جاجوی کی مطبوعات میں چشم نم (اردو شاعری 1965) ،ہتھ نوں ہتھ نہیں دسدا (پنجابی شاعری 1975)،اضطراب (اردو شاعری )، رکڑ رڑے تندور (پنجابی شاعری 1986)،تحریم رسول (سیرت النبی 1987), نذرانے () اردو شاعری 1988),ہدیے (1989)…..شامل ہیں
نادر جاجوی کا مطالعہ بہت وسیع تھا ۔۔انھوں نے تمام کلاسک اساتذہ کو پڑھاہوا تھا ۔نوح ناروی ان کے استاد تھے ۔۔بے خود دہلوی اورسائل دہلوی کے علاوہ نوح ناروی بھی داغ دہلوی کے جانشینوں میں سے تھے نادر جاجوی صاحب جب کبھی کسی کو اپنی زبان سے ناس آشنا دیکھتے تو بہت کرب سے کہتے کہ ۔۔۔”۔اس عہد کے الفاظ اب تاریکی میں جا چکے ہیں ۔۔اب قدریں ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا شکار ہو چکی ہیں ، نئی نسل الفاظ آور حرمت الفاظ سے کوسوں دور جا چکی ہے ۔۔اب نہ پڑھنے کا زمانہ رہا ہے اور نہ ہی کسی سے سیکھنے کا”
صائم چشتی کا اپنے دوست کے بارے میں یہ خیال تھا کہ”” نادر جاجوی اردو دہلی والی لکھتے ہیں اور پنجابی سنٹرل پنجاب والی ماجھے دی پنجابی “”۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار کی سچائی نے نادر جاجوی کو اپنے ہم عصر شعرا کرام سے اس اعتبار سے ممتاز کیا ہے کہ وہ سوچ سمندر میں اٹھتی ہوئی بے اختیار لہروں کو مصلحت یا کسی سیاسی نظریے کے ساحل پر اترنے نہیں دیتے اور مسلسل ہیجان کے درمیان بڑے سلیقے سے گہری سانس لیتے ہوۓ ان پانیوں کی سمت بڑھ جاتے ہیں جن کی رمزیت ایسی گہرائی ہے اور اس گہرائی میں ایک سکون ہے جس کے سینے میں ہزار ہا لہروں کے ہیجان دفن ہیں ۔۔۔۔۔

حکیم رمضان اطہر ، نادر جاجوی کو نادر الخیال ، نادر الکلام کے تحت منظوم نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔۔ ان سے چند اشعار ۔۔۔

سخن وروں کی صف میں اس کا معتبر مقام ہے
وہ نادر الخیال ہے ، وہ نادر الکلام ہے
محاسن ادب سے ملا مال شعر و فکر ہے
کہ رنگ جہت شاعری نگاہ میں تمام ہے

ریاض فن ہے مشکبار تازگی لیے ہوۓ
کہ نرم مثل برگ گل بہار کا پیام ہے
۔
جہاں تک نادر جاجوی کی نظموں کا تعلق ہے وہ زیادہ تر ترقی پسندی کی روایت میں ہیں اور اس میں احتجاج اور مدافعت کے رویے خاصے نمایاں ہیں مگر انھی میں ہجرت جیسی نظمیں بھی نظر آتی ہیں، جو موجودہ دائرہ گفتگو میں باطن کا اظہار ہیں ۔
**************************
۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے