Home / بین الاقوامی / پنجاب کا ایک درد مند مسیحا۔۔

پنجاب کا ایک درد مند مسیحا۔۔

*سر گنگا رام ۔۔۔۔پنجاب کا ایک درد مند مسیحا – – – – – ڈاکٹراظہاراحمد گلزار*

پنجاب کا ایک درد مند مسیحا۔۔۔۔۔ سر گنگا رام
۱۸۵۱ء ۔ ۱۹۲۷ء

*تحریر :ڈاکٹراظہاراحمد گلزار*

گنگا رام کی مثال اس ابر کرم کی سی تھی جو برستا ہے تو بلاامتیاز برستا ہے۔وہ جدید لاہور کے بانی تھے۔ ان کی لاہور سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی راکھ خصوصی طور پر لاہور لا کر راوی میں بہائی گئی۔ سر گنگا رام اپریل اٹھارہ سو اکاون میں منگتانوالہ میں پیدا ہوئے جو شیخوپورہ میں واقع ہے۔ یہ مغلیہ سلطنت کے اختتام کا دور تھا، انگریز قابض ہو چکے تھے۔ ان کے والد دولت رام پولیس میں انسپکٹر تھے چونکہ اصولوں کے پکے تھے اس لیے جلد ہی ملازمت چھوڑ کر امرتسر منتقل ہونا پڑا۔ وہیں پر گنگا رام پلتے بڑھتے رہے۔ میٹرک کے بعد لاہور کا رخ کیا اور گورنمنٹ کالج میں داخلہ کیا۔ شروع سے ہی انجینئرنگ کی طرف میلان تھا اور اگلے چند سال میں انجینئر بن گئے۔
کچھ عرصہ بعد ان کو اسسٹنٹ انجنیئر کی حیثیت سے گورداسپور میں تعینات کر دیا گیا۔ ڈی جی خان، پشاور، گوجرانوالہ میں نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد ان کو لاہور میں ایگزیکٹو انجینئر تعینات کر دیا گیا۔ انہوں نے لاہور میں کیتھریڈل چرچ اور ہائیکورٹ کی عمارتوں کے نقشے بنائے۔ بعد ازاں ایچی سن کالج کی تعمیر کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس کی تکمیل تک انگریز سرکار ان سے اس قدر متاثر ہو چکی تھی کہ چیف انجینئر بنا دیے گئے۔ وہ اس عہدے پر بارہ سال تک رہے اس دوران انہوں نے شہر کو بدل کر رکھ دیا۔ عجائب گھر، میو سکول آف آرٹس (این سی اے)، جی پی او، میو ہسپتال، گورنمنٹ کالج کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ جیسی عمارتوں کے ڈیزائن بنائے۔
لیڈی ویلنگٹن ہائی سکول، سرگنگا رام ہائی سکول (لاہور کالج فار ویمن)، ہیلی کالج آف کامرس (کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس) جیسی یادگار عمارتیں بھی انہی کی تخلیق کردہ ہیں۔ ان کا فن لاہور سے باہر نکل کر دوسرے شہروں تک بھی پھیلا۔ فیصل آباد، سرگودھا، شیخوپورہ میں بھی کام کیا۔ وہ ایک کہنہ مشق انجینئر اور انتھک انسان ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی سائنسدان اور سماجی کارکن بھی تھے۔ انیس سو پچیس میں ان کو امپریل بنک آف انڈیا کا صدر بنایا گیا۔ اس دوران انہوں نے گنگا رام ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ جس کے پلیٹ فارم سے سر گنگا رام ہسپتال، ڈی اے وی کالج (موجودہ اسلامیہ کالج سول لائنز)، سر گنگا رام گرلز سکول (موجودہ لاہور کالج فار ویمن)، ادارہ بحالی معذوراں اور دیگر بے شمار فلاحی ادارے انہوں نے اپنے ذاتی خرچ سے قائم کیے۔ سر گنگا رام ہسپتال دہلی، گنگا بھون (انڈین انسٹیٹیوٹ آف آف ٹیکنالوجی) اور سر گنگا رام ہیریٹیج فائونڈیشن لاہور بھی ان کی یادگاریں ہیں۔
سلطنت مغلیہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ یہ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی کا عمل تھا۔ایک نوجوان جوڑا جلا وطنی اوڑھے پنجاب کی جانب محو سفر تھا۔چند برتن اور کپڑوں کی ایک گٹھڑی ان کا زادِ مہاجرت تھا،گرد سے اَٹے کچے راستوں کے یہ مسافر عام درویش بھی نہیں تھے۔مرد متحد ہندوستان کے صوبے یو پی کے ضلع مظفر نگر کے ایک زمیندار خاندان کا نور چشم اور اس کی نوجوان بیوی ایک آسودہ حال تاجر کی بیٹی تھی۔جس کا بچپن باپ کی محبت اور خوشحالی کے سائے میں گزرا تھا۔

’’ ایک بار ہم ستلج پار کر لیں تو آزادی سے سانس اور چین سے دو نوالے کھا سکیں گے،بھگوان سے پرارتھناکرو کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں۔‘‘ مرد نے اپنے گرد سر سبز کھیتوں کے سامنے نظر آنے والے دریا کے گردابوں اور گرد آلود راستے کو حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
مہاجرت کی صعوبتیں اوڑھنے والے اس جوڑے کو ساس کے ظلم یا ساہوکارکا خوف تھا نہ وہ سرکاری کارندوں کی لوٹ مار سے فرار ہو رہے تھے۔وہ صرف جاٹ اور افغانی گھڑسوارجتھوں سے آزادی چاہتے تھے جو ہندوستان کے میدانوں کو بھیڑیوں کی طرح اجاڑ رہے تھے۔یہ خونخوارہر جگہ شکار کی تلاش میں پہنچ جاتے اور سلطنت مغلیہ کی رعایا کے مردہ جسموں کو نوچنے کے لیے ٹوٹ پڑتے۔کسی کی جان اور جائیدادان سے محفوظ نہیں تھی۔سلطنت مغلیہ بے اختیار ہو چکی تھی جس عظمت کے آثار باقی بچے تھے ،دور افتاد صوبوں اور علاقوں پر افغان ،جاٹ،راجپوت ،مرہٹے سکھ اور مقامی راجے اپنی ریاستیں بنائے بیٹھے تھے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور پیچھے رہ جانے میں ’’عفریت‘‘ سماجی اخلاقیات کا مصدقہ آئین تھا۔ ہمیشہ کی طرح سر زمین ہندوستان کے باسیوں کو ہی جان اور مال کی امان نہیں تھی ،ہر گاؤں اور قصبہ بے لگام مردہ ضمیروں کے رحم وکرم پر تھا۔ محض دہلی کے نواحی اضلاع تک محدود سلطنت بھی جلد ان کے حملوں کا نشانہ بننے کی منتظر تھی۔ رعایا زندگی کے دن اور رات ختم نہ ہونے والے خوف سے گزار رہے تھے۔کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ اسے اگلی صبح کا سورج کہاں دیکھنا نصیب ہو۔گھر میں عورتوں کی حفاظت زیورات سے بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔نوجوان یا بوڑھی ،حملہ آوروں کے پاس کسی کے لیے بھی رحم نام کا لفظ نہیں تھا۔کوئی طاقت اُن کو نہیں روک سکتی،نہ دعائیں ننگی تلواروں کو نیام پہنا سکیں تھیں۔پھر بھی دیہاتی ان خونخوار لیٹروں سے نجات کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے۔ستلج سے پار تحفظ کے سراب نے ہی دولت رام اور اس کی نوجوان بیوی کو اپنے والدین کی محبتوں اور آسودگی کو چھوڑنے پر مجبور کیا ۔خبر آئی تھی کہ سکھوں کی سلطنت کا شیرازہ بکھر چکا ہے ۔فرنگیوں نے پنجاب میں اپنی حکومت بنا لی ہے جہاں زندگی کی نئی راہیں بنانے کے لیے نئی تبدیلیوں کے اشارے تھے۔ دولت رام اپنے چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ وہ اپنی تمام تر خاندانی خصوصیات کا حامل مہم جو نوجوان تھا جو کچھ کر دکھانا چاہتا تھا۔نئی سر زمین پنجاب ہر قسمت آزمائی کے لیے دولت رام کا فیصلہ مہم جوئی کی ایک مثال بننے والا تھا۔
خوابوں کی سر زمین کا طویل سفر،کٹھن اور پُر خطر ہی ہوتا ہے مگر امید کی قوت دولت رام کا حوصلہ باندھتی رہی۔آخر کار دونوں مسافر اپنے خوابوں کی سر زمین پر آ پہنچے۔سب کچھ ٹھیک ہونے لگا دولت رام کو اپنی پُر وقار اور بہتر جسامت کے باعث نئی حکومت میں جونیئر انسپکٹرکا عہدہ آسانی سے مل گیا۔یہ اپریل ۱۸۵۱ء کا سال تھا جب دولت رام کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔شروع ہی سے نور افشاں اور امن افتادہ مزاج قابل ذکر رہا۔۔ والدین نے متفقہ طور پر اس کو گنگا رام کانام دیا۔یہ کہنا سچ ہی ہو گا کہ دنیا کا بہترین بچہ تھا جس کی ہر ماں کو خواہش ہوتی ہے۔
دولت رام اپنے کام میں یکتا تھا۔ اپنی ذمہ داریوں اور سنیئر افسروں کے احکامات ایمان داری اور بے خوفی سے سر انجام دیتا ۔ایک روز یوں ہوا کہ تھانے کا سنیئر افسر فرائض کی انجام دہی کے لیے علاقے سے باہر تھا ۔تھانے اطلاع ملی کہ ڈاکوؤں کا ایک گروہ جس نے ھال ہی میں قتل کی بھیانک وارداتیں کیں ہیں ،قرب و جوار میں روپوش ہے ۔مہم پر خطرہ تھی مگر دولت رام نے فرض کو اولیت دی اور کٹھن تعاقب کے بعد ڈاکوؤں کو پکڑ لیا۔ اس مرحلے پر دولت رام کو ڈاکوؤں کی رہائی کے بدلے بڑی بڑی مراعات ،بھاری رشوت اور قابل کشش پیش کشیں ہوئیں۔یہاں تک کہ تمام کے بجائے محض چند گرفتار ڈاکوؤں کو چھوڑ دے مگر دولت رام نے انکار کر دیا ۔سہ پہر کے ابتدائی لمحوں میں ڈاکوؤں کے ساتھیوں سے دولت رام کو دھمکی ملی کہ اگر اس نے گرفتار ڈاکوؤں کو رہا نہ کیا تو وہ اسے بیوی بچے سمیٹ قتل کر دیں گے۔
دھمکی نے دولت رام کے پرانے زخم تازہ کر دیئے ۔ایک لمحے میں وردی میں ملبوس افسر خوفناک ماضی میں جاگرا۔ماضی کا طوفان چھوٹے سے کمرے میں متلاطم تھا۔کھڑکی سے باہر ندی پہلے ہی پر سکون بہہ رہی تھی۔اس کے کانوں میں شام کی پوجا کے لیے نہاتی اس کی بیوی کے گنگنانے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کا بچہ کسی نئی دریافت پر گلکاریاں مار رہا تھا مگر دولت رام کی آنکھوں کے سامنے پھر تلوار اور قابل نفرت آدمیوں کے بھیانک چہرے تھے۔دولت رام کے ذہن میں موجود مانگٹانوالہ کا خوبصورت منظر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور ایک ہی لمحے میں وہ مانگٹانوالہ سے بھی شدید نفرت کرنے لگا۔حقیقتاً مانگٹانوالہ سے اس کی نفرت زیادہ شدید تھی کیوں کہ یہاں ہجرت ایک مکروہ اور بھیانک مذاق تھا۔
گنگا رام کی تعلیم:
گنگا رام اپنی تعلیم میں بھر پور دلچسپی لیتا اور اپنے ہم عمروں سے کہیں زیادہ کام کرتا ۔گنگا رام نے فارسی اور خطاطی میں بہت کم عرصے میں عبور حاصل کر لیا تھا۔ایک ایک سال میں دو دو جماعتیں پڑھ ڈالیں ۔گنگا رام کی ذہانت والدین کے لیے خوش حال بڑھاپے کی ضمانت تھی۔ حکام نے سکول کو ان کے پڑوس سے ایک میل دوری پر رام باغ منتقل کر دیا ۔دوران تعلیم گنگا رام کو ایک اور ’’کشٹ‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ذہانت کے باعث گنگا رام نے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔پھر امرتسر سے میٹرک پاس کی اور پھر ۱۸۶۹ء میں لاہور آ کر گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔
گنگا رام کے کالج کے دور کا پنجاب دلچسپیوں سے بھر پور تھا آج پنجاب کی عملی تاریخ کے بڑے ناموں میں سے اکثر گورنمنٹ کالج سے وابستہ تھے۔کرنل ہالرائڈ اور ڈاکڑمنٹر جن کا نام صوبے کے تعلیمی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے حوالے سے معروف تھے اس وقت سرکار کے ملازم تھے۔کرنل ہالرائڈ پبلک انسٹرکشن کے ڈائریکٹر اور اورینٹل کالج کو چلا رہے تھے۔ڈاکٹر لنٹر جو پنجاب یونیورسٹی کے بانی تھے اس وقت گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے۔
گمگا رام نے گونمنٹ کالج آنے کے کچھ عرصہ بعد ماہر ریاضی پروفیسر پینڈی نے اس مضمون کا چارج سنبھالا انھوں نے گنگا رام کی ریاضی میں دلچسپی دیکھتے ہوئے خصوصی توجہ دی۔یہاں تک کہ گنگا رام نے انفرادی مطالعہ کی درخواست کو بھی پروفیسر لینڈی نے قبول کیا۔گنگا رام کے ایک ہم جماعت جو بعد ازاں فرید کوٹ ریاست کے وزیر اعظم بنے ،گنگا رام کی اس دور کی تصویر کشی یوں کرتے ہیں:
’’وہ (گنگارام) صاف رنگ کے دبلے نوجوان تھے ،اس وقت کے فیشن کے مطابق کھدر سے بنے تنگ پنجابی پاجامے اور کرتے میں خوبصورت دکھائی دیتے تھے ۔وہ ہمیشہ سفید پگڑی شوق سے پہنتے ،ان کے چہرے پر بلا کی کشش تھی ،آنکھوں سے ذہانت کی روشنی برستی،ان کے کشادہ ماتھے پر خاص نشان تھا جسے لوگ ’’راج دان‘‘ کہتے تھے جو کہ راجہ کی نشانی ہے،وہ نرم خو،امن اور جدت پسند نوجوان تھے، ہمیشہ خوش رہتے ،میں نے ان کے بارے میں کبھی کسی سے جھگڑنے،طنز کرنے یا کسی ہم جماعت کو تکلیف دینے کے بارے میں نہیں سنا۔‘‘
گورنمنٹ کالج لاہور کی یہ مثال رہی ہے کہ یہاں کے بھاری اخراجات کبھی قابل موازنہ نہیں رہے۔ یہاں قیام کے ذریعے امیر زادے پانی کی طرح دولت بہاتے ۔ملازم ساتھ لاتے ،مہنگی خوراک کھاتے اور قیمتی لباس زیب تن کرتے ۔گنگا رام وظیفہ کے ذریعے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے تھے اور صرف زیادہ آمدن ہی انھیں یہاں رہنے کی اجازت دے سکتی تھی ۔گنگا رام کا رجحان انجنیئرنگ کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
گورنمنٹ کالج میں دو سالہ ریاضی کی تربیت کے بعد ۱۸۷۱ء مین تھامسن کالج روڈ کی میں ۵۰ روپے ماہانہ وظیفہ کے ساتھ داخلہ لیا۔ان کی نئی زندگی کا پہلا قدم ثابت ہوا روڈکی میں انھیں پرنسپل کرنل میکلجین نے غیر معمولی ذہین طالب علم قرار دیا۔ انھوں نے ہمیشہ گنگا رام کی بلا شبہ تکنیکی صلاحیت کی حوصلہ افزائی کی۔ دونوں کے درمیان ایسا ہی مفید تعلق تھا جیسا باپ کا بیٹے پر دست شفقت ہو۔۱۸۷۳ء میں گنگا رام نے فائنل امتحان پاس کر لیا اور پراجیکٹ پیپرز کی لسٹ میں میرٹ پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ شاندار کامیابی پر انھیں گولڈ میڈل ملا جو ان کی کامیابیوں کے اعتراف کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوا۔
انھیں لاہور میں اسسٹنٹ انجنیئرکے عہدے پر اپرنیٹس سپ کے لیے تعینات کیا گیا۔۔وہ آر بی کنیہا لعل مرحوم کے ماتحت بنے جو اس وقت لاہور کے ایگزیٹو انجنیئرتھے۔۱۸۷۳ء میں گنگا رام کو گورداس پور ڈویژن میں اسسٹنٹ انجنیئر کی حیثیت سے تعینات تھے۔دو سال بعد گنگا رام کا تبادلہ ڈیرہ غازی خان ہو گیا ۔اس صحرا نما علاقے میں تعیناتی کے دوران گنگا رام کو ضلع کے ڈپٹی کمشنر سر رابرٹ سینڈمین سے قریبی مراسم استوار کرنے کا موقع ملا۔ گنگا رام کی زندگی کے اس حصے کے حوالے سے جو انھوں نے بریڈ فورڈ میں دوران تربیت گزارا ،موادنہ ہونے کے برابر ہے بعد کے حالات کے تناظر میں یہ بات قرین قیاس ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں انگلینڈ کے مزدور طبقے کے اعلیٰ طرز زندگی نے انھیں جدید رجحانات اور غریبیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سوچنے کی ترغیب دی۔
انگلستان سے واپسی پر گنگا رام اپنی شہرت کے باعث بڑی ضرورت بن چکے تھے۔حکومت ہند نے فیصلہ کیا کہ انھیں پشاور میں پانی کی فراہمی و نکاس کے منصوبوں کی ذمہ داری سونپی جائے اور یوں ہندوستان میں فراہمی آب اور حفاظت ان کی مہارت کا خاص میدان بن گئی۔گنگا رام نے بعد ازاں ایسے ہی منصوبے امبالہ ،کرنال اور گوجرانوالہ میں بھی متعارف کروائے ۔ان کی مدت ملازمت بارہ برس ہو چکی تھی جب انھیں اسسٹنٹ انجنیئر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ،یہ ان کے خواب کی تعبیر کے لیے سنگ میل تھا ۔اس عرصہ میں صوبائی دارالحکومت لاہو میں تعمیر ہونے والی ہائی کورٹ اور کیتھذرل لاہور کی یاد گار عمارتیں بھی ان کی تعمیراتی ہنر اور محنت کا مظہر ہیں۔
اگلے دو سالوں میں وہ ایگزیکٹو انجنیئر لاہور بنا دیئے گئے انھیں اپنی منزل اب قریب نظر آنے لگی۔دو سال بعد چیف انجنیئر آیئنر پر کنز نے انھیں ایچی سن کالج کی تعمیر کے لیے سپیشل انجنیئر منتخب کیا ۔جب چیفس کالج کی سرخ اینٹوں سے بنی عمارت اپنے ارد گرد پھیلے خوبصورت سایہ دار باغ کے ساتھ مکمل ہوئی تو گنگا رام چیف انجنیئر لاہور کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے۔
بالآ خروہ اس کرسی پر بیٹھے جسے وہ اپنا حق سمجھتے تھے ۔اس ڈرامائی لمحے سلام کرتے اور ہاتھ ملاتے ملازموں کو پتہ بھی نہیں چلا کہ بے داغ لباس نے بمشکل ان کی پر جوش دھڑکنوں کو قید کر رکھا ہے۔اس عہدہ پر بارہ سال کام کے دوران گنگا رام نے بھر پور ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دیئے ۔در پیش مشکلات پر آفاقی صلاحیتوں سے قابو پایا ۔اس عرصہ میں وہ تعمیراتی دنیا میں افسانوی کردار کی طرح مشہور ہوئے۔انھوں نے لاہور میوزیم ،میو سکول آف آرٹس،جنرل پوسٹ آفس ،میو ہسپتال کی البرٹ وکٹر شاخ اور گورنمنٹ کالج کی لیبارٹری جیسی یاد گار عمارتوں کو خود ڈیزائن کر کے تعمیر کیا۔مال روڈ لاہور کے اختتام پر ایچی سن کالج سے یونیورسٹی اور نیچے میوزیم کی عمارتیں گنگا رام کی تخلیقی سوچ کی آئینہ دار ہیں۔ان کی ہندوستانی طرزِ تعمیر اور ہندوستان سے محبت ان عمارتوں سے جھلکتی نظر آتی ہے جب کہ مغرب کی سائنسی مہارت اور اختراعات سے انھوں نے ان عمارتوں کو پنجاب کے سرد گرم موسموں سے محفوظ بنایا۔محض لاہور ہی ان کی تعمیراتی سرگرمیوں کا مرکز نہیں رہا بل کہ لائل پور (فیصل آباد) سرگودھا ،شیخوپورہ میں عدلیہ اور انتظامیہ کے دفاتر کی عمارتیں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ان خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انھیں ’’رائے بہادر‘‘ کا خطاب دیا۔
گنگا رام کا ہمیشہ نئے طریقوں اور تجربات سے توانائی بچانے ،اعداد و شمار کا پرانا طریقہ تھکا دینے والا تھا اور اس میں بہت زیادہ وقت صرف ہوتا ،لہٰذا گنگا رام کے ماہر اور موجددماغ نے نیا طریقہ ایجاد کیا ۔وہ سلائیڈ رول سے دیواروں ،شہتیروں اور ٹرسز کی تمام اشکال اور ان کا سائز ناپنے کا کام لیتے تھے۔ انھوں نے حرارت سے محفوظ سیدھی چھتوں اور ایک سے دوسری اینٹ میں اینٹ پھنسا کر دیوار کرنے کا طریقہ رائج کیا ۔یہ ایجادات انجنیئرنگ کی دنیا میں انتہائی مہارت کی حامل بنی۔
ؒ ٓلاہور میں واٹر ورکس تعمیر کا آغاز ۱۸۷۵ء میں ہوا ،اس وقت یہ منصوبہ نامکمل تھا اور نکاسی آب کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا ۔گنگا رام نے لاہور شہر کی گلیاں پختہ کرائیں ،نکاسی آب کے لیے نالیاں بچھائیں اور ملیریا جیسے موذی امراض کے خطرات کو کم کر کے شہریوں کے معیار کو بہتر بنایا۔لاہور ان کی خدمات پر گنگا رام کا مقروض رہے گا۔
ہندوستانی ہنری فورڈ:
گنگا رام جب بھی ہندوستانی معیشت میں زراعت کے کردار کے بارے میں سوچتے تو ان کو بڑا مسئلہ پانی کانظر آتا ۔ پانی کے مسئلے کے حل کے بارے میں لائحہ عمل ان کی نظر میں پہاڑ اور چیونٹی کا موازنہ کرنے کے مصداق تھا۔مگر وہ اس بات ہر یقین رکھتے تھے کہ انجینئرنگ کی مہارت پہاڑ تک ہلا سکتی ہے ۔ان کا دماغ ’’ڈی لیزیس‘‘ کے اعلیٰ مقام سے دھندلا جاتا جو ایک ایسے انجنیئر کی یاد گار ہے جس نے تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔اس کی بنائی ہوئی نہر سویزاس کی موت کے برسوں بعد بھی بین الاقوامی سیاست کو تبدیل کرنے میں بنیادی کردارادا کرتی رہی۔
ملازمت کے دنوں میں جب دن بھر کا کام ختم ہوتا تو گنگا رام کا بے چین ذہن واپس اپنی دھرتی اور اس کے مسائل کے حل کے لیے تمام منصوبوں کی گتھی سلجھانے میں مصروف ہو جاتا۔پنجاب کی بڑی قابل کاشت اراضی سے حاصل ہونے والی پیداوار کے قابل افسوس اعدادو شمار ان کے ذہن کو کچوکے لگاتے اور دھرتی کے حل کے لیے ان کی تحریک کا باعث بنتے۔
رائے بہادر گنگا رام فراہمی آب کے کام کو بجلی اور بھاپ کے انجن کے ذریعے وسعت دینے میں رہنما تھے۔زرعی اجناس کی طرح گنگا رام کے باغبانی کے تجربات بھی دلچسپ اور وسیع تھے۔ بارہ ایکڑاراضی پر ایک وسیع باغ اگایا گیا ،ہر ایکڑ کو مختلف قطعات میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک قطعہ پھل کے لیے مختص تھا ۔چھوٹے درختوں کو تیز ہواؤں سے بچانے کے لیے تیزی سے قد آور ہونے والے درختوں سے باغ کے ارد گرد دیوار بنائی گئی تھی۔باغ کے ایک طرف شہتوت دوسری طرف شجر کاری اور چوتھی سمت جامن لگا کر باغ کے رقبہ کو تیز ہواؤں سے محفوظ بنایا گیا تھا۔باغبانی کے تجربات کے نتائج بہت دلچسپ تھے۔ مرطوب اور پر سکون ماحول میں کاغذی بیجوں ،میٹھے ،لیموں ترش ،دیسی سنگترہ،ناگ پوریسنگترہ،اور مالٹا بڑی تعداد میں پیدا ہوئے۔دوسرے تجربات سے معلوم ہوا کہ مالٹا اور سنگترہ چھوٹے پھلوں کھٹے لیموں اور کھٹی سے پیوند کاری کے نتیجہ میں زیادہ پیداوار دیتے ہیں۔ان کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے مگر عمر کم ہو جاتی ہے۔
لوکاٹ ،انار،آڑو،آلوچہ،ناشپاتی، شہتوت،انگور،امرود،فالسہ،انجیر،سیب، آم، بیر،اور کھجور بھی مختلف قطعات پر اگائی گئی۔تجربات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ناشپاتی ،بیر اور انار سخت گرم موسم میں مالٹے ،لیموں ،لوکاٹ اور آم کی نسبت متاثر نہیں ہوتے۔کھاد کے متبادل کے طور پر بہتر پیدوار اور زمین کی زرخیزی کے لیے پٹ سن اور چارے کی فصل زمین میں کاشت کی گئی اور جب وہ ابھی سر سبز تھی تو اسے ہل چلا کر زمین میں دبا دیا گیا۔اس طریقہ کے استعمال سے گندم کی فصل میں پندرہ سے بیس فی صد اضافہ ہوا ۔ ایک اور دلچسپ تجربہ ہڈیوں سے کھاد بنانے کی کوشش تھی۔ پچاس من ہڈیاں مزدوروں سے پسوائی گئیں ،تجربہ سے یہ انکشاف ہوا کہ کھاد کا حصول ممکن نہ ہو تو بوائی سے قبل زمین میں کئی بار ہل چلانا بھی مفید ہوتا ہے ۔گنگا رام کی اس تجربہ گاہ میں افزائش حیوانات کے شعبہ میں تحقیق کی گئی۔
گنگا پور ہندوستان کا پہلا فارم تھا جہاں پر زرعی مشنری کااستعمال ہوا ۔بوائی سے زمین کی تیاری اور کٹائی تک اور باغبانی کے لیے جدیدطریقوں سے آلات تیار کیے جاتے اور تسلسل سے ان کو بہتر بنایا جاتا تھا۔ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ارون نے اپریل ۱۹۲۸ء میں گنگا پور کا دورہ کیا ۔اس دورے کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لارڈ ارون لکھتے ہیں:
’’میں نے ۴ / اپریل ۱۹۲۸ء کو گنگا پور کا دورہ کیا ،میں نے تمام چیزوں کو دلچسپی سے دیکھا۔جاگیر کا بہتر انتظام اس کے مالکوں کے عظیم اعزاز کا مظہر ہے اور ہندوستان زراعت میں ممکنات کے سبق کا حامل ہے ۔میں اس کی ترقی کے لیے دعا گو ہوں ۔حقیقتاً جب نئے ہندوستان اور اس کی زراعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو گنگا رام کے تجربہ کا ذکر عظیم رہنما اور بہتر طریق زراعت اور گنگا پور کا جدید دیہی طرزِ زندگی کی حیثیت کا حامل قرار پائے گا۔‘‘
مسیحا گنگا رام:
کہا جاتا ہے کہ جو لوگ امیر ہو جاتے ہیں وہ غریبوں کے غم اور دکھ بھول جاتے ہیں۔لیکن گنگا رام خوش حالی کی چوٹی پر بھی غربت کا درد نہیں بھولے ۔وہ جب کبھی کسی نوجوان کو منفی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کی تعمیر کی جدو جہد میں دیکھتے تو انھیں اپنی جدو جہد اور مشکل جوانی یاد آ جاتی اور انھیں اس سے دلی ہمدردی ہو جاتی ۔وہ ایسا محسوس کرتے کہ ظالم معاشرہ دوبارہ انھیں زیادتیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انھیں لڑکے کی دکھ بھری کہانی یاد آ جاتی جو کام کرنا چاہتا ہے لیکن نہیں کر سکتا جبری محنت اور جبری مہارت کا سانحہ انھیں یاد آ جاتا۔
کامیاب تاجر کی حیثیت سے گنگا رام نے محسوس کیا کہ وہ بہت کچھ کمارہے ہیں ۔انھیں دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کرنا چاہیے۔چناں چہ ۱۹۲۳ء میں اپنے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا جس کا پورا نام ’’سر گنگا رام ٹرسٹ‘‘رکھا گیا۔ جسے چلانے اور کنٹرول کرنے کے لیے انھوں نے بڑی رقوم عطیہ دیں۔انھوں نے اپنی زندگی میں متعدد عالی شان عمارتیں اور دیگر جائداد ٹرسٹ کے حوالے کیں۔اور ۳۰ لاکھ روپے کے سرمائے سے سوا لاکھ آمدنی ہوتی رہی ان کی موت کے بعد ٹرسٹیز سالانہ بنیادوں پر چیئر مین اور اعزازی سیکرٹری کا انتخاب کرتے رہے۔ایک بار ٹرسٹ کے ایک ادارے کی سالانہ رپورٹ میں وہ اپنے ایک ملازم کی کار کردگی کا جائزہ لے رہے تھے ،اعزازی سیکرٹری نے اس پر ایک نوٹ لکھا تھا :’’ یہ ان افرادکے لیے بہت اچھا ثابت ہو گا جن کے لیے یہ ادارہ قائم کیا گیا ہے ۔‘‘سر گنگا رام نے لفظ اچھا کاٹ دیا اور اس کی جگہ خدمت لکھا اور کہا: ہم اپنے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ کوئی اچھائی نہیں ۔یہ خدمت کا ہی جذبہ تھا کہ جن کی بنیاد پر انھوں نے خیراتی ادارے قائم کیے ۔
سر گنگا رام فری ہسپتال سے بہتر کوئی ادارہ نہیں ہو سکتا جو انھوں نے ۱۹۲۳ء میں شروع کیا تھا۔۱۹۲۱ء میں سر گنگا رام نے لاہور شہر کے دل میں زمین خریدی اور سر گنگا رام چیئر ٹی ڈسپنسری ایک لاکھ ۳۱ ہزار ۵ سو روپے کی لاگت سے عمارت تعمیر کروائی۔ڈسپنسری پر ضرورت مند افراد کو بلا امتیاز طبی امداد فراہم کی جاتی تھی۔اسے جلد ترقی دے کر ہسپتال بنا دیا گیاجو صوبے کا سب سے بڑا خیراتی ادارہ تھا جو جدید آلات سے لیس تھا۔جہاں ایکسرے،ڈینٹل،خواتین کا شعبہ اور ایک جدید کلینکل لیبارٹری تھی۔اب بھی یہ میو ہسپتال لاہور کے بعد دوسرا بڑا ہسپتال شمار کیا جاتا ہے۔۱۹۲۳ء میں اس کا چارج ٹرسٹ سوسائٹی نے سنبھال لیا ۔اس کے لیے مزید زمین خریدی گئی اور مزید عمارت تعمیر کی گئی۔ اس میں خواتین کا ہسپتال بھی بنایا گیا اور جدید آلات سے آراستہ کیا گیا۔ ہسپتال کا کنٹرول ڈاکٹر بی جے ساہنی کے پاس تھا جنھیں کچھ اسسٹنٹ سرجنز،ایک لیڈی ڈاکٹر اور دوسرے سٹاف کا تعاون حاصل تھا۔یہاں ہر سال ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ،چوں کہ یہ ہسپتال شہر کے اندر واقع تھا اسی لیے صحیح طور پر غریب آدمی کا ہسپتال بن گیا۔
انھوں نے انفرادی کیسوں میں دلچسپی لینا شروع کی جس کے بعد وہ عمومی مسائل کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے اپنے خیالات کو سوسائٹی میں منظم کیا یہ بات ’’ہندو سٹوڈنٹس ویلفیئرسوسائٹی‘‘ کے قیام کی بنیاد بنی۔انھوں نے اس سوسائٹی کی بنیاد ۱۹۲۴ء میں رکھی ۔ایسے ہندو جو سرمائے کی کمی کا شکار تھے ان کے مطالعے کے لیے ضروری سہولتیں مہیا کرنے کی غرض سے جذباتی وابستگی کی بنا پر ووکیشنل اداروں کے لیے سکالر شپ دیئے۔پورے ہندوستان میں ۲۵ ٹیکنکل سکولوں اور کالجوں میں دیئے گئے۔انھوں نے ہندوستان سے باہر کسی ادارے کے لیے سکالر شپ نہیں دیا۔سر گنگا رام نے کبھی ایسے افراد کی حوصلہ افزائی نہیں کی جو معزز قسم کے پیشہ ور کی ملازمت کی تلاش میں رہتے تھے۔ ان کی سوچ کا مقصد یہ تھا کہ کم سرمائے سے زیادہ سے زیادہ طلبہ کی مدد کی جا سکے۔
سر گنگا رام لائبریری:
بزنس بیورو اور لائبریری کا قیام سر گنگا رام کا ایک اور کارنامہ ہے ۔ادارے کا مقصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے انتخاب کے سلسلے میں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنا تھا۔وہ مشینوں کے ذریعے مصنوعات کی تیاری کو کمائی کا ذریعہ بنانے کے بارے میں شروع کیے گئے انسٹی ٹیوٹ نے تمام قسم کے مینوئل ورک کی حوصلہ افزائی کی اور دلوں میں اس کے لیے جگہ پیدا کی۔لائبریری میں ہر طرح کی معلومات پر مبنی کتابیں اور پمفلٹ موجود تھے۔لائبریر ی میں ووکیشنل گائیڈنس مختلف ملازمتوں اور مقابلے کے امتحانات کے قوانین ،ہندوستانی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں کے پراسیپیکٹس اور ٹیکنیکل اور کمرشل مصنوعات پر کتابوں کے الگ الگ سیکشن تھے۔ معروف شخصیات کی بایؤ گرافی اور آٹو بائیو گرافی بھی لائبریری میں موجود تھی۔خصوصاً ایسے افراد کی جنھوں نے غربت سے خوشحالی کی سفر طے کیا تھا۔ گنگا رام کی سوچ تھی کہ ایسی کتابیں عملی زندگی شروع کرنے والے نوجوانوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گی۔تجارتی کتابیں اور میگزین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
بزنس بیورو کا ایک بورڈ ہر ہفتے روز گار کے خواہش مند نوجوانوں کا انٹر ویوکرتا تھا۔اور ان کے مسائل پر ہمدردانہ اور ذاتی نوعیت کی بحث کے بعد انھیں مشورے دیتا تھا کہ کون سا پیشہ ان کے لیے موزوں رہے گا۔انٹرویو کا تما م ریکارڈ راز میں رکھا جاتا تھا۔ سر ایڈ ورڈ میکلی جن نے گنگا رام کے لاہور اور پنجاب کے لیے ٹرپل پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا:
’’گنگا رام کی دو عظیم خواہشیں تھیں ۔۔ بیواؤں کی امداد اور صوبے میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم دینا ۔لہٰذا جب بیواؤں کے تحفظ کا پروگرام منظم ہو چکا تو لڑکیوں کی تعلیم کا سوال گنگا رام کی توجہ کا مرکز تھا ۔‘‘
گنگا رام کا اپنے ملازموں سے انتہائی دوستانہ رویہ تھا ان کی تین مربع ذاتی اراضی کی آمدنی گھر کے ملازمین میں تقسیم ہوتی تھی جب کہ ان کا نجی فنڈ بھی ملازمین کی فلاح بہبود کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ گنگا رام اپنی کمائی کو ’’ماں کا دودھ‘‘ کہتے تھے اور جب تک اسے غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم نہ کر لیتے انھیں سکون نہیں ملتا تھا۔
سر سندر سنگھ مجٹھیابتاتے ہیں:
’’ سکھ گروؤں سے شدید محبت کے زیر اثر انھوں نے دویاتین گوردوارے اپنی جیب سے بنوائے اور ان کی تزئین و آرائش کرائی۔گنگا رام نے امر سدھو میں چھ گوردوارے بنوائے ایک گوردوارہ کنٹوٹمنٹ اور ماڈل ٹاؤن کے قریب تھا ۔انھوں نے لاہور اور امرتسرکے درمیان جی ٹی روڈ پر رام پور میں بھی ایک پکا گوردوارہ بنوایا جس میں مسافروں کے لیے سرائے اور ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا تھا۔‘‘
وہ بیواؤں کی فلاح کے تمام حوالوں سے با عمل اور مخلص تھے ان کی خوہش تھی کہ بنگال سے بیواؤں کو لا کر پنجاب کے سکھوں سے شادیاں کرائی جائیں۔گنگا رام خود اس بات کے قائل تھے کہ ان کی خوش حالی بیواؤں کی دعاوں کا نتیجہ ہے۔ جن کی تاریک زندگیوں کو انھوں نے خوشی اور امن مین کامیابی سے بدل دیا ہے۔انھوں نے ہمیشہ بیواؤں کے آنسو پونچھے اور ان کی خوشی کے لیے تمام کام مقدس فریضہ سمجھ کر ادا کیے۔
۱۹۱۴ء میں انھوں نے پنجاب میں ’’ویڈو ری میرج ایسوسی ایشن‘‘ کی داغ بیل ڈالی یہ سر گنگا رام کے تمام خیراتی کاموں میں بڑا کارنامہ تھا۔اس مقصد کے لیے ان سے جتنی رقم کا مطالبہ کیا گیا انھوں نے کبھی انکار نہیں کیا ۔گنگا رام تنظیم کے کام کی خود نگرانی کرتے تھے ۔تنظیم صرف چند برسوں میں معاشرے میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی تھی۔بیواؤں کی دوبارہ شادی کی سوچ اس قدر مقبول ہوگئی تھی کہ کٹر ہندو بھی اس ریفارم کی باقاعدہ مزاحمت نہیں کرتے تھے۔۱۹۲۲ء میں انھیں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا تو وہ اس وقت انگلینڈ میں تھے انھوں نے کہا کہ وہ بیواؤں کی دعاؤں کے باعث ایک اور اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ ۱۰ جولائی ۱۹۲۷ء میں اس درد مند مسیحا نے انگلینڈ میں اپنے آخری سانس لیے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے ایک ان تھک سماجی شخصیت کے طور پر لوگوں کے دلوں پر اپنا نام ثبت کرنے کے بعد عدم کے کوچ کے لیے اپنا رخت سفر باندھ کر امر ہو گیا ۔اس کے تاریخی کارنامے اور پُر شکوہ تعمیراتی کام اور یتیموں ،بیواؤں کے غمگسار کو اس کے کردار و عمل سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔۔۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے