Home / اسلام / قُرآن اور اَصحابِ مُحمد علیہ السلام !!

قُرآن اور اَصحابِ مُحمد علیہ السلام !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 52 تا 55 ))) 🌹
قُرآن اور اَصحابِ مُحمد علیہ السلام !! 🌹
ازقلم🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 ایات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ولا تطرد
الذین یدعون ربھم
بالغدٰوة والعشی یریدون
وجھہ ما علیک من حسابھم من
شٸ ومن حسابک علیھم من شٸ فتطرد
ھم فتکون من الظٰلمین 52 وکذٰلک فتنا بعضھم
بعضہم بعض لیقولوااھٰٶلا ٕ من اللہ علیھم من بیننا الیس
اللہ باعلم بالشٰکرین 53 واذاجا ٕ ک الذین یٶمنون باٰیٰتنا فقل سلٰم
علیکم کتب ربکم علٰی نفسہ الرحمة انہ من عمل منکم سو ٕا بجھالة ثم
تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیم 54 وکذٰلک نفصل الاٰیٰت ولتستبین
سبیل المجرمین 55
اے ھمارے رسولِ جہان ! آپ اپنے اِن اَصحاب کو خود سے کبھی بھی جُدا نہ کرنا کیونکہ آپ کے اِن اَصحاب کے سارے لیل و نہار اپنے پالنہار کی یاد و فریاد میں بَسر ھوتے ہیں اور وہ اپنے اسی عُجزِحال میں رہتے ھوۓ اپنے رَب کے رُوبرُو جانے کا اِرادہ رکھتے ہیں ، آپ نے اپنے اِن اَصحاب کی ھدایت کے سارے کے سارے حق اَداکردیۓ ہیں اور آپ کے اِن اَصحاب نے بھی آپ کی اطاعت کے سارے کے سارے حق اَدا کردیۓ ہیں ، ھدایت و اطاعت کے اِس خاص حوالے سے آپ کا اور آپ کے اَصحاب کا یہ حساب برابر برابر ھو چکا ھے ، اِس لیۓ اگر آپ اِن اَصحاب کو خود سے دُور کریں گے یا خود کو اِن اَصحاب سے دُور کریں گے تو یہ ناانصافی ھوگی کیونکہ یہ آپ کے وہ اَصحاب ہیں جن کی آپ کے ساتھ خُدا کی قاٸم کی ھوٸ قُربت کو دیکھ کر مُشرکینِ معاشرہ حیرت و حسرت سے کہتے ہیں کہ خُدا کو یہی لوگ ملے ہیں جن کو اُس نے اپنے انعام اور اپنے نبی کے اِکرام کے لیۓ مُنتخب کیا ھے اور اَب تو آپ نے بھی اپنے اِن عادلانہ اَندازِ فکر رکھنے والے اَصحاب اور اُن ظالمانہ اَندازِ فکر رکھنے والے دُشمنانِ اَصحاب کو دیکھ پرکھ کر جان لیا ھے کہ معاشرے کے یہ مُتکبر مزاج اَفراد آپ کے اِن مُنکسر مزاج اَصحاب کے حسد کے باعث آپ کے قریب نہیں آتے ، اِس لیۓ آپ بھی شَر کے اِن نماٸندوں کو نظر انداز کر کے اپنی پُوری توجہ اپنے اِن ہی اَصحابِ خیر پر مَبذول رکھیں ، آپ کی تابع داری اُن کی ذمے داری ھے اور اُن کی حفاظت و سلامتی آپ کی ذمہ داری ھے ، یہ اللہ کے وہ پسندیدہ بندے ہیں جن پر اللہ نے اپنی رحمت و مہربانی کرنا خود پر لازم کیا ھوا ھے ، اگر آپ کے اِن اَصحاب میں سے کسی سے کوٸ بَشری بُھول چوک ھوجاتی ھے اور وہ نادم ھو کر آپ کے پاس واپس آجاتا ھے تو اللہ اُس کی اِس خطا کو نظر انداز کردیتا ھے کیونکہ اللہ ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ اپنے اطاعت شعار بندوں کے لیۓ ایک خطاپوش اور کرم گُستر ہستی ھے ، ھمارے سمجھانے اور سکھانے کا یہی وہ مُفصل اور مُفسر اَنداز ھے جو ھمارے مَحرموں کو ھمارے مُجرموں سے اور ھمارے مُجرموں کو ھمارے مَحرموں سے جُداجُدا کردیتا ھے !
🌹 سب سے بَڑی اَمانت کے سَب سے بَڑے اَمین ! 🌹
اٰیاتِ بالا کا مَتن اور مفہوم پڑھنے والے ہر انسان کو اِس بات کا یقینا یقین ھو چکا ھو گا کہ اٰیاتِ بالا کا موضوعِ سُخن سیدنا محمد علیہ السلام اور اَصحابِ محمد علیہ السلام ہیں لیکن اِس موضوع پر بات کرنے سے پہلے ایک لَمحے کے لیۓ آپ اپنی آنکھوں کے دریچے بند کر دیجۓ ، دِل کے دَروازے کھول دیجیۓ اور پھر صرف ایک لمحے کے لیۓ اِس مفروضے پر غور کیجۓ کہ اگر اِس سارے جہان کا سارے کا سارا خزانہ آپ کے قبضے میں آجاۓ اور آپ کا وہ خزانہ رَکھنے کے لیۓ دُنیا میں صرف وہ دو بنک موجود ھوں جن میں سے ایک بنک آپ کے علم و یقین کے مطابق اِنتہاٸ دیانت دار بنک ھے اور دُوسرا بنک آپ کے علم و یقین کے مطابق اِنتہاٸ بَد دیانت بنک ھے تو آپ اپنی دَسترس میں آنے والے اُس عظیم خزانے کو کون سے بنک میں رَکھوانے کا فیصلہ کریں گے ? آپ کو اِس سوال کا جوب دینے کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ ھم جانتے ہیں کہ آپ نے اپنی مُختصر مگر گہری سوچ بچار کے اِسی ایک لَمحے میں یہ فیصلہ کر لیا ھو گا کہ آپ وہ خزانہ جمع کرانے کے لیۓ اُس بنک سے رجوع کریں گے جو آپ کے علم و یقین کے مطابق ایک دیانت دار بنک ھے اور آپ وہ خزانہ جمع کرانے کے لیۓ اُس بنک کے قریب بھی نہیں پَھٹکیں گے جو آپ کے علم و یقین کے مطابق ایک بَد دیانت بنک ھے ، اگر آپ نے فی الواقع اِس اَمر پر غور کیا ھے اور آپ نے فی الواقع وہی فیصلہ کیا ھے جس کا ھم نے ذکر کیا ھے تو اَب آپ مزید ایک لَمحے کے لیۓ اِس اَمر پر بھی غور کر لیجیۓ کہ کیا مجوسی راویوں کی مجوسی روایات سے بنی اور بناٸ گٸ آپ کی اُس نام نہاد اسلامی تاریخ کی وہ روایت فی الواقع عقلی و مَنطقی اعتبار سے ایک درست روایت ھے کہ اللہ کی کاٸنات میں اللہ کی سب سے عظیم ہستی سیدنا محمد علیہ السلام کی صورت میں اللہ کا جو سب سے عظیم خزانہ تھا وہ اللہ نے اُس قوم کے سپرد کر دیا تھا جس کا ہر ایک فرد خاٸن اور بَد دیانت تھا اور اُس قوم میں دُنیا کی ہر ایک خرابی موجود تھی لیکن دُنیا کی کوٸ ایک بھی خوبی موجود نہیں تھی ، اگر مجوسیوں کی اِس اسلامی تاریخ کی اِن روایات کو درست تسلیم کر لیاجا ۓ تو قُرآن کا مُحولہ بالا بیان یَکسر غلط ھو جاتا ھے اور اگر اللہ کا قُرآن اور قُرآن کا یہ مُحولہ بالا بیان سَچا ھے اور یقینا سچا ھے تو پھر اِس نام نہاد اسلامی تاریخ کاوہ بیان انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ھے جو صدیوں سے اِس اُمت کے بچوں اور بزرگوں کو پڑھایا جاتا ھے ، ظاہر ھے کہ اگر ھم خدا کے اِس فرمان اور مجوسی تاریخ کے اِس بیان کا تجزیہ و موازنہ کرنا چاہیں تو اِس پر بہت کُچھ لکھ سکتے ہیں لیکن ھم اپنی بات کو مُختصر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اللہ کے قُرآن کا پڑھنے والا اور مجوسی تاریخ کا پڑھنے والا خود ہی اِس بات کا فیصلہ کرے کہ اَصحابِ محمد علیہ السلام کے بارے میں مجوسی تاریخ کا بیان کیا ھے اور قُرآن کا فرمان کیا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے