Home / کالم / محاسبۂ نفس۔۔ کیوں اور کیسے؟”

محاسبۂ نفس۔۔ کیوں اور کیسے؟”

سلسلے کی چھٹی قسط

⁦✍️⁩از قلم
نعیم اختر ربانی

انسان جب شعور کی عینک آنکھوں پر باندھ لیتا ہے۔ دنیا کے بکھیڑے ، چال ڈھال ، بیچ و خم اور نشیب و فراز اس کی سمجھ میں آنے لگتے ہیں تو وہ ایک طرح کا آزاد فرد تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے رہبر ، قانون ، نظام ، والدین اور اساتذہ کا کلی اختیار ختم ہو کر جزوی یعنی محدود ہو جاتا ہے۔ اس کی زبان کی گویائی ، دل و دماغ میں ابھرنے والی سوچ ، اٹھنے والا قدم اور ہاتھوں کی درازی کا کلی اختیار اور وبال اس کے کندھوں پر آن پڑتا ہے۔ ان تمام صادر ہونے والی اشیاء کا وہ خود ذمہ دار ہوتا ہے۔
لیکن معاشرے میں بگاڑ اس دن سے پیدا ہونا شروع ہوا جب فرد نے اپنے کندھوں پر پڑے ہوئے بوجھ کو دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کی کوششیں شروع کیں۔ وہ اس قانون کو بے دخل سمجھنے لگا کہ میرے اعمال کا وبال میرے ہی سر ہے۔ اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا رہا اور سستی و کاہلی کے بوجھ تلے دب کر ظلمتوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ اپنے اندر کے شہتیروں کو چھوڑ کر دوسروں کے تنکوں کو ہوا میں اچھال کر ڈھنڈورا پیٹتا رہا۔ حالانکہ خرابیاں خود اس کی ذات میں پنہاں تھیں۔ وہ اپنے آپ کو کامل مبرا سمجھ کر دوسروں کے دامن میں لگے داغ دھونے کی جدوجہد میں مگن ہو گیا۔ اس کی جھولی میں پڑی ہوئی سیاہی بدستور پھیلتی گئی اور آخر کار پورے معاشرے کے لیے ناسور بن گئی۔
خود اپنی سیاہی آپ دھونے کا درس اسلام نے دیا۔ اپنے دامن کو پاک و منزہ کرنے کی ذمہ داری ہر فرد کے کندھے پر عائد کی۔ جب ہر فرد اس ذمہ داری کو سمجھ کر اور ادا کرنے کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو جائے۔ اپنے اندر کی برائیوں کو مٹانے کا عزم اور احساس بیدار کرے اور جان لے کہ جب تک میں اپنی ذات کو اپنے ہاتھوں سے پاک و منزہ نہیں کروں گا تو مجھے نظر آنے والی دیگر برائیاں بدستور دکھائی دیں گی۔ جب خود بینی اور خود آگاہی کے مرحلے کے بعد صفائی اور ستھرائی کی طرف قدم بڑھائے گا تو معاشرے کی طرف اس کا دھیان کم ہو جائے گا اور جو دوسروں پر اپنا ملبہ ڈال کر خود اذیتی کی زندگی بسر کرنے کا بے فائدہ سلسلہ شروع کر رکھا تھا وہ بتدریج ختم ہو جائے گا۔
خود آگاہی کے ساتھ پاکیزگی کے عمل کو اسلام نے “محاسبۂ نفس” کا نام دیا۔ اپنے آپ کو جاننے کے بعد اپنے اندر پائی جانے والی برائیوں کو ختم کرنا ، جڑ سے اکھاڑنا اور پھر ان کی جگہ نیکیوں کے پودوں کو کاشت کرنا اس کی تفصیل میں آتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا درس یوں دیا گیا کہ “اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر نفس غور کرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا؟ ” ( الحشر 18) یعنی بڑھتے اور پکڑتے ہوئے ہاتھوں سے صادر ہونے والے اعمال ، اٹھتے ہوئے قدموں کی چال ڈھال ، قینچی کی طرح چلنے والی زبان سے پھسلنے والے الفاظ ، لہجے اور اثرات ، دل و دماغ کے تختے پر ابھرنے والی تصویر کے خدو خال کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ان میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور غصے کا سبب بننے والے عناصر کا دخل تو نہیں؟ کہیں ہماری معاشرتی اقدار اور خالص اسلامی روایات کے مخالف پروان چڑھنے والی سوچ اور فکر پنہاں تو نہیں؟
کیونکہ اگر ان افکار ، اعمال اور اثرات کا جائزہ نہ لیا تو خدا تعالیٰ نے دنیا میں ہی گمراہی کا دامن پکڑانے کا وعدہ کر رکھا ہے فرمایا کہ “تم اس شخص کو تو دیکھو جس نے اپنی خواہشات کو خدا بنا لیا اسے اللّٰہ تعالیٰ نے علم ہونے کے باوجود گمراہ کر دیا ( الجاثیہ 23) یعنی اس نے اپنے بے لگام نفس کو نکیل نہ ڈالی جس طرف جی چاہا رخ کیا۔ اپنے اندر بسنے والی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا تو وہ چاہے متبحر عالم اور سکالر ہی کیوں نہ ہو خدا تعالیٰ راہ ہدایت سے دور ہی رکھیں گے۔ کیونکہ ہدایت اور راستی کا سرا اس لمحے ہی ہاتھ آتا ہے جب انسان تمام خواہشات کو واحد ہستی کے احکامات کا پابند بنا لے ورنہ یوں چو طرفہ گمراہیوں کے سیلاب میں غوطے لگاتا رہے گا اور بالآخر ڈوب کر فنا ہو جائے گا۔
لیکن نفس کے محاسبہ کے لیے مروجہ اور مجرب طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ ان ہستیوں کی زندگیوں سے استفادہ کی ضرورت ہے جو کہ اپنی زندگیاں بطور نمونہ چھوڑ گئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام رض کے بارے میں مروی ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا اور بازار کی طرف چل دیے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خود کیوں زحمت کر رہے ہیں جبکہ اس کام کے لیے غلام موجود ہیں تو فرمایا کہ میں اپنے نفس کا امتحان لے رہا تھا کہ کہیں یہ ان کاموں کو برا تو نہیں سمجھتا؟ یعنی ہمیں ان کاموں میں کبھی اپنے نفس کو لگا کر آزمانا چاہیے جو لوگوں کی نظروں میں حقیر جانے جاتے ہیں تاکہ نفس کی بڑائی اور خودسری کا مقاتلہ ہو سکے اور اس بات کو بھی جان سکیں کہ اس میں نفس کس درجہ شرمندگی اور حقارت محسوس کر رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو نہایت افسوس کا مقام ہے۔ محاسبہ کی ایک عملی تصویر حضرت حسن بصری رحمۃ اللّٰہ نے بیان کی۔ قبل از عمل محاسبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مومن کو جو چیز پسند آ جاتی تو کہتا ہے کہ بخدا تو مجھے بہت پسند ہے مگر تیرے اور میرے درمیان حساب حائل ہے۔ اور بعد از عمل محاسبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب مؤمن سے کوئی لغزش سرزد ہوتی ہے تو وہ اپنے آپ سے کہتا ہے کہ تیرا اس فعل سے کیا مقصد تھا؟ بخدا آئندہ یہ فعل نہیں کروں گا۔ یعنی اگر کوئی خطا صادر ہو جائے تو پھر توبہ اور ندامت کے آنسوؤں سے اسے دھو دیتا ہے تاکہ اس دن کے وبال سے بچ سکے جس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔

بقیہ اقساط کے لنکس

1: علم برائے عمل ہی راہِ نجات ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1381023862081245&id=100005209336550

2: خوفِ الٰہی نیکیوں کی جڑ اور برائیوں میں روکاوٹ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1391982434318721&id=100005209336550

3: موت کی یاد نیکیوں کی راغب اور گناہوں میں مانع
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1403120236538274&id=100005209336550

4: گناہ شناسی کا مزاج
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1413514472165517&id=100005209336550

5:گناہوں کی ایک بڑی وجہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1436177999899164&id=100005209336550

فیس بک آئی ڈی کا لنک
https://www.facebook.com/profile.php?id=100005209336550

فیس بُک پیج کا لنک
https://www.facebook.com/Naeem-Akhter-Rabbani-599738687099876/

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے