Home / اسلام / بَصیرتِ وحی اور بَصارتِ وحی

بَصیرتِ وحی اور بَصارتِ وحی

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 50 ، 51 ))) 🌹
بَصیرتِ وحی اور بَصارتِ وحی !! 🌹
ازقلم 🌷خترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل
لا اقول لکم
عندی خزاٸن اللہ
ولا اعلم الغیب ولا
اقول لکم انی ملک ان
اتبع الا ما یوحٰی الیّ قل
ھل یسوی الاعمٰی والبصیر
افلا تتفکرون 50 وانذربہ الذین
یخافون ان یحشرواالٰی ربھم لیس
لھم من دونہ ولی ولا شفیع لعلھم یتقون 51
اے ھمارے رسولِ جہان ! آپ اہلِ جہان پر یہ بات واضح کر دیں کہ میں تُم کو اللہ کے خزانوں کا مالک بنانے کا دعوٰی نہیں کرتا ، میں تُم کو اَن دیکھے جہان دکھانے کا دعوٰی بھی نہیں کرتا اور میں تُمہارے سامنے اپنے فرشتہ ھونے کا دعوٰی بھی نہیں کرتا ، میرا دعوٰی صرف یہ ھے کہ میں صرف اُن اَحکام کی اِتباع کرتا ھوں جو اَحکام میرا رَب مُجھے اپنی وحی کے ذریعے دے دیتا ھے اور اے ھمارے رسولِ جہان ! آپ اپنے اِس اعلان کے بعد اِہلِ جہان پر اہلِ جہان کی فکرِ فردا کے لیۓ یہ بات بھی واضح کردیں کہ دیکھنے اور نہ دیکھنے والے کی حیثیت برابر نہیں ھوتی اور پھر اسی بُنیادی نُکتے کو اپنے کلام کا مرکزی موضوع بناکر فروتنی اختیار کرنے والے اَفراد کو میرے اُس اَن دیکھے مُشکل یومِ مَحشر کے مُشکل اَحوال سے آگاہ کردیں جس یومِ مَحشر میں کوٸ بھی شخص کسی بھی شخص کا طرف دار اور کوٸ بھی شخص کسی بھی شخص کا سفارش کار نہیں ھوگا !
🌹 رُوح کی رُوحانی اور نَفس کی نفسانی تَحریک ! 🌹
ہر انسانی تحریک کا بُنیادی مُحرک ایک نفسانی غرض ھوتی ھے جو ہر انسان کو اُس تحریک کے لیۓ ایک فردِ مُتحرک بناتی ھے اور وہ مُتحرک فرد ایک فَردِ فعّال بن کر خود بھی اُس تحریک میں حصہ لیتا ھے اور دُوسرے لوگوں کو بھی اُس تحریک میں حصہ لینے پر آمادہ کرتا ھے لیکن وحی و نبوت کی رُوحانی تحریک اُن تمام نفسانی اَغراض سے پاک ھوتی ھے جو اَغراض انسان کے نفس سے پیدا ھوتی ہیں اور انسان کے نفس کے لیۓ پیدا ھوتی ہیں ، اٰیتِ بالا میں خالقِ کاٸنات کے اسی کاٸناتی اصول کی تشریح و توضیح کے لیۓ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو حُکم دیا ھے کہ وہ اُمت کے سامنے اِس اَمر کا کُھلے اَلفاظ میں ذکر کردے کہ میرا دعوٰی خُداٸ خزانوں کو اپنے قبضے میں لینے اور پھر انسانوں کے قبضے میں دینے کا دعوٰی نہیں ھے ، کیونکہ نبوت کی تحریک اپنی ساخت کے اعتبار سے کوٸ مادی تحریک نہیں ھے جو انسان کو مادہ پرستی کی تعلیم دے بلکہ یہ ایک رُوحانی تحریک ھے جو انسان کو وہ رُوحانی غذا فراہم کرتی ھے جس سے انسانی نفس ایک نفسِ مُطمٸنہ بن کر دُوسرے انسانوں کی حق تلفی ترک کردیتا ھے جس کے بعد انسانی معاشرے میں وہ معاشی توازن پیدا ھو جاتا ھے جو ہر انسان کا حقِ ضرورت خود بخود ہی ہر انسان تک پُہنچا دیتا ھے !
🌹 علم کا دعوٰی اور علم کا مُدعا ! 🌹
اٰیتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو جس دُوسری بات کا دَعوٰی نہ کرنے کا حُکم دیا ھے وہ آپ کے علمِ غیب کا دعوٰی ھے اور علمِ غیب کا جو دعوٰی نہ کرنے کا آپ کو حُکم دیا ھے اُس کے لیۓ قُرآن نے ” اَعلم “ کا لَفظ استعمال کیا ھے جو اپنی لَفظی ساخت کے اعتبار سے ایک طرف تو واحد مُتکلم فعل مضارع معروف کا صیغہ ھے جو آپ کی طرف سے آپ کے علمِ غیب کی نفی کر رہا ھے اور دُوسری طرف یہی ” اَعلم “ اِسمِ تفضیل ھے جو آپ کے لیۓ کثرتِ علمِ غیب کا اِثبات کر رہا ھے جس کا مقصد یہ ھے کہ علمِ غیب سے ایک تو وہ علمِ غیب مُراد ھوتا ھے جو انسان کی مَحدُود بصارت کے مطابق علم غیب ھو تا ھے اور دُوسرا علمِ غیب سے مُراد وہ علمِ غیب ھوتا ھے جو اللہ کے لامَحدُود علم کے مطابق علمِ غیب ھوتا ھے ، اِن دونوں میں فرق یہ ھے کہ انسان کو اَزل سے اَب تک جو علم ملا ھے اور اَب سے اَبد تک کا جو علمِ ملے گا وہ علمِ مَحدود ھے اور سیدنا محمد علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے قُرآن کی صورت میں جو علم دیا ھے وہ علمِ لامَحدود ھے اور اٰیتِ بالا میں سیدنا محمد علیہ السلام کو جس علم کا دعوٰی نہ کرنے کا حُکم دیا ھے وہ وہی علمِ مَحدود ھے جو علمِ لامَحدُود ہی کا ایک ذیلی شُعبہ ھے اور عقلی و منطقی اعتبار سے قُرآن کے علمِ لامَحدُود کے ھوتے ھوۓ اِس علمِ مَحدُود کا دعوٰی کرنے کی کوٸ ضروت ہی نہیں ھوتی لیکن سُوۓ اتفاق ملاحظہ کیجۓ کہ اِس اُمت کے جن مُدعیانِ علم کو اپنے یا اپنے کسی چھوٹے بڑے بزرگ کے علم کا حدُودِ اربعہ تک معلوم نہیں ھے وہ گزشتہ کٸ صدیوں سے سیدنا محمد علیہ السلام کے علم کو ناپتے اور اپنی اِس جہالت پر ٹاپتے پھر ر ھے ہیں ، اِن کے اِس موضوعِ بحث میں پہلا سوال یہ ھوتا ھے کہ نبی کا علم اُس کی ذات میں خود سے خود علمِ ذات کے طور پر موجود ھوتا ھے یا اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک علمِ عطا ھوتا ھے اور ظاہر ھے کہ اللہ خالق ھے اور سیدنا محمد علیہ السلام مخلوق ہیں اور مخلوق کو جو علم ملتا ھے وہ اللہ ہی کا عطا کیا ھو علم ھوتا ، جب ایک مُسلم کے طور پر یہ دونوں فرقے اِس بات متفق ھو جاتے ہیں کہ ہر نبی کے پاس جو علم ھوتا ھے وہ اللہ ہی کا دیا ھوا علم ھوتا ھے تو اِن میں سے ایک جماعت کہتی ھے کہ نبی کو جب تک جو علم اللہ نے نہیں دیا ھوتا تو تب تک وہ علم نبی کے لیۓ علمِ غیب ھوتا اور جب وہ علم نبی کو دے دیا جاتا ھے تو علمِ شھُود بن جاتا ھے اِس لیۓ نبی کے لیۓ کسی طرح کا علمِ غیب تسلیم کرنا اور کسی درجے میں بھی علمِ غیب تسلیم کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ھے لیکن یہ اہلِ دلیل یہ دلیل دیتے ھوۓ یہ بات بُھول جاتے ہیں اگر اُن کی اِس دلیل کو درست مان لیا جاۓ تو پھر اللہ کی ذات کے لیۓ بھی کسی علمِ غیب کا ماننا بھی خارج اَز بحث قرار پاۓ گا کیونکہ اللہ کی ذات کے لیۓ تو کوٸ عالَم ، عالَمِ غیب نہیں ھے بلکہ ہر ایک عالَم ، عالَمِ شہُود ھے !
🌹 علمِ عالَمِ غیب اور علمِ عالمِ شہُود ! 🌹
اصل بات یہ ھے کہ سیدنا محمد علیہ السلام کو عالَمِ غیب سے عالَمِ شہُود کے لیۓ جو علمِ ملا ھے اُس علم کا نام قُرآن ھے جو علمِ عالَمِ غیب اور علمِ عالَمِ شہُود کا مجموعہ ھے اور دُنیا و مافیہا کے ہر علم سے بہتر و بَرتر اور اعلٰی و افضل علم ھے ، اِس کتاب کے سوا ہر کتاب مردُود اور اِس کتاب کے نظریہِ علم کے سوا ہر نظریہِ علم مردُو ھے ، اِس لیۓ کہ قُرآن کے علم کے سوا دُنیا کا ہر علم اور قُرآن کے نظریہِ علم کے سوا دُنیا کا ہر نظریہِ علم دُنیا تک محدُود ھے اور قُرآن ہی وہ علم اور نظریہِ علم ھے جو جہانِ دُنیا سے جہانِ عُقبٰی تک پھیلا ھوا ھے اور یہی وہ بات ھے جس کی اٰیاتِ بالا میں کی دُوسری اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو تلقین کرتے ھوۓ حُکم دیا ھے کہ جو لوگ آپ کی بات پر کان دَھریں اور فروتنی اختیار کریں تو آپ اپنے علمِ نبوت کے مرکزی مضمون کے طور پر اُن تمام انسانوں کو میرے اُس مُشکل یومِ مَحشر کے مُشکل اَحوال سے بھی آگاہ کریں تاکہ وہ جان سکیں کہ آپ پر نازل کیا گیا اللہ کا علمِ کتاب زمین سے آسمان اور دُنیا سے عُقبٰی تک مُمتد ھے اور اُمت کو یہ مضمون سکھانا اور سمجھانا اِس لیۓ بھی تاکہ اُس کے لیۓ دُنیا میں میرے اَحکام پر عمل کرنا اور عُقبٰی میں اپنے اعمال کا جواب دینا آسان ھو جاۓ !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے