Home / اسلام / انسان اور حصولِ لَذت و تَرکِ اَلم !!

انسان اور حصولِ لَذت و تَرکِ اَلم !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 46 تا 49 ))) 🌹
انسان اور حصولِ لَذت و تَرکِ اَلم !! 🌹
ازقلم
🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردوزبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل ارٸیتم
ان اخذ اللہ سمعکم
وابصارکم وختم علٰی قلوبکم
من الٰہ غیراللہ یاتیکم بہ انظر کیف
نصرف الاٰیٰت ثم ھم یصدفون 46 قل ارٸیتکم
ان اتٰکم عذاب اللہ بغتة او جھرة ھل یھلک الا القوم
الظٰلمون 47 وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین فمن
اٰمن واصلح فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون 48 والذین کذبوا
باٰیٰتنا یمسھم العذاب بماکانوا یفسقون 49
اے ھمارے رسولِ جہان ! اہلِ جہان سے سوال کریں کہ کیا تُم نے اِس اَنہُونی پر بھی کبھی کوٸ غور کیا ھے کہ اگر اللہ ھواکے دوش سے تُمہارے گوش تک آنے والی آواز کو روک دے یا پھر وہ تُمہاری بصیرت کے نُور کو تُمہاری بصارت سے دُور کر دے اور یا وہ تُمہارے سارے خیال و اَحوال کو تُمہارے دلوں میں سَر بمُہر کر دے تو اللہ کے سوا کون ھے جو تُمہارے جسم و جان کے یہ سارے سامان تُم کو واپس دلا سکے اور اے ھمارے رسولِ جہان ! اِک ذرا اِس بات پر بھی غور کیجیۓ کہ اللہ اپنی دلیل کو کس کس اَنداز سے بَدل بَدل کر لا رہا ھے تاکہ وہ اپنی اِن اَمثال سے انسانی فکر و خیال کو اعتدال پر لاۓ اور اے ھمارے رسولِ جہان ! آپ اہلِ جہان سے یہ سوال بھی تو کریں کہ اگر تُم پر یَک بیک چیتے کی طرح دَبے قدموں کے ساتھ آنے والا یا آسمان سے گرنے والی بجلی کی طرح کوٸ چیختا چنگاڑتا ھوا عذاب آپڑے تو تُمہارا کیا خیال ھے کہ اُس کی زد میں صرف وہی قومی مُجرم آٸیں گے جو گَلے گَلے تک جراٸم کی دَلدَل میں دَھنسے ھوۓ یا وہ لوگ بھی اِس عذاب کی لَپیٹ میں آٸیں گے جو کان لَپیٹ کر گوشہِ تَنہاٸ میں پڑے ھوۓ ہیں ، یاد رکھو کہ ھم نے اہلِ زمین کی طرف اپنے جتنے بھی نماٸندے بھیجے ہیں اُن کے ذمے یہی ایک کام تھا کہ وہ انسان کو انسان کے مُثبت اَعمال کے مُثبت نتاٸج کی مُثبت خبریں سناٸیں گے اور مَنفی اعمال کے مُنفی نتاٸج کی مَنفی تباہ کاریوں سے ڈراٸیں گے اور جو لوگ اِن کی باتیں سُن کر مُطمٸن ھو جاٸیں گے اور اپنی اَبتر حیات کو ایک بہتر حیات بنانے میں مصروف ھو جاٸیں گے تو وہ اپنے اِس عملِ خیر کے نتیجہِ خیر کے طور پر ایک داٸمی رَاحتِ حیات کی ایک داٸمی کیفیت سے سرشار ھو جاٸیں گے اور جو لوگ اِس کارِ حیات سے محروم رہ جاٸیں گے تو وہ رَنجِ حیات کی ایک داٸمی اَذیت سے دوچار ھو جاٸیں گے
🌹 قُرآن کا اَندازِ دلیل و تَمثیل ! 🌹
اَزل سے آج تک انسان زندگی کی خیالی جنت کی تلاش اور زندگی کی حقیقی جہنم سے نجات کے لیۓ زندگی کے جس راستے پر سفر کرتا ھوا جس منزلِ راہ سے جس منزلِ راہ کی طرف جا رہا ھے اُس منزلِ راہ کے ایک طرف اِس کی نظر کو لَذت و راحت سے سرشار کرنے والے بیشُمار پُھول کھلے ھوۓ ہیں اور دُوسری طرف اُس کی رُوح و دِل کو رَنج و اَلم سے دوچار کرنے لاشُمار کانٹے پھیلے ھوۓ ہیں ، رَنج و راحت کے اِن دو مُتضاد مناظر نے انسان کو ایک ایسی لَذت انگیز اور اَلم گریز ہستی بنا دیا ھے جس کو زندگی کے ہَر ایک لَمحے میں حصولِ لَذت اور تَرکِ اَلم کی فکر لگی رہتی ھے ، اِس لیۓ قُدرت بھی انسان کو جب خوابِ غفلت سے جگانا چاہتی ھے تو اِس کو اِس کی فطرت میں رَچے بَسے ھوۓ جنت و جہنم کے یہی دو مُتضاد مناظر یاد دِلاتی رہتی ھے تاکہ انسان اُس جہنم سے نکل آۓ جو انسان کے مَنفی اعمال کا ایک کانٹوں بَھرا جَنجال ھے اور انسان اللہ کی بناٸ ھوٸ اُس جنت میں داخل ھو جاۓ جو انسان کے مُثبت اعمال کا ایک مُثبت مآل ھے ، چانچہ اِس سُورت کی اٰیت 39 میں اللہ تعالٰی نے اسی حصولِ لذت و تَرکِ اَلم کے حوالے سے انسان کے سامنے اُن لوگوں کی مثال پیش کی تھی جو اَچانک ہی بہت زیادہ روشنی سے نکل کر بہت زیادہ اَندھیرے میں پُہنچ گے تھے اور اِس گُھپ اندھیرے میں پُہنچتے ہی وہ سُننے اور بولنے کی قُوت سے بھی محروم ھو گۓ تھے ، مزید براں یہ کہ وہ اِس اَندھیرے میں روشنی کی کرن لانے کے لیۓ کسی کو آواز تک نہیں دے سکتے تھے کہ وہ اِس اَندھیرے میں جانے کے بعد اَچانک ہی قُوتِ گویاٸ سے بھی محروم ھو گۓ تھے اور اَندھیرے سے باہر روشنی میں کھڑے لوگ جو اُن کو آواز دے کر اُن کا اَحوال پُوچھ ر ھے تھے تو یہ لوگ اُن کی آواز بھی نہیں سُن سکتے تھے کیوں کہ اِس تاریک اَندھیرے میں یہ لوگ گوشِ سماعت سے بھی محروم ھو چکے تھے ، اِس دلیل اور تَمثیل سے انسان کو یہ سمجھایا گیا تھا کہ جب تُم حادثاتی طور پر اس طرح کی کسی مصیبت میں گِھر جاتے ھو تُم یقین کے ساتھ یہ بات جان جاتے ھو کہ تُم کو اِس اَندھیرے سے نکال کر روشنی میں لانا اور پھر روشنی میں لاکر ایک روشن راہ پر چلانا ایک ایسا کام ھے جو صرف اللہ ہی کر سکتا ھے ، اللہ کے سوا کوٸ بھی نہیں کر سکتا !
🌹 پہلی تَمثیل کے بعد دُوسری تَمثیل ! 🌹
اور اَب اٰیاتِ بالا میں سے پہلی اٰیت میں اللہ نے اُسی پہلی دلیل کو ایک نٸ تَمثیل کے طور پر پیش کر کے انسان سے سوال کیا ھے کہ اگر اللہ تُمہاری سماعت و بصارت کو ختم کر دے اور تُمہارے خیال و سوال کو بھی تُمہارے دِل میں سربمُہر کر دے تو اللہ کے سوا کون ھے جو تُمہارے دِل پر لگی ھوٸ اِس خُداٸ مُہر کو توڑ کر تُم کو تُمہارے خیالات و سوالات لَب پر لانے کا حوصلہ دے سکتا ھے اور اللہ کے سوا کون ھے جو تُم کو تُمہاری سماعت و بصارت واپس دے سکتا ھے اور اسی سوال کے بین السطور میں انسان کو یہ بھی بتایا جا رہا ھے کہ وہ پہلی تَمثیل اور یہ دُوسری تَمثیل محض ایک تَمثیل ھے جو اللہ نے تُمہارے اَحوال کے مُطابق تُمہاری فکری تَسہیل کے لیۓ ایک لَفظی دلیل کے طور پر پیش کی ھے ، ورنہ حقیقتا یا عملا اللہ کو اِس بات سے کوٸ دل چسپی نہیں ھے کہ وہ تمہیں کوٸ تکلیف پُہنچاۓ اور اللہ کی اِس لَفظی تَمثیل کا مقصد بھی تُم پر یہ ظاہر کرنا ھے کہ تُم پر جب بھی اِس طرح کی کوٸ آفت آتی ھے تو وہ تُمہارے اپنے ہی کسی مَنفی عمل کا ایک رَدِ عمل ھوتی ھے ورنہ جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ھے تو اللہ کی مشیت تُم کو تکلیف دینا نہیں ھے بلکہ تُمہاری تالیف کرنا ھے اور چونکہ اللہ کے علم کے مطابق انسان ہنُوز خوابِ غفلت سے باہر نہیں آیا ھے ، اِس لیۓ اٰیاتِ بالا میں سے دُوسری اٰیت میں پہلی اَمثال میں پیش کیۓ گۓ پہلے ہی خیال کو نۓ سوال میں ڈھال کر بارِ دِگر یہ پُوچھا جا رہا ھے کہ اگر تُم پر دَبے پاٶں آنے والا کوٸ ناگہانی عذاب آجاۓ یا بجلی کا وہ کوندا لَپکے جو آسمانی عذاب لے آۓ تو کون ھے جو تُم کو اِس اَلم سے بچاۓ اور حصولِ لَذت کا اہل بناۓ ، ظاہر ھے کہ اللہ کے سوا کوٸ نہیں ھے ، اِس سلسلہِ کلام کی آخری اٰیت میں انسانی تاریخ کا یہ تاریخ ساز اصول بیان کیا گیا ھے کہ اہلِ زمین کے لیۓ اللہ کے جتنے بھی رسول اور نبی آۓ ہیں اُن سب کا کام انسان کے لٸے انسان کے اعمالِ مُثبت و مَنفی کی نشان دہی کرنا اور انسان کو اعمالِ مُثبت و مَنفی کے مُثبت و مَنفی نتاٸج سے آگاہ کرنا تھا ، جن لوگوں نے اُن کی دعوت کے مطابق اللہ کے اَحکام کو مانا ھے وہ ہمیشہ ہی سَرخ رُو ھوۓ ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کے اَحکام کی تکذیب یا تحقیر کی ھے وہ ہمیشہ کے لیۓ رُو سیاہ ھو گۓ ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے