Home / کالم / غدّار ٹولہ ہے

غدّار ٹولہ ہے

قادیانی،ایک غدّار ٹولہ ہے
(مفتی)محمد معاذ
چکوال
خادمِ ختم نبوت،عالمی مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوّت
السلام علیکم!
تمام حضرات،مشائخ،علمائے کرام،مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین،رہنمایانِ ملّت،اسی طرح سرکاری افسران،ججز اور وکلائ،سوشل میڈیا پر کام کرنے والے مجاہدینِ ختمِ نبوّت،صحافی برادری اور تمام ہی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عزیزانِ ملّت اور عاشقانِ ختمِ نبوّت! اوّلا میں آپ تمام حضرات کے سامنے عقیدت مندانہ سلام پیش کرتا ہوں۔
سب کی خدمت میں ایک مختصر گزارش ہے، آپ لوگ اپنے قیمتی اوقات میں سے کچھ ساعات نکال کر مجھ عاجز کے یہ الفاظ پڑھ لیں گے تو شاید ہم سب کے حق میں بہتری ہوجائے۔ختمِ نبوّت کے سلسلے میں چند گزارشات ہیں،گزارشات کیا ہیں چند دل کے ٹکڑے ہیں جن کو صفحے پر بچھانا چاہتا ہوں،چند آنسو ہیں جن کو کاغذ پر پھیلانا چاہتا ہوں،چند دل کے آبلے ہیں جن کو قرطاس کی زینت بنانا چاہتا ہوں،لیکن ہائے کہ میں ان لفظوں کو کہاں سے لاﺅں جو دلوں میں ناسور پیدا کردیں؟ اپنی بساط کے مطابق ٹوٹے پھوٹے الفاظ آپ حضرات کے سامنے پیش کررہا ہوں ،
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ 1974 ءکا آئین جو وطنِ عزیز میں منظور ہوا اس میں بے شک ہمارے اکابرین علمائ،عوام اور ہر طبقے کی عظیم قربانیاں شامل ہیں،اور انہیں قربانیوں اور محنتوں کا ثمر ہے کہ آج ہم قادیانیوں کے سامنے سر اٹھا کر چلتے ہیں، قادیانیوں کا چھپا ہوا کفر اور ان کے کردار میں پوشیدہ دجل اسی قانون کی مرہونِ منت ہے جو ہمارے سامنے عیاں ہوا۔اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو پوری امّت کی طرف سے جزائے خیر دے۔آمین
اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف تو تقریبا 46 سال سے اس منظور شدہ قانون کی حفاظت میں پوری امّت بالخصوص پاکستان کے علماء ،جماعتیں اور عوام مصروفِ عمل ہیں اور دوسری طرف ہرآنے والی حکومت اس قانون کو مٹانے پر کمر بستہ ہے۔ہر حکومت کی اسی خاص مقصد کے لیے تشکیل ہوتی ہے کی اس قانون کو غیرموثر کردیا جائے،اس میں چھیڑ چھاڑ کر کے اسے ختم کردیا جائے اور المیہ یہ ہے کہ تقریبا ہر حکومت ہی نمک حلالی کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔پھر علماءاور عوام اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو وہ پیچھے بھاگ جاتے ہیں، ممکن ہے کہ اس مقصد میں ان کو کچھ نا کچھ کامیابی مل بھی جاتی ہو لیکن اکثر ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔اسی محنت کو جاری رکھتے ہوئے ہزاروں کانفرنسیں اور جلسے منعقد ہوتے ہیں، سینکڑوں کی کتاب میں کتابیں چھپتی ہیں اور بحمدِ اللہ 46 سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
لیکن اب ضرورت اس بات کہ ہے کہ غور کیا جائے کہ وہ جو قانون پاس ہوا وہ مکمل نہیں ہوا۔ وہ آدھا کام ہوا ہے،آدھا کام ابھی باقی ہے اور اس آدھے کام کو پورا کرنے کا موجودہ حالات ہم سے تقاضا کررہے ہیں۔وہ ادھورا کام یہ ہے کہ اس بات کو منظرِ عام پر لایا جائے کہ 74 کے قانون کے مطابق جب یہ کافر ہیں،غیر مسلم ہیں تو ان کی اپنی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان کو اقلیّتی حیثیت حاصل ہے یا نہیں؟ شرعا اور قانونا منکرینِ ختمِ نبوت کی کیا حیثیت ہے؟ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ 46 سال سے ہم اس قانون کی حفاظت کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قانون کلی طور پر محفوظ نہیں ہے، قادیانی آئے دن اس قانون پر کسی نا کسی طرح سے حملہ آور ہوتے ہیں۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم محض دفاع کرنے کے بجائے اگلا قدم اٹھائیں ،کیونکہ جو قوم صرف دفاع پر رہتی ہے ان کی فتح کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، سب سے بہترین دفاع حملہ ہوتا ہے۔اور حملہ یہی ہے کہ اس بات کو سامنے لایا جائے کہ منکرینِ ختمِ نبوت کی اصل حیثیت کیا ہے؟
حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں مسیلمہ کذاب کا وفد آیا،آپ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ بدنام کریں گے تو میں تمہیں قتل کرادیتا۔آپ ﷺ نے گویا کہ قتل کا فتویٰ صادر فرمادیا تھا ۔ اس وفد سے آپ ﷺ نے کوئی مذاکرات نہیں کئے، ختمِ نبوت پر کوئی دلائل نہیں دیے،ان کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی بل کہ دو ٹوک بات ارشاد فرمائی کہ تمہاری سوچ کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ جو کچھ خط میں لکھا ہے ہم بھی یہی کہتے ہیں تو آپ ﷺ نے فورا قتل کا فیصلہ صادر فرمادیا۔
پھر سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی مسیلمہ اور اس کے ماننے والوں کی طرف کوئی مذاکراتی ٹیم نہیں بھیجی بل کہ لشکر بھیجا اور قتلِ عام ہوا اور کسی کو بھی اقلیت قرار دے کر نہیں چھوڑا گیا۔ اس وقت سے لے کر مرزا قادیانی تک جتنے بھی لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کئے ،کوئی ایک مثال نہیں ملتی کی کسی اسلامی حکومت نے منکرینِ ختمِ نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہو۔ پوری 1300 سالہ تاریخ اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔پھر مرزا قادیانی کے بعد اب تک درجنوں ملعونوں نے نبوت کو جھوٹا دعوی کیا لیکن کسی کو بھی غیر مسلم اقلیت نہیں کہا گیا۔ نہ مرزا قادیانی سے پہلے اس کی کوئی مثال ملتی ہے نہ بعد میں،تو پھر مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کی کیا خوبی ہے کہ انہیں اقلیت قرار دیا جائے۔
اب مدعا یہ ہے کہ ان کی اصلی حیثیت متعین کر کے اس پر اقدام ہو، اور ان کی اصلی حیثیت یہ ہے کہ شرعی نقطئہ نظر سے یہ لوگ زندیق ہیں اور واجب القتل ہیں، بس!
اور ملکی قوانین کی رو سے یہ لوگ ملک و ملّت کے غدار ہیں ، ان کے حقوق غدار اور باغی کے ہیں لہذا باغی اور غداروں کے لیے جو قانون ہوتا ہے وہی قانون ان کے لیے بھی ہونا چاہیے اور اس قانون کے مطابق ان کے شناختی کارڈ منسوخ ہوں، ان کی شہریت معطل ہو، ان کی املاک کے تصدیق نامے منسوخ ہوں،وہی ان کا اصل مقام ہے۔
قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے بارے میں کچھ حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ اگر وہ خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں اور تحریری دستاویزات جمع کروادیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے اور انہیں اقلیتی کمیشن میں بھی حصہ دیں گے؛لیکن اس عاجز کی طالبعلمانہ رائے یہ ہے کہ یہ بات بھی محلِّ نظر ہے کہ وہ خود کو غیر مسلم اقلیت مان لیں تو انہیں مرحبا کہا جائے،کیونکہ وہ غداری کے اس مقام پر پہنچے ہوئے ہیں کہ خود کو اقلیت منوانے کے اہل بھی نہیں ہیں،اس کی چند وجوہات ہیں ۔
۱۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جو قوم 46 سال سے ملکی قوانین کی بغاوت کررہی ہے وہ آج خود کو اقلیت تسلیم کر بھی لے تو ان کے اس معاہدے کا کیا اعتبار ہے؟ یہ ایک جھوٹی قوم ہے جو قدم قدم پر جھوٹ بولتی ہے اور دجل کرتی ہے تو کیا وہ اب اپنے اس دجل وفریب سے باز آجائیں گے؟
۲۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ خود کو اقلیت تسلیم کرلیں کیونکہ اقلیت تسلیم کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ وہ اپنے سب کے نام تبدیل کریں،اپنا الگ تشخّص رکھیں جو انہیں مسلمانوں سے جدا کرے،اپنے چینل سارے بند کریں،تو کیا وہ یہ سب کر لیں گے؟ بظاہر یہ ناممکن ہے۔
۳۔تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ مان بھی لیں تو کیا ان کے جو نظریات ہیں کیا وہ ان نظریات سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟
ان کے نظریات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ پوری امت کو کافر سمجھتے ہیں اور خود کو تہترواں فرقہ باور کراتے ہیں، مرزا مسرور کا وہ کلپ سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں وہ 74 کے آئین کا مذاق اڑاتا ہے کہ ان لوگوں کو تو اسمبلی نے مسلمان قرار دیا ہے،اصلی مسلمان تو ہم ہیں۔۔۔تو کیا وہ اپنے ان گھٹیا نظریات کو بدل لیں گے؟ کیا وہ اپنے نبی کو جھوٹا مان لیں گے؟
۴۔چوتھی اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اگر وہ یہ سب مان بھی لیں تب بھی ان کا اقلیت ہونا ناقابل قبول ہے کیونکہ وہ صرف باغی اور زندیق نہیں ہیں بل کہ وہ گستاخ ہیں۔تمام انبیاءکے گستاخ ہیں ،صحابہ اور اہلِ بیت کے گستاخ ہیں۔۔۔اور گستاخِ رسول کی سزا، سر تن سے جدا۔۔۔یہ ملکی قانون بھی ہے ،شرعی قانون بھی ہے۔کیا وہ خود کو اقلیت قبول کر کے ان سب باتوں سے دستبردار ہوسکتے ہیں؟
ہر قادیانی مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ سمجھتا ہے، ہر قادیانی مرزالعین کو خاتم النبیین مانتا ہے،اسی طرح ہر قادیانی مرزا ملعون کو مسیح موعود کا درجہ دیتا ہے، حتی کہ ان کا جو بیعت نامہ ہے اس میں بھی مرزا کو مسیح موعود لکھا ہے۔ یہ تین بڑی گستاخیاں ہر قادیانی کے نظریے کی بنیاد اور ان کے عقیدے کا ماخذ ہیں، تو ان گستاخیوں کے ہوتے ہوئے اگر وہ اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کر لیں گے توکیا قانون ان کو تحفظ دے دے گا؟ اتنا بڑا کفر اور اتنی برملا شیطنت دل میں چھپا کر وہ اقلیتی کمیشن میں شامل ہوجائےں گے؟نہیں، ہر گز نہیں! وہ تو پرلے درجے کے گستاخ ہیں۔
یہ چار انتہائی اہم وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ان کے خود کوغیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے کے باوجود بھی ان کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا قابلِ غور ہے،تو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اس آواز کو اٹھائیں،ہر مرد و زن، بچہ بوڑھا سب اپنے اپنے ذرائع استعمال کریں،ارکانِ اسمبلی اس آواز کو بلند کریں، یہ کسی جماعت یا تنظیم کا مسئلہ نہیں ہے بل کہ یہ ہر مسلمان کا ایمانی تقاضا ہے، اپنی بخشش اور نجات کے لیے ہم سب نے مل کر یہ کام کرنا ہے۔
،اور اس موقعہ پر توتوجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس معاملے کو سرسری نظر کے حوالے نا کیا جائے،۔
اب یہ کیا تماشا ہے کہ آئے دن نت نئے فتنے،کبھی کوئی شرارت،،کبھی کوئی شرارت اور ہم محض دفاع کررہے ہیں۔آج قادیانی کو مشیر لگایا جارہا ہے اور ہم صرف آوازیں لگارہے ہیں۔پولیس کے بڑے بڑے عہدوں پر یہ ظالم پہنچے ہوئے ہیںاور ان پر بس تقریریں کردیتے ہیں،بیان دے دیتے ہیں کی فلاں افسر قادیانی ہے فلاں مشیر قادیانی ہے۔یہ افسر کیا یہ تو ملک کے شہری بھی نہیں بن سکتے،ان کا تو شناختی کارڈ یہ نہیں ہوسکتا،یہ لوگ محض غدار اور زندیق ہیں، ان کی تو بیع و شراءہی حرام ہے،کوئی مسلمان ان سے لین دین نہیں کرسکتا،اور حالات یہاں تک پہنچے ہوئی ہیں کہ ان کی مصنوعات ہمارے درمیان ہیں،سرکاری اداروں میں قادیانی مصنوعات کی بھرمار ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ابھی تک اگلا قدم نہیں اٹھایا ہے۔
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتھم کا ایک کلپ میں نے سنا،فرمارہے تھے کہ پہلے تحریک چلی تھی تو ان کو کافر قرار دیا گیا تھا،اب دوسری تحریک چلے گی تو ان شاءاللہ ان کے خاتمے کا وقت ہوگا،میری ناقص رائے یہ ہے کہ اب وہ وقت آچکا ہے،”وقت است کہ وقت بر سرآید”۔حکومت نے خود ہی اقلیت اور اکثریت کی بحث چھیڑ دی ہے ،تو یہ ایک آواز اٹھ چکی ہے ،لہذا اب اس آواز کو ایک تحریک بنایا جائے۔
میں تو ایک طالب علم سطح کا بندہ ہوں میری رسائی ان اونچے ایوانوں تک نہیں ہے اور نہ میری آوازاتنی بلند ہے کہ بڑے اسٹیجوں تک پہنچ سکے،آپ تمام حضرات کی خدمت میں یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ جو شخص جس شعبے سے تعلق رکھتا ہے وہ اس درجے میں اس آواز کو بلند کرے۔ارکانِ اسمبلی،اسمبلی میں یہ آواز اٹھائیں، وکلاءعدالت میں اس پر پیش رفت کریں۔سوشل میڈیا کے لوگ اور ہماری صحافی برادری اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالیں،مشائخ اور علماءتو ہمارے سروں کے تاج ہیں وہ اس میدان میں ہماری سرپرستی فرمائیں، اس بات کے بینرز بنائے جائیں،الغرض ہر ممکن زریعہ استعمال کیا جائے اور اس پیغام کو عام کیا جائے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت نہیں ہیں بل کہ یہ کافر اور زندیق ہیں، ملک و ملت کے باغی اور غدار ہیں۔
اس درخواست کے ساتھ ایک ضمنی بات آپ تمام کی عدالت میں رکھنی ہے کہ اب تک جتنے بھی لوگ قادیانیت سے تائب ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں ان پر ان ظالموں نے بے پناہ تشدد کیے ہیں۔اور اب تک کررہے ہیں،کہیں ان کوقتل کیا گیا،کہیں انہیں بے گھر کیا گیا، کہیں ان کی املاک ضبط کر لیں، تو ان مظلوموںکی حفاظت کا بھی کوئی قانون ہونا چاہیے،ان ظالموں کی درندگی کا حساب ہونا چاہیے،یہ اتنے ظالم اور درندے ہیں جس کو چاہیں ماریں پیٹیں،جس کو چاہے نقصان پہنچادیں ،ان سے حساب لینے والا ہی کوئی نہیں،ان پر کوئی قانون لاگو ہوتا ہی نہیں ہے۔یہ لوگ جو ملک کے شہری ہونے کے قابل بھی نہیں ،اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کے ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر یہ ظالم قابض ہیں یا ان کے سہولت کار موجود ہیں ،سفار ت خانوں تک ان کی رسائی ہے،لہذا ان کی شہریت ختم کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی درندگی کا حساب لینے کے لیے بھی کوئی قانون ہونا چاہیے۔
اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اگر کوئی جملہ کسی کی شان کے خلاف ہو یا بندہ کی کسی بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو اسے اس عاجز کی کم علمی پرمحمول کرتے ہوئے معاف فرمادیجیے گا۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے