Home / اسلام / تفہیم مغرب فورم*

تفہیم مغرب فورم*

📖 *ڈاکٹر ظفر حسن کی کتاب سرسید اور حالی کا نظریہ فطرت*
✒️ *شاہ نواز فاروقی*
*ــــــــــــــــــــــ*

سر سید اپنی تحریروں میں لفظ *فطرت* کا *ورد* کرتے نظر آتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح اہل ایمان *اللہ اکبر* کا ورد کرتے ہیں، اللہ اکبر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا ہے، سر سید فطرت کے ساتھ یہ تو نہیں کہتے کہ فطرت سب سے بڑی ہے مگر وہ ہر جگہ فطرت کی بڑائی، فوقیت اور بالا دستی ثابت کرتے نظر آتے ہیں، اس لئے ان کے یہاں لفظ فطرت کے ساتھ ایک طرح کی روحانیت، مذہبیت اور تقدیس وابستہ نظر آتی ہے، سر سید کے یہاں لفظ فطرت اتنا اہم ہے کہ *اگر آپ اس لفظ کو اس کے حقیقی تناظر میں سمجھ لیں تو سر سید کی شخصیت اور فکر کی عمارت کا بڑا حصہ آپ کی تفہیم سے پیدا ہونے والے زلزلے سے خود ہی منہدم ہو جائے گا* اتفاق محض اتفاق سے اردو میں سر سید پر ایک بہت ہی بڑا علمی اور تحقیقی کام پہلے سے موجود ہے، یہ کام در اصل *ڈاکٹر ظفر حسن* کا پی ایچ ڈی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد *محمد حسن عسکری* کی نگرانی میں تحریر کیا، ہمیں ڈاکٹر ظفر حسن سے کراچی میں دوبار ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ان ملاقاتوں سے ہمیں معلوم ہوا کہ *ڈاکٹر صاحب، عسکری صاحب کے شاگرد ضرور رہے ہیں مگر وہ صرف ایک تاجر ہیں اور ان کی علمی لیاقت تقریباً صفر ہے* اس بات کا ذکر ہم نے اردو کے معروف نقاد اور شاعر *جمال پانی پتی* سے کیا تو وہ مسکرائے، کہنے لگے *تمہارا خیال درست ہے، ڈاکٹر ظفر حسن کو بلا شبہ اپنے مقالے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی ہے مگر یہ پورا مقالہ اصل میں عسکری صاحب ہی کا ہے* اس مقالے کا عنوان ہے *سر سید اور حالی کا نظریہ فطرت* یہ مقالہ پہلی بار ۱۹۹۰ میں *ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور* سے کتابی صورت میں شائع ہوا، کتاب کی ضخامت ۳۷۶ صفحات ہے، یہ مقالہ ۱۸۸ کتب کا نچوڑ ہے، ان میں ۱۰۷ کتابیں اردو، فارسی اور عربی کی ہیں اور ۸۱ کتابیں انگریزی زبان کی ہیں، ہم یہ بات پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور اسے دہراتے ہیں کہ *اس موضوع پر اس سے اچھی کتاب اردو کیا انگریزی میں بھی نہیں لکھی گئی* اس کتاب میں عسکری صاحب نے کام یہ کیا ہے کہ انہوں نے *برصغیر پر مغرب کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے* انہوں نے بتایا ہے کہ سر سید نے فطرت کا تصور مغرب سے مستعار کیوں لیا؟ انہوں نے اس تصور کو کن معنوں میں استعمال کیا؟ لیکن عسکری صاحب صرف اتنی سی کوشش کرکے نہیں رہ گئے، بلکہ انہوں نے دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں کو کھنگال ڈالا اور بتایا کہ فطرت کا تصور یونانی فلسفے میں کہاں کہاں کس طرح ظاہر ہوا ہے؟ ہندو تہذیب میں اس کا کیا مفہوم رہا ہے؟ عیسائی تہذیب میں اس لفظ کو کن معنوں میں برتا گیا ہے؟ خود مغرب میں صدی بہ صدی اس لفظ کو کن معنوں میں بروئے کار لایا گیا ہے؟ اسلامی تہذیب اس لفظ کو کن حوالوں سے استعمال کرتی رہی ہے؟ اس اعتبار سے عسکری صاحب نے لفظ فطرت کی پوری فلسفیانہ، مذہبی اور عالمی تاریخ کو ہمارے سامنے لا کر رکھ دیا ہے اور *بتایا ہے کہ سرسید اور ان کے شاگرد رشید حالی کی بے مثال سمجھی جانے والی علمیت کی اوقات کیا ہے؟* کہنے کو *سر سید اور حالی کا نظریہ فطرت* ایک کتاب ہے لیکن *در اصل یہ کتاب نہیں سر سید اور حالی کی فکر کے اساسی، بنیادی اور اہم ترین تصور کی قبر ہے، ایسی قبر جس سے ساری دنیا مل کر بھی سر سید اور حالی کو نہیں نکال سکتی، اس سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ عسکری صاحب نے سر سید اور حالی کی قبر زمین پر نہیں پاتال میں بنائی ہے، پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا*
ـــــــــــــــــــــــ
*

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے