Home / اسلام / ایمان بالتوحید اور صداۓ فطرت

ایمان بالتوحید اور صداۓ فطرت

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 40 ، 41 )))
ایمان بالتوحید اور صداۓ فطرت !! 🌹
ازقلم🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل ارٸتکم ان
اتٰکم عذاب اللہ او اتتکم
الساعة اغیراللہ تدعون ان کنتم
صٰدقین 40 بل ایاہ تدعون فیکشف ما
تدعون الیہ ان شا ٕ وتنسون ما تشرکون 41
اے مُحمد ! آپ اِن لوگوں سے کہیں کہ تُم خود ہی یہ ایک خُدا لَگتی بات کہو کہ اگر تُم واقعی اپنے دِل کی گواہی اور ضمیر کی آگاہی کے مطابق اپنے اِن مُشرکانہ مُعتقدات میں سَچے ھوتے تو پھر تُم پر جب کوٸ وبال یا بھونچال آجاتا تو عذاب و عتاب کے اُن مُشکل لَمحات میں تُم صرف اللہ کو آواز دینے کے بجاۓ اپنے اُِن ہی خیالی خُداٶں کو آواز دیتے جو خود بھی تُمہارے ساتھ شریک عذاب ھوتے لیکن تُمہارا اپنا تجربہ و عمل اِس بات پر گواہ ھے کہ جب تُم پر کوٸ ناگہانی آفت آتی ھے تو اُس وقت تُم اپنی جان بچانے کے لیۓ اپنے سارے خیالی خُداٶں کو بُھول بَھال کر صرف اور صرف اللہ کو آواز دیتے ھو ، پھر اگر وہ چاہتا ھے تو اِس آفت کو تُم پر بحال رکھتا ھے اور چاہتا ھے تو تُم سے اِس مصیبت کو ٹال دیتا ھے !
🌹 رَبطِ اٰیات و رَبطِ مضمون اٰیات ! 🌹
ہر زمین اور ہر زمانے کے مُشرک اپنی اپنی زمین اور اپنے اپنے زمانے کے ہر نبی سے ایسے مُعجزات کے مُطالبات کرتے ر ھے ہیں کہ آپ اللہ کی توحید کی اور اپنی رسالت کی دیگر دلیلوں کو ایک طرف رَکھ کر ہمیں تو بَس کوٸ ایسا کرتب دکھادیں کہ جس کو دیکھ ھم اللہ کی توحید اور آپ کی رسالت پر بِلا چُون و چراں ایمان لے آٸیں ، آپ جیسے ہی ھم کو کوٸ معجزہ دکھاٸیں گے ھم فورا ہی اللہ کی توحید اور آپ کی رسالت پر ایمان لے آٸیں گے ، مُعجزات کا یہ مُطالبہ جو ہر زمانے کے لوگ ہر نبی سے کیا کرتے تھے یہی مُطالبہ اکثر و بیشتر عھدِ نبوی کے مُشرکین بھی اللہ کے نبی سے کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی تو خود نبیِ اکرم بھی چاہتے تھے کہ اللہ اِن لوگوں کے اِس مُطالبے کے مطابق اِن پر اپنا کوٸ ایسا نشان ظاہر کردے جس کے بعد یہ لوگ مُطمٸن ھو جاٸیں اور جس کے بعد آپ کا کارِ نبوت بھی آسان ھو جاۓ ، چناچہ اِس سُورت کی اٰیت 20 میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو بتایا کہ اِن لوگوں کو اللہ کے پہچاننے اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے کے لیۓ کسی مُعجزے کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ یہ لوگ تو اللہ تعالٰی کی اِن اٰیات کو اِس طرح جانتے اور پہچانتے ہیں جس طرح یہ اپنی اپنی اَولادوں کو جانتے اور پہچانتے ہیں ، اِس لیۓ اِن کی طرف سے کسی مُعجزے کا مُطالبہ دلیل کے لیۓ نہیں ھے بلکہ صرف کٹ حُجتی کے لیۓ ھے ، پھر اِس سُورت کی اٰیت 35 میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی سے کہا کہ مُعجزے کی ایک مُمکنہ صورت تو یہ ھے کہ ھم بذاتِ خود اِن کے مُطالبے پر اِن کی نظروں کو حیران کر دینے والا کوٸ ایسا نشان ظا ہر کردیں لیکن اِن کے لیۓ اِس سے زیادہ حیران کُن بات تو یہ ھوگی کہ آپ خود اِن کو کوٸ حیرت انگیز نشان دکھادیں لیکن یہ لوگ چونکہ یہ باتیں صرف آپ کو تنگ کرنے کی غرض سے کرتے ہیں ، اِس لیۓ اگر ھم آپ کے لیۓ یہ بات مُمکن بنادیں کہ آپ اِن کے سامنے زمین میں اُتر کر یا پھر خلا کی وسعتوں میں اُبھر کر وھاں سے کوٸ عجوبہ لے کر اِن کے پاس آجاٸیں تو یہ لوگ تَب بھی ایمان نہیں لاٸیں گے کیونکہ ایمان لانا اِن کا مقصد نہیں ھے بلکہ اللہ کے رسول کو اور اللہ کے رسول پر ایمان لانے والے لوگوں کو تنگ کرنا اِن کا مقصد ھے ، پھر اسی سُورت کی اٰیت 37 میں توحید کا انکار اور شرک پر اصرار کرنے والے اِن مُشرکوں کے اِس مطالبے کا بارِ دِگر اِس طرح سے ذکر کیا گیا ھے کہ اللہ کی توحید کی دعوت دینے والا ، اللہ کا یہ نبی ہمیں کوٸ ایسا مُعجزہ کیوں نہیں دکھا دیتا کہ جس کو دیکھ کر ھم عاجز و لاچار ھو جاٸیں اور عاجز و لاچار ھو کر ھم اللہ کی تو حید اور اِس کی رسالت پر ایمان لے آٸیں اور اسی اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اِن لوگوں کو یہ جواب دیا ھے کہ ایمان کوٸ ایسی جبری چیز نہیں ھے کہ اِس کو معجزوں کے جبر سے کسی کو عاجز و لاچار بنا کر اِس کا پابند بنا دیا جاۓ بلکہ یہ تو ایک مَن کا سودا ھے جس کے مَن میں آۓ وہ عقیدہِ توحید پر ایمان لاۓ اور جس کا مَن ہی نہ مانے تو اُس کے لیۓ اللہ کی اِس عظیم الشان کاٸنات میں اِس کاٸنات کے وجود سے بڑا کوٸ معجزہ نہیں ھے اور جو لوگ خالقِ کاٸنات کی اِس بیکراں کاٸنات کو دیکھ کر بھی اُس کے خالق ھونے پر ایمان نہیں لاۓ اُن کے لیۓ معزہ دلیل نہیں ھوتا بلکہ مَحض ایک کٹ حُجتی ھوتا ھے ، پھر اسی سُورت کی اٰیت 38 میں بتایا گیا کہ تُم زمین پر چلنے پھرنے والے حیوانات اور فضا میں اُڑنے والے طیور پر ہی غور و فکر کر کے دیکھ لوکہ اُن کو تخلیق و حیات اور حفاظتِ حیات کے جس کام پر اُن کو مامور کیا گیا ھے وہ کسی تردد کے بغیر اُس کام میں لگے ھوۓ ہیں اور اَب آفاق کے اِن گوناں گوں مُعجزانہ نشانات کے بعد اِن لوگوں کو اِن کے نفسِ ذات میں چُھپے ھوۓ اُن مُعجزاتِ حیات میں سے اِس ایک مُعجزہِ حیات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ھے کہ تُم خود سوچو کہ تُمہارے نفسِ ذات کے اِ ِس مُعجزے سے بڑا کون سا مُعجزہ ھو سکتا ھے کہ جب تُم پر کوٸ آفت آتی ھے تو اُس وقت تُم صرف اور صرف اللہ کو پکارتے ھو ، اپنے کسی پیر پروہت اور اپنے کسی بُت کو نہیں پُکارتے ھو تو تُمہارے نفسِ ذات کی یہ گواہی اِس بات کی سب سے بڑی دلیل ھے کہ فاطرِ کاٸنات نے تُمہاری فطرت توحید کے مطابق بناٸ ھے ، شرک کے مطابق نہیں بناٸ ھے ، اسی لیۓ تُم محبت بھی کرتے ھو صرف ایک سے کرتے ھو ، اطاعت بھی کرتے ھو تو صرف ایک کی کرتے ھو ، یہی وجہ ھے کہ مصیبت میں تُم اپنے اُن سارے خیالی خُداٶں کو بُھول جاتے ھو جو تُمہاری طرح خود بھی خُدا کے مُحتاج ہیں اور اِس وقت تُم صرف اُس اللہ کو پُکارتے ھو جو تَنہا تُمہارا خالق اور مالک ھے اور تَنہا ہی تُمہاری محبت و اطاعت کا حق دار ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے