Home / اسلام / حیات اور اُصولِ حیات !! 🌹

حیات اور اُصولِ حیات !! 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اَلاَنعام ، اٰیت 42 تا 45 )))) 🌹
حیات اور اُصولِ حیات !! 🌹
ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ولقد
ارسلنا الٰی امم
من قبلک فاخذنٰھم
بالباسا ٕ والضرا ٕ لعلھم
یتضرعون 42 فلولا اذ جاٸھم
باسنا تضرعواولٰکن قست قلوبھم
وزین لھم الشیطٰن ماکانوایعملون 43
فلما نسو ٕ ماذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل
شٸ حتٰی اذا فرحوا بما اوتوااخذنٰھم بغتة فاذاھم
مبلسون 44 فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب
العٰلمین 45
اے ھمارے رسولِ جہان ! آپ کی اُمت اَحکامِ حَق سے اِنکار و اِستکبار کا جو مظاہرہ کر رہی ھے وہ زمین پر اِہلِ زمین کے لیۓ کوٸ پہلا اَلمیہ نہیں ھے بلکہ ہر زمانے میں ہر زمین کی ہر اُمت انکارِ حق کے اسی اَلمیے کا شکار ھو کر فنا ھوٸ ھے ، ھم نے آپ کے زمانے سے پہلے ، پہلی سرکش اُمتوں کی طرف اپنے جو رسول بھیجے تھے اُن کے ساتھ بھی اُن کی اُمتوں نے اسی سرکشی کا مظاہرہ کیا تھا اور ھم نے جس طرح اُن پہلی اُمتوں کو اپنے قانونِ تدریج کے مُطابق ایک مُہلت دی تھی اور مُہلت کے دورانِ اُن کے لیۓ مالِ زیست کی فراوانی کی تھی اسی طرح ھم آپ کی اُمت کو بھی مُہلتِ زیست اور مالِ زیست دے ر ھے ہیں ، پہلی اُمتوں کے ساتھ ھمارا یہ طے شُدہ طرزِ عمل رہا ھے کہ اُن اُمتوں میں سے جس اُمت نے بھی حق کا انکار کیا تو ھم نے پہلے انتباہ کے طور اُس اُمت کو پہلے مرحلے میں مختلف آزماٸشوں اور دُوسرے مرحلے میں مُختلف آساٸشوں میں رکھا تاکہ وہ اپنی گرانیِ حیات سے ناخوش یا فراوانیِ حیات سے خوش ھو کر قانونِ حق کے سامنے سر خَم کردے لیکن جب اُس اُمت کے فریبِ نفس نے اُس کے انکارِ حق کو اُس کے لیۓ پہلے سے زیادہ خوش نُما بنادیا اور وہ اُمت انکارِ حق میں پہلے سے زیادہ خود سر ھو گٸ تو اُس کے لیۓ ھمارا وہ قانونِ مکافات مُتحرک ھو گیا جس نے اُس اُمت کی جَڑ کاٹ کر رَکھ دی لیکن اِن میں سے جس اُمت نے اپنے روزی رساں کو پہچان کر اُس کی پناہ میں آنے کا فیصلہ کیا تو وہ اُمت زمین پر اپنا وجود باقی رکھنے میں کامیاب ھو گٸ ، زمین کی ساری قوموں اورساری ملتوں کے لیۓ روزِ اِزل سے ھمارا یہی قانون جاری ھے اور یومِ اَبد تک ھمارا یہی قانون جاری ر ھے گا ، جو قوم فاطرِ کاٸنات کے نظامِ فطرت کے مطابق زندگی گزارے گی وہ عزت کے ساتھ زمین پر زندہ رھے گی اور جو قوم فاطرِ کاٸنات کے نظامِ فطرت سے بغاوت کرے گی وہ صفحہِ ہستی سے مٹا دی جاۓ گی !
🌹 آساٸشِ حیات و آزماٸشِ حیات ! 🌹
قُدرت نے اپنی کاٸنات کے لیۓ جو اَزلی و اَبدی قوانین بناۓ ھوۓ ہیں ، قُدرت کی یہ کاٸنات اَزل سے اَبد تک اُن قوانین کی پابند ھے ، دُنیا میں جہاں کہیں پر بھی جس رنگ ، جس نَسل اور جس دین و مَذہب کی حامل جو قوم رہتی ھے وہ اپنے رَنگ ، اپنی نَسل اور اپنے دین و مَذہب کی بُنیاد پر زندہ نہیں رہتی بلکہ قُدرت کے اُن طے شُدہ قوانین کے تحت زندہ رہتی ھے جُو قُدرت نے اَزلی طور پر اُس کے زندہ رہنے کے لیۓ مقرر کیۓ ھوۓ ہیں اور دُنیا میں جہاں کہیں پر بھی جس رنگ و نَسل اور جس دین و مذہب کی حامل جو قوم مَر کر فنا ھو جاتی ھے وہ قوم بھی قُدرت کے اِن ہی قوانین کے مطابق مَر کر فنا ھوتی ھے جو قُدرت نے اِس کے مَرکر فنا ھو جانے کے لیۓ مقرر کیۓ ھوۓ ہیں ، اٰیاتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو یہی اصول بتایا ھے کہ زمین پر جَب جَب ، جہاں جہاں اللہ کا جو رسول آیا ھے اُس نے اپنی اُمت کو یہی اصولِ حیات سمجھایا ھے کہ انسان کی حیات اور نجات کا دار و مدار اُس قانونِ فطرت پر جو قانونِ فطرت کاٸنات و اہلِ کاٸنات کے لیۓ فاطرِ کاٸنات نے خود بنایا ھے اور جو قانون فاطرِ کاٸنات نے اہلِ کاٸنات کے لیۓ خود بنایا ھے وہ اُس نے اپنے نبیوں اور اپنے رسولوں کے ذریعے اِہلِ کاٸنات تک خود ہی پُہنچایا ھے اور اٰیاتِ بالا کا مضمون تاریخ کا وہی مُعتبر حوالہ ھے جس میں اللہ نے اپنے رسول کو یہ بتایا ھے کہ آپ سے پہلے جس نبی کی جس اُمت یا جس اُمت کے جن اَفرادِ اُمت نے فطرت کے اِن آفاقی و اَفلاکی قوانین پر عمل کیا ھے وہ اَفرادِ ہمیشہ ہی اہلِ زمین کے درمیان کامیاب و کامران ھوۓ ہیں اور جن اَفراد نے اِن قوانینِ فطرت پر عمل نہیں کیا ھے وہ ہمیشہ اہلِ زمین کے درمیان ناکام و نامراد رھے ہیں اور مآلِ کار صفحہِ ہستی ہی سے مٹ گۓ ہیں ، اَقوامِ عالَم ، عالَم میں اپنے اپنے وقفہِ مُہلت کے دَرمیان فنا اور بقا کے جس دور سے گزرتی ہیں اُس دور میں اُن کو غم میں بھی رَکھاجاتا ھے اور خوشی دے کر بھی پَر کھاجاتا ھے ، جو قومیں عالَم کے اَحوال پر نظر رکھتی ہیں اور عالَم کے بَنتے بگڑتے حالات سے سیکھتی رہتی ہیں وہ قومیں آساٸش کی آزماٸش اور آزماٸش کی آساٸش سے کامیابی کے ساتھ گزرنا سیکھ جاتی ہیں اور فطرت جو بذاتِ خود ایک بَحرِ آزماٸش و آساٸش ھے اِس لیۓ اُن ثابت قدم و سخت جان اَقوام کو فطرت اپنے وجود میں جَذب کر کے فطرت کا حصہ بنا لیتی ھے اور جو اَقوام فطرت کا ایک حصہ بن جاتی ہیں تو وہ ساری اَقوام زمین پر فطرت کا نَفسِ فطرت اور نقشِ فطرت بن کر زندہ رہتی ہیں اور اِس کے برعکس جو اَقوام قُدرت کے قوانین سے اِنحراف کرتی رہتی ہیں تو فطرت کا نَفسِ فطرت اُن کو اپنا نَقشِ فطرت بنانے سے اِنکار کر دیتا ھے اور فطرت سے بغاوت کرنے والی یہ ساری اَقوام سینہِ زمین سے پِٹ کر صفحہِ ہستی سے مٹ جاتی ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے