Home / اسلام / قُرآن کا فکری قانونِ موت و حیات

قُرآن کا فکری قانونِ موت و حیات

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(( اَلاَنعام ، اٰیت 33 تا 37 )) 🌹
قُرآن کا فکری قانونِ موت و حیات !! 🌹
ازقلم🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردوزبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قد نعلم انہ
لیحزنک الذی یقولون
فانھم لایکذبونک ولٰکن الظٰلمین
باٰیات اللہ یجحدون 33 ولقد کذبت رسل
من قبلک فصبروا علٰی ما کذبوا واوذوا حتٰی اتٰھم
نصرنا ولا مبدل لکلمٰت اللہ ولقد جا ٕ ک من نبأٸ المرسلین 34
وان کان کبر علیک اعراضھم فانستطعت ان تبتغی نفقا فی الارض او
سلما فی السما ٕ فتاتیھم باٰیة ولو شا ٕ اللہ لجمعھم علی الھدٰی فلاتکونن من
الجٰھلین 35 انما یستجیب الذین یسمعون والموتٰی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون 36
وقالوا لو لا نزل علیہ اٰیة من ربہ قل ان اللہ قادر علٰی ان ینزل اٰیة ولٰکن اکثرھم لایعلمون 37
اے ھمارے رسول ! ھم جانتے ہیں کہ مُنکرینِ حق آپ کے پیغامِ حق اور ھمارے کلامِ حق کی مُسلسل تکذیب کر ر ھے ہیں اور آپ اِن کی اِس تکذیب کے باعث آزردہ و اَفسردہ رہتے ہیں ، لیکن یہ لوگ صرف آپ کی بات ہی کی تکذیب نہیں بلکہ ھماری اٰیات کی بھی تکذیب کر رھے ہیں لیکن اِن کی یہ تکذیب انسانی تاریخ کا کوٸ پہلا واقعہ نہیں ھے جو آپ اتنے آزردہ دِل ھو جاٸیں ، آپ سے پہلے بھی ھمارے جو رسول دُنیا میں آۓ ہیں یہ لوگ اُن کی بھی اسی طرح تکذیب کرتے ر ھے ہیں اور اُن کو بھی اسی طرح اذیت دیتے ر ھے ہیں یہاں تک کہ ھم نے ایک وقت مقررہ پر اُن کو اپنی امداد پُہنچاٸ ھے اور اُن کو مطلُوبہ کامیابی دلاٸ ھے ، اِس کی وجہ ھمارا وہ قانونِ مُہلت و تدریج ھے جس کے تحت ھم ہر زمین اور ہر زمانے کی ہر ایک قوم کو قبولِ حق کے لیۓ ایک مُہلت دیتے ہیں اور ھمارے اِس قانون میں کبھی بھی کوٸ تبدیلی نہیں آتی ، اِس سے پہلے ھمارے اِس قانون کے مطابق ھمارے پہلے رسولوں کے ساتھ جو کُچھ پیش آیا ھے وہ پہلے ہی آپ کے علم میں آچکا ھے ، اگر آپ اِن بگڑے ھوۓ لوگوں کے اِس اعراض و اِنکار سے دل برداشتہ ھو کر زمین کی پنہاٸیوں اور خلا کی گہراٸیوں سے کوٸ معجزہ بھی نکال لے آٸیں گے تو یہ پھر بھی ایمان نہیں لاٸیں گے ، کیونکہ یہ فکری اعتبار سے وہ مرے ھوۓ لوگ ہیں جو آپ کی کسی بات کو سُننے اور آپ کی کسی بات کو سمجھنے سے محروم ہیں تاہَم اللہ جب اِن فکری مُردوں کو زندہ کر دے گا تو یہ سُننے اور بولنے کے قابل ھو جاٸیں گے ، یہ لوگ آپ سے معجزوں کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ، آپ اِن کو بتادیں کہ وہ اللہ اِن کے خیال میں آنے والے وہ چھوٹے چھوٹے عجاٸبات اِن کو دکھانے سے کس طرح عاجز ھو سکتا ھے جس اللہ کی یہ کاٸنات بذاتِ خود ایک مُعجزہ ھے مگر جو لوگ علم و بصیرت سے محروم ہیں وہ اِس کی اِن قدرتوں کی جلوہ نُماٸ سے بھی محروم ہیں ، یقین جانو کہ اللہ کی اِس مُحیرالعقول کاٸنات کی ہر مخلوق اللہ کی دی ھوٸ قُدرتی مُہلت اور اللہ کے مقرر کیۓ ھوۓ فطری قانونِ ارتقا کی پابند ھے اور جس مخلوق کے جس کام کا جو مقررہ وقت ھے وہ مخلوق اُسی مقررہ وقت پر وہ کام کرتی اور کر سکتی ھے ، اگر اللہ چاہتا تو ایک ہی لَمحے میں جہان کے ہر ایک انسان کو رَاہِ ھدایت پر لے آتا لیکن ایسا کرنا اُس کے قانونِ مُہلت و تدریج کے خلاف ھے اِس لیۓ آپ بھی اللہ کے پہلے رسولوں کی طرح اللہ کے اسی آفاقی قانون کے مطابق صبر و اِسقامت کے ساتھ دعوتِ حق کا کام جاری رکھیں !
🌹 دعوتِ حق اور داعیِ حق کا انکار ! 🌹
نظامِ کاٸنات میں جس طرح اِنسان کی فطری موت و حیات کا ایک مُقررہ قانون موجود ھے اسی طرح نظامِ کاٸنات میں انسان کی فکری موت و حیات کا بھی ایک مُقررہ قانون موجود ھے ، انسان جس طرح موت و حیات کے فطری قانون کے مطابق ایک مُقررہ وقت پر پیدا ھوتا اور پیدا ھونے کے بعد ایک مقررہ وقت پر مرتا ھے اسی طرح انسان اپنی موت و حیات کے سفر میں بھی قُدرت کے ایک فکری قانون کے مطابق ایک مقررہ وقت پر جہالت سے علم اور ضلالت سے ھدایت کی طرف آتا ھے ، ہر چند کہ ہر ماں چاہتی ھے کہ اُس کا بچہ پیدا ھوتے ہی چَلنے پِھرنے اور بَھاگنے دوڑنے کے قابل ھو جاۓ لیکن ایسا ھونا چونکہ قُدرت کے قانونِ ارتقا ٕ کے تحت مُمکن نہیں ھے اِس لیۓ ہر ماں جب اپنے تجربے اور مُشاھدے سے قُدرت کے اِس قانون کو جان لیتی ھے تو اِس کو جاننے کے بعد صبر و اِنتظار کا دَامن تھام لیتی ھے اور ہر چند کہ زمین پر اہل زمین کے لیۓ اللہ کے جو رسولِ ھدایت آتے رھے ہیں وہ بھی اللہ کے اسی قانون کے تابع داری کرتے رھے ہیں لیکن کبھی کبھی وہ بھی ایک محبت کرنے والی ماں کی طرح اپنی اُمت کے لیۓ جلدی جلدی ایمان لانے اور پھر جلدی جلدی ایمانی ارتقا کی منازل طے کر کے آگے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرتے ر ھے ہیں ، سیدنا محمد علیہ السلام بھی رحمة للعٰلمین ھونے کے باعث اپنی اُمت کے ایمان لانے اور عذابِ جہنم سے نجات پانے کی اِس فطری آرزُو کے تحت کبھی کبھی اپنی اُمت کی ھدایت کے لیۓ بیقرار و مُضطرب ھوجایا کرتے تھے ، آیاتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے آپ کے اسی قلبی قلق کو بیان کر کے اُمتوں کے لیۓ اللہ کے قانونِ مُہلت و تدریج کو واضح کیا ھے ، اِس قانون کے پہلے حصے میں اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو اِس اَمر سے آگاہ کیا ھے کہ زمین پر اُمتوں کی بھی ایک طبعی عمر ھوتی ھے اور اُس طبعی عمر کے مطابق پہلے وہ اپنے بچبن سے اپنی جوانی کی طرف بڑھتی پیں ، پھر جوانی سے اپنے بڑھاپے تک کا سفر طے کرتی ہیں اور پھر اپنی مُدتِ حیات پُوری کر کے سینہِ زمین سے اُتر کر بطنِ زمین میں چلی جاتی ہیں اور پھر اِس قانون کے دُوسرے حصے میں اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو یہ بتایا ھے کہ زمین پر انسان کی ضلالت و ھدایت میں بھی قُدرت کا یہی قانونِ فطرت کار فرما ھے جس کے تحت اُمتیں بھی ایک تدریج کے ساتھ کسی بات کو سمجتی ہیں اور تدریج ہی کے ساتھ کسی بات کو قبول کرتی ہیں ، اِس قانون کی تفہیم کے لیۓ اللہ نے اپنی نبی کو پہلے انبیا و رُسل کی اور اُن کی اُمتوں کی مثال دے کر یہ باور کرایا ھے کہ آپ اصلاحِ اُمت کے سلسلے میں جس صبر آزما صورتِ حال سے دوچار ہیں آپ سے پہلے رسول بھی اسی صورتِ حال سے دوچار رھے ہیں اور جس طرح انہوں نے اِس راستے کی مُشکلات کو صبر کے ساتھ برداشت کیا ھے اسی طرح آپ نے بھی اِس صبر آزما صورتِ حال کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرنا ھے ، اللہ تعالٰی نے اپنے اِس قانون کی وجہ یہ بتاٸ ھے کہ انسان کو ارادہ و عمل کا جو اختیار دیا گیا ھے اُس نے جب بھی حق و باطل میں سے جس شٸ کو قبول کرنا ھے اپنے اسی اختیار اور اپنے اسی ارادے کے تحت قبول کرنا ھے ، حق کا یہ رَد و قبول ہی اُس کی فکری آزادی کی آزماٸشِ حیات ھے ، اِنسان کے اسی قلبی ارادے اور اسی قلبی اختیار کی عملی آزماٸش کے لیۓ اُس کو بار بار مُہلت دی جاتی ھے تاکہ وہ جب بھی حق کو قبول کرے اپنے قلبی ارادے اور اپنے عملی اختیار کے ساتھ قبول کرے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے