Home / اسلام / آمنہ کا لخت جگر — محبت کا محورؐ

آمنہ کا لخت جگر — محبت کا محورؐ

تحریر :-
**سفیراللہ نادِم* *

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں انسانیت کو حسن کا اعلی نمونہ مل گیا جسے اپنی ابدی محبت کا مرکز بنایا جا سکتا تھا —
محبت ایک الوہی جذبہ ہے جس کی حیرت انگیز قوت کے ہزاروں نمونے دنیا میں موجود ہیں —
دنیا میں کوئی بھی ایسا نقش نہیں جس کی آبیاری محبت سے نہ ہوئی ہو یہ حسین جذبہ دنیا کی چمک دمک میں مست تھا— انسانیت طویل عرصہ سے کسی ایسی شخصیت سے محروم تھی جس کے در پر وہ اپنا دل و جاں پر قربان کر سکے –
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں انسانیت کو ایک طاقتور ، حسین ترین اور کامل ترین شخصیت مسیر آگئی جو انسانیت کا مرکز تھی—
جو بھی شخص آپ کو دور سے دیکھتا تو مرعوب ہو جاتا ، قریب سے دیکھتا تو فریفتہ ہوجاتا ،دل چاہتا ہے یہاں نعت کے چند اشعار درج کروں جو میرے میں حقیقت کے قریب تر ہیں :
بلغ العلیٰ بکمالہ کشف الدجیٰ بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ و آلہ
(انسانی عظمت آپ کی ذات میں اپنے کمال تک پہنچی – آپ کے حسن و کمال کی روشنی سے اندھیرے چھٹ گئے – آپ میں تمام اعلی انسانی خوبیاں تھیں – درود و سلام بیھجو آپؐ پر اور ان کے آل پر—-
آپ کے محبت کا یہ عالم دیکھیے
ایک انصاری عورت جس کا باپ ، بھائی اور شوہر احد کے روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور شہید ہو گئے تھے اپنے گھر سے نکل کر پوچھنے لگی رسول اللہ کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کے فضل سے خیریت سے ہیں – اس نے کہا میں آپ کو دیکھنا چاہتی ہوں اس نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا تو بولی اگر آپ سلامت ہیں تو ہر مصیبت ہیچ ہے —
صرف یہی نہیں البدایہ والنہایہ جلد چہارم صفحہ نمبر 63 پر بھی حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ کا قصہ مذکور ہے کہ جب ان کو پھانسی کے تختہ دار پر چڑھایا گیا — سب کہنے لگے کہ کہو یہ پسند ہے کہ محمد تمہاری جگہ ہوں ؟
تمہیں معاف کر دیں گے – کیا عجیب و غریب جواب دیا کہنے لگے آپ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کرتے ہو ان کے پاؤں میں کانٹا چبھے میں تو یہ برداشت نہیں کر سکتا —-
صرف یہ بھی نہیں کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیا کرتے تھے – بلکہ حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام کی محبت اور عقیدت کو اجنبی بھی دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکتا جیسا کہ زادالمعاد جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 125 پر ایک واقعہ مذکور ہے کہ عروہ بن مسعود ثقفی (جو کفار مکہ کا سفیر تھا ) نے حدیبیہ سے واپسی کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا – اے لوگو ! خدا کی قسم میں نے بہت سے بادشاہوں کے دربار دیکھے ہیں – قیصر و کسریٰ کے دربار دیکھے ، نجاشی کا دربار دیکھا خدا کی قسم میں نے ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے ساتھی اس کی اتنی عزت کرتے ہیں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی —- خدا کی قسم جب وہ تھوکتے ہیں لوگ اس کو اپنے جسم پر مل لتے ہیں —- جب وہ ان کو حکم دیتے ہیں تو سب اس کے حکم پر لپکتے ہیں —- جب وہ وضو کرتے ہیں تو اس کے پانی پر لڑتے لڑتے رہتے ہیں —- جب بات کرتے ہیں تو لوگ اپنی آوازیں پست کر لیتے ہیں اور وہ لوگ فرط ادب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گہری نظر نہیں ڈال سکتے —
الغرض انسانیت کو اپنی محبت کے اظہار کے لئے ایک نقطہ مل گیا تھا — جہاں وہ اپنے اعلی جذبات قربان کرسکتے تھے —- فطری جذبے کی تسکین کر سکتے تھے —- جذباتی انتشار سے بچ گئے — پاکیزگی اور لطف و عنایت نے ایک عمدہ شکل دیکھی — محبت و اطاعت کی نئی روایات قائم ہوئی — محبت کے تخلیقی عمل سے کمالات نے جنم لیا — لازوال نقوش جنم لینے لگے — محبت فاتح عالم بنتی چلی گئی —
مولائے کریم ہمیں حضورؐ سے محبت صحیح معنوں میں کرنے کی توفیق عطا فرمائے —– آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے