Home / اسلام / قُرآن اور ذکرِ لَہو و لعب !

قُرآن اور ذکرِ لَہو و لعب !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اَلاَنعام ، اٰیت 31 ، 32 )))) 🌹
قُرآن اور ذکرِ لَہو و لعب !! 🌹
ازقلم 🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قد خسر
الذین کذبوا بلقا ٕ اللہ
حتٰی اذا جا ٸتھم الساعة بغتة
قالوایٰحسرتنا علٰی مافرطنافیھا وھم
یحملون اوزارھم علٰی ظھورھم الا سا ٕ مایزرون 31
وماالحیٰوة الدنیا الا لعب و لھو وللدارالاٰخرة خیرللذین یتقون
افلا تعقلون 32
ماضی کی جس مَحشرِ کا ذکر ھوا ھے اُس مَحشر میں وہ لوگ بُہت بُری طرح ناکام ھوۓ ہیں جنہوں نے زندگی کے اَعمالِ نیک و بَد کی جواب دَہی کا انکار کیا ھے ، اُن مُنکر لوگوں کا اَحوال یہ ھوا ھے کہ جب فیصلے کی وہ گھڑی اَچانک ہی اُن پر آپڑی جس کا وہ انکار کیا کرتے تھے تو اُس وقت اُن کو یقین آیا کہ اُن سے تو واقعی بُھول ھوچکی ھے مگر یہ وہ وقت تھا جب اُن کے اعمالِ حیات کے مآلِ حیات اُن کی پُشتوں پر لادے جا چکے تھے ، یاد رَکھو کہ زندگی دُنیا کو عملِ خیر دینے اور دُنیا سے عملِ خیر لینے کا ایک مقابلہ ھے ، اِس مقابلے میں صرف وہ لوگ کامیاب قرار پاتے ہیں جو دُنیا کو تُحفہِ خیر دے کر اور دُنیا سے توشہِ خیر لے کر دُنیا سے جاتے ہیں !
🌹 پہلی اٰیت کا پہلا مضمون ! 🌹
گزشتہ گیارہ اٰیات میں ماضی و مُستقبل کی جس مَحشر کا ذکر آیا ھے موجودہ دو اٰیات میں سے پہلی اٰیت میں قُرآن نے ماضی کے اُن اَیامِ مَحشر میں سے ایک یومِ مَحشر کے ایک مَنظر کو اُجا گر کر کے قُرآن کے پڑھنے والوں کو یہ بتایا ھے کہ ماضی کے ایک زمان و مکان میں ایک ایسا یومِ مَحشر بھی برپا ھو چکا ھے کہ جس یومِ مَحشر کا سامنا کرنے والے لوگ اِس یومِ محشر کے برپا ھونے سے پہلے اِس یومِ محشر کے برپا ھونے کا انکار کیا کرتے تھے لیکن جب مَحشر وہ گھڑی ایک آفتِ ناگہانی کی طرح اَچانک ہی اُن پر آپڑی تو اُن کو اللہ کے اِس اَمر کے اِمرِ حق ھونے کا یقین آیا لیکن اَب اُن پر رجوع الی الحق کا دروازہ بند ھو چکا تھا اِس لیۓ اُس وقت اُن لوگوں کو اِس اَمرِ حق کو اَمرِ حق مان لینے کا کوٸ فاٸدہ نہیں ھوا ، قُرآنِ کریم نے ماضی کی اُس مَحشر کے اُس مَنظر کو اُجاگر کرنے کے لیۓ ” لقا ٕ اللہ “ کے جس مُرکب کا اِنتخاب کیا ھے اُس مُرکب کا پہلا جُزو ” لقا ٕ “ ھے جو فعل لقی یلقٰی سے مصدر معروف ھے اور اِس کا لُغوی معنٰی کارِ خیر یا کارِ شر کے لیۓ کسی کا کسی سے ملنا ھوتا ھے اور چونکہ ” لقا ٕ اللہ “ کے اِس مُرکب میں اسمِ اللہ وارد ھوا ھے اِس لیۓ اہلِ روایت نے اِس سے انسان کا اللہ سے اپنے اَعمال کی جواب دَہی کے لیۓ ملنا مُراد نہیں لیا بلکہ ایک خیر سگالی کے طور پر ملنا مُراد لیا ھے اور پھر انسان کی اللہ کے ساتھ اِس خیر سگالی کی مُلاقات کے جو بہت سے مَن بَھاتے وضعی قصے بیان کیۓ ہیں اُن میں سے ایک معروف قصہ یہ ھے کہ جنت میں اہلِ جنت کے لیۓ اللہ تعالٰی ایک میدان بناۓ گا جس کا نام میدانِ مزید ھوگا اور اللہ تعالٰی ہر جمعے کے جمعے اِس میدانِ مزید میں جلوہ اَفروز ھو کر اہلِ جنت کو اپنا دیدار کرایا کرے گا لیکن لقی یلقٰی کا لُغوی معنٰی جو ھم نے درج کیا ھے اُس نے اِس بات کو بخوبی واضح کر دیا ھے کہ قُرآن کا بیانیہ یہ ھے کہ ہر انسان اپنے عملِ خیر اور اپنے عملِ شر کی جواب دَہی کے لیۓ اُس یومِ مَحشر کا سامنا کرتا ھے جو اللہ نے اُس کے اعمالِ خیر و شر کی جزا و سزا کے لیۓ مقرر کیا ھوا ھے اور یہ یومِ مَحشر اللہ نے اِس لیۓ مقرر کیا ھے تاکہ ہر انسان مرنے سے پہلے اللہ کے اَحکامِ نازلہ پر عمل کر کے اپنی اُس جواب دَہی کے مرحلے کو آسان سے آسان تَر بناۓ اور سہولت کے ساتھ ارتقاۓ حیات کے اَگلے مرحلے داخل ھو جاۓ !
🌹 دُوسری اٰیت کا دُوسرا مضمون ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں سے دُوسری اٰیت میں جو مضمون بیان ھوا ھے اُس مضمون میں اللہ تعالٰی نے انسان کو زندگی گزارنے کا ایک دو لَفظی پروگرام دیا ھے جس میں پہلا لفظ ” لَعب “ اور دُوسرا لفظ ” لَہو “ ھے ، پہلا لفظ ” لَعب “ فعل لعب یلعب سے حاصل مصدر ھے جس کا معنٰی ترقی یافتہ کھیل ھے ، اہلِ عرب کا ایک معروف محاورہ ” استعلبة النخلة “ ھے اور یہ محاورہ اہلِ عرب صرف اُس وقت بولتے ہیں جب وہ کسی درخت پر اُس کے معمول کے خلاف پہلا پَھل موجود ھونے کے باوجود دُوسرے نۓ پَھل کے نۓ شگُوفے پُھوٹتے ھوۓ دیکھتے ہیں ، اُن کے اِس محاورے کا مقصد اِس بات کا اظہار ھوتا ھے کہ پہلے پَھل کی موجود گی میں دُوسرے پَھل کے لیۓ نۓ شگُوفے پیدا کرنے والا یہ درخت پَھل پیدا کرنے میں ایک ترقی یافتہ حیثیت اور اَہمیت کا حامل ھو چکا ھے کیونکہ اِس پر پہلا پَھل ختم ھونے سے پہلے ہی دُوسرا پَھل آنا شروع ھو جاتا ھے ، دُوسرا لَفظ ” لَہو “ الھٰی یلھی سے حاصل مصدر ھے اور اِس حاصل مصدر کا معنٰی کسی کا کسی کھیل میں اِنہماک ، دِل چسپی اور دِل بستگی کے ساتھ حصہ لینا ھوتا ھے اور دونوں اَلفاظ کا مقصدی و مُرادی معنٰی وہ کھیل ھے جس میں اُس کھیل کے ختم ھونے کے رَنج سے پہلے ہی دوبارہ وہ خوشی شروع ھو جاۓ جو کھیل میں شامل اَفراد کو کھیل کے کسی مرحلے میں بھی عدمِ دل چسپی کا شکار نہ ھو نے دے ، کھیل چونک اپنی اِس حقیقت ، اِس حیثیت اور اِس اَہمیت کے اعتبار سے انسانی پسندیدگی اور انسانی دِل چسپی کی ایک دِل پسند مثال ھے اِس لیۓ اللہ نے دُنیا اور کارِ دُنیا کو کھیل اور تفریح کا مُماثل قرار دیا ھے جس کا مقصد دُنیا کو ترک کرنا ہر گز نہیں ھے بلکہ دُنیا کو اِختیار کرنا ھے اور اِس طرح سے اختیار کرنا ھے کہ دُنیا میں رہتے ھوۓ کارِ دُنیا کو اِس دِل چسپی کے ساتھ اختیار اور استعمال کیا جاۓ کہ جس کے نتیجے میں دُنیا سے خیر لی جا سکے اور دُنیا کو خیر دی جا سکے ، دُنیا کو خیر دینے اور دُنیا سے خیر لینے کے اِنہی اَعمالِ دُنیا کا دُوسرا نام کار و بارِ دُنیا ھے جس میں ایک ہاتھ سے انسان دیتا ھے اور دُوسرے ہاتھ سے لیتا ھے ، اٰیت کا مقصد و مَنشا یہ ھے کہ انسان جب دُنیا میں موجود ر ھے دُنیا کو خیر دیتا ر ھے اور دُنیا سے خیر لیتا ر ھے کیونکہ اگر انسان لَمحہِ حساب و احتساب آنے سے پہلے کارِ خیر میں مصروف ھوگا تو اپنے لَمحہِ حساب و احتساب میں خیر لے کر داخل ھوگا جو اُس کی نجات کا باعث ھو گا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے