Home / کالم / گناہوں کی ایک بڑی وجہ

گناہوں کی ایک بڑی وجہ

میرا کالم “گناہوں کی ایک بڑی وجہ” آپ کی پیاری نگاہوں کی نذر
سلسلے کی پانچویں قسط

⁦✍️⁩از قلم
نعیم اختر ربانی

دنیا میں جس نفسِ انسانی نے بھی آنکھ کھولی وہ محکومیت کی زنجیر کے ساتھ بندھ گیا۔ ہر آنے والا محکوم کہلایا۔ وہ اپنے شعور یا تحت الشعور میں جس قدر آزادی ، خود مختیاری ، حاکمیت اور بے باکی کا ڈھنڈورا پیٹے کسی صورت بھی محکومیت کی زنجیروں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا۔ پیدا ہونے کے بعد ماں باپ کے حکموں کے آگے سر جھکانے کے سوا چارہ نہ تھا۔ علم کی پیاس بجھانے کے لیے مکتب میں داخل ہوا تو قانون و ضوابط ، استاد و معلم کے احکامات کے نرغے میں آ گیا۔ طالب علمی کی ایک بھاری زنجیر اس کے پاؤں میں بیڑی کی صورت کھٹکنے لگی اور پھر جب معاشرے میں ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوا تو نظام ، حکومت ، روایات اور معاشرتی اقدار کا پابند ہونا پڑا لیکن مسلمانوں کا حال دوسرے انسانوں سے مختلف ہے۔ جب اس نے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر کے اپنے آپ کو اس کا بندہ قرار دیا تو وہ صرف اس کے حکموں کو تسلیم کرنے والا بن گیا۔ اردگرد کی زنجیروں سے اور چوطرفہ محکومیت کے حصار سے نکل کر فقط پروردگار کے احکامات کی بجاآوری کرنے والا بن گیا۔ ماں باپ کے احکامات ، استاد و معلم کے ارشادات ، نظام و معاشرے کے اصول ، روایات کی پاسداری اور اقدار کی بجاآوری اس وقت تک مسلم ہے جب تک وہ مالکِ حقیقی کے احکامات کے خلاف نہ ہو جب اس کے خلاف کوئی قدر ، اصول یا روایت آ جائے تو پھر انکار ، سرکشی اور بغاوت کا اعلان ہو گا اور خالقِ حقیقی کے در کو سنبھالنا ہو گا۔
جس طرح مندرجہ بالا محکومیت کی اقسام کا تذکرہ ہوا اسی طرح ہر معاشرے میں بسنے والا انسان ایک اور زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ اپنے اندر گویا ایک اور نفس کو پروان چڑھا رہا ہے۔ جس کی خواہشات اور فرمائشوں کی حد ہے نہ انتہا۔ صرف اس کے پاس “مزید” کا لفظ ہے اور یہی اس کی کل طبقاتی لغت۔ اس کے علاوہ اس کے دامن میں ایسا کوئی معتبر لفظ نہیں جس کی گویائی کی جائے۔ وہ “نفس” کہلاتا ہے۔ جس کا تذکرہ خدا تعالیٰ نے تیرہویں پارے کی پہلی آیت میں ” نفسِ امّارہ” کے ساتھ کیا۔ یعنی وہ صرف برائی کا حکم دیتا ہے۔ خواہشات کی پیروی کا درس دیتا ہے اور واحد حاکمِ حقیقی کے حکموں سے بغاوت کی تلقین کرتا ہے۔ لہذا ہم نے ہر اس حکم ، فیصلے ، تلقین اور درس سے سرکشی ، لاتعلقی اور بے رخی کرنی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکامات کی بجاآوری میں روکاوٹ بنے۔
مسلمانوں میں گناہوں کی کثرت اور نافرمانی کی فراوانی کی یہی وجہ ہے کہ وہ حاکمِ حقیقی کے حکموں کو پسِ پشت ڈال کر نفس کی خواہشات کو پورا کرنے میں لگ گئے۔ وہ اس احساس سے عاری ہو گئے کہ ہمیں پروردگار کے حکموں کی پیروی کرنی ہے اور اس کے احکامات میں روکاوٹ بننے والے ہر فعل اور حکم کی بغاوت کرنی ہے۔ پھر نفسِ امارہ اپنی عادت سے مجبور “مزید” کے فرامین صادر کر کے مومنین کو پیچھے پلٹنے کا موقع نہیں دیتا کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی دولت یا لٹی ہوئی میراث کے بارے میں سوچ سکیں اور اپنے اندر کوئی احساسِ زیاں پیدا کر سکیں۔ بالآخر وہ وقت آن پہنچتا ہے کہ جس کے بعد کوئی مہلت اور موقع نہیں ملتا۔ پھر کیے گئے اعمال کا بدلہ ملتا ہے اور گزارے گئے وقت کا حساب دینا پڑتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ” میں اپنی امت پر تین چیزوں سے ڈرتا ہوں عالم کی لغزش ، قابلِ تقلید خواہشات اور ظالم حاکم ( یعنی یہ تینوں چیزیں امت کے لیے بہت خطرناک ہیں) اس طرح کا ایک اور فرمانِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے کہ” میں تم پر تمہاری پشتوں ، شرمگاہوں اور گم راہ کن خواہشات کی شہوات سے ڈرتا ہوں” یعنی تم ان سے مغلوب ہو کر راہِ راست سے ہٹ جاؤ گے۔ ان کی لو میں بہہ کر اسلام کے احکامات سے منہ موڑ لو گے اور ان گناہوں کی دلدل میں دھنستے چلے جاؤ گے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا قول ہے کہ ” جس شخص نے اپنے نفس پر قابو پا لیا وہ اس شخص سے زیادہ طاقتور ہے جس نے تن تنہا ایک شہر فتح کیا” نفس کس قدر سرکش ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول دیکھیے کہ ” میں اپنے نفس کے ساتھ اس چرواہے کی طرح ہوں جو بکریوں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے تو وہ دوسری طرف پھیل جاتی ہیں” یعنی ہر معاملے میں نفس کی خواہش اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مابین تقابل کرنا اور جائزہ لینا چاہیے کہ کس کام میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی بجاآوری ہے اور کس کام میں روگردانی ہے۔ اس واحد ذات کے حکم کے مطابق ہر قدم اٹھنا چاہیے ، ہر سوچ کو پروان چڑھنا چاہیے ، ہر فعل کو انجام دینا چاہیے اور ہر قول کو ادا کرنا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم نے نفس کی قباحت اور غلاظت سے واقفیت حاصل کر لی۔ اس بات کو بھی بخوبی جان لیا کہ اس سے ہر ممکن اعراض کرنا ہے لیکن اس کا مقابلہ اور محاصرہ کیسے کیا جائے؟ کون سا ایسا قدم ہے جو اس کی شہ رگ پر پڑے گا تو وہ فنا ہو جائے گا۔ اس کی باگ ڈور ہمارے قبضے میں مضبوط ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں امام یحییٰ بن معاذ الرازی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ ” اپنے نفس کا طاعت و بندگی کے ساتھ مقابلہ کرو” یعنی تم اپنے نفس کو پروردگار کی اطاعت پر مجبور کرو۔ اپنی ذات کو نیکیوں کی طرف لگاؤ اور سیئات سے منہ موڑ کر پروردگار کی بندگی میں عافیت دیکھو اور یہ جان لو کہ نجات دہندہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے لہٰذا اس کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش روا رکھو تاکہ تمہارا انجام بخیر ہو۔ مکاشفۃ القلوب میں امام غزالی رحمۃ اللّٰہ نے اس کے انجام اور نتیجہ کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ ” جو شخص اپنے نفس کو فنا کر دیتا ہے اسے رحمت کے کفن میں لپٹ کر کرامت کی زمین میں دفن کیا جاتا ہے”

سلسلے کی بقیہ اقساط جو روزنامہ اساس کے ادارتی صفحے پر شائع ہوئیں

1: علم برائے عمل ہی راہِ نجات ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1381023862081245&id=100005209336550

2: خوفِ الٰہی نیکیوں کی جڑ اور برائیوں میں روکاوٹ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1391982434318721&id=100005209336550

3: موت کی یاد نیکیوں کی راغب اور گناہوں میں مانع
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1403120236538274&id=100005209336550

4: گناہ شناسی کا مزاج
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1413514472165517&id=100005209336550

فیس بک آئی ڈی کا لنک
https://www.facebook.com/profile.php?id=100005209336550

فیس بُک پیج کا لنک
https://www.facebook.com/Naeem-Akhter-Rabbani-599738687099876/
#نعیم_اختر_ربانی
#naeem_akhter_rabbani

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے